Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Episode no 22
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 02/06/2026
1 Views
Episode no 22
ہارا جنون از_ہما_قریشی قسط_نمبر_22 ’’ثمرہ۔۔‘‘وہ تیزی سے تیار ہورہا تھا۔۔آج ایک فارنر ڈلیگیشن آرہا تھا۔۔اور اسے وقت پر آفس پہنچنا تھا۔۔۔وہ جو اسکی تیاری میں ہیلپ کرا رہی تھی اسکی آواز پر چونکی۔۔ ’’جی۔‘‘وہ قدم اٹھاتی نزدیک آئی۔۔ساتھ ہی پاس رکھی گھڑی اٹھا کر اسکی جانب بڑھائی جو کلائی سامنے کر گیا تھا،اور وہ خاموشی سے گھڑی باندھنے لگی تھی۔۔۔ ’’مجھے ایک دو روز میں میٹنگ کے لئے آوٹ آف کنڑی جانا ہے۔۔۔آپ اپنی تیاری کرلیں۔۔میرے ساتھ ہی چلیئے گا۔۔‘‘ثمرہ جو اسے کوٹ پہننے میں مدد کر رہی تھی۔۔یکدم چونکی۔۔ ’’لیکن مصطفیٰ میں وہاں جاکر کیا کرونگی۔۔آپ تو کام میں بزی ہونگے۔۔‘‘اسنے بہانہ گھڑا۔۔ ’’ پہلے بھی تو ساتھ جاتی تھیں نا ویسے بھی،آپ کچھ روز قبل آفس جوائن کرنے کے لئے بول رہی تھیں۔بھول گئیں۔۔‘‘اپنے ساتھ ساتھ اس پر بھی اپنی خوشبو چھڑکتا وہ آئی برو اٹھا کر بولا تھا۔۔ ’’تو پہلے میں کام سے ساتھ جاتی تھی۔۔اب آپ کیا مجھے اپنے ساتھ ساتھ آفس میں لے کر گھومیں گے۔۔اور میں آفس کوئی کام وغیرہ کرنے نہیں جاؤنگی۔۔‘‘وہ نروٹھے پن سے بولی،،مصطفیٰ جو اب تیزی سے اسکرین پر انگلیاں چلا رہا تھا۔۔یکدم چونکا۔۔ ’’تو پھر کیوں جانا چاہتی ہیں؟‘‘اس نے حیرانگی سے استفسار کیا۔ ’’ویسے ہی ٹائم پاس کے لئے۔۔‘‘بیڈ پر بیٹھتی وہ شرارت سے بولی،تو مصطفیٰ نے اسے گھور کر دیکھا تھا۔۔ ’’میرا آفس کوئی ٹائم پاس کی جگہ نہیں۔۔اگر ٹائم ہی پاس کرنا ہے تو آپ کچن میں تشریف لے جایا کریں۔آپ بھی خوش اور میرا معدہ بھی۔۔‘‘اس بار اس نے چھیڑنے کا کام سرانجام دیا تھا۔ ’’کچن کا کام انتہائی زہر لگتا ہے مجھے۔۔وہ تو میں ویسے ہی کر رہی تھی۔۔‘‘اس نے جھرجھری سی لی۔ ’’تو پھر آپ اپنا وہ پینٹگ وغیرہ کا شوق پورا کرلیا کریں۔۔‘‘ اس نے اسے فورس کرنا ضروری نہیں سمجھا تھا۔۔ ’’ہمم!‘‘وہ سر ہلا گئی۔ ’’مطلب آپ میرے ساتھ نہیں جارہی ہیں؟‘‘اس نے آئی برو اٹھائے۔اس نے نفی میں سر ہلایا۔ ’’سوچ لیں،میں ایسے موقعے روز روز نہیں دیتا۔۔پھر میں فارن ٹرپ پر ہمیشہ اپنی سیکریڑی کو ہی ساتھ لے کر جاؤنگا۔۔‘‘اس نے ایک بار پھر اسے اکسایا تھا۔تو ثمرہ ذرا پر سوچ ہوئی۔۔ ’’میں آپ کے ساتھ ایک شرط پر جاؤنگی۔۔‘‘اسے نیم رضامند دیکھ وہ ڈریسنگ ٹیبل سے ٹیک لگائے توجہ سے اسکی جانب متوجہ تھا۔۔ ’’ کیسی شرط؟‘‘اس نے سوالیہ انداز میں پوچھا۔۔ ’’اگر آپ وہاں کام کے علاوہ مجھے گھمانے کا وعدہ کریں۔‘‘ وہ شرارت سے بولی،کیونکہ اتنا تو وہ جانتی تھی کہ اسے گھومنا پھرنا کتنا برا لگتا تھا۔ ’’چلیں ڈن ہوگیا۔۔۔پھر فٹا فٹ اپنی اور میری پیکنگ کر لیجئے گا۔۔ابھی چلیں ناشتے کے لیے لیٹ ہورہا ہے۔۔‘‘اپنا بریف کیس اٹھا کر اسکی ہمراہی میں قدم اٹھاتا وہ ناشتے کی میز پر آیا جہاں پہلے ہی عریشہ اور اسکی ماں براجمان تھے۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’گڈ مارننگ بیوٹیفل لیڈیز!‘‘مصطفیٰ نے ہشاش بشاش لہجے میں وش کرتے چئیر پر بیٹھی ماں کو حصار میں لیتے ماتھے پر بوسہ دیا تھا۔۔ ’’گڈ مارننگ!کیا بات ہے آج بڑے فریش فریش نظر آرہے ہو؟