Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Episode no 22
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 02/06/2026
1 Views
Episode no 22
میں آیا تھا۔۔ ’’السلام علیکم!‘‘وہ آسمانی رنگ جوڑے میں ملبوس مسکرا کر قریب آئی تھی۔۔ ’’وعلیکم السلام !کیسی ہیں آپ جانِ جاں۔۔‘‘اُس نے محبت بھرے لہجے میں کہتے اسے سینے سے لگایا تھا۔۔آئزل اسکے والہانہ انداز پر اسکی جانب دیکھتی ہولے سے مسکرائی۔۔ ’’خیریت ہے۔۔‘‘اسکا کوٹ اتار کر ایک جانب رکھتی وہ آئی برو اٹھا کر شرارت سے بولی۔۔ ’’خیریت تو ہے۔۔یہ دیکھیں آپ۔۔‘‘اس نے ایک لفافہ اسکی جانب بڑھایا ،اسنے نا سمجھی سے اسکی جانب دیکھا۔۔ ’’ اس میں کیا ہے؟‘‘اس نے آئی برو اٹھائے۔ ’’کھول کر تو دیکھیں۔۔‘‘اس نے لب دبائے۔۔آئزل نے لفافہ کھولا تو اس میں دو اٹلی کے ٹکٹس تھے۔۔ ’’آہان یہ۔۔‘‘اس نے حیرت اور خوشی کے ملے جلے تاثرات سمیت سوال کیا تھا۔۔ ’’ ہم ہنی مون پر جارہے ہیں ڈارلنگ۔۔‘‘اس کی کمر کے گرد حصار قائم کرتا وہ محبت سے بولا تو آئزل نے آگے بڑھ کر اسکے ہلکی داڑھی والے گال پر اپنے لب رکھے تھے۔وہ حیرت سے پوری آنکھیں کھول گیا۔۔ ’’تھینک یو۔۔‘‘اس کے حیران تاثرات دیکھ وہ جھٹ اپنا چہرہ اسکے سینے میں چھپا گئی تھئ۔۔جبکہ وہ دلکشی سے قہقہہ لگاتا اسے کمر سے پکڑ کر اونچا کئے گول گول چکر دیتا مسلسل قہقہہ لگا رہا تھا۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’مصطفیٰ! ‘‘مصطفیٰ آسٹریلیا میں اپنی میٹنگز بھگتاتا اب واپسی پر دو دن کے لئے دبئی ٹھہر گیا تھا۔۔۔۔ وہ اس وقت مصطفیٰ کے ذاتی پینٹ ہاؤس میں موجود تھے۔۔جب ثمرہ اسے پکارتی ہوئی بالکنی میں آئی تھی۔۔ ’’ہمم!‘‘وہ اس وقت موبائل میں مشغول تھا۔۔ ’’ہم گھر کب جائیں گے۔۔‘‘وہ ریلنگ سے ٹیک لگاتی ذرا اداس لہجے میں استفسار کر رہی تھی۔۔ ’’ کیوں میرے ساتھ بور ہو رہی ہیں آپ۔۔‘‘وہ اسکی آواز میں اداسی محسوس کر موبائل جیب میں ڈالتا اپنے حصار میں لے گیا۔۔ ’’میں آپ کے ساتھ کبھی بور نہیں ہوسکتی۔۔‘‘اسکے حصار میں چہرہ اٹھا کر اس کی بئیرڈ چھوتی وہ نرم خوئی سے بولی تھی۔ ’’ رئیلی تو پھر ہم مزید کچھ دن یہاں ٹھہر جاتے ہیں۔۔‘‘اب وہ اسے حصار میں لئے دوسرا ہاتھ ٹراؤز کی جیب میں ڈالتا استفساریہ گویا ہوا۔۔ ’’ٹھہرنے میں کوئی مسلہ نہیں ہے۔مگر پھر آپ آفس کا کوئی بھی کام نہیں کریں گے۔‘‘اس نے گھورا کیونکہ وہ اسکے گھنٹوں لیپ ٹاپ پر مصروف رہنے سے عاجز آچکی تھی۔۔وہ ہلکا سا قہقہہ لگا گیا۔۔ ’’تو آپ چاہتی ہیں کہ میں ہر وقت آپ سے رومانس کرتا رہوں۔۔‘‘وہ لب دبا کر شرارت سے بولا،تو وہ جھینپ کر سٹپٹائی۔ ’’میں نے ایسا کب کہا۔۔‘‘ اس نے خفگی سے گھورا۔۔ ’’ابھی تو کہا کہ مصطفیٰ آفس کا کام نہ کیا کریں۔۔تو پھر یہاں کمرے میں ایک ہی کام بچتا ہے۔‘‘وہ ہنوز شرارت کے موڈ میں تھا۔۔ ’’ہم باہر گھومنے بھی جا سکتے ہیں۔‘‘اس نے منہ بنایا۔ ’’تقریباً پورا دبئی تو گھوما ہوا ہے ہم نے۔۔‘‘وہ پہلے ہی آفس کی طرف سے اسکے ساتھ آچکی تھی۔۔اور دبئی بھی کافی بار گھوم چکی تھی۔۔ ’’پہلے کی بات اور تھی۔۔اب دوبارہ سے گھومتے ہیں نا۔۔‘‘وہ لاڈ سے بولی۔۔ ’’چلیں ٹھیک ہیں۔۔جیسے میری جان میری بیگم کا حکم۔۔‘‘وہ اس بار اسے سینے میں بھینچتا شرارت سے بولا،تو ثمرہ کھلکھلا کر ہنسی تھی۔۔ ’’جان بھی اچھا ہے ویسے۔۔‘‘ وہ جو اسکے سر پر تھوڑی ٹکائے کھڑا تھا ذرا چہرہ پیچھے کو کیا۔۔ ’’رئیلی!‘‘اس نے آبرو اٹھائے،تو اس نے زور زور سے سر اثبات میں ہلایا تھا۔۔ ’’ اوکے سوئیٹ ہارٹ ۔۔پھر آج سے میں آپ کو جان کہونگا۔۔‘‘اسکے چہرہ پر جھک کر اپنا لمس چھوڑتا شرارت سے بولا تو وہ شرما کرچہرہ اسکی گردن میں چھپا گئی تھی۔۔۔ ’’آئی لو یو۔۔۔‘‘وہ اکثر یونہی اپنی محبت کا اظہار کرتا تھا، اور وہ مسکرا دیتی تھی۔ ’’آئی لو یو کا جواب آئی لو یو ٹو ہوتا ہے۔۔‘‘ اسکا شرمایا شرمایا سا روپ اپنی نگاہوں میں بساتا ذرا معنی خیزی سے بولا۔۔ ’’اونہوں ! آئی لو یو کا کوئی جواب نہیں ہوتا۔۔ ‘‘وہ چہرہ اُٹھاتی شرارت سے بولی۔تو وہ ذرا گھور کر مسرور سا مسکرا دیا۔۔اس بات سے انجان کہ بسا اوقات خوشیوں کی مدعت بہت مختصر ہوتی ہے۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’شارق!‘‘وہ اس وقت اپنے کمرے میں موجود بیڈ پر نیم درازی کی پوزیشن میں لیٹا سوچوں میں گم غصےٰ سے آگے کا لائحہ عمل سوچ رہا تھا۔جبھی فرناز اسے پکارتی ہوئی روم میں داخل ہوئیں تھیں۔ ’’جی!‘‘وہ اُٹھ کر بیٹھا۔۔ ’’ تمہارے بابا بتا رہے تھے۔۔اگلے ہفتے پیشی ہے تمہاری۔۔‘‘انہونے بات کا آغاز کیا۔ ’’ہے تو مگر پریشانی کی کیا بات ہے۔۔میری ایک بہت اچھے وکیل سے بات ہوگئی ہے۔۔اور مزے کی بات یہ ہے کہ اس وکیل کے جج سے بھی بہت اچھے مراسم ہیں۔۔اس کیس کا حل تو کوئی نکلنا نہیں ہے جب تک مصطفیٰ صاحب نہیں چاہیں گے مگر میں ضمانت اور تاریخ پر تاریخ آرام سے لے سکتا ہوں۔۔ویسے بھی میں زہنی بیمار شخص ہوں۔اس لئے پندرہ دن سے گھر میں بند ہوں ۔‘‘وہ استہزائیہ مسکرایا تھا۔۔ ’’ زہنی بیمار تو تمہارا باپ ہے۔‘‘انہونے نخوت سے سر جھٹکا۔ ’’کیا ہوا خیریت؟‘‘اس نے ناسمجھی سے ابرو اٹھائے۔ ’’خیریت ہی تو نہیں ہے بس۔‘‘وہ زچ ہوا۔۔ ’’ہوا کیا ہے؟آپ کھل کر بتائیں گی؟‘‘اس کی پیشانی پر بل نمودار ہوئے تھے۔ ’’تمہارے باپ کی اپنی اس بیٹی کے لئے محبت جاگ گئی ہے۔‘‘ انہونے نخوت بھرے لہجے میں کہا تو شارق کی پیشانی پر پڑے بلوں میں اضافہ ہوا تھا۔ ’’تو اس میں غلط کیا ہے؟‘‘وہ ذرا تندہی سے بولا تو وہ حیران ہوئی۔ ’’اس میں کچھ غلط نہیں ہے؟‘‘انہونے ناگوار لہجے میں دریافت کیا۔ ’’بالکل بھی نہیں۔‘‘اس نے سر جھٹکا۔۔ ’’مطلب تمہارے نزدیک ابھی بھی بہن بے قصورہے۔‘‘فرناز کو اپنی سماعت پر شبہ ہوا جبھی وہ حیرانگی سے دریافت کرنے لگیں۔ ’’میری بہن بے قصور ہے۔۔وہ جو کچھ بھی بول رہی ہے یا پھر کر رہی ہے وہ سب اس احد مصطفیٰ کی وجہ سے کر رہی ہے۔۔اور اس سب میں غلطی بابا کی ہے وہ اسے مجبور نہ کرتے تو یہ سب بھی نہ ہوتا۔‘‘ شارق کی بات سن فرناز کو حیرت انگیز جھٹکا لگا تھا کیونکہ ثمرہ کے انکار کے بعد وہ گھر واپس آتا پورا جہاں سر پر اٹھا چکا تھا۔۔اور اب کتنے آرام سے سب کہہ رہا تھا۔۔ ’’کمال ہے پہلے باپ اور اب بھائی کی بھی محبت جاگ چکی ہے۔۔‘‘وہ طنزیہ لب و لہجا اختیار کر گئی۔۔ ’’تو اس میں غلط ہی کیا ہے؟وہ بہن ہے میری۔۔۔بیٹی ہے ہماری ۔۔ہم اسے یوں دشمن کے مورچے میں تو نہیں چھوڑ سکتے نا۔۔‘‘فرناز نے ذرا مشکوک نظروں سے گھورا تھا۔۔کیونکہ وہ ثمرہ کو لے کر فکر مند رہتا تھا۔۔اس سے محبت بھی کرتا تھا مگر اب بہن کے لئے محبت کی انتہا اور جذباتیت کھٹکا رہی تھی۔۔ ’’تمہارے دماغ میں کیا چل رہا ہے۔۔ذرا بتانا پسند کرو گے۔۔۔‘‘وہ طنزیہ لہجے میں گویا ہوئیں تھیں۔ ’’ویسا تو کچھ بھی نہیں چل رہا،جیسا آپ سوچ رہی ہیں۔‘‘وہ نے استہزائیہ سر جھٹکا۔۔ ’’اوہ یعنی میں ہی پاگل ہوں۔۔‘‘وہ گہرا سانس بھر گئیں۔ ’’معلوم نہیں۔مگر پلیز ابھی میرے روم سے چلی جائیں۔۔میرے سر میں درد ہے اور یہ قصویٰ کہاں ہے؟ہر وقت دوستوں سے ساتھ کہیں نہ کہیں نکلی رہتی ہے۔۔اس سے کہیں گھر رہا کریں،۔شریف گھروں کی لڑکیاں یوں آدھی آدھی راتوں کو مٹر گشتی نہیں کرتی پھرتیں۔۔‘‘اس بار وہ الٹا برہم ہوا تھا۔۔ ’’وہ جہاں جاتی ہے مجھے اور تمہارے بابا کو بتا کر جاتی ہے۔۔میری بیٹی پر شک کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘اس بار وہ سختی سے بولیں۔۔ ’’ایک بات یاد کرلیں۔۔عورت ذات اعتبار کے قابل نہیں ہوتیں۔۔‘‘ وہ یکدم سنجیدگی کا لبادہ اوڑھتا درشتگی سے بولا،ساتھ ہی بیڈ پر کروٹ بدل گیا۔۔
