Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Episode no 26
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 06/06/2026
0 Views
Episode no 26
تھیں۔۔جبکہ جبران صاحب چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے بیٹی کے کمرے کی جانب بڑھے تھے۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ہولے سے دستک دیتے کمرے میں داخل ہوئے تو سامنے ہی اُنہیں ثمرہ بے سُدہ لیٹی دیکھائی دی تھی،جو اُنہیں دیکھ دُوپٹہ سیدھا کرتی اُٹھ بیٹھی تھی۔۔ہاتھ ہنوز بندھا ہوا تھا۔۔ ’’ ثمرہ!کیسی ہو۔۔‘‘ انہوں ن بغیر کچھ کہے اسکا ہاتھ کھول دیا تھا۔۔جو ناراضی سے رخ پھیر گئی۔۔ ’’اب بات بھی نہیں کرو گی باپ سے۔۔‘‘ وہ ذرا فاصلے سے ساتھ ہی بیٹھ گئے تھے۔۔ ’’باپ آپ جیسا نہیں ہوتا۔۔‘‘ زندگی میں پہلی بار اس نے تلخ لفطوں میں شکوہ کیا تھا۔جو ایک لمحے کو خاموش رہ گئے۔۔ ’’ ناراض ہو؟‘‘ ’’نہیں! آپ کا اور میرا ایسا کوئی رشتہ نہیں جو میں آپ سے ناراض ہوتی پھروں۔۔‘‘ وہ تلخی سے بولی۔ ’’کیا چاہتی ہو؟ ’’ اپنے شوہر کے گھر واپس جانا چاہتی ہوں۔۔مجھے نہیں رہنا آپ جیسے مطلبی اور قاتل لوگوں کے ساتھ۔۔‘‘ جبران نے خاموشی سے اسکی پشت کو دیکھا تھا۔ ’’باپ کا گھر تمہیں قید خانہ لگ رہا ہے؟ ’’ باپ کا گھر؟وہی گھر نا جس میں رہنے کے لئے آپ نے میرے سامنے یہ شرط رکھ دی تھی کہ اگر یہاں رہنا چاہتی ہوں تو اپنا آپ احد مصطفیٰ کو جاکر پیش کردوں۔۔‘ اُنکا چہرہ شدید تذلیل کے باعث سرخ پڑ گیا تھا۔۔ ’’ثمرہ۔۔‘‘ انہوں نے ٹوکا۔۔ ’’ اتنا غصہٰ نہ کریں آپ کی صحت کے لئے اچھا نہیں ہے۔۔آپ جائیں آپ کی کم عمر بیوی آپ کی راہ تک رہی ہوگی،،آپ اپنا سارا وقت ان پر ہی لوٹائیں تو بہتر ہے۔۔‘‘ جبران کو لگا کہ اسنے بہت زور دار تھپڑ دے مارا تھا۔۔ ’’کیا میرا شادی کرنا اتنا بڑا گناہ تھا؟‘‘ ’’نہیں گناہ تو میرا آپ کی بیٹی ہونا تھا۔۔‘‘ جبران نے دکھ سے دیکھا تھا۔ ’’ اتنا برا باپ ہوں میں۔۔۔‘‘ ’’ہاں جو باپ بیٹی کا محافظ ہوتا ہے، اگر وہی اسے در بدر کردے،اسکے کردار کشی کردے ، کم از کم پھر وہ اولاد کی نظر میں کبھی باپ کےجیسی عزت نہیں پاسکتا۔۔اور سچ پوچھیں تو مجھے ، آپ سے اور بھائی سے نفرت سی ہونے لگی ہے۔۔اس بار اسنے نفرت کا اظہار کرنے سے گریز نہیں برتا تھا۔۔۔ ’’یعنی تمہاری نظر میں تمہارا شوہر بہت اچھا ہے؟‘‘ اس بار انہیں غصہٰ آیا تھا۔۔ ’’جی! کیونکہ وہ اس وقت میری ڈھال بنا تھا جب آپ نے میرے سر سے چھت چھین لی تھی۔۔عزت کی چادر تک نوچ لی تھی،مجھے بے مول کر دیا تھا۔۔