Mohabbat Bazi E Aakhir Updated Version Complete Novel Online Reading — Episode No 03
Written by: Huma Qureshi
Genre: Thriller
Published: 03/01/2026
14 Views
Episode No 03
#محبّت_بازی_آخر #ازقلم_ہما_قریشی قسط نمبر 3 ****** نادر کے محل جیسے گھر کے ہال میں موجود اب وہ نادر کے ساتھ اندرونی حصّہ کی جانب بڑھ رہا تھا۔یہاں ہر جانب گارڈز کی ایک بھاری نفری تعینات تھی۔اس بنگلے کے ہر طرف سخت سکیورٹی کا پہرا تھا۔کسی بھی انجان شخصیت کا گھر میں داخل ہونا،ناممکن سی بات تھی۔کچھ عرصے پہلے تک یہاں نادر اپنے بیوی بچوں کے ساتھ رہائش پزیر تھا۔مگر پولیس ایسے غبن کے کیس میں دو بار گرفتار کر چکی تھی۔جب سے وه اپنے بیوی بچوں سمیت ملک سے باہر جا بسا تھا۔جبکہ جیل سے فرار ہونے کے بعد سے ٹائیگر نے ہی اس کا سارا کام سنبھالا ہوا تھا۔جو بہت سے غیر قانونی کاموں میںملوث تھا۔بظاھر نادر کا امپورٹ ایکسپورٹ کا بزنس تھا۔مگر اندر خانہ وہ ملکی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے میں مصروف تھا۔پولیس کو اس کے مشکوک اقدامات پر کافی عرصے سے شک تھا۔مگر فی الحال کوئی ثبوت ہاتھ نہ لگنے کے باعث وہ ابھی محض شک کی بنیاد پر اپر سے آرڈر آنے پر انہیں نادر کو رہا کرنا ہی پڑا تھا۔رہائی سے ایک دن پہلے ہی اس کی ملاقات ٹآئيگر سے بھی ہوئی تھی۔جو دو دن پہلے ہی اس جیل میں آیا تھا۔اور جلد ہی ایسے سینٹرل جیل منتقل کیا جانے والا تھا۔نادر جیل میں بھی تمام تر لگژریز کے ساتھ موجود تھا۔ وہ قتل کے جرم میں سات سال کی سزا کاٹنے آیا تھا۔مگر نجانے کیوں اس روذ نادر کو ٹائیگر مین ایسا کیا نظر آیا تھا ،کہ وه وہاں کھڑے کھڑے ناصرف اس کو اپنی ٹيم کا لیڈر بنانے کا فیصلہ کر چکا تھا ۔ساتھ ہی اس نے ٹائیگر کو محض دو دن میں جیل سے بھگانے میں بھی بھرپور مدد کے ساتھ سارے انتظامات کر لئے تھے۔۔ٹائیگر کی آنکھوں سے ٹپکتی وحشت ،لال انگارا ہوتی انکھیں کیسی کی بھی زندگی چھین لینے میں کافی مہارت رکھتی تھیں۔۔ نادر کے ساتھ غیر قانونی کام کرتےوه جرم کی دنیا میں اتنا اگے نکل چکا تھا جہاں سے واپسی ناممکن سی بات تھی۔ اور پھر ایک قتل کیس میں جیل سے فرار قیدی ٹائیگر کے روپ میں نا جانے کتنی زندگیاں اجُاڑ گیا تھا۔ایک جانب پولیس ایک جیل سے فرار قیدی کی تلاش میں تھی۔جنہیں وہ تین سال سے گھما رہا تھا۔تو دوسری جانب حکومت نے ٹآئيگر کو کو پکڑ کر لانے پر انعام رکھ دیا تھا۔ ******* گزرے ایک ہفتے میں اقصیٰ ان گنت نیوز چینلز میں اپنی سی وی میل کر چکی تھی۔مگر اب تک کہیں سے بھی کوئی انٹرویو کال موصول نہیں ہوئی تھی۔جبکہ وہ ایک سینئر رپورٹر تھی۔میڈیا انڈسٹری میں کوئی بھی بات زیادہ عرصے تک چھپ نہیں سکتی تھی۔جانتی تھی کہ اس وقت وہ سب ایكا کئے ہوۓ بیٹھے ہونگے۔مگر اس نے بھی حوصلہ نہیں ہآرا تھا۔وہ اپنی جانب سے مکمل کوشش کرتی ابھی بھی شہر میں ہوتی ہر سرگرمی اور دہشت گردی پر کڑی نگاہ رکھی ہوئے تھی۔مگر ٹآئيگر کی جانب سے تو خاموشی تھی۔تو پھر پس پردہ یہ تیسرا کون تھا۔جو شہر میں قتل و غارت پھیلا رہا تھا؟؟ پر سوچ انداز میں لپ ٹاپ کے سامنے بیٹھی اقصیٰ لبو پر انگلی رکھے۔متعجب سی بیٹھی تھی۔کچھ تو مسنگ تھا۔یا تو کوئی تیسرا تھا۔یا پھر اس تمام گمراہی کے پیچھے بھی صرف ٹآئيگر کا ماسٹر مائنڈ تھا۔مگر سوال یہ اٹھتا تھا۔کہ وہ اب تک پولیس کے ہاتھ میں کیوں نہیں آیا تھا۔تمام فورسز اب تک ایسے گرفتار کرنے میں ناکام کیوں تھیں۔۔ ******* :سر ٹآئيگر اور اس کے گینگ کی غنڈہ گردی کے خلاف شکایات کی فائلز کی فائلز جمع ہوگئی ہیں۔مگر ہم اب تک ٹآئيگر کا کوئی سراغ نہیں لگا پارہے ہیں۔۔" انسپکٹر فواد نے ایس پی سیف آغا کو سلوٹ مار کر ایک نئے کیس کی فائل ٹیبل پر چنتے پریشانی کا اظہار کیا۔ ایس پی صاحب جنہیں ابھی کرسی سنبھال کر بیٹھے کچھ دیر ہی گزری تھی کہ ایس آئی فواد نے آکر ان کے آگے ٹآئيگر کیس کی ایک اور فائل لا کر سامنے رکھ دی تھی۔ انہوں نے ایک گہری سانس بھر کر فائل اٹھائی۔فرنٹ پیج پر ٹآئيگر کی ماسک لگی تصویر میں نظر پڑتے ہی کچھ لمحے وہ پرسوچ انداز میں اس کی سرخ آنکھیں ہی دیکھتے رہے تھے۔جس سے ہم وقت وحشت سی ٹپکتی تھی۔ "ایک اور اہم خبر ہے سر۔ہماری اطلاعت کے مطابق کل نادر سیٹھ کا مال ایک بہت بڑے پیمانے پر باہر جانے والا ہے۔ہمیں خبر ہے۔کہ اس مال میں کچھ اشیاء غیر قانونی طریقہ سے بھی باہر لے جایا جا رہا ہے۔۔" انسپکٹر فواد نے اپنی تازہ ترین اطلاعت مطابق بھی آگاہ کیا۔ "خبر پکی ہے۔"انہوں نے تفشیش بھرے لہجے میں استفسار کیا۔اس بار وہ نادر کو تمام تر ثبوتوں کے ساتھ اندر کرنا چاہتے تھے۔زیادہ نہیں کچھ تو سزا بھگتے۔۔ "سو فیصد پکی ہے سر۔"وہ بڑے تفخر سے انکی ڈیسک کے آگے سینہ تان کر بلکل اسٹریٹ کھڑا تھا۔ "اوکے۔۔تم تمام چیک پوسٹ پر آگاہی دے دو۔