Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Episode no 28
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 08/06/2026
0 Views
Episode no 28
سکتی ہیں۔ مصطفیٰ کمرے کے بیچ کھڑا ہے، اور ثمرہ دروازے کے قریب خاموشی سے کھڑی تھی۔۔۔دونوں کے چہروں پر کئی دنوں کی تکلیف، بچھڑنے کی اذیت، اور پھر ملنے کی بےیقینی کے آثار نمایاں ہیںْ۔۔۔۔ چند لمحوں تک دونوں خاموشی سے ایک دوسرے کو دیکھتے رہے تھے، جیسے الفاظ کا بوجھ اتنا زیادہ ہو کہ زبان پر نہ آ سکے۔ پھر آخرکار، ثمرہ نے ایک کانپتی ہوئی سانس لی اور دھیمی آواز میں بولی "مجھے لگا تھا… میں کبھی آپ کو دوبارہ نہیں دیکھ سکوں گی، مصطفیٰ۔۔اس وقت میری کیا حالت تھی ۔۔میں آپ کو بتا نہیں سکتی۔…"وہ رندھے سے لہجے میں بولی تھی۔۔۔ "کیا آپ کو واقعی لگا تھا کہ میں آپکو اکیلا چھوڑ دوں گا؟یا انکے رحم و کرم پر چھوڑ کر بھول جاؤں گا؟"وہ چپ تھی ۔۔ "میں بہت ڈر گئی تھی، مصطفیٰ… وہاں وقت جیسے تھم گیا تھا… ہر دن، ہر لمحہ، مجھے لگا شاید یہیں ختم ہو جاؤں گی… شاید تآپ مجھے ڈھونڈ بھی نہ سکو گے…بابا کا کہنا تھا کہ آپ۔۔"وہ آنسو پی گئی تھی۔۔ ثمرہ ،اور رہی بات آپ کے باپ اور بھائی کی ۔۔تو اب میں انھیں نہیں چھوڑوں گا ۔۔۔اور آپ کچھ نہیں کہیں گی۔۔"وہ نفی میں سرہلاتی اگے بڑھ کر اسکے سینے پر سر رکھ گئی تھی۔۔۔۔ "میں ڈر گئی تھی۔۔۔"وہ اس کے گرد اپنا حصار مضبوط کرگیا تھا۔۔مصطفیٰ گہری سوچ میں ڈوبا ہوا تھا ۔جبکہ وہ مسلسل روتی ،کچھ نہ کچھ بول رہی تھی ۔۔کبھی اسکا زخم چھو کر دیکھتی تو کبھی رخسار پر ہونٹ رکھ دیتی۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سورج، نارنجی اور سرخی مائل شفق کا لمس لیے، آہستہ آہستہ افق کے پار ڈوبنے کو تھا۔ ہوا میں ہلکی سی خنکی گھل چکی تھی، اور پرندوں کے جھنڈ اپنے گھونسلوں کی طرف لوٹ رہے تھے۔ سڑکوں پر چلتی گاڑیوں کی ہیڈلائٹس ایک ایک کر کے روشن ہونے لگیں، اور دھوپ کی آخری کرنوں میں سونے جیسی چمک پیدا ہو گئی۔ درختوں کی سیاہ پڑتی پرچھائیاں سڑک کنارے پھیلنے لگیں، جیسے کسی مصور نے سیاہی سے آسمان پر ہلکے ہلکے رنگ بکھیر دیے ہوں۔ وہ دونوں گاڑی میں بیٹھے خاموشی سے مجتبیٰ کے گھر کی جانب گامزن تھے،آئزل سوچوں میں ڈوبی ہوئی تھی۔۔ ’’آئزل!