Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Episode no 24
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 04/06/2026
0 Views
Episode no 24
ہوئے بیٹھے ہیں۔۔۔مرد اپنی غلطی عورت پر ڈال دیتا ہے ۔۔اور عورت مرد کے ظالم ہونے کا رونا رہتی ہے ۔۔ارے یار آپ خواتین مرد سے اپنے حقوق کب لینا سیکھيں گی ؟۔۔۔‘‘بات پھر ادھوری رہ گئی۔۔۔ ’’مطلب آپ یہ کہنا چاہتے ہیں بابا نے میرے ساتھ جو کیا وہ مما کی وجہ سے میں ڈیزرو کرتی تھی؟‘‘اس کی سوئی وہیں اٹکی تھی۔۔ ’’میں نے ایسا کب کہا میری جان۔۔۔۔کوئی کسی کے گناہ کی سزا کا مستحق نہیں ہوتا بس یہ ہم انسان ہیں جو ناسمجھ ہیں۔۔ اگر ہم تھوڑی سی عقل استعمال کرلیں تو اتنے مسئلے نہ ہوں۔۔آگر میں کہوں کہ آپ کا باپ ایک اچھا باپ نہیں تھا تو یہ بھی آپ سے برداشت نہیں ہوگا ۔۔کیونکہ ایسی ہی ہے ہماری عورت۔۔ہر حال میں اپنے مرد سے باوفا رہتی ہے اور آگر غلطی سے کوئی بری عورت نکل آئے تو زمانہ اسے جینے نہیں دیتا کیونکہ وہ عورت کی وفا کا عادی ہوچکا ہے۔‘‘اس کے ماتھے پر بوسہ دیتا وہ نرم لہجے میں بولا تھا۔۔ ’’مگر۔۔۔۔‘‘ ’’شش ثمرہ ۔۔زیادہ نہ سوچیں ۔جانتا ہوں جو کچھ بچپن سے آپ نے برداشت کیا اسکا ازالہ ممکن نہیں۔۔مگر ہم کوشش کریں گے کہ ہماری اولاد ایسی نہ ہو۔۔ہم دونوں مل کر انکی بہت اچھی تربیت کریں گے۔۔‘‘اس کے چہرے کو نرمی اور محبت سے چھوتا وہ پیار سے بولا تھا وہ شرمانے کے بجائے ہولے سے مسکائی تھی۔۔ ’’ہم اپنی اولاد کی تربیت آنٹی سے کروائیں گے مصطفیٰ۔۔‘‘وہ اچانک پرجوش سی بولی۔۔وہ جو اس کی شرمائی شرمائی سی صورت دیکھنے کا منتظر تھا۔۔ اسکی بات پر چونکا۔۔ ’’مطلب۔۔۔‘‘وہ ناسمجھی سے بولا۔ ’’مطلب آپ صحیح کہہ رہے ہیں مصطفیٰ۔۔۔ایک ماں ہی بہترین اولاد کو پروان چڑھاتی ہے۔۔۔آج آپ میرے ساتھ ہیں۔۔ آپ نے ہر موڑ پر آنٹی کی مخالفت لینے کے باوجود مجھے کبھی میرا حق دینے سے منہ نہیں موڑا۔۔۔ آج میرے نصیب میں اگر ایک بہترین شوہر آیا تو اس کی وجہ آنٹی کی تربیت ہے۔۔۔اور مجھے آنٹی کی تربیت پر فخر ہے۔۔میں چاہتی ہوں ہماری اولاد انہیں کے سائے تلے پرورش پائے۔۔‘‘مصطفیٰ کو یکدم اس پر پیار آیا تھا۔۔ ’’ان شاء اللہ میری جان۔۔مگر والدین کی تربیت ایک طرف آگر برائیاں غالب آجائیں تو تربیت بھی دھری کی دھری رہ جاتی ہے۔۔مگر ہاں بحثیت والدین ہم کوشش کریں گے کہ ہم ان کی بہت اچھی تربیت کرے باقی وقت ،نصیب اور زمانے کا کچھ پتہ نہیں۔۔۔‘‘وہ اسے سینے سے لگاگیا۔۔جبکہ اب وہ ہلکی پھلکی باتوں میں مشغول ہوگئی تھی۔۔۔ ’’ویسے پھر یہ بتائیں میں بابا کب بنوں گا۔۔۔‘‘وہ ثمرہ کو ہنوز افسردہ دیکھ اچانک شرارت سے بولا،،جبکہ وہ گھور کر اسکے سینے پر مکا مار گئی۔۔وہ ہنستا ہوا سینے میں بھینچ گیا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’میم مے آئی کم ان؟‘‘ وہ شام میں چھٹی کرتا کسی کام سے ہیڈ آفس آیا تھا۔۔ ’’یس کم ان۔۔۔‘‘وہ مصروف سے انداز میں بولی۔نظر اٹھا کر دیکھا تو سامنے ہی مجتبیٰ کھڑا تھا۔۔۔اسے آفس میں کام کرتے پندرہ دن ہو چکے تھے۔۔ ’’ خیریت مسٹر مجتبیٰ!‘‘وہ سوالیہ گویا ہوئی۔۔۔ ’’۔۔ایکچوئیلی میں نے یہ پوچھنا تھا کہ کیا آپ میرے کام سے مطمئن ہیں۔۔‘‘وہ کہیں نہ کہیں اس جاب کو لے کر تذبذب کا شکار تھا۔۔ ’’جی بالکل۔۔۔آپ کو اس جاب سے کوئی مسئلہ ہے؟‘‘وہ ذرا حیرانگی سے گویا ہوئی۔۔ ’’نہیں۔۔مگر مجھے ایسا لگتا کہ اس پوسٹ پر میری ضرورت ہر گز نہیں تھی۔۔آپ نے ایڈجسٹ کیا ہے۔‘‘اس نے صاف گوئی کا مظاہرہ کیا تھا۔۔ ’’ایڈجسٹ تو کیا ہے۔۔مگر آپ کے لئے جگہ تو بن گئی نا اب آپ بے فکر ہوکر یہ جاب کریں ڈیٹس اٹ۔۔‘‘اس نے لاپرواہی کا مظاہرہ کیا تھا۔۔ ’’اوکے۔۔۔۔‘‘وہ سر ہلا گیا۔۔ ’’اور کچھ کہنا ہے آپ نے؟‘‘ ’’نہیں۔‘‘وہ پلٹنے لگا۔ ’’ویٹ۔۔۔‘‘وہ ٹھہرا۔۔ ’’رسیپشن سے جاکر آپ اپنی ایڈوانس سیلری ریسو کرلیں۔۔‘‘وہ ذرا حیران ہوا۔۔ ’’ایڈوانس سیلری ؟مگر کیوں۔۔میں نے تو نہیں مانگی۔۔‘‘ ’’بالکل آپ نے نہیں مانگی بٹ کافی دنوں سے میں نوٹس کر رہی ہوں کہ آپ آفس کے حساب سے ڈریسنگ نہیں کرتے۔۔آئی نو کہ آپ فنانشلی اسٹیبل نہیں ہیں۔۔سو یہ ایڈوانس سیلری اسی لئے ہے ،کہ آپ پلیز خود کو آفس کے حساب سے تھوڑا سا گروم کرلیں۔۔اب تک مینجمنٹ نے آپ کو صرف میری وجہ سے فری ہینڈ دیا ہوا تھا۔۔بٹ مصطفیٰ صاحب واپس آ گئے ہیں۔۔سو وہ ضرور ابجیکشن کریں گے۔۔‘‘اس نے نرم لفظوں میں باوار کرایا تو وہ یکدم سنجیدہ ہوا۔۔ ’’آئی ایم رئیلی سوری۔۔۔ایکچوئیلی ۔۔۔۔۔یس یو آر رائٹ۔۔میں آئیندہ خیال رکھونگا۔۔‘‘وہ ذرا شرمندہ سا بے ربط جملہ ادا کرتا سمجھنے والے لہجے میں بولا۔۔ ’’اٹس اوکے مسٹرمجتبیٰ! کوئی بھی ایشو ہو آپ مجھ سے ڈائریکٹ ڈسکس کرلیا کیجئے۔۔‘‘ وہ خوش دلی سے بولی۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’ہیلو!‘‘وہ مجتبیٰ کو بھگتا کر بیٹھی تو دوسری طرف سے اسکی ماں کی کال ریسیو ہوگئی تھی۔۔ ’’جی فرمائیے؟‘‘وہ بیزاری سے بولی۔ ’’میں پاکستان آرہی ہوں۔۔‘‘وہ اچانک سے بولیں تو عریشہ ذرا حیران ہوئی۔۔ ’’مگر کیوں؟‘‘اس کی پیشانی پر بلوں کا اضافہ ہوا۔۔ ’’کیوں سے کیا مراد ہے،بس آرہی ہوں۔۔‘‘وہ ذرا چڑ کر بولیں۔۔ ’’اور آپ کا بوائی فرینڈ۔۔‘‘اس نے ناگوار لہجے میں استفسار کیا۔۔ ’’ مرگیا منحوس۔۔‘‘ وہ چڑ گئیں تھیں۔۔ ’’بہت اچھے۔۔‘‘وہ ناگوار لہجے میں گویا ہوئی۔۔ ’’تو پھر اب میں کیا کروں۔۔میں خود اپنے دوست کے گھر پر اسٹے کر رہی ہوں۔۔آپ کو کہاں رکھونگی۔۔‘‘عریشہ کا غصہٰ ساتویں آسمان کو چھو رہا تھا۔ ’’کرنا کیا ہے بھئی۔۔۔ میں بھی تمہارے دوست کے گھر ہی رہ لونگی۔۔ویسے بھی تم اب اس کے بزنس میں پارٹنر ہو۔۔‘‘وہ معنی خیزی سے بولیں۔ ’’لیکن اس گھر میں ،مہمان کی حثیت سے رہ رہی ہوں۔‘‘اس نے جتانا ضروری سمجھا، ’’تو میں کب مالکن بننے کا تقاضہ کر رہی ہوں۔‘‘وہ چڑ گئیں۔ ’’آپ اپنا انتظام کہیں اور کرلیں۔‘‘وہ ناگواری سے کہتی رابطہ منقطع کر گئی۔۔ ’’ میری دو دن بعد کی فلائٹ ہے تم انفارم کردینا۔۔اور فکر نہ کرو زیادہ دن نہیں ٹھہرونگی۔۔کچھ دن بعد اپنا کوئی اور ٹھکانہ ڈھونڈ لونگی۔۔‘‘وہ نزاکت سے کہتیں رابطہ منقطع کر گئیں۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ دونوں اس وقت ائیر پورٹ سے واپسی کے راستے کی جانب گامزن تھے۔۔۔ انہیں ائیر پورٹ سے پک کرنے ڈرائیور آیا تھا۔۔ مصطفیٰ اور وہ دونوں ہی پیچھے سیٹس پر ریلکس انداز میں بیٹھے تھے۔۔۔ ’’ عارف گھر میں سب ٹھیک رہا۔۔‘‘وہ ڈرائیور سے باز پرس کر رہا تھا۔ ’’جی سر سب ٹھیک تھا۔۔۔‘‘وہ سر ہلا گیا۔۔جبکہ ثمرہ اسکے کندھے پر سر رکھتی شاید نیند میں اتر گئی تھی۔۔اس نے دھیرے سے اسے جگایا تھا۔۔ ’’ثمرہ سیدھی ہوکر بیٹھیں پلیز۔۔۔ہمارے ساتھ ڈرائیور بھی ہے۔۔اس طرح اچھا نہیں لگتا۔۔‘‘ثمرہ نیند سے بوجھل ہوتیں آنکھیں کھولتی فوری سیدھی ہوکر بیٹھی تھی۔ وہ ڈرائیور سے مزید باتیں کر رہا تھا جبھی یو ٹرن سے پہلے گاڑی کی اسپیڈ ذرا سلو ہوئی تھی اور دو موٹر سائیکل سوار اسلحہ سے لیس قریب آئے تھے،اور انہوں نے ثمرہ اور مصطفیٰ پر اندھا دھند فائر کھول دیے تھے۔۔۔۔دونوں کی ہی چیخیں بے ساختہ تھیں۔۔آخری دو گولیاں ڈرائیور پر چلاتے وہ تیزی سے فرار ہوگئے تھے۔۔جبکہ گاڑی ڈس بیلنس ہوتی فٹ پاتھ میں جاگھسی تھی۔۔لہو لہان مصطفیٰ نے بند ہوتی آنکھوں سے ثمرہ کو اپنے ہاتھوں میں بے جان ہوتا محسوس کیا تھا۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہیلو!‘‘دوسری جانب سے رابطہ بحال ہوتے ہی عریشہ کے اوسان خطا ہوگئے تھے۔۔۔ ’’وہاٹ؟‘‘یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ؟‘‘وہ کچھ لمحے قبل ہی آفس سے آئی تھی۔۔کچھ دیر میں مصطفیٰ نے واپس آنا تھا مگر یہ خبر اسکے پاؤں تلے زمین کھینچ گئی تھی۔۔ ’’کس ہسپتال میں؟؟آپ مجھے بتائیں پلیز۔۔میں میں آرہی ہوں۔۔‘‘وہ ایک ان نان نمبر کی کال تھی۔۔عریشہ کا پورا جسم لرز اُٹھا
