Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Episode no 24
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 04/06/2026
0 Views
Episode no 24
ہارا جنون از_ہما_قریشی قسط_نمبر_24 ’’ثمرہ آپ کا مسّلہ ذرا دوسرا ہے۔۔۔ہمارے یہاں کہا جاتا ہے کہ مرد بے وفا ہوتا ہے۔۔جبکہ تلخ حقیقت یہ ہے کہ مرد اس صورت میں بے وفا نہیں ہوتا اگرچہ وہ ایک سے زائد بھی نکاح کرلے کیونکہ اسنے ایک جائز کام کیا۔۔ہاں وہ بے وفا اس صورت میں ہوتا ہے جب وہ نکاح ایک سے کرے اور افئیر چار سے چلائے ،وہ مرد بے وفا،زانی اور بے غیرت سب ہوتا ہے۔۔۔مگر عورت کا معاملہ بڑا نازک ہے۔۔کیونکہ اللہ نے عورت کو وفا کا پتلا بنایا ہے۔۔اصل بے وفائی عورت کرتی ہے اگر وہ اپنے مرد کے نکاح میں ہوتے ہوئے کسی دوسرے کی جانب راغب ہونے لگے کیونکہ ایک سے زائد کی اجازت اسے اللہ نے نہیں دی۔۔وہ نہ صرف بے وفا ہوتی ہے بلکہ بدکردار بھی کہلاتی ہے۔اللہ سب کو محفوظ رکھے۔۔اور یہاں معاملہ مرد کی غیرت کا آجاتا ہے۔۔غیرت مرد اور عورت دونوں میں کوٹ کوٹ کر بھری ہے۔مگر مسلہ یہ ہے کہ اکثر مرد غیرت میں جہالت پر اتر آتے ہیں اور عورت غیرت کو مظلومیت کا لبادہ اوڑھ کر سب سے ہمدردی وصولنے میں لگ جاتی ہے،جبکہ اگر بات غیرت پر آجائے کسی ایسی نہج پر آجائے جہاں اللہ اور اسکا رسول آپ کو فیصلے کی اجازت دیتا ہے تو پھر آپ معاشرے سے نہ ڈرو بلکہ کر گزرو۔۔ہمارے یہاں کیا ہوتا ہے،مرد نے دو تین شادیاں کرلیں،اب اس بے غیرت سے نبھائی نہیں جارہی،مگر ہماری عورت جس کے پاس کڑا فیصلہ یعنی خلع کا آپشن موجود ہے وہ مظلومیت کی تصویر بنی سب سے ہمدردی تو وصول رہی ،مگر اپنا حق نہیں استعمال کر رہی صرف اس لئے کہ معاشرہ کیا کہے گا۔۔میں جاؤنگی کہاں؟؟مجھے گالیوں والی ہی صحیح مگر روٹی کون کھلائے گا؟کیونکہ اس نے خود کو اس سانچے میں ڈھالا ہی نہیں جس میں ڈھلنے کا حکم دیا گیا۔۔ہمارے یہاں ہر چیز انگریز کے پیر کے نیچے کی لی جارہی ہے تو پھر جو کچھ ہورہا ہے ایسا ہی ہوگا۔جس گورے کی مثال دی جاتئ ہے۔در حقیقت وہ عورت کی زمہ داری اٹھانا نہیں جانتے۔۔ اگر آپ مرد ہوکر اپنے گھر کی عورت کے ساتھ حسن سلوک نہیں رکھتے تو آپ کی عورت باغی بھی ہوگی، بدکردار،زانی،بے غیرت سب بنے گی،اور اگر آپ عورت ہوکر اپنے گھر کے محرم مردوں کی وفا شعار نہیں ہو تو پھر وہ مرد بھی پھر آپ پر ظلم ہی ڈھائے گا۔۔بس فرق اتنا ہے کہ کرتا کوئی ہے اور بھرتا کوئی ہے۔۔آپ کی ماں کے کئے کی سزا آپ کے والد نے ہمیشہ آپ کو دی ۔۔آپ کے لئے انہوں نے زندگی اجیرن کر دی۔۔وہ سب کیا جو وہ کہیں نہ کہیں آپ کی ماں کے ساتھ کرنا چاہتے تھے۔۔‘‘وہ بول کر خاموش ہوگیا۔۔۔ ’’مگر مصطفیٰ غلطی کسی کی بھی ہو سزا صرف عورت کو کیوں ملتی ہے۔۔‘‘اس بار وہ آنسوؤں سے روئی تھی۔نگاہوں کے سامنے محرومیوں بھرا بچپن گھوم گیا تھا۔۔ ’’کیونکہ ہمارا معاشرہ مردوں کا معاشرہ ہے اور عورت کمزور ہے ۔۔صدیوں سے ریت چلی آرہی ہے ۔۔ظلم ہمیشہ کمزور پر ہوتا ہے ۔۔ہم پلہ پر ظلم ڈھانے سے پہلے ہزار بار سوچا جاتا ہے ۔۔مگر ہماری عورت نجانے اپنا حق استعمال کریں گی ۔۔نجانے وہ کب ایک مضبوط عورت بنے گی ۔۔۔بس فرق اتنا ہے کہ غلطی کرتی ایک عورت ہے اور سزا دوسری عورت کو ملتی ہے۔کبھی ماں کی سزا بیٹی کو،تو کبھی بہن کی سزا دوسری بہن کو،تو کبھی بیٹی کی سزا ماں کو۔۔۔۔‘‘وہ طنزیہ مسکرایا تھا۔۔۔کیونکہ تلخ تھی مگر حقیقت یہی تھی۔۔ ’’کیونکہ مرد تو حاکم ہے نا۔۔