Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Episode no 26
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 06/06/2026
0 Views
Episode no 26
ہارا جنون از_ہما_قریشی قسط_نمبر_26 ’’جن لوگوں نے ہم پر جان لیوا حملہ کیا تھا کیا وہ لوگ پکڑے گئے ہیں۔۔‘‘عریشہ نے مایوسی سے نفی میں سر ہلایا۔۔ ’’ ایس پی صاحب اب آئیں تو ان کو کہو کہ وہ آکر مجھ سے ملاقات کریں۔۔‘‘وہ بولتا ایک بار پھر آنکھیں موندتا ثمرہ کی یادوں میں کھو گیا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’آپ کو کسی پر شک ہے مصطفیٰ صاحب! ‘‘ ایس پی صاحب سوالیہ لہجے میں بولے تھے۔۔ ’’نہیں۔۔‘‘وہ یقین ہونے کے باوجود انکار کر چکا تھا۔۔ ’’تو پھر آپ کو کیوں لگتا ہے کہ آپ کی وائف کا قتل ہوا ہے۔۔‘‘ ’’آپ معاملے کی تفتیش کریں۔۔‘‘ وہ سپاٹ لہجے میں بولا۔۔ ’’ویسے معاملے کی تفتیش صرف آپ کی طبیعت کی وجہ سے،آپ کی والدہ کے کہنے روک دی گئی تھی۔۔۔مصطفیٰ نے غصےٰ سے اسکی جانب دیکھا تھا۔ ’’ایس ایس پی صاحب زخمی ہوا تھا مرا نہیں تھا۔۔۔‘‘وہ ذرا غصےٰ سے بولا تھا۔ بہتر ہے کہ آپ معاملے کی پراپر انویسٹیگشن کریں۔اور جتنی جلدی ہوسکے مجرموں کو حوالات کے پیچھے کریں۔۔مجھے یقین نہیں آرہا کہ ثمرہ کی باڈی برن ہو ئی تھی۔۔جبکہ مجھے اچھی طریقے سے یاد ہے انہیں بولٹ لگی تھی،وہ زخمی تھیں، معاملے کی تفتیش کریں آپ۔۔۔اور مجھے ریزلٹ چاہئے!‘‘ ’’آپ بے فکر رہیں مصطفیٰ صاحب، ہم معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ اور رہی بات ان پیشہ وار مجرموں کی تو وہ پروفیشنل قبائلی لوگ تھے۔۔۔بڑئ شہروں میں جرم کہ کر اپنے آبائی علاقوں میں جاکر روپوش ہوجاتے ہیں۔‘‘ آپ کو تو معلوم ہے کہ یہ وڈیروں اور سرداروں کے علاقوں میں تو پولیس کی بھی نہیں چلتی۔۔ایسے میں انکی تلاش کرنا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔۔مگر آپ فکر نہ کریں وہ ایک بار پگر دوبارہ شہر میں ضرور آئینگے۔وہ جیسے ہی دوبارہ شہر میں قدم رکھیں گے ،ہم انھیں اپنی تحویل میں لے لیں گے۔‘‘ ’’ایس ایس پی بات پر وہ لب بھینچ گیا تھا۔۔۔ ’’ اللہ پاک آ پ کو جلد از جلد صحت یاب کرے۔۔۔اب مجھے اجازت دیجئے!‘‘ ‘‘ پی صاحب مصطفیٰ پیلس سے نکل آئے تھے۔۔جبکہ وہ گہری سوچوں میں ڈوبا ہوا تھا۔ ساتھ ہی دماغ میں ایک سوچ سی کوندی تھی جس کے پیش نظر وہ تیزی سے ایک نمبر ڈائل کرتا موبائل کان سے لگا گیا۔۔ ’’ہیلو کون؟‘‘ دوسری جانب سے مصروف سی آواز ابھری تھی۔۔ ’’ثمرہ کہاں ہے؟‘‘ دوسری جانب موجود شارق حواس باختہ ہوگیا تھا۔۔ ’’کیا بکواس ہے یہ۔۔میری بہن کی جان لے لی تم نے ،اب بھی سکون نہیں پڑا تمہیں۔۔‘‘ وہ بوکھلا کر الٹا اسی پر چڑھ دوڑا تھا۔۔ ’’ اگر اس سارے قصےٰ میں تمہارا کوئی ہاتھ ہوا تو یاد رکھنا شارق علوی اس بار تمہیں اپنے ہاتھوں سے زندہ درگور کرونگا۔۔‘‘ وہ درشت لہجے میں کہتا کھٹ سے موبائل آف کر گیا تھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’مصطفیٰ!‘‘ وہ جب سے ہوش میں آئی تھی۔۔صرف چیخ چیخ کر مصطفیٰ کو ہی پکار رہی تھی۔۔ صرف مصطفیٰ کو ہی پُکار رہی تھی۔۔۔گولی مصطفیٰ کے سامنے ہونے کے باعث اسکے کندھے سے چھو کر گزر گئی تھی۔۔اور وہ اس وقت اپنے ہی گھر میں ،اپنے کمرے میں بستر پر موجود تھی۔۔ ’’کیا مسئلہ ہے تمہارے ساتھ ثمرہ۔۔کیوں چلا چلا کر پورا گھر سر پر اُٹھا رکھا ہے۔۔‘‘ شارق مصطفیٰ کی کال سننے کے بعد ثمرہ کے روم میں آیا تھا ۔۔ ’’ بھائی آپ کو اللہ کا واسطہ ہے مجھے جانے دیں۔۔مصطفیٰ کو گولی لگی تھی انکی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔۔‘‘ وہ بھائی کو دیکھ ایک بار التجا کرنے لگی،جس نے اسکی ضد کرنے پر بیڈ سے ہاتھ باندھ دیا تھا۔۔ ’’ثمرہ میری بات کو سمجھو،وہ صرف مجھے ہارانے کے لیے تمہارا استعمال کر رہا ہے۔۔میں اپنی کوئی بھی کمزوری اُسکے ہاتھ میں نہیں دینا چاہتا۔۔‘‘ وہ درشتگی سے بولا تو ثمرہ استہزائیہ مسکرائی۔۔ہاتھ مسلسل مزاحمت کے باعث سرخ پڑ گیا تھا۔۔ ’’ کتنے خود غرض ہیں نا آپ لوگ۔۔آپ کو اور بابا کو صرف اپنی پڑی ہے۔۔آپ لوگوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ دونوں کی اس خود غرضی کی وجہ سے آپ کی بہن کی زندگی برباد ہو رہی ہے۔۔‘‘ وہ روہانسو ہوگئی تھی۔۔ ’’ثمرہ میری بات کو سمجھو، احد مصطفیٰ صرف تمہارا استعمال کر رہا ہے اور کچھ نہیں۔۔‘‘ اس بار شارق نرم پڑا تھا۔۔ ’’آپ کو اللہ کا واسطہ ہے مجھے میرے شوہر کے گھر چھوڑ دیں پلیز۔۔‘‘ وہ ایک بار پھر رونے لگی تھی۔۔شارق لب بھینچ گیا۔۔ ’’میں تمہیں تمہارے شوہر کے گھر چھوڑ دوں،تاکہ وہ مجھے ہمیشہ کے لئے جیل میں ڈلوا دے۔۔ ‘‘وہ غصےٰ سے بولا تو ثمرہ نے نڈھال انداز میں اپنا سر بیڈ کی پشت سے لگا لیا تھا۔۔ ’’تو پھر مجھے سچ میں مار دیں کیونکہ میں نہیں رہ سکتی مصطفیٰ کے بغیر مجھے میرے شوہر کے پاس جانا ہے۔۔‘‘ وہ ہڈ دھرمی سے بولی۔ ’’اپنی زبان بند رکھو سمجھیں۔اور خاموشی سے یہاں رہو۔اور اگر اب تم نے کوئی بھی بکواس کی تو میں تمہیں پھپھو کے گھر پنڈی بھیجوا دونگا۔۔اور پھر تم جانتی ہو وہاں کا ماحول۔۔‘‘ اس نے تنبیہہ کرنی ضروری سمجھی، ’’آپ کو جو کرنا ہے کریں مگر ایک بات یادرکھئیے گا میں آ پ کو کبھی معاف نہیں کرونگی۔۔‘‘ وہ رخ پھیر گئی تو شارق سر جھٹکتا کمرے سے باہر نکل آیا تھا۔۔کیونکہ وہ مزید اپنی بہن کی باتیں سننے کی پوزیشن میں نہیں تھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’بابا ہو کیا گیا ہے آپ لوگوں کو؟ آپ دونوں نے پیچھلے ایک ماہ سے ثمرہ کویوں کمرے میں قید کر رکھا ہے۔ اور آپ سب نے جو لوگوں کے بہکاوے میں احد مصطفیٰ کے خلاف جو پلاننگ کی ہے نا یاد رکھیئے گا جس دن وہ شخص،اپنے پاؤں پر کھڑا ہوگیا نا سب سے پہلے آپ دونوں کا گریبان پکڑے گا۔۔‘‘ قصویٰ نے باپ کو احساس کرانا چاہا۔۔ ’’ تم خاموش رہو،تم کیا چاہتی ہو کہ میں زندگی بھر کے لئے جیل میں سڑوں یا پھر مجھے عمر قید ہوجائے۔‘‘ جو ابھی ثمرہ کو بھگتا کر آرہا تھا قصویٰ کی بات سن کر غصےٰ سے چلایا تھاْ۔ ’’ یہ کس انداز میں بات کر رہے ہو تم میری بیٹی سے۔۔یہ ثمرہ نہیں ہے،،تمیز سے بات کرو۔۔‘‘ فرناز کے سر پر لگی تھی اور تالو پر جا بجھی تھی۔۔ ’’تو کچھ سمجھائیں اسے کہ ثمرہ کو ورغلانا بند کرے۔۔‘‘ شارق غصےٰ میں بولا جبکہ وہ لب بھینچ گئی۔۔ پچھتائیں گے آپ لوگ۔‘‘ اور بابا آپ سب سے زیادہ پچھتائیں گے۔۔۔یہ سب آپ جس اولاد کی خاطر کر رہے ہیں نا ایک دن آپ کو اکیلا کر جائے گی اور آپ کچھ بھی نہیں کر سکیں گے۔۔‘‘ وہ تاسفی لہجے میں گویا ہوئی تو وہ جبران صاحب نے خالی خالی نگاہوں سے بیٹی کی جانب دیکھا تھاْْْ ’’ بہت پچھتائیں گے آپ بابا۔۔۔‘‘وہ زیر لب ایک ہی لفظ بڑ بڑاتی ہوئی وہاں سے نکلتی چلی گئی تھی۔۔ ’’ ان دونوں کا دماغ خراب ہوگیا ہے۔۔ان دونوں کے لئے کوئی اچھا سا رشتہ دیکھیں اور جلد از جلد رخصت کریں۔۔‘‘ وہ ناگواری سے بولا تو فرناز نے ناگواری سے شارق کو دیکھا۔۔ ’’دماغ خراب ہوگیا ہے تمہارا؟ نکاح پر نکاح نہیں ہوتا۔۔‘‘ فرناز نے جتانا ضروری سمجھا۔۔ ’’سب ہوجاتا ہے۔۔۔فضول باتیں نہ کریں ۔۔‘‘ وہ انکی سنی ان سنی کرتا،وہاں سے نکلتا چلا گیا جبکہ وہ منہ کھولے ہونق بنی رہ گئیں تھیں۔ ’’یہ پاگل تو نہیں ہوگیا ہے۔۔۔کیا نکاح کو مزاق سمجھ لیا، اگر بہن کی جان چھڑانی ہی تھی تو د دوسرا قتل بھی کر ڈالتا ۔۔ ‘‘ وہ نخوت بھرے لہجے میں بولتیں شوہر پر ایک نگاہ ڈال کچن میں چل دی
