Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Episode no 23
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 03/06/2026
0 Views
Episode no 23
گے اور پھر لانگ ڈرائیو۔۔‘‘وہ شرارت سے مسکایا۔۔ ’’اور کام کون کرے گا؟‘‘انہوں نے گھورا۔ ’’بھئی کام دن کے لئے ہوتے ہیں اور شادی شدہ لوگوں کی رات ۔۔۔‘‘اس سے قبل کے وہ سدا کا بے باک انسان کوئی زومعنی جملہ پاس کرتا آئزل نے سٹپٹا کر اُسکا ہاتھ دبایا تھا۔۔ ’’چلیں مجھے دیر ہورہی ہے میں نکلتا ہوں۔‘‘آئزل کو اپنے ماں باپ کے سامنے خواہ مخواہ شرمندہ ہوتا دیکھ وہ اللہ حافظ کرتا باہر کی جانب بڑھا تھا۔۔جبکہ وہ دونوں میاں بیوی اسے خوش دیکھ اسکی مسکراہٹ یونہی سلامت رہنے کی دعا کرتے سر جھٹک گئے۔۔آئزل بھی اس کے اشارے پر ساتھ ہی گئی تھی۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’کیا ہوا ڈارلنگ اتنی سرخ کیوں ہورہی ہو؟‘‘وہ کار کا دروازہ کھولتا ذرا ٹھہر کر شرارت سے گویا ہوا۔۔ ’’حد ہوتی ہے بدتمیزی کی۔۔۔یہ باتیں انکل آنٹی کے سامنے کرنے والی ہیں؟‘‘وہ خفا ہوئی۔ ’’تو پھر کس کے سامنے کرنے والی ہیں؟‘‘وہ پھر سے شرارت کے موڈ میں تھا۔۔ ’’افف!آپ سے کوئی نہیں جیت سکتا۔۔صحیح کہتا ہے مجتبیٰ آپ کے بارے میں۔۔کہ ایک نمبر کے بے ہودہ انسان ہیں آپ۔۔‘‘وہ دانت کچکچا کر بولی تھی جبکہ وہ قہقہہ لگا گیا۔۔ ’’ویسے میرے رومانس میں ہر وقت اس سالے کو نہ گھسیڑا کریں۔۔‘‘ڈرائیونگ سیٹ سنبھالتا ذرا چڑ کر بولا تو وہ مسکراہٹ دبا گئی۔۔ ’’فی امان اللہ!‘‘وہ ہولے سے مسکرایا اور فلائینگ کس دیتا گاڑی بھگا لے گیا۔۔۔جبکہ وہ مسکراتی ہوئی واپس رُوم میں آئی تھی۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’مصطفیٰ! ان دونوں کی آج شام کی پاکستان کی فلائٹ تھی۔۔اور ثمرہ کب سے اسے جگانے کی کوشش کر رہی تھئ۔۔جو رات دیر سے سونے کے باعث اٹھنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔۔۔۔ ’’جی جانِ مصطفیٰ!‘‘وہ خمار آلود لہجے میں ذرا سی آنکھیں کھول کر بولا،جبکہ ثمرہ کا نکھرا نکھرا سا روپ دیکھ اسکا موڈ مزید خوشگوار ہوگیا تھا۔۔ ’’شاید ہماری آج شام کی فلائٹ ہے پاکستان کی۔‘‘اس نے خفگی سے جتایا۔۔ ’’جانتا ہوں،کوئی نئی بات کریں۔۔‘‘ وہ اسکا ہاتھ پکڑ کر اپنی جانب کھینچ گیا۔ ’’نئی بات یہ ہے کہ پلیز جلدی سے اٹھ جائیں مجھے بہت شدت کی بھوک لگی ہے۔۔‘‘اس بار اسنے معصوم سا منہ بنایا تھا۔۔ ’’اوہ! مجھے لگا آپ کوئی رومینٹک بات کرنا چاہ رہی تھیں۔۔