Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Episode no 23
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 03/06/2026
0 Views
Episode no 23
ہارا جنون از_ہما_قریشی قسط_نمبر_23 ’’ہائے مجتبیٰ کیا قسمت پائی ہے۔۔صبح آفس جانے سے پہلے ناشتہ بھی خود بناؤ بھئی واہ۔۔‘‘وہ اپنے لئے چائے بناتا عادتً بڑبڑا بھی رہا تھا۔۔جبھی اسکا موبائل رنگ ہوا تھا۔۔وہ اسکرین پر نظر ڈال مسکرایا کیونکہ اس کی آفس ٹائمنگ میں وہ لازمی صبح اور لنچ ٹائم میں کال کرتی تھی۔۔ ’’السلام علیکم!کیا تمہارا شوہر کوئی کام دھندا نہیں کرتا ہے جو تم اس پر توجہ دینے کے بجائے ہر وقت مجھے ہی کال کرتی رہتی ہو۔۔‘‘اس نے ہمیشہ کی طرح مخصوص جملہ دہرایا تھا۔۔وہ جو اہان کی تیاری میں مدد کرانے کے ساتھ ساتھ فون اسپیکر کر کر گئی تھی اب مسکرا کر اسکی جانب دیکھ رہی تھی۔۔جس نے ائی برو اُٹھائے تھے۔۔ ’’ایسی بات نہیں ہے۔۔ بس مجھے تمہاری فکر ہوتی ہے۔کتنی بار کہا ہے ناشتہ یہیں کرلیا کرو۔‘‘ وہ اِس وقت اہان کی شرٹ کا بٹن ٹانک رہی تھی جو اچانک ہی ٹوٹ گیا تھا۔۔ ’’تو پھر کہاں ہے وہ تمہارا نکما شوہر۔۔‘‘اس نے جان کر کہا تھا۔۔ ’’ بیوی کا آگر بھائی نکما ہو تو اسے خوش رکھنے کی خاطر اس کے نکمے بھائی کی بھی خوشی کا خیال رکھنا ہوتا ہے۔۔‘‘ اس بار وہ خود کو کہنے سے باز نہیں رکھ سکا تھا۔۔ساتھ ہی مسکراتی ہوئی آئزل کو آنکھیں دکھائی تھیں۔۔ ’’اچھا تم جاسوس کی طرح یہیں کھڑے ہو ابھی تک۔‘‘اس نے مسکرا چھیڑا تھا۔۔ ’’ہاں تو میری بیوی ہر وقت تمہاری فکر میں گھلتی رہتی ہے۔۔‘‘وہ جتاتے لہجے میں بولا۔ ’’میں تو آفس جارہا ہوں یار یہ بلاوجہ پریشان ہورہی ہے۔۔‘‘اس بار وہ نرمی سے بولا۔۔ ’’اسی لئے بولتا ہوں شادی کرلے تاکہ میں سکون سے اپنی بیوی کے ساتھ ہنی مون پر جاسکوں۔۔‘‘وہ ازلی بے باکی سے بولا آئزل نے پوری آنکھیں کھول کر گھورا تھا۔۔ ’’ہاہاہاہا۔۔۔تو ڈھونڈوں نا کوئی لڑکی مجھ جاب لیس آدمی کے لئے۔۔مل جائے تو مجھے انفارم کردینا میں نکاح کے لئے آجاؤنگا۔۔‘‘ وہ شرارت سے بولا جبکہ آئزل اَب اِن دونوں کو اپنی باتوں میں مصروف ہوتا د یکھ سر جھٹکتی کمرہ سمیٹنے لگی۔۔ ’’یار دو دن بعد کی فلائٹ ہے ہماری۔۔آفس میں کچھ ضروری کام نکل آئے تو اسی لئے فلائٹ کینسل کرانی پڑی تھی۔‘‘اس نے جواز پیش کیا۔۔ ’’اوکے بائے۔۔‘‘وہ رابطہ منطقع کرگیا جبکہ اب وہ آئزل کی جانب متوجہ ہوا۔۔ ’’ایزی۔۔۔‘‘اس کی پکار پر وہ سارے کام چھوڑ کر اسکے نزدیک آئی۔۔ جو سنجیدگی سے پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ اڑس کر کھڑا اب سنجیدہ دکھائی دے رہا تھا۔۔ ’’ماما کہہ رہی تھیں کہ آپ سارا سارا دن روم میں بند رہتی ہیں۔۔جان سکتا ہوں کیوں؟‘‘وہ کافی دن سے باز پرس کرنا چاہ رہا تھا۔۔مگر ہر بار اسکا خوشگوار موڈ دیکھ کر سر جھٹک جاتا۔۔ ’’میں جب روم سے باہر جاتی ہوں تو وہ ملازمین کے سامنے میری کسی نہ کسی بات پر بے عزتی کر دیتی ہیں۔۔پھر سینکنڈز بعد صحیح سے بات کرنے لگتی ہیں۔۔آگر انہیں یہ لگتا کہ وہ یوں میری بے عزتی کریں گی اور میں انکے ساتھ نارمل رہونگی تو سوری اہان یہ مجھ سے نہیں ہوگا۔۔‘‘اس بار وہ بھی سنجیدگی سے بولی تو اس نے ایک گہری سانس لی تھی۔۔ ’’تو یہ بات تمہیں مجھے بتانی چاہئے تھی نا۔۔‘‘اس بار وہ نرمی سے بولا،کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اسکی ماں اس شادی سے زیادہ خوش تو نہیں تھیں۔۔ ’’ تاکہ تمہیں لگتا کہ میں ٹیپیکل عورتوں کی طرح بیٹے سے اسکی ماں کی شکایت کر رہی ہوں۔۔دوسری بات یہ بات میرے نزدیک اتنی بڑی نہیں ہے۔۔دنیا میں ہم سب کی پسند نہیں بن سکتے۔۔آگر انٹی کو میں بہو کی صورت نہیں پسند تو اٹس اوکے۔۔مگر اب میں انکے بیٹے کی بیوی تو ہوں نا بات ختم۔۔‘‘اس بار وہ ذرا ناراض لہجے میں بولی۔۔ ’’میں ایسا کیوں سوچونگا آئزل۔۔گھر میں کوئی بھی مسلہ ہو آپ سب سے پہلے مجھے بتائیں گی تاکہ میں اپنے طریقے سے ہینڈل کرسکوں۔۔‘‘وہ اسکا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتا اپنے ہونے کا مان بخش رہا تھا۔۔ ’’ اوکے۔۔۔‘‘ ’’پلیز سارا دن کمرے میں نہ رہا کریں۔۔تھوڑا دن غصہٰ کریں گی پھر ٹھیک ہوجائیں گی ویسے بھی ایک دو روز میں ہم ہنی مون پر چلیں گے۔۔پھر۔۔۔‘‘وہ کچھ کہتے کہتے یکدم سے رُکا تھا۔۔ ’’پھر؟‘‘اُس نے آئی برو اُٹھائے،تو وہ شرارت سے کان کے نزدیک جھکتا سرگوشیانہ بولا تھا۔۔جبکہ اُس کا چہرہ لمحوں میں سُرخ پڑ گیا تھا۔۔ ’’انتہا کے بدتمیز انسان ہو تم۔۔‘‘وہ اس قدر سنجیدہ گفتگو میں اسکی انتہائی غیر سنجیدہ اور بے باک معنی خیز سرگوشی پر کان کی لو تک سرخ پڑ گئی تھی۔۔جبکہ وہ قہقہہ لگا گیا۔۔۔ ’’ تو اس میں اتنا شرمانے والی کونسی بات ہے۔۔ہر شادی شدہ کپل ہی۔۔۔۔۔‘‘وہ ایک بار پھر کچھ بولنے لگا تھا جبھی آئزل تیزی سے اسکے چہرہ ہاتھ رکھتی منہ بند کرا گئی۔۔ ’’شش!خاموش ہوجاؤ تم۔۔بہت فضول بولتے ہو۔۔اور آفس جاؤ۔۔ تمہیں لیٹ ہورہا ہے۔۔‘‘وہ اس کا رخ پھیر گئی جبکہ وہ قہقہہ لگاتا اسے اپنے حصار میں لے کر ہگ کرتا ماتھے پر بوسہ دیتا روم سے انکی ہمراہی میں ہی نکلا تھا۔۔