مجھے زمانے کی ٹھوکریں کھانے کے لئے تنہا کردیا تھا۔۔اس شخص نے اس وقت میرا ہاتھ تھاما تھا۔مجھے سہارا دیا تھا،میں آپ کی بیٹی ضرور ہوں مگر آپ کی طرح احسان فراموش نہیں ہوں،اور نہ ہی اپنی ماں کی طرح بدکردار جو شوہر سے بے وفائی کروں۔۔‘‘ ثمرہ کے لفظ تھے یا چابک جو انہیں سینے میں دھنستے محسوس ہوئے تھے۔۔ ’’میں اپنے شوہر سے وفادار ہوں اور آخری سانس تک رہونگی،،میں آپ کی سابقہ بیوی کبھی نہیں بنو گی۔۔میں اپنی ماں کی پرچھائی نہیں ہوں۔۔‘‘ وہ مسلسل روتی ہوئی بڑبڑا رہی تھی۔۔ ’’ تم احد مصطفیٰ کے گھر واپس جانا چاہتی ہو؟‘‘ ’’جی بالکل!‘‘ ’’اپنے بھائی سے بات کرلو،مجھے کوئی اعتراض نہیں۔۔‘‘ ’’ایک بات یاد رکھئے گا آپ کے بیٹے کو اب کوئی نہیں بچا سکتا۔۔کیونکہ اب تک مصطفیٰ نے صرف میرا لحاظ رکھا ہو اتھا مگر یہ گھٹیا حرکت کرنے کے بعد آپ نے ثابت کردیا کہ آپ کسی قسم کی نرمی کے مستحق نہیں ہیں۔۔۔‘‘ وہ درشتگی سے بولتی اٹھ کر واشروم میں جا کر بند ہوئی تھی۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’بہتر ہوگا کہ تم اپنی شکل لے کر یہاں سے دفعہ ہوجاؤ۔۔‘‘ عریشہ غصےٰ سے غرائی تھی۔۔ ’’کیوں دفعہ ہوجاؤ وائفی!‘‘وہ شرارت سے بولا۔۔ ’’بکواس نہ کرنا میرے سامنے،،اور تمہیں کیا لگتا ہے میرے سامنے یہ جھوٹے کاغذ لاکر رکھو گے اور میں تمہاری بات مان جاؤنگی۔۔۔‘‘وہ استہزائیہ ہنسی۔۔ ’’اس خوش فہمی سے باہر آجاؤ کیونکہ میں کبھی بھی تمہاری باتوں میں نہیں آؤنگی۔۔بہتر ہے کہ اپنی شکل لے کر دفعہ ہوجاؤ۔۔‘‘عریشہ غصےٰ سے غرائی۔۔ ’’اوہ رئیلی! تو پھر بتاؤ جائیداد کا کتنا حصہ میرے نام کر رہی ہو؟‘‘وہ مدعے پر آیا۔۔ ’’ایسا کبھی نہیں ہوگا۔۔‘‘ ’’اوکے فائن تو پھر رخصتی کے لئے تیار رہو۔۔‘‘عریشہ نے ہونقوں کی مانند دیکھا تھا۔۔ ’’میں مصطفیٰ سے تمہاری شکایت کرونگی۔۔مجھے اکیلا سمجھنے کی کوشش نہ کرنا۔‘‘اس بار وہ تیز لہجے میں غرائی تھی۔ ’’تم میری بیوی ہو،اور اپنی بیوی کو میں یوں کسی دوسرے کے سہارے نہیں چھوڑسکتا۔‘‘وہ اب تک اپنی ہی بات پر ڈٹا ہوا تھا۔۔ ’’حد کردی مطلب بے غیرتی کی۔۔۔‘‘ ’’ رخصتی تو تمہاری لازمی ہوگی۔۔کل تیار رہنا،اور نکاح نہیں ہوا تو کیا ہوا دوبارہ ہو جائیے گا۔‘‘ وہ باور کراتا اپنا موبائل فون اٹھا کر اٹھ کر آفس سے باہر نکل گیا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجتبیٰ کو عریشہ سے ایک ڈیل پر کچھ ڈسکس کرنا تھا۔۔ اس لئے وہ سیدھا ہیڈ آفس آتا رسپشن سے پوچھ کر عریشہ کے آفس کی جانب بڑھا۔ ’’مے آئی کم ان؟‘‘ عریشہ چونکی۔ ’’یس کم ان۔۔‘‘اس نے ذرا کی ذرا نظر اُٹھا کر دیکھا تھا۔۔ ’’میڈم مجھے آپ سے کچھ ڈسکس کرنا تھا۔۔۔‘‘ ’’بیٹھیں مجتبیٰ ،جی بولیں۔وہ گہری سُوچوں میں ڈُوبی سوالیہ گویا ہوئی۔۔ ’’وہ دراصل۔۔۔‘‘ ’’کیا آپ میری ایک ہیلپ کر سکتے ہیں؟‘‘وہ زہن میں آتی سوچ کو فوری عملی جامہ پہنا چکی تھی۔ ’’جی کہئے۔‘‘ وہ سوالیہ بولا۔۔ ’’کیا آپ مجھ سے شادی کریں گے؟‘‘وہ بول کر یکدم خاموش سی ہوگئی۔۔جبکہ مجتبیٰ حیرت سے گنگ کچھ بول ہی نہیں سکا تھا۔۔ ’’وہاٹ؟میم یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں؟‘‘وہ حواس باختہ ہی تو رہ گیا تھا،اور فوری نشست چھوڑ کر کھڑا ہوا تھا۔۔ ’’بیٹھ جائیں مجتبیٰ۔۔اور میری بات سنیں۔۔‘‘وہ ہق دق سا رہ گیا تھا۔۔ ’’یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں میڈم۔۔‘‘وہ ہنوز بے یقینی کا شکار تھا۔۔ ’’بیٹھ جائیں پلیز۔۔‘‘اس نے اسے تحمل رکھنے کا اشارہ کیا تھا۔۔ ’’دیکھیں۔مجھے میرا کزن فیک نکاح نامہ بنا کر بلیک میل کر رہا ہے۔۔اس وقت مجھے ایک مضبوط سپورٹ چاہئے۔۔سارا جائیداد کا مسئلہ ہے۔۔اور پیسے کا مسئلہ نہیں ہے مگر مجھے ڈر ہے کہ وہ کہیں زبردستی مجھ سے نکاح نہ کرلے۔۔مصطفیٰ یعنی اس کمپنی کا اونر اس وقت اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ میری کوئی بھی ہیلپ کر سکے۔۔مجھے صرف نکاح کرنا ہے اور کچھ نہیں۔۔بعد میں ہم یہ مسئلہ سورٹ آوٹ ہونے کے بعد کورٹ سے ڈائیورس لے لیں گے۔۔‘‘ مجتبیٰ نے اس بار مزید حیرانی سے اس لڑکی کو دیکھا جو بہت آس سے اسکی جانب دیکھ رہی تھی۔۔ ’’ آپ کا دماغ خراب ہوگیا ہے میم۔۔نکاح کوئی مزاق نہیں ہوتا۔۔ اگرآپ کو کسی قسم کی مدد درکار ہے تو میں کرنے کے لئے تیار ہوں۔۔ ہم ان پر کیس کر سکتے ہیں۔ اور بہت سے راستے ہیں۔۔‘‘مجتبیٰ نے سمجھانا چاہا۔ ’’آپ میری مدد کس حق سے کریں گے؟اور یہ پاکستان ہے ان کے لئے فیک نکاح کو اوریجنل ثابت کرنا کوئی بڑی بات نہیں ہے۔میں اس وقت بالکل اکیلی ہوں کچھ نہیں کر سکتی، دوسری بات اگر میرے کزن نے مجھے کڈنیپ کر کہ زبردستی مجھ سے نکاح کر لیا تو پھر میں کیا کرونگی؟وہ پہلے بھی ایک بار ایسا کر چکا ہے۔۔‘‘مجتبیٰ کو سمجھ نہ آیا وہ کیا کہے۔ ’’مگر آپ کو کیوں لگتا ہے کہ مجھ سے نکاح کر کے آپ ایک اچھا فیصلہ کر رہی ہیں۔۔‘‘اس بار وہ کافی دیر بعد کچھ بولا تھا۔ ’’میں یونہی کسی پر بھروسہ نہیں کر لیتی۔۔آپ کو میں کافی مہینوں سے جانتی ہوں، اور آپ کی ہر ایکٹیوٹی پر میری نظر ہے۔۔ مجھے