‘‘ثمرہ نے کینہ توڑ نگاہوں سے گھور کر دیکھا تھا۔ ’’ویسے حد ہوتی ہے بے شرمی کی بھی میں تو آپ کا یہ روپ دیکھ کر بے ہوش ہونے والی ہوگئی ہوں مصطفیٰ۔۔سچ سچ بتائیں آپ اسٹریلیا میں کسی الٹی سیدھی ایکٹیویٹی میں تو نہیں پڑ گئے تھے؟مطلب ایسے تو آپ کبھی نہیں تھے؟‘‘اس نے ہمیشہ کی طرح اپنی بڑی بڑی آنکھیں مزید پھیلا کر حیرانگی کا اظہار کیا تھا جبکہ وہ قہقہہ لگا گیا۔۔۔ ’’آپ شاید بھول رہی ہیں کہ میں پہلے بھی کافی رومینٹک تھا۔۔ بس اس وقت آپ میری بیوی نہیں تھیں تو اسٹائل ذرا ڈفرنٹ تھا ورنہ آپ خود ہی انتہا کی بورنگ لڑکی ہیں۔۔۔‘‘ اسے اپنے حصار میں لیتے اسکے بال سنوارتا وہ ذرا جتاتے لہجے میں بولا۔۔ ’’آپ پہلے صرف رومینٹک ہونگے مگر اب آپ رومینٹک پرو میکس ہوگئے ہیں۔۔‘‘اس نے گھور کر کہتے اسکا ہاتھ پکڑا تھا۔۔جو ایک بار پھر پٹری سے اترا تھا۔۔ ’’افف!کسی نے دیکھی ہے ایسی آدم بیزار لڑکی نہیں مطلب شوہر کی محبت سے اکتائی ہوئی لڑکی۔۔‘‘وہ ذرا شاعرانہ انداز میں بولا تو وہ پورے دل سے مسکرائی تھی۔۔ ’’نہیں شوہر کی محبت سے بالکل بھی نہیں اکتائی۔۔مگر یہ جو ہر وقت کا آپ کا رومانس ہے نا یہ مجھے چڑ دلا دیتا ہے۔۔خیر جلدی اٹھیں۔۔مجھے بھوک لگ رہی ہے۔۔آج ناشتہ باہر کریں گے۔۔‘‘ وہ اس کا کمفرٹر پھینکتی زبردستی اٹھا کر بیٹھا گئی۔۔جو بالوں میں ہاتھ پھیرتا اسکا گال نرمی سے چھوتا اٹھ بیٹھا تھا ساتھ ہی شرٹ کھینچ کر درست کرتے قدم واشروم کی جانب بڑھائے تھے۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’افف مصطفیٰ کیا ہوگیا ہے آپ کو؟‘‘وہ دونوں اس وقت پلین میں تھے جب مصطفیٰ نے دھیرے سے جھک کر اسکے کان میں معنی خیز سرگوشی کی تھی۔۔ ’’کیا ہوا؟‘‘اس نے ذرا اپنی بیوی کو گھورا،جو کچھ زیادہ ہی اور ریکٹ کر رہی تھی۔۔ ’’بھئی ہم پلین میں ہیں۔۔‘‘وہ اس وقت فرسٹ کلاس میں تھے۔۔مگر اس کے باوجود اس نے احساس کرانا ضروری سمجھا تھا۔۔ ’’تو یار چل کریں میں کونسا یہاں رومانس جھاڑ رہا ہوں۔۔آپ سے ایک سمپل سا سوال کر رہا ہوں مگر آپ کی تو شرم ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی۔۔‘‘اس بار وہ سچ میں چڑ گیا تھاْ۔۔ ’’کیا ہوگیا ہے آپ کو۔۔مجھے یہ سب یوں پبلک میں پسند نہیں ہے۔۔‘‘اس بار وہ نروٹھے پن سے بولی تو مصطفیٰ سیدھا ہوا اور گھور کر اسکی جانب دیکھا تھا۔۔ ’’ذرا بتائیے گا میں نے کب آپ کو پبلک میں شرمندہ کیا ہے؟‘‘وہ سختی سے باز پرس پر اترا تھا۔کیونکہ یہ حقیقت تھی کہ وہ خود اچھا خاصہ ریزرو نیچر کا بندہ تھا۔۔اور جس حالات میں انکی شادی ہوئی تھی وہ یہ وقت ثمرہ کے ساتھ اسپیشل بنانا چاہتا تھا یہی وجہ تھی کہ وہ اپنے مزاج سے ہٹ کر رویہ اختیار کر گیا تھامگر اسے بھی شاید کوئی ایکسٹرا ریزور نیچر بیوی مل گئی تھی۔ ’’پبلک میں نہیں کیا مگر میں یہاں بھی کمفرٹیبل نہیں ہوں۔‘‘اس نے پبلک پلیس کا احساس کرایا تھا۔۔ ’’مطلب اب بندہ زبانی کلامی بھی رومانس نہیں کرسکتا۔۔‘‘اس نے منہ بنایا تو اس بار ثمرہ مسکراہٹ چھپاتی اسکے خفا تاثرات دیکھ چہرے سے نزدیک ہوئی تھی۔۔ ’’اب کیا ہے؟‘‘اسکی گرم جھلستی سانسوں کی حدت اپنے گال پر محسوس کر وہ کھردرے سے لہجے میں چڑ کر سوالیہ بولا۔ ’’کچھ نہیں بس اب میرا رومانس کرنے کا دل کر رہا ہے۔۔‘‘وہ شرارتی لہجے میں بولتی اسکے رخساروں پر ہونٹ رکھ گئی مصطفٰی کو خوش گوار حیرت نے اپنی لپیٹ میں لیا تھا جبکہ وہ شرما کر تیزی سے اپنا چہرہ اسکی گردن میں چھپا گئی۔۔ ’’ہاں پہلے بندے بشر کو اپنی ادائیں دکھا کر بہکانے کا سامان کریں جب ہم الفت لٹانے پر آئیں تو آپ ان کمفرٹیبل ہوجائیں۔۔‘‘وہ خفگی سے منہ بنا کر بولا جبکہ اس کے سینے سے لگی بیٹھی وہ دل کھول کر کھلکھلائی تھی۔۔ ’’دیکھیں میرا رومانس قیمتی ہے میں کبھی کبھی کرتی ہوں نا۔۔۔‘‘اس کی اس لاجک پر وہ عش عش کر اٹھا تھا۔۔ ’’ویری فنی۔۔‘‘اس نے منہ بنایا۔۔ ’’اچھا اب موڈ تو ٹھیک کرلیں۔۔۔نہیں کہتی کچھ۔۔مجھے پتہ ہے گھر جاکر تو ویسے بھی آپ نے آفس میں ایسا گم ہونا ہے پھر یاد ہی نہیں رکھنا کہ آپ کی ایک عدد بیوی بھی ہے۔۔‘‘وہ خفا ہوئی۔ ’’اگر آپ کو ایک عدد بیوی ہونے پر اعتراض ہے تو دو عدد کرلوں؟‘‘وہ شرارت سے ہنسی دانتوں تلے دبا گیا۔۔ ’’یہ آپ مردوں کو شادی کا اتنا شوق کیوں ہوتا ہے؟‘‘اسکا کالر پکڑ کر رُخ اپنی جانب کرتی وہ ذرا سختی سے بولی تھی۔۔۔ ’’وہ بڑے کہتے ہیں نا کہ مرد کے دل میں دوسری عورت کی اور عورت کی الماری میں نئے سوٹ کی جگہ ہمیشہ برقرار رہتی ہے۔۔‘‘وہ ثمرہ کو تپانے کی غرض سے ذرا شرارت سے بولا،جبکہ وہ چڑنے کے بجائے یکدم سنجیدہ ہوتی خاموش رہ گئی تھی۔۔اسکا بدلتا رویہ نوٹس کر مصطفیٰ یکدم سیدھا ہوا تھا۔۔ ’’مزاق کر رہا ہوں ثمرہ۔۔‘‘اس کے گرد اپنا حصار تنگ کرتا وہ نرمی سے بولا تاکہ وہ بات دل پر نہ لے جائے۔۔ ’’ میں کبھی کبھی سوچتی ہوں بابا نے دوسری شادی کیوں کی تھی۔۔جبکہ ان کے پاس تو اولاد بھی تھی۔۔۔شاید یہی بات ہے کہ مرد کے دل میں ہمیشہ دوسری عورت کی جگہ رہتی ہے۔۔‘‘وہ نجانے کس سوچ میں غرق