‘‘اس نے ثمرہ کو ذومعنی نظروں سے دیکھ استفسار کیا تھا۔۔جس پر وہ جھینپ کر پلیٹ میں سر جھکا گئی۔ ’’خوش تو میں واقعی بہت ہوں۔۔اینڈ گیس واٹ۔۔اس کے پیچھے کیا وجہ ہوسکتی ہے؟‘‘اس نے ماں کی جانب دیکھا۔انہوں نے مسکرا کر مصطفیٰ کو دیکھا تھا۔۔کیونکہ وہ اسکی بات کو سمجھ گئیں تھیں۔۔ ’’ اہمم۔۔۔افف مجھے گیس کرنا نہیں آتا۔۔تم ہی بتا دو۔۔‘‘وہ چند لمحے سوچنے کے بعد ہار مان گئی۔۔ثمرہ لبوں پر مسکراہٹ سجائے خاموش بیٹھی تھی۔۔ ’’یار آج میری جنت کا جنم دن ہے۔۔‘‘بلاآخر اس نے بھانڈا پھوڑ ہی دیا تھا۔۔ عریشہ اور ثمرہ دونوں ہی حیرت سے مسکرائی تھی۔۔رات بارہ بجے وہ زنیرہ کے کمرے میں ضرور گیا تھا مگر مصطفیٰ نے اسے اُسکی برتھ ڈے کے بارے میں کچھ نہیں بتایا تھا۔۔ بلکہ وہ آتے ہی کمرے کی لائٹس آف کرتا اُسے حصار میں لیتا آنکھیں موند گیا تھا۔۔ ’’ہیپی برتھ ڈے آنٹی!‘‘اُس نے آگے بڑھ کر وش کرتے ہاتھوں کو چوما تھا،تو وہ اسکی محبت پر مسکرائیں۔۔ ’’تھینک یو میرا بچہ۔۔‘‘جواباً انہوں نے بھی محبت سے کہا تھا۔۔جبکہ ثمرہ خاموش رہی تھی۔مصطفیٰ نے شدت سے اسکا انداز نوٹس کیا تھا۔۔مگر پھر دونوں کے درمیان سرد مہری کی دیوار محسوس کر سر جھٹک گیا۔۔ ’’عریشہ ،تم میرے ساتھ ہی چلو گی یا پھر تھوڑی دیر سے آؤگی۔۔‘‘ اس نے کلائی پر وقت دیکھتے پوچھا۔۔ساتھ ہی جوس کا گلاس لبوں سے لگایا تھا۔۔ ’’نہیں یار،ساتھ ہی چلتی ہوں۔۔ویسے بھی میری کار میں کچھ مسئلہ ہوگیا ہے۔‘‘وہ منہ بنا کر بولی۔۔ ’’چلو تم جلدی سے ناشتہ فنش کرلو۔۔میں باہر تمہارا ویٹ کر رہا ہوں۔۔‘‘اس نے سمجھ کر سر ہلایا،ساتھ ہی اٹھ کر ثمرہ کو اشارہ کرتا وہ خود گھر کے بیرونی حصے کی جانب بڑ ھ گیا تھا۔۔جبکہ وہ معنی خیزی سے مسکراتی عریشہ کو اسمائل پاس کرتی نشست چھوڑ کر مصطفیٰ کی پیروی میں باہر کی جانب بڑھی تھی۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ دونوں آگے پیچھے ہی کار پورچ تک آئے تھے۔۔ ڈرائیورسے گاڑی کی چابیاں لیتا مصطفیٰ کار کے پاس ٹھہر گیا تھا۔۔۔جبکہ ثمرہ کو آتا دیکھ گارڈز رخ موڑ کر کھڑے ہو گئے تھے۔ ’’سیم آپ نے مما کو وش نہیں کیا؟‘‘ثمرہ جیسے ہی قریب آئی اُس نے ذرا سنجیدگی سے استفسار کیا،تو وہ اسے ایک گہری نگاہ سے دیکھتی تاسفی سانس کھینچ گئی۔۔ ’’آنٹی بہت خوش تھیں اور انکا موڈ بھی اچھا تھا۔میں انہیں وش کر کہ انکا موڈ نہیں خراب کرنا چاہتی تھی۔۔اور میرا نہیں خیال کے میرا وش کرنا بہت ضروری تھا۔۔آپ نے اور عریشہ نے کردیا بہت ہے۔۔‘‘وہ چاہ کر بھی مصطفیٰ سے شکوہ نہیں کر سکی تھی کہ اس نے کونسا اسے رات میں بتا دیا تھا۔۔مصطفیٰ کچھ لمحے خاموش کھڑا رہا،پھر سامنے سے عریشہ کو آتا دیکھ اسے سائیڈ ہگ کرتا ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا تھا۔۔ ’’پیکنگ آج ہی مکمل کر لیجئے گا۔۔‘‘اس نے ایک بار پھر یاد دہانی کرائی تھی۔اتنے میں عریشہ بھی فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھولتی سیٹ پر بیٹھ گئی تھی۔۔ ’’بائے !‘‘اس نے بائے کیا تو مصطفیٰ بھی مسکرا کر گاڑی گھوماتا کار گھر سے باہر لے گیا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آئزل اور آہان کا ولیمہ گزرے آج پورا ایک ہفتہ ہو چکا تھا۔۔آج مجتبیