Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Episode no 28
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 08/06/2026
0 Views
Episode no 28
ہارا جنون از_ہما_قریشی قسط_نمبر_28 کمرے کی کھڑکی سے پڑتی دھوپ اس کی زنجیر زدہ تنہائی پر جلتی دھار کی طرح برس رہی تھی۔ وہ بظاہر اپنے ہی گھر میں تھی، مگر یہ گھر اب ایک قید خانہ لگنے لگا تھا۔ دروازے پر لگے تالے نے اس کی بے بسی پر مہر ثبت کر دی تھی۔ ثمرہ بیڈ کے کنارے بیٹھی، اپنے ہاتھوں کو گھور رہی تھی۔ ہاتھوں کی لکیروں میں کہیں نہ کہیں اس کا نصیب بھی بکھرا ہوا تھا۔۔۔وہی نصیب، جو اسے اس کمرے میں لے آیا تھا، شوہر سے دور، زبردستی قید میں۔ اس کی آنکھوں میں وہ آخری منظر تازہ تھا۔ اس کا شوہر… زخمی حالت میں… خون میں لت پت… اور وہ اسے بے بسی سے پکارتے ہوئے پیچھے کھینچ لی گئی تھی۔ "کیا مصطفیٰ ٹھیک بھی ہونگے؟" یہ سوچ جیسے ہر پل اسے اندر سے کاٹ رہی تھی۔وہ پلنگ سے اٹھی اور دروازے کے پاس جا کر دروازے پر ہلکی دستک دی۔ "بابا، پلیز، مجھے باہر جانے دیں۔ کم از کم بس ایک بار مجھے ان کی خیریت معلوم کرنے دیں!" باہر خاموشی تھی۔ وہی خاموشی، جو کئی دنوں سے اس کی دنیا پر چھا چکی تھی۔آنسو اس کی آنکھوں سے گرنے لگے۔ "کیا یہ میرا ہی گھر ہے؟ یا میں کسی دشمن کے ہاں قید ہوں؟" اس نے دیوار سے ٹیک لگائی اور آہستہ آہستہ نیچے بیٹھتی گئی۔ "کاش… کاش میں مصطفیٰ کے ساتھ ہی رہتی، خواہ کچھ بھی ہو جاتا۔" زخمی مصطفیٰ کا چہرہ اس کی نظروں کے سامنے گھوم گیا، اور دل میں ایک شدید چبھن جاگی۔ "اگر انہیں کچھ ہو گیا، تو میں کبھی خود کو معاف نہیں کر پاؤں گی۔" کمرے میں سناٹا تھا، مگر اس کے اندر ایک طوفان برپا تھا… ایک طوفان، جو صرف اس کی محبت کو آزاد دیکھنا چاہتا تھا۔خود کو اس قید سے رہائی چاہتا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اہان ناشتہ سے فارغ ہوتا ،آئزل کو اشارہ کرتا ،کمرے کی جانب بڑھا تھا۔۔۔تحمینہ نے یہ منظر دیکھ نخوت سے سر جھٹکا۔۔۔ ’’یار!ایک کام کرنا شام کو ریڈی رہنا ،ہم مجتبیٰ سے ملنے جائیں گے۔۔‘‘وہ جیسے ہی روم میں داخل ہوئی،وہ آفس کے لئے ریڈی ہوتا ذرا عجلت میں بولا۔ ’’آج ضروری تو نہیں ہے اہان،ویسے بھی،ابھی تو گھر واپس آئے ہیں۔کچھ دن بعد ملنے چلے جائیں گے۔۔‘‘وہ تیاری میں اسکی مدد کراتی،متوازن لہجے میں گویا ہوئی تھی۔ ’’کیا ہے یار!مجتبیٰ نے اسپشلی تمہیں بلوایا ہے۔۔بھائی ہے آپ کا۔