Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Episode no 22
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 02/06/2026
1 Views
Episode no 22
’’مگر میں میری بیٹی پر مکمل اعتبار کرتی ہوں۔‘‘انہونے جتانا ضروری سمجھا تھا۔ ’’مرضی ہے آپ کی۔۔مگر ایک بات یاد کر لیں کہ میں قصویٰ سے ثمرہ سے زیادہ محبت کرتا ہوں۔۔کیونکہ وہ ہمیشہ میرے لئے ایک ڈول جیسی رہی ہے۔۔میری اولاد کی طرح ہے۔۔مگر کبھی اس نے کوئی ایسا عمل کیا جو اس گھر کے مردوں کے لئے شرمندگی یا زلت کا باعث بنا تو قاتل تو میں پہلے ہی ہوں باقی آپ خود سمجھدار ہیں۔۔‘‘فرنازکا فق پڑتا چہرہ دیکھ وہ اپنے پتھریلے تاثرات پر بمشکل قابو پاتا انتہا کے کھردرے لہجے میں گویا ہوا تھا۔۔۔ ’’لگتا ہے تمہارا تو دماغ ہی خراب ہوگیا ہے۔۔‘‘انہونے نخوت سے سر جھٹکا۔۔ ’’جی ہوگیا ہے۔۔ اور آگر بار بار اس گھر کی عورت ہمارا سر شرم سے جھکائے گی تو پھر اس گھر کے مردوں پر فرض ہے کہ وہ اس وجہ کو ہی زمین میں دفن کر دیں۔۔‘‘وہ سفاکیت سے گویا ہوا تھا۔ ’’تو سب سے پہلے جاکر اپنی اس سگی لاڈلی بہن کا سر تن سے جدا کرو جو تمہاری آنکھوں کے سامنے تمہارے دشمن کی باہوں میں تھی۔۔‘‘وہ ہمیشہ کی طرح ثمرہ کے لئے تضحیک آمیز لفظوں کا چناؤ کر گئیں تھیں۔۔ ’’ احد مصطفیٰ بھلے میرا دشمن ہے مگر میری بہن کا شوہر ہے وہ کسی غیر شخص کے حصار میں نہیں تھی۔۔ یہاں میری غیرت کا جوش مارنا بالکل بیکار سی بات ہے۔۔‘‘فرناز نے آنکھیں پھٹی پھٹی۔۔۔ ’’واہ واہ۔۔۔پھر تو وہ جو تمہاری آوارہ ماں تھی اسے بھی گلے لگا لو کیونکہ تمہارے باپ سے طلاق لے کر اس نے اپنے عاشق سے نکاح کیا تھا کچھ غلط تھوڑی تھا۔۔‘‘ فرناز نے ناگواری سے غرا کر جتایا تھا۔۔ ’’بالکل کچھ غلط تھوڑی تھا۔۔مگر میرے باپ سے بے وفائی کی تھی۔۔اور ان کے لئے یہ سزا کافی ہےکہ انہیں اپنئ اولاد کے چہرے دیکھے سالوں گزر چکے ہیں۔‘‘فرناز کی بات کجا کہ اس کے دل پر جاکر لگی تھی۔۔مگر پھر بھی وہ ضبط کر گیا۔۔ ’’دوسری بات میری ماں اور بہن کا کوئی مقابلہ نہیں۔۔مگر میں بس آپ کو اتنا کہہ رہا ہوں کہ ان لڑکیوں پر اندھا اعتبار نہ کریں پھر چاہے وہ ثمرہ ہو یا قصویٰ کیونکہ عورت ذات پر اندھا اعتبار معاشرے میں مرد کی عزت دو کوڑئ کی کر کے رکھ دیتا ہے۔۔‘‘وہ زہر اگلنے لگا تھا۔۔ ’’ اور آگر مرد عورت کو گھر کی چار دیواری میں عزت تحفظ اور محبت فراہم کرے تو وہ کبھی باہر کے لوگوں میں سکون تلاش نہیں کرتی۔۔مگر یہ بات تم جیسے مردوں کو سمجھائے کون۔۔‘‘ فرناز پہلی بار کوئی ڈھنگ کی بات کر کہ گئیں تھیں وہ بھی اس لئے کیونکہ اب بات ثمرہ تک محدود نہیں رہی تھی۔۔بلکہ اس غلاظت کے چھینٹے انکی اپنی بیٹی تک بھی پہنچنے لگے تھے۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ دونوں باپ بیٹے اس وقت اسٹڈی میں موجود تھے۔۔جہاں مقابل بیٹھا انکا بیٹا انتہا کے غصےٰ میں دکھائی دے رہا تھا۔۔ ’’بابا دادا ابو ہمارے ساتھ یہ زیادتی کیسے کر سکتے ہیں وہ اپنی جائیداد کا ستر فیصد چچا کے نام کیسے کر سکتے ہیں۔۔‘‘چہرہ ضبط کے باعث سُرخ پڑ گیا تھا۔۔ ’’حوصلہ رکھو ۔۔۔یہ ساری جائیداد ہر حال میں آنی تو یہیں ہے۔۔تمہارے اور عریشہ کے نکاح کے کاغذات تو ہیں نا تمہارے پاس۔۔‘‘انہونے ہمیشہ والا ترپ کا پتہ پھینکا تھا۔۔ ’’بالکل ہیں۔‘‘اس نے اثبات میں سر ہلایا۔۔ ’’بس اب ہم اس نکاح کو کیش کریں گے۔‘‘ وہ ہولے سے مسکرائے۔۔ ’’اور میری فیملی؟‘‘مقابل کو اپنی بیوی کی فکر ہوئی تھی۔۔ ’’تمہاری بیوی تمہاری پراپرٹی ہے کہیں بھاگی نہیں جارہی۔۔لیکن ابھی ہم بس اسی طریقے سے اس لڑکی کو لگامیں ڈال سکتے ہیں۔۔‘‘وہ آگے کی منصوبہ بندی کر بیٹھے تھے۔۔ ’’میں آپ کا ساتھ دینے کے لئے تیار ہوں مگر اس تمام قصےٰ میں میری فیملی پر کوئی اثر نہیں پڑنا چاہئے۔۔‘‘وہ ناگوار لہجے میں بولا۔۔ ’’حوصلہ رکھو کچھ نہیں ہو رہا تمہاری بیوی کے ساتھ۔۔‘‘انہونے بیٹے کو ڈپٹا۔۔ ’’ٹھیک ہے پھر کل میں ملاقات کر لیتا ہوں اس کے بعد باقی کی تمام معاملات آپ دیکھ لیجئے گا۔۔‘‘وہ ناک پر سے مکھی اڑا گیا۔۔ ’’ہاں جاؤ تم۔۔‘‘وہ اب پرسوچ دکھائی دے رہے تھے۔۔۔ جاری ہے
