Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Episode no 23
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 03/06/2026
0 Views
Episode no 23
ہو گئی تھی۔۔مصطفیٰ نے اس کے لہجے میں نمی محسوس کر خود میں بھینچ لیا تھا۔۔ ’’ثمرہ شادی کرنے میں کوئی برائی نہیں ہے اگر آپ کی ماما کے بعد آپ کے فادر نے دوسری شادی کرلی تو کوئی گناہ نہیں کیا۔۔ نکاح کرنا غلط نہیں ہے غلط جب ہوتا جب وہ کسی غلط راہ پر چل پڑتے۔۔ اور یہ سب کہنے کی باتیں ہیں اگر عورت بیوہ یا طلاق یافتہ ہو تو دوسری شادی تو اسے بھی ہر حال میں کرنی ہوتی ہے اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔۔مگر یہ ہمارے معاشرے کا قصور ہے کہ کچھ چیزیں جو ہمارے لئے حلال کردی گئی انہیں ہم نے اپنی فرسودہ ہنداؤنہ سوچ کے زِیر نظر خود کے لئے مشکل بنا لیا۔۔مثال کے طور پر ہمارے مذہب میں عورت کا طلاق یافتہ ہونا کوئی عیب نہیں ہے،ہوگئی سو ہوگئی ہمارے معاشرے کے مطابق یہ بہت بڑا عیب ہے، ہم خود ہی سوچ لیتے ہیں کہ شاید عورت میں یہ برائی ہو ،وہ برائی ہوگی یہ وہ۔۔اسی طرح مرد کی دوسری شادی بھی کوئی گناہ یا غلط کام نہیں ہے مگر بات پھر وہی سوچ کی ہے۔۔کہ ہمارے مرد زانی ،شرابی اور چالیس سال کا کنوارہ شخص تو قبول ہے مگر ایسا مرد نہیں جو دوسرے نکاح کا خواہش مند ہو۔۔جبکہ آپ لے والد نے ایک کی موجودگی میں دوسری نہیں کی تھی۔۔انہونے دوسرا نکاح آپ کی مما کے جانے کے بعد کیا تھا۔۔کیونکہ انسان کو ہر عمر میں جذباتی سہارے کی ضرورت ہوتی ہے۔۔۔"ثمرہ نے سر جھٹکا۔۔ "مگر دوسری شادی کا یہ مطلب تو نہیں ہے نا کہ انسان اولاد کو بھول جائے۔۔۔"وہ نفرت سے بولی تھی "آپ کے بابا نے غلط کیا ہے ۔۔اور وہ ہمیشہ سے غلط ہیں۔۔مگر جو گزر گیا اب اسے بھول جائیں۔۔۔آپ کا آج تو اچھا ہے نا بس آج میں جیئیے۔۔"اس نے نرمی سے اسکا سر سہلآیا۔۔۔ "مصطفیٰ کبھی آپ تو دوسری شادی نہیں کریں گے نا۔۔"اس کے دل میں خدشے پنجے گاڑ کر بیٹھے تھے۔۔کیونکہ زنیرہ ہزار مرتبہ کہہ چکی تھیں کہ وہ مصطفیٰ کی دوسری شادی کراکر ہی دم لیں گی۔۔۔۔۔ "سیم میری جان!! آپ میری طرف سے بے فکر رہیں کیونکہ میں ان مردوں میں سے نہیں ہوں جو دوبیویوں کے ساتھ انصاف کر سکیں...۔میری پہلی بیوی میری محبت ہے اور تاحیات رہے گی کیونکہ نکاح کے بعد محبت بڑھتی ہے گھٹتی نہیں ہے۔۔۔اور دوسری کے ساتھ میں کبھی انصاف نہیں کرسکونگا تو میں اتنا بڑا گناہ اپنے سر کیوں لوں۔۔ چار کی اجازت کا ناجائزہ فائدہ کیوں اٹھاؤں۔جب کوئی مرد اپنی مرضی یا خواہش کے تحت ایک سے زائد نکاح کرتا ہے تو پھر وہ اللہ کے سامنے جواب دہ بھی ہے۔۔مگر ہمارے یہاں بس ہر وقت اجازت سر پر سوار رہتی ہے باقی حقوق کی بات کی جائے تو ہمارے معاشرے کے مردوں سے ایک کے بھی ادا نہیں کئے جاتے۔۔۔اور اس سب کی سب سے بڑی قصور وار پتہ ہے کون ہے عورت ہے۔۔۔‘‘وہ نرمی سے بولتا اختتام میں ذرا ٹھہرا تھا۔۔ ’’عورت کیوں مصطفیٰ؟یہ تو مرد کی اپنی مرضی ہے۔۔۔