میرا نہیں خیال کہ آپ کو اتنا فضول سوچنا چاہئیے۔۔‘‘اس بار وہ سنجیدگی سے گویا ہوا۔تو آئزل ذرا متفکر ہوئی۔۔ ’’سب خیریت ہے؟مجتبیٰ نے خیر سے بلوایا ہے نا؟‘‘اسے تشویش ہوئی۔ ’’بہن کی یاد آرہی ہے اسے۔۔مگر بہن کو نہیں آرہی۔۔میں بتا دونگا مجتبیٰ کو۔۔‘‘کلائی میں گھڑی ڈالتے وہ ذرا شرارت سے بولا تو اسنے گھورا۔۔ ’’اچھا شام کو ریڈی رہنا۔اب ڈنر وہیں کریں گے۔۔اللہ حافظ! اپنا خیال رکھنا۔۔اور پلیز مما کی کسی بات کو دل پر نہ لینا،بلکہ سائیڈ میں رکھ دینا۔میں شام کو آکر سن لونگا۔۔‘‘اسے کندھے سے لگاتا ،اسکے ماتھے پر بوسہ دیتا وہ شرارت سے بولا،تو وہ ہولےسے مسکرا دی۔۔ ’’میں اتنی پاگل نہیں ہوں،جو فضول چیزوں کو سوچتی رہوں۔۔‘‘اہان نے آنکھیں چلائیں اور اپنی امورٹنٹ فائلز اُٹھاتا،روم سے نکل آیا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عریشہ اور مجتبیٰ آفس کے گیٹ پر ایک ساتھ پہنچے تھے، مگر اگلے ہی لمحے دونوں نے قدم روک لیے۔عریشہ کو دیکھ گارڈ نے فوری گلاس ڈور اُوپن کیا تھا۔۔عریشہ نے جلدی سے اِدھر اُدھر دیکھا، پھر دھیمی آواز میں بولی۔۔۔۔ "دیکھو، کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے کہ ہم اکٹھے آئے ہیں۔ تم پہلے جاؤ، میں پانچ منٹ بعد آؤں گی۔"مجتبیٰ نے ذرا گھور کر دیکھا۔۔ "یہ ڈرامہ کب تک چلے گا؟ نکاح کر لیا ہے، چھپانے کی کیا ضرورت ہے؟"مجتبیٰ نے بے زاری سے سر جھٹکا،عریشہ نے گھور کر دیکھا۔۔ "مسٹر، تمہیں شاید اندازہ نہیں، لیکن میرا امیج یہاں ایک خودمختار، کامیاب بزنس وومن کا ہے، جو ہر چیز اپنی محنت سے حاصل کرتی ہے۔ اور اگر کسی کو پتہ چلا کہ میں نے اپنے امپلائی سے نکاح کر لیا ہے، تو پتہ ہے لوگ کیا کہیں گے؟" مجتبیٰ نے کندھے اچکائے۔۔ "یہی کہ لڑکی نے بہت عقلمندی دکھائی؟" عریشہ نے جھنجھلا کر پرس کو مضبوطی سے پکڑا۔۔ "ٹھیک ہے، میڈم۔ آپ جائیں، میں کچھ دیر بعد آ جاتا ہوں۔ ویسے بھی، آپ کے ساتھ کھڑے رہنے سے میری تنخواہ نہیں بڑھنے والی۔"عریشہ نے ایک آخری نظر اس پر ڈالی، پھر ایڑیوں پر مڑ کر اندر داخل ہو گئی، مجتبیٰ نے چند لمحے ویسے ہی کھڑے ہو کر دروازے کو گھورا، پھر آہستہ سے سر ہلایا۔۔۔۔ "کمال ہے! صبح ساتھ نکلے، ایک ہی راستہ آیا، مگر آفس کے دروازے پر آ کر پتہ نہیں کون سا سیریس مشن شروع ہو گیا۔" وہ بھی سوچتا سر جھٹک کر ،اپنے مخصوص لاپروا انداز میں آفس کے اندر داخل ہو گیا۔۔عریشہ نے نکاح تو کرلیا تھا۔۔