Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Episode no 24
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 04/06/2026
0 Views
Episode no 24
تھا۔۔ہاتھ کپکپانے لگے تھے۔ مصطفیٰ اور ثمرہ پر جان لیوا حملہ ہوا تھا۔اور وہ دونوں اس وقت تفتیش ناک حالت میں ہسپتال میں تھے۔۔۔اس میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ اپنے بیٹے کے انتظار میں بیٹھی ماں کو یہ خبر سنا سکتی کہ وہ شدت سے جس بیٹے کی منتظر تھیں وہ اس وقت ہسپتال میں زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہا ہے۔۔ وہ اَندھادھند بھاگتی ہوئی ڈرائیوار کی ہمراہی میں ہسپتال کے لئے نکلی تھی۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’آئزل یار کیا ہوگیا ہے۔۔میں بچہ تھوڑی ہون جو تم اتنی پریشان ہورہی ہو۔۔میں اپنا خیال رکھ سکتا ہون چندہ۔۔‘‘وہ آئزل کو خوامخواہ پریشان ہوتا دیکھ اس بار ذرا چڑ کر بولا تھا۔۔۔جبکہ اہان ان دونوں بھائی بہن کی محبتوں میں بالکل غافل ہوا بیٹھا تھا۔۔ ’’خیال ہی تو نہیں رکھتے ہو اپنا۔۔یہ حلیہ دیکھو کیا بنایا ہوا ہے۔۔ایسا لگ رہا ہے۔۔دو دن سے کپڑے بدلنے کی زحمت ہی نہیں کی ہے۔۔‘‘اس نے خفگی سے کہا۔۔انکی پرسو صبح کی فلائٹ تھی اور وہ اس وقت مجتبیٰ سے ملنے کے لئے اپنے گھر آئی تھی۔۔ ’’اہان لے کر جا اس کو یہاں سے۔۔ورنہ یہ میری ماں ،نئی نئی باتوں کی ٹینشن لیتی رہے گی۔۔‘‘اس بار اسنے سنجیدہ سے بیٹھے اہان کو مخاطب کیا۔۔جس کا مزاج آج ذرا سنجیدہ سا تھا۔۔ ’’بہن ہے تمہاری۔۔پریشان ہوتی ہے تمہاری وجہ ہے۔۔مگر تمہیں اس کی کوئی فکر ہی نہیں ہے۔۔‘‘اہان کے سنجیدہ لب و لہجے پر وہ دونوں ہی چونک گئے تھے۔ ’’کیا ہوا بھائی؟خیریت تو ہے؟؟آج تو بھی بھاشن دے گا۔۔یہ زمہ داری تیری بیوی نے لے رکھی ہے بس کافی ہے بوس۔۔‘‘وہ ماحول میں چھایا تناؤ ختم کرنے کی غرض سے بولا تھا۔۔ ’’جو بھی ہے مگر پھر بھی اپنے بارے میں بھی کچھ سوچ اب۔۔۔ ویسے بھی ہم دو دن بعد ہنی مون پر جارہے ہیں۔۔مہینے سے پہلے تو ہر گز بھی واپس نہیں آنے والے۔۔اس عرصے میں تم بھی اپنے لئے کوئی لڑکی ڈھونڈ لو۔۔ویسے وہ تمہاری بوس کیسی رہے گی۔۔‘‘وہ سر جھٹکتا سر پر سوار ٹینشن کو کم کرنے کی غرض سے آخر میں ذرا شرارت سے بولا تھا۔۔آئزل نے ناسمجھی سے مجتبیٰ کو دیکھا،جو دانت پیس کر اہان کی جانب دیکھ رہا تھا۔۔وہ اسے عریشہ سے ٹکراؤ اور پھر اسکی کمپنی میں جاب کے بابت بتا کر پچھتا رہا تھا۔۔ ’’شٹ اپ۔۔۔باس ہے وہ میری۔۔ہر وقت بکواس نہ کیا کر۔۔‘‘وہ جھاڑ پلانے والے لہجے میں بولا تو وہ قہقہہ لگا گیا۔۔ ’’یہ کیا چکر ہے جو آپ دونوں اتنی معنی خیز گفتگو اور قہقہےلگا رَہے ہیں۔۔ ذرامجھے بھی بتائیے۔‘ ‘وہ سوالیہ لہجے میں بولی تھی۔۔۔۔ ’’ہاہاہا!تم کیوں اتنی ایکسائیٹڈ ہورہی ہو بیوی۔۔۔