کل کوئی بھی ٹرک بغیر چیکنگ کے نہیں نكلنا چاہیے۔ہر جگہ ناکا بندی نافذ کردو۔اس بار نادر کے خلاف تمام ثبوت ہمارے پاس موجود ہیں۔اپنے بندوں کو اس کی فیکٹری کے باہر تعینات کروادو۔یہ موقع ہاتھ سے نہیں جانا چاہیے۔۔" "اوکے سر !!"انسپکڑ ان کے حکم کی تکمیل کرنے کی لئے انہیں سلوٹ کرتا۔رخ پلٹ کر باہر نکل گیا تھا۔ جبکہ پیچھا بیٹھے ایس پی سیف آغا کافی پر سوچ دکھائی دے رہے تھے۔۔ ***** "یہ صبح صبح کہاں کی تیاری ہے مس رپورٹر کی۔"شگفتہ بیگم نے اقصیٰ کواپنی روز مره کی تیاری کرتے دیکھ جانچتی ہوئی نظروں سے پوچھا۔جو عموماًاسی وقت افس کے لئے نكلتی تھی۔، "کہاں کی ہو سکتی ہے ماما۔نیو جابز کے لیے انٹرویو دینے جا نارہی ہوں۔"اقصیٰ نے مسکرا کر اطلع دی،جبکہ وه منہ کھولے اس کی منصوبہ بندییاں سُن رہی تھیں۔ "دماغ تو اپنی جگہ پر ہے تمھارا۔ابھی ہفتہ بھر پہلے ہی تو تمھاری ایک جاب گئی ہے۔اب پھر جاب۔"شگفتہ بیگم نے ماتھے پر تیور ی چڑھا کر کڑے تیوروں سے ایسے آڑے ہاتھوں لیا۔۔ "تو اس سے کیا فرق پڑتا ہےماما،لیکن کہیں نا کہیں تو جاب کرنی ہی ہے نا،تو اتنے دن گھر میں فارغ بیٹھ کر کیا کروں میں۔"ہمیشہ کی طرح اقصیٰ کے پاس جواب موجود تھا۔ اب شگفتہ بیگم خاموشی سے غصّے سے ایسے گھور رہی تھیں۔جو ہنوز اپنی تیاری میں مصروف تھی۔ "آئینہ کے سامنے کھڑی اقصیٰ جانتی تھی۔وہ ناراضگی بھری نگاہوں سے اس کا ایک ایک انداز ملاحظہ فرما رہی ہیں۔پھر بھی بے توجہیی سے اپنے میں ہی لگی رہی تھی۔اب وہ اپنی گلابی ہونٹوں پر گلوس لگاتی اپنے بیگ میں چند ایک ضروری کاغذات رکھتی ،پھرتیلے انداز میں ہر کام کر رہی تھی۔ٓاقصیٰ نے چونکنے کے سے انداز میں ذرا کی ذرا نظر اٹھا کر انہیں دیکھا۔اور پھر بے نیازی سے کندھے اچکآتی اپنے کام میں مصروف ہوگئی۔۔پنی مخصوص ڈریسنگ میں جینز پر پرنٹڈ شیفون کی لانگ شرٹ کے ساتھ سر پر ہم رنگ دوپٹہ گردن سے گھما کر اس انداز میں ڈالا ہوا تھا۔جس سے وہ مکمل کوور ہوگئی تھی۔ "چلو آو۔میں ناشتہ تیار کر رہی ہوں،ناشتہ کر کے جانا جہاں بھی جانا ہے۔"ایک سرد آه خارج کرتیں،وه اس پر ایک تاسف بھری نگاه ڈالتیں کمرے سے باہر نکل گئیں۔جانتی تھیں اگر اس نے نیو جاب کے لیے انٹرویوز دینے کی ٹھان لی تھی ۔تو پھر اس کے ساتھ بحث بیکار تھی۔ اقصیٰ آئینہ میں نظر آتے اپنے سراپے پر ایک بھر پور نگاہ ڈالتی بڑے غور سے خود کو دیکھ رہی تھی۔آج وه ایک نئے امتحان کے لیے گھر