مگر نجانے کیوں اسے دنیا کے سامنے اون کرنے سے ڈر لگ رہا تھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شام کے سائے گھیرے ہونے لگے تھے۔۔۔ کراچی کی سڑکیں دھیرے دھیرے مدھم روشنیوں میں ڈوب رہی تھیں، مگر مصطفیٰ کے دل میں جلنے والی آگ ان روشنیوں سے کہیں زیادہ شدید تھی۔ وہ قد آور آئینے کے سامنے کھڑا ، سفید شرٹ کے بٹن بند کر رہا تھا۔ چہرے پر بے پناہ سنجیدگی پناہ تھی۔ کمرے میں ایک ٹھہراؤسا تھا، لیکن مصطفیٰ کے اَندر طوفان برپا تھا۔ وہ گھڑی پر نظر ڈالتا سر جھٹک گیا، جو وقت کی سنگینی کا احساس دلا رہی تھی۔ پولیس کا قافلہ باہر اس کا منتظر تھا، اور وہ آخری بار اپنی کلائی پر گھڑی باندھتے ہوئے گہری سانس لے کر باہر نکلا۔ ڈرائیو وے پر پولیس کی گاڑیاں قطار میں کھڑی تھیں۔ ایس پی اُسید عالم ، جو اس آپریشن کی قیادت کر رہے تھے، مصطفیٰ کی طرف بڑھے۔ "سب کچھ تیار ہے؟" مصطفیٰ نے سردگی سے استفسار کیا۔۔ "جی، سب کچھ پلان کے مطابق ہوگا۔ ہمیں یقین ہے کہ وہ اپنے ہی گھر میں قید ہیں۔مگر ہمیں ذرا محتاط رہنا ہوگا،ہوسکتا ہے کہ انہونے آپ کی وائف کو کوئی جسمانی نقصان پہنچایا ہو۔۔۔ مصطفیٰ نے لب بھینچ لیے۔ویسے بھی وہ اپنے سالے اور سسر سے کچھ بھی اُمید رکھ سکتا تھا۔۔ "محتاط؟ وہ میری بیوی کو قید کیے بیٹھے ہیں! میں اب مزید انتظار نہیں کر سکتا۔۔‘‘وہ ذرا غصےٰ سے بولا تھا۔۔" وہ سر جھٹک گیا۔۔"ہم سمجھتے ہیں مسٹر احد ، لیکن قانون کے دائرے میں رہ کر کام کرنا ہوگا،" اُسید نے اسے یقین دلایا۔ مصطفیٰ اپنی کار کا دروازہ کھولتاگاڑی کے دروازے کھلتے ہی اگلی سیٹ پر جا بیٹھا تھا۔گاڑی ڈرائیور ڈرائیو کر رہا تھا۔۔پولیس قافلہ دھیرے دھیرے حرکت میں آیا، اور جیسے ہی وہ ثمرہ کے گھر کی طرف بڑھے، اس کا دل بے قابو ہوکر دھڑکنے لگا۔ اس کے ذہن میں صرف ایک ہی تصویر تھی،ثمرہ، جس کی آنکھوں میں خوف کے سائے تھے۔ وہ دروازے پیٹ رہی ہوگی، رو رہی ہوگی، انتظار کر رہی ہوگی۔۔۔۔پتہ نہیں اس گھر میں اس نے اب تک کیا کچھ جھیل لیا تھا۔۔۔آگر اس کا ایکسڈینٹ نہ ہوا ہوتا،تو وہ چند دن کی دوری بھی اپنے درمیان برداشت نہ کرتا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’یہ کیا بدتمیزی سے احد مصطفیٰ!تم میرے گھر میں کس حق سے پولیس لے کر آئے ہو۔۔۔‘‘پولیس کو گھر میں آتا دیکھ وہ بوکھلائے۔۔فرناز گھبرا کر ثمرہ کے کمرے کی جانب بھاگی تھیں۔۔ گھر کا وسیع و عریض ہال، جہاں ہر طرف ہلچل مچی ہوئی تھی پولیس اہلکار تیزی سے کمروں کی تلاشی لے رہے