‘‘اچانک ہی اہان کی آواز پر وہ سوچوں کے محور سے باہر نکلی تھی،کیونکہ مجتبیٰ کے کہنے پر ہی اہان آئزل کو تھوڑی بہت بات بتا چکا تھا۔۔ ’’ہمم!‘اس نے دھیرے سے ہنکار بھرا۔۔ ’’پریشان ہو؟‘‘اس نے استفسار کیا۔ ’’نہیں! بس سوچ رہی ہوں ،کہ مجتبیٰ کو یہ سب کرنے کی کیا ضرورت تھی۔۔"" ’’جو کچھ بھی ہوا،تم زیادہ پریشان نہ ہو،بس یہ دیکھو کہ تمہارے نکمے بھائی کو بیٹھے بیٹھائے حور پری مل گئی ہے۔‘‘وہ ہمیشہ کی طرح شوخی سے بولا،تو آئزل نے گھورا۔۔ ’’میرا بھائی کونسا کسی سے کم ہے۔یا اسے کمی ہے حور پری سی لڑکیون کی۔‘‘اس نے منہ بسورا،تو وہ قہقہہ لگا گیا۔۔۔ ’’اچھا بھئی،بھائی کی بہن تو کبھی اسکی برائی نہیں سن سکتی۔۔‘‘وہ شوخی سے بولتا مسکراہٹ ضبط کرگیا ،تو آئزل نے بھی سر جھٹکا تھا۔۔پھر وہ ہلکی پھلکی باتوں میں مشغول ہوگئے ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا مطلب ہے ؟کہاں جارہی ہیں آپ؟‘‘مجتبیٰ نے عریشہ کو گھورا،جو پوری تیاری کےساتھ شاید کہیں جانے کے لئے تیار ہوئی تھی۔۔ ’’میں مصطفیٰ کے گھر جا رہی ہوں۔‘‘اس نے آگاہ کیا۔۔ ’’آج نہ جائیں پلیز!میں نے اپنی بڑی بہن کو بلوایا ہے۔‘‘مجتبیٰ نے گویا منت کی۔ ’’تو؟‘‘اس نے آئی برو اٹھائے۔ ’’تو یہ میڈم!کہ آج پلیز گھر ٹھہر جائیں،وہ خاص الخاص آپ سے ملنے کے لئے آرہی ہے۔‘‘مجتبیٰ نے ذرا التجائیہ آنداز میں کہا۔ ’’سوری مجتبیٰ!تم نے اپنا پلین مجھ سے پوچھ کر نہیں بنایا،مجھے آج ہر حال میں مصطفیٰ کے گھر جانا ہے،ورنہ وہ مجھ سے ناراض ہوجائے گا۔‘‘وہ بیگ اٹھاتی جانے کے لئے تیار کھڑی تھی۔۔وہ خاموش رہ گیا۔اب وہ اسے مجبور بھی تو نہیں کر سکتا تھا نا۔۔ ’’اوکے!کس طرح جائیں گی آپ؟‘‘وہ سوالیہ بولا۔ ’’کیب بلوائی ہے میں نے۔بس پانچ منٹ میں آرہی ہے۔‘‘اس نے آگاہ کیا،تو اسکی پیشانی پر بل نمودار ہوئے۔ ’’مگر اس طرح کیب بلوانا ٹھیک نہیں،آگر آپ کے اس جعلی شوہر نے آپ پر حملہ کردیا تو؟‘‘اس نے ذرا پریشانی سے کہا۔ ’’نہیں کرے گا۔آج کل وہ اپنی بیوی کے ساتھ ہنی مون پر ہے۔‘‘مجتبیٰ نے ذرا حیرانی سے کہا۔ ’’تو پھر آپ کو ڈرا دھمکا کون رہا تھا؟‘‘ ’’میرا تایا!‘‘وہ پرسکون آنداز میں بولی،تو وہ نفی میں سر ہلا کر رہ گیا۔۔ ’’تو پھر؟‘‘ ’’میں جا رہی ہوں مجتبیٰ!اور پریشان نہ ہونا،آج میں وہین ٹھہرؤنگی،کیونکہ مصطفیٰ سے کچھ ضروری باتیں کرنی ہیں۔۔