تمہارے کنگلے بھائی سے وہ بلینئیرلڑکی ہرگز بھی، شادی نہیں کرنے والی۔۔‘‘مجتبیٰ نے افسوس سے اسکی جانب دیکھا تھا۔۔ ’’تو کیا کمی ہے میرے بھائی میں۔۔اور وہ کونسی حسن پری ہے۔۔۔آگر امیر ہے تو ہم کیا کریں۔۔ہمارا اسکے پیسے سے کیا لینا دینا۔۔‘‘وہ نخوت سے بولی اہان نے گھور کر دیکھا اور اس بار مجتبیٰ نے مسکراہٹ چھپائی تھی۔۔ ’’تمہیں معلوم ہے آئزل یہ کچھ روز قبل مجھ سے میری باس کا نمبر مانگ رہا تھا۔۔‘‘مجتبیٰ نے مسکراہٹ چھپائی تھی جبکہ اس بار اہان بری طرح سے سٹپتا یا تھا۔۔ کیونکہ اسکا منحوس سالا اسکی بیوی کے سامنے پول کھولنے کے در پر تھا۔ ’’کیوں؟انہیں کیا ضرورت پڑ گئی تمہاری بوس کے نمبر کی؟‘‘اس نے مشکوک نظروں سے اپنے ہینڈسم سے شوہر کی جانب دیکھا تھا۔جو صبح شام اس سے محبت کے راگ الاپتا تھا اور اسکے ہی بھائی سے لڑکیوں کے نمبر مانگ رہا تھا۔ ’’ایک نمبر کا کمینہ ہے تمہارا بھائی۔۔۔جھوٹ بول رہا ہے۔۔‘‘اس نے دانت پیس کر صفائی پیش کی۔ ’’جھوٹا میں نہیں۔۔جھوٹا یہ خود ہے۔۔آئزل اس کو ذرا لگامیں ڈال کر رکھو۔۔ ‘‘مجتبیٰ نے بھی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھنا اپنا فرض سمجھا تھا۔۔ ’’بکواس بند کر۔۔ایسا کچھ نہیں ہے یہ جھوٹ بول رہا ہےئ آئزل۔۔‘‘ ’’میرا بھائی ایسا واہیات جھوٹ کیوں بولے گا؟‘‘مجتبیٰ نے چڑانے والے آنداز میں مسکراہٹ پاس کی تھی۔ ’’واہ مطلب شوہر پر کوئی اعتبار نہیں ہے۔۔اور جھوٹے بھائی کی بات پر بغیر ثبوت کے ایمان لے آئیں ۔کیا بات ہے آپ کی زوجہ۔۔‘‘ وہ آئزل کے یوں پارٹی بدلنے پر عش عش کر اٹھا تھا۔ ’’ظاہر ہے وہ میرا بھائی ہے۔۔وہ جھوٹ تھوڑی کہے گا۔۔‘‘اس بار اسنے مجتبیٰ کی جانب رخ کیا۔۔جو فوری مسکراہٹ چھپا گیا۔ ’’نیکی کا تو زمانہ ہی نہیں ہے۔۔ٹھیک ہے پھر کرو اپنے اس بھائی پر یقین۔‘‘وہ ناراضی سے بولا۔۔ ’’آئزل اس فراڈی شخص کی باتوں میں نہ آنا۔۔گھر جاکر اچھے سے پوچھنا یہ کیوں نمبر مانگ رہا تھا۔۔ابھی یہ ایکٹنگ کر رہا ہے تاکہ تمہاری توجہ ڈیورٹ ہوسکے۔۔‘‘مجتبیٰ نے بھی اپنے جھوٹ پر مہر لگانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ ’’تم فکر ہی نہیں کرو۔۔‘‘اس نے گھور کر اہان کو دیکھا جو منہ کھولے اپنی بیوی کو سُرخ چہرہ دیکھ رہا تھا۔۔ ’’رات بہت ہوگئی ہے میرے خیال سے اب تم دونوں کو چلنا چاہئے۔۔‘‘اس نے گھڑی میں وقت دیکھا جہاں رات کے بارہ بجنے والے تھے وہ لوگ پہلے ہی شاپنگ کی وجہ سے لیٹ ہوگئے تھے۔۔ ’’ہاں تو گھر ہی جارہے ہیں مجتبیٰ پھپھو۔۔آگ تو آپ نے لگا دی باقی راستہ پانی ڈالتے گزرے گا۔۔‘‘ وہ صوفے پر سے اٹھتا دانت کچکچا کر گویا ہوا تھا۔۔مجتبیٰ نے بمشکل اپنی مسکراہٹ ضبط کرتے آئزل کو سینے سے لگایا تھا۔۔ساتھ ہی اسکے کان میں سر گوشی بھی کی تھی۔۔ اہان نے کان لگانے کی بھرپور کوشش کی تھی مگر ناکام رہا تھا۔۔ جاری ہے