اسے کون سزا دے گا۔۔‘‘وہ طنزیہ بولی۔ ’’اس کی ذہن سازی کی کس نے؟‘‘اس بار وہ مکمل طور پر ثمرہ کی جانب گھوما تھا۔۔ ’’اب آپ کہیں گے ماں کی زمہ داری تھی تو کیا باپ کی کوئی زمہ داری نہیں ہوتی۔‘‘وہ ناگوار لہجے میں بولی۔ ’’میں نے کب کہا کہ باپ کی کوئی زمہ داری نہیں ہے؟‘‘اس نے آئی بر واٹھائے۔۔۔ "باپ کی جو تربیت ہوتی ہے نا وہ لفظوں کی محتاج نہیں ہوتی۔۔اس کا ہر اچھا برا عمل اولاد کی تربیت کرتا ہے ۔مثال کے طور پر آگر گھر کا مرد اپنی بہن بیوی بیٹی پر ہاتھ اٹھاتا ہے مغالظات بکتا ہے تو کل کو اسکی اولاد بھی یہہی کرے گی ۔۔مگر ہاں یہاں آگر ماں بار بار تنبیہ کرے تو وہ ٹھہر سکتا ہے ۔۔آگر ماں اسکی ذہن سازی میں اہم کردار ادا کرے تو وہ ضروری نہیں کہ باپ جیسا ہی بننے ۔اور یہ بھی ضروری نہیں کہ وہ ماں کی ڈانٹ پر ٹھہر جائے۔مگر کم از کم اس کے سامنے غلط کو غلط تو کہے ماں۔۔ اولاد کی اصل تربیت عمل کے لفظ اور باپ کا عمل کرتا ہے۔جو بات ماں کے ہزار بار کہنے پر سمجھ نہ آئے وہ باپ کے ایک عمل پر سمجھ آجاتی ہے۔اور جو عمل اولاد کے باربار کہنے پر نہ کرے وہ ماں کی نرمی سے سمجھانے پر کر جاتا ہے۔۔۔ لیکن آگر دادی اور ماں بھی یہی کہے کہ یہ تو مرد ہے ۔۔مار سکتا ہے ۔جو ہمارے یہاں عموماً خواتین کا پسندیدہ جملہ ہے۔نجانے وہ کہ مرد کی جہالت کو کیسے ڈیفینڈ کر لیتی ہیں۔۔۔آگر آپ مرد کے ظالم کو مردانگی میں لیپیٹ کر ہی پیش کرتی رہیں گی ،تو پھر ثمرہ معاشرے میں اچھے مردوں کا فقدان ہی آئگا جو دن با دن بڑہتا چلا جارہا ہے۔۔۔"اس نے سمجھ کر سر ہلایا تھا۔۔ ’’آپ جانتی ہیں ثمرہ اللہ نے عورت کے زمہ تخلیق کی زمہ داری لگائی ہے۔۔جبکہ اگر دیکھا جائے تو مرد کی بانسبت عورت کمزور ہوتی ہے مگر اس کے باوجود اللہ نے یہ کام عورت کے زمہ لگایا۔۔پتہ ہے کیوں؟ کیونکہ عورت کا بڑا مقام ہے۔۔مگر انگریزوں کی تہذیب کی غلام ہماری عورت اپنے مقام سے غافل ہوئی بیٹھی ہے۔وہ دوپٹہ پہنو،اور نہ پہنو،پردہ کروں کہ نہ کروں کی جنگ میں ہی پھنس کر رہ گئی ہے۔۔ماں کے قدموں تلے جنت رکھی ہے۔۔جس کو حاصل کرنے کے لئے انسان کو کیا کیا جتن کرنے پڑتے ہیں۔۔اللہ نے وہ ماں کے قدموں میں رکھ دی ۔۔۔ماں جیسی محبت سب سے افضل اور بے لوث محبت ہوتی ہے۔عورت کے زمہ اگر کچھ زمہ داریاں ہیں تو یہ بھی تو دیکھیں کہ اللہ نے عورت کو مقام کتنا بلند رکھا ہے۔۔مرد کو آپ کا محافظ بنایا ہے۔۔کیا تھا اگر اللہ پاک یہ کہہ دیتا تھا کہ عورت بھی مرد کی طرح رزق کی تلاش میں در در کی ٹھوکریں کھائے اپنا بوجھ خود اٹھائے،اولاد پیدا بھی کرے اور پالے بھی،نہیں اللہ نے عورت کے زمہ صرف ایک کام لگایا انسان کی پرورش کا۔۔اسکی وجہ سے اسے شوہر کے حکم کے علاوہ ہر غیر ضروری چیز سے چھوٹ دی گئی۔۔ مرد کے زمہ نان و نفقہ کی زمہ داری لگائی گئی ہے۔وہ سارا دن گھر سے باہر جلتی دھوپ میں تپتا ہے۔۔آپ عورت کارڈ کھیلنے کے چکر میں مرد کی قربانیوں اور اسکی محبت کو نظر اندازبھی نہیں کر سکتیں۔۔بات بہت مختصر سی ہے مگر ہمارے یہاں کی خواتین سمجھ لیں تو مسئلہ خود بخود حل ہو جائیں گے۔۔کہ ایک اچھا شوہر پہلے ماں کا اچھا بیٹا ہوتا ہے وہ اچھا بیٹا جس طرح کی دینی تعلیمات اللہ اور اسکے رسول نے دی اسکے مطابق پرورش تلے پروان چڑھے تو وہ مرد ہر رشتہ میں بہترین ہوگا۔۔۔یہ جو چار شادیاں،ایک شادی،فرائض اور حقوق کی جو جنگ چل پڑی ہے اسکی صرف ایک ہی وجہ ہے کہ مرد اور عورت دونوں اپنی زمہ داریوں سے غافل