‘‘وہ بولتی ہوئی عجلت میں باہر نکل گئی تھی،جبکہ وہ ارے ارے ہی کرتا رہ گیا تھا۔۔ ’’یہ کیا بدتمیزی ہے؟مطلب میں شوہر ہوں،یہ مجھ سے پوچھ رہی تھیں،یا بتا رہی تھیں۔۔‘‘وہ خود ساختہ مخاطب ہوتا سر جھٹک گیا۔ساتھ ہی قدم باہر کی جانب بڑھائے،تاکہ اسے گاڑی میں بیٹھا سکے۔مگر محترمہ پہلے ہی ڈرائیور کو گلی کے نکڑ تک بلوا کر گاڑی میں بیٹھتی وہاں سے نکل چکی تھیں،اس نے گھور کر دور جاتی گاڑی کو دیکھا تھا۔۔۔ وہ ابھی پلٹ ہی رہا تھا،کہ دوسرے طرف سے آئزل اور اہان پیدل مارچ کرتے اسی کی جانب آرہے تھے۔۔ ’’ارے واہ سالے صاحب!آپ پہلے ہی استقبال کے لئے کھڑے ہیں؟‘‘وہ ذرا شوخ ہوا،تو مجتبیٰ نے آگے بڑھ کر آئزل کو سینے سے لگایا تھا۔ ’’میں اپنی بہن کے لئے باہر آیا تھا۔۔ورنہ تم اس قابل بالکل نہیں ہو۔۔‘‘گھر میں ساتھ ہی قدم رکھتے مجتبیٰ نے حساب بے باک کیا،تو آئزل مسکرائی۔۔ ’’تم ذرا یہ بتاؤ کہاں ہیں تمہاری زوجہ محترمہ،جن سے شادی کرنے کی تمھیں اتنی جلدی تھی کہ بہن کا انتظار بھی نہ کیا گیا؟‘‘وہ ذرا مصنوعی غصےٰ سے کمر پر ہاتھ دھر سے استفساریہ بولی تو وہ ہولے سے مسکرایا۔ ’’بس یار!سب اتنا جلدی میں ہوا کہ بتانے کا وقت ہی نہیں ملا۔۔‘‘وہ ذرا مایوسی سے بولا۔۔ ’’اچھا بھابھی ہے کہاں؟‘‘اس بار اہان کو بھی تجسس ہوا۔ ’’اپنے میکے گئی ہیں۔۔‘‘وہ خفت سے بالوں میں ہاتھ گھوماتا دانت پیس کر بولا تو وہ دونوں ہی حیران ہوئے۔۔ ’’ہیں؟میکے گئی ہیں؟آر یو سریس؟‘‘اس نے بھونیں اٹھائیں۔ ’’ہاں تو کیا ایسی باتوں کا اب میں مذاق کرونگا۔‘‘وہ ذرا خفا ہوا۔ ’’ہاہاہاہاہا!ڈانٹ ٹیل می مجتبیٰ کے وہ تیرے حکم کو کسی خاطر میں لائے بغیر تجھ پر باس والا رعب جما کر اپنی مرضی سے کہیں چلی گئی ہیں۔۔‘‘وہ مسکراہٹ ضبط کرتا اسکا خفت سے سرخ پڑتا چہرہ دیکھ رہا تھا،جبکہ آئزل اب سنجیدہ ہوگئی تھی۔ ’’شٹ اپ۔‘‘وہ ناگوارہ سے غرایا۔وہ آئزل کے تاثرات دیکھ بمشکل مسکراہٹ ضبط کرسکا تھا۔ ’’یہ سب کیا ہے مجتبیٰ؟‘‘اس نے ذرا ناگواری سے استفسار کیا۔ ’’کیا؟‘‘مجتبیٰ نے بھنویں اٹھائیں۔ ’’یہی سب اور کیا؟مطلب یہ کیا طریقہ ہے بھئی،جو بھی ہے ،اب وہ تمھاری بیوی ہے۔کیا تم نے اسے ہمارے یہان آنے کی اطلاع نہیں دی تھی؟‘‘وہ ناگواری سے سوال کر رہی تھی۔ جاری ہے
