Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Episode no 26
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 06/06/2026
0 Views
Episode no 26
آپ اس قابل لگ رہے ہیں کہ میری مدد کر سکیں ،صرف اس لئے میں آپ سے مدد مانگ ر ہی ہوں۔۔‘‘وہ نرم لہجے میں بولی تو مجتبیٰ سوچ میں پڑ گیا۔۔۔ ’’آپ کو ایک مرد کی ضرورت صرف اس لئے ہے تاکہ آپ ، اپنی فیملی سے لڑائی لڑ سکیں؟‘‘اس نے بھنویں اٹھائیں۔۔ ’’ہاں بھی اور نہیں بھی۔۔کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ کہیں انہونے مجھے مجبور کردیا یا زبردستی کی تو میں منع نہیں کرسکونگی۔۔مصطفیٰ بیڈ سے پاؤں نیچے رکھنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔۔اور ہاں آج مجھے یہ بات ماننے میں کوئی عار نہیں ہے کہ مجھے ایک مرد کی اشد ضرورت ہے خاص کر محرم مرد کی۔۔ جو ہر جگہ میری ڈھال بن جائے۔۔‘‘ وہ ایک ٹرانس میں بولی تھی۔۔ ’’ابھی توآپ نے کہا تھا کہ صرف پیپیر میرج ہوگی۔تو اب آپ کو یہ امید کیوں ہے میں آپ کو پروٹیکٹ بھی کرونگا۔‘‘عریشہ سر جھکا کر مسکرائی تھی۔۔ ’’جو شخص رات کے پہر ایک انجان لڑکی کو ،اکیلے دیکھنے کے باوجود اسکی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھتا ،اتنا تو مجھے بھی تجربہ ہے وہ شخص اپنی محرم عورت کو کسی کے سامنے رسوا نہیں کر سکتا۔۔اور نہ ہی مشکل وقت میں تنہا چھوڑ سکتا ہے۔۔‘‘وہ بولی تو مجتبیٰ ایک لمحے کو خاموش رہ گیا۔۔ ’’نکاح کب کرنا ہے؟‘‘مجتبیٰ سوالیہ بولا۔ ’’بس ابھی۔۔‘‘اس بار اس کی پیشانی پر بل نمودار ہوئے۔، ’’مگر میری ایک بہن ہے میں اس نکاح کے بارے میں اسے ضرور بتانا چاہتا ہوں۔مجھے ایک دو دن کا وقت تو دین۔‘‘ ’’نہیں مجتبیٰ !میں یہ نکاح خوشی سے نہیں بلکہ مجبوری میں کر رہی ہوں۔ اور میرے پاس وقت نہیں کیونکہ وہ دھمکا کر گیا ہے۔ اور مجھے اس سے پہلے ہی کچھ کرنا ہے۔‘‘مجتبیٰ نے ایک گہری سانس لی۔۔ ’’آسان لفظوں میں بات کیجئے ناعریشہ جی۔۔آپ کو ایک عدد باڈی گارڈ چاہئے۔‘‘اس بار عریشہ خاموش ہوئی پھر ایک سانس لیتی بولی۔ ’’اگر آپ کو لگتا ہے کہ مجھے آپ کی صورت ایک باڈی گارڈ کی ضرورت ہے تو جی بالکل ایسا ہی ہے۔۔ کیونکہ اب لیلگی جنگ کرنے لئے بھی مجھے ہر لمحہ ایک محرم باڈی گارڈ کی ضرورت ہے جو پولیس اور وکیلوں کے فضول سے سوالات کے جوابات دے سکے،اب تک میری طرف سے یہ جوابات مصطفیٰ دیتا تھا مگر اب میں ہمیشہ اس پر تو ڈیپنڈ نہیں کر سکتی نا۔‘‘مجتبیٰ سر ہلا گیا۔۔ ’’ویسے آپ یہ نکاح باس سے بھی تو کر سکتی ہیں۔‘‘عریشہ نے بغور اسکا چہرہ دیکھا تھا۔ ’’وہ اپنی مرحومہ بیوی سے بہت محبت کرتا تھا۔ وہ کبھی دوسری شادی نہیں کرے گا۔میں مصطفیٰ کو پسند ضرور کرتی تھی مگر اب میری ایسی کوئی خواہش نہیں۔۔اگر آپ واقعی میری مدد کرنے میں اِنٹرسٹڈ ہیں تو ابھی میرے ساتھ کورٹ چلیں۔۔‘‘ وہ مزید بولی۔ ’’آہمم! ہم مسجد میں نکاح کریں گے۔ دوسری بات نکاح کے بعد آپ میرے ساتھ، میرے گھر میں رہیں گی۔۔میرا مطلب ہے میں آپ کو اسی وقت پروٹیکٹ کرسکتا ہوں نا جب آپ میرے گھر میں رہیں۔‘‘وہ بول کر یکدم خود بھی گڑبڑایا تھا۔ ’’تم میرے ساتھ مصطفیٰ کے گھر میں بھی رہ سکتے ہو،میں تمہارا تعارف اپنے باڈی گارڈ کے طور پر ہی کراؤنگی۔۔‘‘اس بار عریشہ کا لہجا قطیعت لیئے ہوئے تھا۔ ’’سوری مگر میری خوداری مجھے اس چیز کی اجازت نہیں دیتی کہ میں اپنی بیوی کے گھر میں رہوں۔۔معاملات جو بھی ہوں مگر مجھے گوارہ نہیں۔۔‘‘عریشہ ایک لمحے کو خاموش ہوئی۔ ’’تمہارا گھر تو گروی رکھا ہوا ہے۔مجھے کہاں رکھو گے؟‘‘اس نے آئی برو اٹھائے۔یہ بات اس نے کچھ دن قبل ہی عریشہ کو بتائی تھی۔ لان کا اپلائی کرنے کے لئے،جس کی اپلیکشن بینک ریجیکٹ کر چکا تھا،اور اس نے عریشہ کی سفارش لگوائی تھی۔ ’’ابھی قبضہ میرے پاس ہی ہے۔‘‘ عریشہ ہولے سے مسکرائی۔ ’’زندگی میں بہت کچھ نیا،اور ایڈونچرس کیا ہے میں نے۔اس بار ایک نیا ایڈونچر کرتےہیں۔‘‘وہ مسکراتی ہوئی،لیپ ٹاپ سائیڈ پر رکھتی اسکی ہمراہی میں باہر تک آئی تھی۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے
