Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Episode no 32
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 12/06/2026
0 Views
Episode no 32
ڈرائیور نے دروازہ کھولا۔تو پیچھے سے ایک ماڈرن سی خاتون باہر آئی تھیں۔۔ایک لمحہ لگا تھا شناسائی کے مرحلے طے ہونے میں۔۔۔لمحے جیسے تھم گئے تھے۔ ثمرہ کی نگاہ جیسے ہی اُس چہرے پر پڑی، اُس کے پورے وجود میں سنّاٹا سا چھا گیا۔ آنکھیں پتھر کی مانند کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ سانس جیسے ایک پل کو رُک گیا۔ وہ عورت۔۔۔ جنھیں دیکھنے دیکھنے کی اُس نے کبھی خواہش نہیں کی تھی،پتہ نہیں کیوں ،اس چہرے سے اتنی نفرت ہوگئی تھی۔۔ آج اچانک سامنے آگئی تھیں۔۔ اُس کے قدموں تلے زمین نکل گئی۔ لب کپکپا کر خاموش ہو گئے، آواز کہیں گم ہو گئی۔ اُس کے ہاتھ میں پکڑا دوپٹہ بےجان ہو کر لٹک گیا، اور آنکھوں میں ایک انجانی سی حیرت اور خوف اتر آیا تھا۔۔ سامنے کھڑی عورت، جو کار سے اتری تھی، اُسی چہرے کی مالک تھی جو ثمرہ کے ماضی کی سب سے تلخ یادوں سے جُڑا تھا۔ ایک مانوس مگر زخم دینے والا چہرہ… آنکھوں میں غرور، لبوں پر طنزیہ ہنسی، اور وہی مخصوص انداز جس نے ثمرہ کو برسوں تک بے سکون رکھا تھا۔وہ اب مسکرا کر زنیرہ بیگم سے مل رہی تھیں۔ ’’یہ۔۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟" ثمرہ کے دل نے چیخ کر کہا، مگر لبوں سے کوئی آواز نہ نکلی۔ اُس کے دل کی دھڑکنیں بےقابو ہونے لگیں تھیں۔ قدم پیچھے ہٹنے لگے جیسے زمین پر کھڑے رہنے کی طاقت بھی چھین لی گئی ہو۔۔۔ اسکے آنداز پر زنیرہ بیگم نے حیرت سے ثمرہ کی طرف دیکھا، "ثمرہ بیٹا، کیا ہوا؟ سب خیریت تو ہے نا؟" مگر ثمرہ تو جیسے سن ہی نہیں پا رہی تھی۔ پتھرائی آنکھوں سے وہ بس اس عورت کو دیکھے جا رہی تھی۔۔۔وہ عورت آگے بڑھی اور سرسری سی نظر ڈال کر بےتاثر لہجے میں بولی۔۔ ’’السلام علیکم! ثمرہ کے کانوں میں اُن کی طنزیہ آواز گونجی تو دل کی دھڑکن ایک لمحے کو تھم سی گئی۔ اُس نے بےاختیار زنیرہ بیگم کا تھام لیا تاکہ گر نہ جائے۔ پورا وجود کانپنے لگا تھا۔ ’’ثمرہ بیٹا! مجھے تمھاری طبیعت کچھ ٹھیک نہیں لگ رہی۔۔تم جاؤ،جاکر آرام کرو۔۔ آئیے اندر چلیں۔" ثمرہ ابھی بھی ہلکی سی کپکپاہٹ کے ساتھ کھڑی رہی۔ دل و دماغ کی جنگ عروج پر تھی۔ وہ منظر، وہ چہرہ، سب کچھ اسے کسی خوفناک خواب کی طرح لگ رہا تھا۔ آنکھوں میں سوال تھے، دل میں خوف، اور وجود میں ایک عجیب سی بےبسی۔ وہ لمحہ، جس نے سب کچھ بدل دیا تھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آفس میں شام کی رُوشنی دِھیرے دھیرے مدھم ہو رہی تھی۔ عریشہ اپنے کیبن میں بیٹھی کچھ فائلز دیکھنے میں مگن تھی کہ دروازہ ہلکے سے ناک ہوا۔ سر اُٹھایا تو نظر سامنے گئی تھی، مصطفیٰ چہرے سے سنجیدگی سجائے کمرے میں داخل ہوا تھا۔۔ چہرے پر ہلکی سی سنجیدگی تھی، اور آنکھوں میں کچھ الجھن بھی۔ ’’عریشہ،فری ہو؟ مجھے کچھ ضروری بات کرنی ہے،" وہ آ کر سامنے والی کرسی پر بیٹھ گیا۔ عریشہ نے فائل بند کی اور اس کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا، ’’جی مصطفیٰ صاحب!سب خیریت ہے؟‘‘وہ سوالیہ آنداز میں گویا ہوا تھا۔ مصطفیٰ نے گہری سانس لی، ’’دیکھوعریشہ ، تمہیں پتہ ہے آج جو کچھ ہوا ہے… وہ کوئی چھوٹی بات نہیں تھی۔ فائرنگ کا واقعہ آسانی سے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔اب تمھارا کزن اوچھے ہتھکنڈوں پر اُتر آیا ہے۔بہتر یہی ہے کہ اس کو لگامیں ڈالی دی جائیں۔‘‘" عریشہ نے لب بھینچتے ہوئے ہلکا سا سر ہلایا، "ہاں، میں جانتی ہوں۔ مگر وہ یہ سب صرف ڈرانے کی کوشش میں کر رہا ہے، کچھ اور نہیں۔‘‘ مصطفیٰ نے نظریں اس کی آنکھوں میں گاڑ دیں۔۔ ’’چاہے جو بھی تھا، احتیاط ضروری ہے۔ اس لیے میں پوچھنے آیا ہوں کہ تم آج میرے ساتھ گھر چلو گی یا مجتبیٰ کے ساتھ واپس جاؤ گی؟‘‘ عریشہ کچھ پل کے لیے خاموش ہو گئی۔ ایک طرف دل میں مجتبیٰ کے ساتھ واپسی کی عادت سی ہوگئی تھی، دوسری طرف مصطفیٰ کی فکر۔ باہر ہلکی ہلکی بارش پھر سے شروع ہو گئی تھی، کھڑکی پر پانی کی بوندیں تھپ تھپ کی آواز کے ساتھ گر رہی تھیں۔رات کے بعد سے ایک بار پھر موسم کے تیور بگڑنے لگے تھے۔ ’’تمہیں لگتا ہے کہ ابھی بھی خطرہ باقی ہے؟‘‘عریشہ نے آہستگی سے پوچھا۔ مصطفیٰ نے فوراً جواب دیا۔۔۔ ’’بالکل۔ جب تک ہم لوگ لیگل ایکشن نہیں لیتے اور پولیس حرکت میں نہیں آتی، تب تک احتیاط بہتر ہے۔‘‘ عریشہ نے نظریں جھکا کر میز پر انگلیاں چلائیں، پھر ہلکے سے بولی، ’’مجتبیٰ بھی تو ساتھ ہے مصطفیٰ نے نرمی سے کہا، "ہاں، میں جانتا ہوں۔ مگر وہ اکیلا تمہیں پروٹیکٹ نہیں کر سکتا، نہ ہی اس کی ذمہ داری ہے۔ دیکھو، یہ تمہارا معاملہ ہے، اور تمہاری سیفٹی میری پہلی ترجیح ہے۔ اس لیے بتاؤ، کیا فیصلہ ہے؟" عریشہ نے گہری سانس لی، "اچھا، ایسا کرتے ہیں آج تو مام بھی آئی ہوئی ہیں میں تمھارے ساتھ چلتی ہوں مگر پھر بعد میں مجتبیٰ کے ساتھ ہی جاؤں گی، لیکن اس بار تم اپنے سیکورٹی گارڈز کو بھی ہمارے ساتھ بھیج دو۔ تاکہ دونوں طرف سے احتیاط رہے۔" مصطفیٰ کے چہرے پر ہلکی سی تسلی کی جھلک آئی، "ٹھیک ہے، یہی بہتر ہے۔ میں ابھی انتظام کرتا ہوں۔ اور پلیز… کل کے بعد تم ہرگز اکیلی کہیں نہیں جاؤ گی، یہ میری سخت ہدایت ہے۔" عریشہ نے ہلکا سا مسکرا کر سر ہلایا، "ٹھیک ہے باس، جیسا آپ کا حکم۔" مصطفیٰ نے مسکرا کر اٹھتے ہوئے کہا، "باس صرف آفس میں ہوں، باہر تو دوست ہوں… اور دوست کی حیثیت سے تمہاری حفاظت میرا فرض ہے۔" عریشہ نے مسکراہٹ کے ساتھ اثبات میں سر ہلایا، دل میں ایک عجیب سی طمانیت اور الجھن کا امتزاج سا محسوس کرتے ہوئے۔۔۔پھر وہ سر جھٹک گئی تھی۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گھر کی فضا میں بےچینی سی چھائی ہوئی تھی۔ جبران صاحب کے بنگلے کے ڈرائنگ روم میں ہلکی سی مدھم روشنی جل رہی تھی، مگر ماحول میں گھٹن سی محسوس ہو رہی تھی۔ فرناز صوفے پر دونوں بازو سینے پر لپیٹے بیٹھیں تھیں، آنکھوں میں غصے کی چمک اور ماتھے پر بل صاف جھلک رہے تھے۔ "آپ کو ذرا پرواہ بھی ہے؟" وہ اچانک دھاڑیں، "ہم سب کس حال میں ہیں، آپ کو صرف کورٹ کی پیشی کی فکر ہے جبران صاحب، جو چند لمحے پہلے سے چپ چاپ سامنے کرسی پر بیٹھے تھے، اپنی عینک اُتار کر ماتھے پر رکھی تھی۔۔ ان کی آنکھوں میں ایک تھکاوٹ اور بوجھ کی گہرائی نظر واضح تھی۔ "فرناز، پلیز۔۔۔۔ اَب تم مت شروع ہوجانا۔۔تم دیکھ رہی ہو نا کہ میں شارق کی وجہ سے کتنا پریشان ہوں،ثمرہ کی طرف سے مجھے الگ پریشانی لگی ہوئی ہے پھر قصویٰ وہ الگ ہی باغی ہو گئی ہے۔۔ تم دیکھ رہی ہو نا، میں خود کتنا پریشان ہوں۔ شارق کا معاملہ مذاق نہیں ہے۔ قتل کا کیس ہے، تم سمجھتی ہو؟" فرناز اُٹھ کھڑی ہوئی تھی، اَن کی آواز میں خفگی اور بےبسی گھل چکی تھی۔ "پریشان؟ آپ پریشان ہیں؟ آپ نے کبھی شارق کو سنبھالا ہوتا تو آج یہ دن نہ دیکھنے پڑتے! آپ کی لاپرواہی کی وجہ سے آج ہم عدالتوں کے چکر کاٹ رہے ہیں۔‘‘وہ غرائی تھیں۔!" جبران صاحب پر ماتھے پر ناگواری کی شکن سی ابھری تھی، مگر وہ خود پر قابو کر گئے تھے۔۔ "یہ وقت الزام دینے کا نہیں ہے فرناز۔ شارق ہمارا بیٹا ہے، اور ہمیں مل کر اس کی مدد کرنی ہے۔ صبح عدالت میں سب
