Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Episode no 28
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 08/06/2026
0 Views
Episode no 28
تھے ، جبکہ شارق علوی اور جبران علوی ایک کونے میں کھڑے شدید پریشان نظر آ رہے تھے۔ دروازے کے بیچ مصطفیٰ، سخت اور قاتلانہ نظروں کے ساتھ کھڑا گھور رہا تھا، اس کے ساتھ چند پولیس افسر بھی موجود ہیں۔۔ ’’ایس یس پی اسید عالم نے آگے بڑھ کر شارق کو ہتھکڑی لگائی تھی۔۔ ’’بابا! ’’مصطفیٰ!‘‘جبران صاحب دھاڑے۔ ’’احد واجدان مصطفیٰ کی گاڑی پر جان لیوا حملہ کروانے اور ان کی وائف کو زبردستی اپنے گھر میں قید رکھنے کے جرم میں شارق علوی کو گرفتار کیا جاتا ہے۔۔‘‘اسید کے لہجے پر وہ لب بھینچ گیا۔۔پولیس پورے گھر کی تلاشی لے رہی تھی۔۔۔ ’’یہ سب کیا بدتمیزی ہے، مصطفیٰ؟ تم جانتے بھی ہو کہ تم کس کے گھر میں گھسے ہو؟‘‘ شارق کی بات پر وہ استہزائیہ آنداز میں مسکرایا۔۔۔۔۔ جانتا ہوں، اسی لیے آیا ہوں! یہ وہی گھر ہے جہاں میری بیوی کو قید رکھا ہوا ہے۔۔ سب سے اہم بات یہ ایک بے غیرت بھائی کا گھر ہے۔۔‘‘شارق کا چہرہ سرخ پڑ گیا تھا۔۔۔ ’’ تمہاری بیوی؟ پہلے میری بہن ہے! اور ہم نےاُسے قید نہیں رکھا، وہ خود۔۔۔‘‘وہ اس سے قبل کچھ بولتا،مصطفیٰ کی چنگھاڑتی آواز پر ٹھہر گیا۔۔۔ ’’جھوٹ مت بولو شارق علوی۔۔۔مجھ پر اور میری بیوی پر جان لیوا حملہ کروا،کر تمھیں یہ گماں ہے کہ میں تمھیں چھوڑ دونگا تو یہ بہت بڑی بھول ہے تمھاری۔‘‘وہ سخت لہجے میں غرایا تھاْ۔ اپنے کمرے میں قید ثمرہ نیچے سے مصطفیٰ کی آوازیں سن کر تیز لجے میں پکارنے لگی تھی۔۔۔۔۔ جبران کو شارق کو خاموش رہنے کا اشارہ کرتا ذرا پریشان دکھائی دے رہا تھا۔۔، لیکن اس کے ماتھے پر پڑتی شکنیں اس کی بےچینی ظاہر کر رہی ہیں۔ ادھر پولیس افسران ایک ملازم کو ہتھکڑی لگاتے ہوئے مصطفیٰ کے قریب آتے ہیں۔۔۔۔۔ ’’ہمیں وہ کمرا مل گیا ہے جہاں مسز ثمرہ کو بند رکھا گیا تھا۔ مسز فرناز انھیں غائب کرنے کی بھرپور کوشش میں تھیں۔۔آپ کی مسز نے نیچے آنے سے منع کردیا ہے،بہتر ہے کہ آپ خود ہی انھیں جاکر لے آئیں۔۔‘‘لیڈیز پولیس کے کہنے پر وہ ذرا گھبرا کر اُپر کی جانب بڑھنے لگا۔۔ اب بھی کچھ کہنا ہے، مسٹر شارق علوی؟ یا عدالت میں سب کچھ کہو گے؟مصطفیٰ نے زہریلی مسکراہٹ کے ساتھ، شارق کو گھورتے ہوئے کہا۔۔۔" تم ہمیں دھمکی دے رہے ہو، مصطفیٰ؟ یاد رکھو، ہم بھی اس شہر میں کچھ کم طاقتور نہیں۔۔‘‘ شارق علوی نے غصے کو دباتے ہوئے، مگر آواز میں سختی سمو کر کہا تھا۔۔۔ "’’طاقت کا نشہ زیادہ مت کرو، شارق! وہ پولیس والے جو تمہاری دولت سے دب جاتے تھے، وہ زمانہ گیا! اب تمہیں حساب دینا ہوگا۔۔۔کیونکہ تمہارا پالا احد مصطفیٰ سے پڑا ہے۔۔‘‘وہ سیڑھیوں پر ٹھہر کر جتانے والے آنداز میں بولا تھا۔۔!" جبران بےچینی سے اپنے موبائل کی طرف ہاتھ بڑھائے تھے ، شاید کسی کو کال کرنے کے لیے، لیکن پولیس افسر فوراً انکا کا ہاتھ تھام کر روک لیتا ہے۔۔ ’’یہاں کوئی فون کال نہیں ہوگی، مسٹر جبران! آپ دونوں کو پولیس اسٹیشن چلنا ہوگا، مزید تفتیش کے لئے۔۔۔‘‘وہ دونوں لب بھینچ گئے۔۔کیونکہ مصطفیٰ ثمرہ کے کمرے میں جا چکا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’ثمرہ!‘‘وہ بھاگ کر ثمرہ کی جانب گیا تھا،جو بیڈ پر بیٹھی بری طریقےسے سسک رہی تھی،جبکہ فرناز اسکے سرہانے کھڑی،ذرا بوکھلائی سی دکھائی دے رہی تھیں۔۔۔ ’’مصطفیٰ!فرناز گھبرا کر پیچھے ہوئیں۔جبکہ وہ اٹھ کر گلے لگ گئی تھی۔۔جس نے ثمرہ کی بکھری حالت دیکھ لب بھینچ لئے تھے۔۔یقیناً وہ ان دونوں میں بس روتی ہی رہی تھی۔۔۔آنکھوں سے بے شمار آنسو رواں تھے۔۔۔ ’’مصطفیٰ پلیز مجھے یہاں سے لے کر جائیں۔۔‘‘اپنا کوٹ اتار کر اسکو پہناتے مصطفیٰ نے اچھے سے اسکا سراپا دوپٹے سے کور کیا تھا۔۔ ’’بس خاموش ہوجائیں۔۔۔آپ کے باپ اور بھائی یہ حرکت کر کہ میرے نظروں سے بھی گر چکے ہیں۔۔اب نہیں چھوڑونگا میں انکو۔۔‘‘فرناز نے بغور مصطفیٰ کو آنداز دیکھا تھا۔۔دل پر سانپ لوٹ گئے تھے۔۔ ’’پلیز چلیں یہاں سے۔۔میں اس گھر میں ایک لمحہ بھی نہیں گزارنا چاہتی۔۔‘‘وہ دکھ سے بولتی فرناز کو ایک کاٹ دار نگاہ سے نوازتی مصطفیٰ کی ہمراہی میں روم سے باہر نکل آئی تھیئ۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’مے آئی کم ان!‘‘مجتبیٰ کو دیکھ وہ سیدھی ہوئی۔ ’’کم ان۔۔‘‘وہ پریشان دکھائی دے رہی تھی۔ ’’کیا ہوا ؟کوئی مسلہ ہے؟‘‘اس نے آئی برو اٹھائے۔ ’’نہیں وہ دراصل ،میں نہیں چاہتی کہ ابھی کسی کو بھی آفس میں ہمارے بارے میں پتہ لگے۔۔‘‘وہ سمجھ کر سر ہلا گیا۔۔ ’’تو پھر؟‘‘ ’’دراصل میں آج رات کو مصطفیٰ کے گھر جانا چاہتی ہوں۔۔وہ مجھ سے ناراض ہے،ایک بار کال بھی نہیں کی۔‘‘وہ لب چبا رہی تھی۔ ’’آج نہیں۔۔آج رات کو گھر پر میری بہن آرہی ہے۔۔‘‘عریشہ نے گھورا۔۔ ’’تو میں کیا کروں؟‘‘ ’’محترمہ آپ شاید بھول رہی ہیں۔کہ میں صرف آپ کا باڈی گاڑز نہیں بلکہ شوہر بھی ہوں۔‘‘وہ دانت کچکچکا کر بولا تھا۔۔ ’’اوکے اوکے!فضول نہ بولا کرو۔۔‘‘وہ سر جھٹک گئی۔ ’’تو آپ میرے ساتھ ہی جائیں گی نا؟‘‘اس نے آئی برو اٹھائے۔۔کیونکہ تقریباً سب لوگ جا چکے تھے۔ ’’ہاں تو۔۔‘‘وہ اپنا بیگ اٹھاتی باہر کی جانب بڑھی ،پھر ٹھہری۔۔ عریشہ نے گہری سانس لی اور دفتر کے شیشے والے دروازے سے باہر جھانکا۔ ہر طرف آفس کے ملازمین آجا رہے تھے۔ اس کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا۔۔۔۔ "اگر کسی نے دیکھ لیا کہ میں اور مجتبیٰ ایک ساتھ جا رہے ہیں، تو کیا ہوگا؟" پیچھے کھڑے مجتبیٰ نے سر جھکا کر گھڑی دیکھی، "عریشہ، اگر ہم یونہی چھپتے رہے، تو رات ہوجائے گی۔ سیدھے دروازے سے نکلتے ہیں، زیادہ ڈرامہ نہ کرو۔" عریشہ نے تیزی سے اسے گھورا، "یہ تمہارے لیے عام بات ہوگی، مگر میرا ایک امیج ہے یہاں! لوگ سوال کریں گے!" مجتبیٰ نے ہنسی دباتے ہوئے کہا، "امیج؟ یہاں تو تم باس ہو، تم سے کون پوچھے گا؟‘‘وہ ایک لمحے میں آپ سے تم پر آیا تھا۔۔۔" "ہاں، مگر پھر بھی!" وہ چڑ کر بولی، "اور تم کیوں سیدھا چلنے کا کہہ رہے ہو؟ تم تو خوداری کے علمبردار ہو، کیا تمہیں پروا نہیں اگر کوئی دیکھ لے؟" مجتبیٰ نے کندھے اچکائے، "میرے لیے مسئلہ نہیں، تمہاری نازک طبیعت کے لیے ہے، اس لیے چلو کوئی پلان بناتے ہیں!" عریشہ نے جلدی سے چاروں طرف دیکھا اور دبے لہجے میں بولی، "ٹھیک ہے، ہم الگ الگ باہر نکلیں گے۔ تم پہلے جاؤ، میں پانچ منٹ بعد آؤں گی!" مجتبیٰ نے آنکھیں گھمائیں، "یہ کون سا ہالی ووڈ کا اسپا ئی مووی پلان ہے؟" عریشہ نے چہرہ سخت کر لیا، "اگر تمہیں ساتھ جانا ہے تو یہی پلان ماننا ہوگا!" "اوکے باس!" مجتبیٰ نے مصنوعی سنجیدگی سے سلیوٹ مارا اور تیزی سے دروازے کی طرف بڑھا۔ وہ عام انداز میں باہر نکلا اور موبائل نکال کر دیکھنے لگا، جیسے کچھ خاص نہ ہو۔ پانچ منٹ بعد عریشہ نے بھی اطمینان سے ایک نظر اردگرد دوڑائی اور قدم باہر رکھ دیے۔ جیسے ہی وہ گیٹ سے نکلی۔۔۔مصطفیٰ رائیڈ کے پاس کھڑا تھا۔۔۔ "چلو میڈم، آپریشن کامیاب!" عریشہ نے آنکھیں گھمائیں، "بس جلدی چلو، کسی نے دیکھ لیا تو پھر!" مجتبیٰ نے ہنستے ہوئے سر جھٹکا۔۔۔۔، "بیوی ہو، یا مجرم؟" عریشہ نے کوئی جواب نہ دیا، بس جلدی سے گاڑی میں بیٹھی، اور دونوں آفس سے غائب ہوگئے۔۔۔بغیر کسی کی نظر میں آئے! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کمرے میں مدھم روشنی ہے۔ باہر ہلکی ہلکی بارش ہو رہی ہے، کھڑکی کے شیشے پر پانی کے قطرے پڑتے جا رہے ہیں۔ اندر ایک گہری خاموشی چھائی ہوئی ہے، لیکن اس خاموشی کے بیچ مصطفیٰ اور ثمرہ کی دھڑکنیں صاف سنی جا