جس کا ُرخ اب نیچے ناشتے کی ٹیبل کی جانب تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ دونوں ناشتے کی میز پر آئے تو وہاں تحمینہ بیگم اور مہروز صاحب پہلے سے ہی ٹیبل پر موجود تھے۔۔ان دونوں کو دیکھ وہ اپنی باتوں سے چونکے۔۔ ’’السلام علیکم!‘‘پہل آئزل نے کی،جبکہ آہان بھی ماں کا ماتھا چومتا اپنی کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گیا تھا اسکے عین برابر میں آئزل نے نشست سنبھال لی تھی۔۔ ’’وعلیکم السلام!آج دیر ہوگئی آپ لوگوں کو؟‘‘انہوں نے محبت بھرے لہجے میں استفسار کیا تھا۔۔ ’’آہم بس ویسے ہی آنکھ دیر سے کھلی تھی۔‘‘اس نے بہانہ گھڑا جبکہ آئزل نے اسکے اشارے پر کروسنوٹس کی پلیٹ اٹھا کر پاس کی تھی۔۔ ’’اچھا اچھا!آپ دونوں کی فلائٹ کب کی ہے؟‘‘انہوں نے سوال کیا۔ ’’دو دن بعد کی ہے۔۔‘‘وہ جوس کا گلاس لبوں سے لگاتا مصروف سے انداز میں بولا۔جبکہ تحمینہ ایک نظر آئزل کے کھلے سے چہرے پر ڈال سر جھٹک گئیں۔۔جو انکے بیٹے کے ساتھ بیٹھی مکمل اور پیاری لگ رہی تھی۔۔ ’’چلیں پھر آپ خیر سے جائیں۔۔‘‘ آہان کلائی میں بندھی گھڑی پر وقت دیکھتا فوراً سے بیشتر اُٹھ کر بیٹھا تھا۔۔ ’’چلیں میں نکلتا ہوں۔۔آپ میرے ساتھ ہی چلیں گے یا لیٹ آئیں گے؟‘‘وہ اب اپنی طبیعت خرابی کی وجہ سے بہت کم آفس آنے لگے تھے۔ ’’تم جاؤ میں آج کا سارا وقت اپنی بیوی کے ساتھ گزاروں گا۔‘‘وہ تحمینہ کو دیکھ شرارتی لہجے میں گویا ہوئے تھے۔ ’’واہ نئی شادی میری ہوئی ہے اور کوالٹی ٹائم آپ لوگ اسپینڈ کر رہے ہیں۔‘‘وہ شرارتی لب و لہجے میں گویا ہوا تھا۔ ’’ شادی نئی ہو یا پرانی، بیوی کے وقت پر نو کمپرومائز۔۔‘‘آئزل مسکرا دی تھی۔ ’’تو بس ٹھیک ہے۔۔آج کا میرا بھی سارا وقت میری بیوی کے نام۔۔۔‘‘ وہ مہروز صاحب کو شرارتی نگاہوں سے دیکھتا زومعنی لہجے میں بولا تو انہوں نے گھور کر دیکھا۔۔ ’’تم روز روز چھٹیاں کروگے تو بزنس کون تمہارا باپ سنبھالے گا۔‘‘اس بار انہوں نے بیٹے کو لتاڑا۔۔ ’’ظاہر سی بات ہے جب بیٹا بہو کے پاس ہو تو کاروبار سنبھالنا باپ کی ہی زمہ داری ہوتی ہے۔۔‘‘اس نے شرارت سے لب دبائے جبکہ اس تمام گفتگو میں آئزل جھینپ سی گئی تھی۔۔ ’’ فوراً اٹھو اور آفس جاؤ۔۔ویسے ہی تم ہنی مون پر اتنے زیادہ دنوں کے لئے جا رہے ہو۔پھر میں اپنی بیوی کو وقت نہیں دے سکونگا۔‘‘انہوں نے گھور کر دیکھا تھا تو وہ قہقہہ لگا گیا۔۔۔ ’’آئزل ریڈی رہنا شام کو ہم مووی دیکھنے جائیں