‘‘وہ ذرا اچھنبے سے بولی۔۔ ’’اونہوں۔۔۔میں یہاں عورت سے مراد بیوی کو نہیں کہہ رہا ہے۔۔ ماں کی بات کر رہاہوں۔۔‘‘وہ ایک بار پھر خاموش ہوا۔۔ ’’ماں۔۔۔‘‘یہ لفظ تو ہمیشہ سےثمرہ کے دل میں کسی پھانس کی طرح چبھتا تھا۔۔ ’’ہاں ماں۔۔۔کیونکہ ایک مرد جو مستقبل میں کسی کا شوہر بنتا ہے پہلے وہ اپنی ماں کا بیٹا ہوتا ہے۔۔اس کی ذہن سازی اور تربیت کی زمہ داری ماں پر عائد ہے۔۔مگر ہماری ماں کیا کرتی ہے اسے معاشرے کی جھولی میں ڈال دیتی ہے تو جب اسکی بنیاد ہی غلط جگہ پر رکھی جائے تو ایسا کیسے ممکن ہے یار کہ وہ مستقل قریب میں ایک اچھا انسان بنے گا۔۔اسکا استاد زمانہ بن جاتا ہے تو وہ وہی سیکھتا ہے جو دنیا سیکھاتی ہے۔۔ہمارے یہاں کوئی بھی کسی مرد کو اسکے حقوق اور فرائض کے بارے میں صحیح سے پڑھاتا ہی نہیں ہے۔ہمارے یہاں مرد کے نام پر بس دھونس جمانا ،حکم چلانا،اپنی مرضی کرنا، اپنے کہے کو حرف آخر سمجھنا ہی سمجھا جاتا ہے۔۔۔یہ نہ تو مردانگی ہے اور نہ ہی مرد ہونے کی اصل ڈیفینشن ۔۔۔ہماری مائیں صدیوں سے مرد کی عجیب و غریب تربیت کر رہی ہیں پھر یہ امید کرتی ہیں کہ وہ جوان ہوکر انسان بن جائے ۔۔۔۔انسان کی پہلی درس گاہ ماں کی گود ہے ۔۔۔مگر جب وہ ماں کی گود میں ہوتا ہے اسے تب ہی سیکھا دیا جاتا ہے کہ وہ مرد ہے یعنی بہت ہی کوئی توپ چیز ۔۔۔۔۔ اور یہ سب اسے اسکی ماں سیکھاتی ہے کیونکہ چھوٹی سی عمر میں وہ بیٹیوں کو بھائی سے ڈر دب کر رہنا سیکھاتی ہے،پھر وہی بھائی ، ذرا جوان ہوتا ہے تو اسی ماں پر رعب ڈالتا ہے پھر بیوی پر اور آخر میں بچتی ہے بیٹی۔۔محبت انتہا کی کرتا ہے مگر اپنی خصلت سے باز نہیں آتا۔۔کیونکہ خود کو حاکم سمجھنا اسکی گھٹی میں شامل کردیا جاتا ہے۔۔اس لئے چار کرنا وہ حق سمجھتا ہے مگر فرائض کی زمہ داری کو ایک کان سے سُن کر دوسرے سے نکال دیتا ہے تو قصور کس کا ہوا؟؟ماں کا،یا اس عورت کا جس کے وہ سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے،وہ یا تو دادی ہوتی ہے یا نانی،،اگر ماں اولاد کو معاشرے کی گود میں ڈالنے کے بجائے اٹھتے بیٹھتے خود بیٹے کی تربیت کرے جیسے وہ بیٹی کو سسرال میں رہنے کی تربیت بچپن سے شروع کردیتی ہے تو ہمارے معاشرے کا آدھا بگاڑ تو خود ہی سدھر جائے گا۔۔۔ہمارے یہاں تربیت صرف لڑکیوں کی کی جاتی ہے وہ بھی اسلامی طریقے کی نہیں بلکہ ہندؤانہ سوچ کے زیراثر۔۔۔۔سوال یہ اٹھتا ہے کہ ہماری مائیں مرد کی تربیت کب کریں گی ؟؟؟‘‘وہ ایک سانس میں بولتا ہی چلا گیا تھا۔۔ ’’شاید آپ صحیح بھی ہیں اور نہیں بھی۔‘‘وہ ابھی تک کشمکش میں گھری تھئی۔مصطفیٰ مسکرایا تھا۔۔ ’’ہاں کیونکہ ہماری عورت اپنی غلطیاں ذرا کم ہی مانتی ہے۔‘‘ اس بار اس نے جان کر ثمرہ کو چھیڑا تھا۔جس نے گھور کر دیکھا۔۔ ’’بابا نے میرے ساتھ جو زیادتیاں کیں تو کیا یہ سب انہیں میری دادی نے سیکھایا تھا۔۔جبکہ قصویٰ کو وہ انتہا کی محبت کرتے ہیں۔جبکہ بیٹی وہ بھی اور میں بھی۔۔‘‘اسکی آواز رندھ گئی تھی۔۔ جاری ہے
