Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Episode no 32
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 12/06/2026
0 Views
Episode no 32
ہارا جنون از_ہما_قریشی قسط_نمبر_32 ائیرپورٹ کے باہر ہلکی ہلکی ہلچل تھی۔ لوگ اپنے پیاروں کو لینے کے لیے جمع تھے۔ بڑی بڑی سوٹ کیسز کے ساتھ ایک خاتون، جن کے چہرے پر غرور اور خود اعتمادی صاف جھلک رہی تھی، باہر آئیں۔ گہرے رنگ کی ساڑھی، بڑے بڑے سن گلاسز اور ہاتھ میں مہنگا ہینڈ بیگ۔۔ ۔ سامنے ایک کالے رنگ کی شاندار گاڑی انکی منتظر تھی۔ ڈرائیور نے فوراً باہر نکل کر لپک کر دروازہ کھولا اور مودبانہ انداز میں کہا، میڈم، آپ کے لیے مصطفیٰ صاحب نے بھیجا ہے۔" ماہین بیگم نے اپنی سن گلاسز کے اوپر سے سرسری نگاہ ڈالی پھر ایک ادا سے ذرا ناک سکیڑ ی۔۔ ۔" بڑے ناز سے، اپنے آپ کو سنبھالتی ہوئی وہ گاڑی میں بیٹھ گئیں۔ ڈرائیور نے جلدی سے دروازہ بند کیا اور ڈرائیونگ سیٹ پر آ کر بیٹھ گیا۔ گاڑی نے آہستہ آہستہ رفتار پکڑی تو ماہین بیگم نے اپنے بیگ سے فون نکالا اور غصے میں نمبر ملانے لگی۔ "عریشہ! میں پہنچ گئی ہوں۔ امید ہے کہ رہائش تم نے میری عزت کے مطابق رکھی ہوگی؟" دوسری طرف عریشہ کی پرسکون آواز آئی، "جی آنٹی، سب ارینجمنٹ ہو چکا ہے۔ آپ آرام سے پہنچ جائیں گھر،پھر بات کرتے ہیں۔" ماہین بیگم نے ہنکارہ بھرا، "ہُم… امید کرتی ہوں۔" فون بند کرتے ہی وہ کھڑکی سے باہر دیکھنے لگیں۔دل ہی دل میں وہ بہت کچھ سوچ رہی تھیں۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مصطفیٰ آفس کی کھڑکی کے پاس کھڑا فون کان سے لگائے نرم آواز میں بول رہا تھا۔ باہر شام کی خنک ہوا چل رہی تھی، مگر اس کے لہجے میں ہمیشہ کی طرح کی محبت پنہاں تھی۔۔ ’’ثمرہ۔۔۔ آپ میری بات سن رہی ہیں؟‘‘ دوسری طرف ثمرہ کی ہنستی ہوئی آواز آئی۔۔تو وہ ذرا خفگی سے بولا۔۔۔شاید وہ کچن میں تھی۔وہ اسکی کم سن رہی تھی۔اور ملازمہ کی زیادہ۔۔۔ ’’جی جناب، خیریت؟ آج آفس میں اتنی فرصت کہاں سے نکالی؟ مصطفیٰ نے ہلکی سی مسکراہٹ دبائی، "یار! اصل بات یہ ہے کہ آنٹی۔۔ یعنی عریشہ کی امّی، تھوڑی دیر میں گھر پہنچنے والی ہیں۔ میں نے ڈرائیور کو ائیرپورٹ بھیجا تھا، وہ لے کر آ رہا ہے۔" ثمرہ کی آواز میں ایک لمحے کو خاموشی چھا گئی، پھر اس نے سنجیدگی سے پوچھا، "اوہ اچھا، کب تک پہنچ جائیں گی؟" مصطفیٰ نے اپنی گھڑی دیکھی، "بس آدھے گھنٹے تک۔ پلیز، دیکھ لو ان کا اچھا سا استقبال ہو۔۔۔وہ ذرا مغرور طبیعت کی ہیں۔ سو۔۔۔ ’’اوکے اوکے! ویسے تو میں نے سارے ارینجمنٹس کرا دئیے تھے۔۔مگر پھر بھی میں اور دیکھ لونگی۔۔فکر نہ کریں۔‘‘اس نے مطمئن آنداز میں کہا تھا۔۔۔ ’’اوہ تھینک یو سوئیٹ ہارٹ!‘‘وہ مسُرور ہوا۔۔ ’’اچھا بس بس، اتنی تعریفیں نہ کریں۔۔ ’’اچھا ثمرہ ،رات کے ڈنر کا مینیو بھی دیکھ لیجیے گا۔۔کوشش کیجیے گا کہ سب کچھ دیسی نہ ہو۔۔۔باقی عریشہ سے کال کر کہ پوچھ لیں کہ انھیں کیا پسند ہے۔۔‘‘ ’’جی جی آپ بے فکر رہیں ،میں دیکھ لونگی۔۔آپ لوگ گھر کب تک آئینگے؟‘‘ اب وہ پوچھ رہی تھی۔ ’’اہمم! آج کچھ ہم میٹنگز ہیں میری۔۔پہلے وہ بھگتا لوں شاید کچھ دیر ہوجائے کیونکہ آج سائٹ کا وزٹ بھئ ہے۔‘‘وہ اپنے شیڈول سے آگاہ کر رہا تھا۔۔۔تو وہ مزید کچھ باتیں کرتی الوداعی کلمات ادا کرتی موبائل بند کر چکی تھی۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اہان اپنے آفس کے کیبن میں صوفے پر بیٹھا سگریٹ سلگائے گہری سوچوں میں ڈوبا ہوا تھا۔ سامنے کی میز پر موبائل رکھا تھا جو اچانک وائبریٹ ہونے لگا۔ اس نے چونک کر فون اٹھایا، سکرین پر اپنے خاص آدمی کا نام جگمگا رہا تھا۔ "ہاں بولو، کیا خبر ہے؟" اہان نے سپاٹ لہجے میں پوچھا۔ دوسری طرف سے دبے دبے لہجے میں رپورٹ دی گئی، "سر، جیسا آپ نے کہا تھا، ہم نے عریشہ میڈم کی گاڑی کو فالو کیا… لیکن ایک عجیب بات ہوئی۔" اہان کی پیشانی پر شکنیں پڑ گئیں، "کیا مطلب؟ صاف صاف بتاؤ۔" سر، عریشہ میڈم اپنے دوست مصطفیٰ کی گاڑی میں تھیں۔ لیکن گاڑی میں ایک اور بندہ بھی تھا۔۔" اہان کا دل ایک پل کو رک سا گیا۔ اس نے سگریٹ کی راکھ جھاڑی اور کڑے لہجے میں بولا۔۔ کون تھا؟ پتہ لگایا؟‘‘ ’’جی! وہ میڈم کے آفس میں ہی کام کرتا ہے۔۔‘‘ "سر، بات یہ ہے کہ گاڑی آفس کے معمول کے روٹ پر نہیں جا رہی تھی۔ روٹ کچھ مختلف تھا… ایسا لگ رہا تھا جیسے کسی اور راستے سے نکال رہے ہوں۔ شاید سیکورٹی کی وجہ سے یا… کچھ اور۔ لیکن مجھے لگتا ہے کہ عریشہ میڈم نے اس شخص کو لفٹ وغیرہ دی ہوگی۔۔۔‘‘" اہان نے آنکھیں میچ کر گہری سانس لی۔ دل میں ایک انجانی سی الجھن جاگ اٹھی۔ کچھ دیر تک خاموشی چھائی رہی، پھر وہ آہستہ سے بولا، "تمہیں پورا یقین ہے کہ وہ گاڑی مصطفیٰ کی تھی؟" "جی سر، بالکل۔ نمبر پلیٹ کی بھی کنفرمیشن کی ہے۔" اہان کی مٹھی بھنچ گئی۔ نظریں خلا میں گھورنے لگیں۔ عریشہ… مصطفیٰ… اور وہ لڑکا … تینوں اکٹھے؟ اور روٹ بھی الگ؟ وہ سوچ بچار میں گم تھا۔۔کیونکہ وہ مہروز صاحب کے کہنے پر فائرنگ تو کرا چکا تھا۔۔مگر درحقیقت وہ ایسا چاہتا نہیں تھا۔۔۔ "ٹھیک ہے، تم نظر رکھو۔ مجھے ہر اپڈیٹ چاہیے، ہر حرکت پر نظر رکھو۔" اہان نے حکم دیا۔ "اوکے سر، جیسا آپ کہیں۔" کہہ کر کال بند ہو گئی۔ اہان نے فون میز پر رکھا اور کرسی کی پشت سے سر ٹکا لیا۔ آنکھیں بند کرتے ہی ذہن میں مختلف سوال گردش کرنے لگے۔ ’’ یہ سب کیا چل رہا ہے؟ عریشہ کس کے ساتھ تھی۔۔پاکستان میں تو اور کوئی ملنے والا نہیں ہے۔۔ مگر مصطفیٰ کی گاڑی میں کیوں؟ اور روٹ بدلنے کی کیا ضرورت تھی؟ شک، تجسس اور بے چینی… سب مل کر اس کے دل و دماغ کو جکڑنے لگے تھے۔ وہ جانتا تھا، معاملہ صرف اتفاق نہیں تھا… کچھ تو ایسا تھا جو اس کی نظروں سے اوجھل تھا۔۔یقیناً عریشہ کچھ پلاننگ کر رہی تھی۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گھر کے لان میں ہلکی ہلکی ہوا چل رہی تھی، اور دوپہر کی دھوپ آسمان پر مدھم سی بکھری ہوئی تھی۔ ثمرہ کا دل آج کچھ خاص تیز دھڑک رہا تھا۔ وہ بار بار گھڑی کی طرف دیکھ رہی تھی اور کبھی دروازے کی طرف۔ مصطفیٰ نے صبح آفس سے فون کر کے سختی سے تاکید کی تھی کہ "ثمرہ، آج کے مہمان بہت اہم ہیں، استقبال میں کوئی کمی نہیں رہنی چاہیے!" ثمرہ نے گھر کے ہر کونے کو سجا دیا تھا، ڈرائنگ روم کی خوشبو دار موم بتیاں، تازہ پھولوں کے گلدستے، سب کچھ بہترین انداز میں سجا تھا۔ آج اُس نے خود بھی خاص اہتمام کیا تھا۔ ہلکی سی گلابی شلوار قمیض، نفیس جیولری اور بالوں میں ہلکی سی سیٹنگ، تاکہ آنٹی پر انکا ایک اچھا امپریشن پڑے۔۔۔ ’’آنٹی !بھی اُس کے ساتھ لان میں آ کر کھڑی ہو گئیں۔ اُن کے چہرے پر بھی معمول کی شرافت اور وقار موجود تھا، مگر ثمرہ کے دل میں جو جوش اور گھبراہٹ تھی وہ چھپائے نہ چھپ رہی تھی۔نجانے ایسا کیا تھا۔۔وہ صبح سے گھبراہٹ میں مبتلہ تھی۔۔۔ "ثمرہ بیٹا، بس گاڑی آتی ہی ہوگی۔۔" زنیرہ بیگم نے نرمی سے کہا اور ہلکا سا مسکرا کر اپنے دوپٹے کو سنبھالا۔ ثمرہ نے گہری سانس لی، دل ہی دل میں دُعائیں مانگتی رہی کہ سب خیر و عافیت سے گزرے۔ اتنے میں گاڑی کے ٹائروں کی آواز سنائی دی۔ ثمرہ نے بےاختیار ایک قدم آگے بڑھایا، نظریں دروازے پر جم گئیں۔ گاڑی دھیرے سے رکی، اور
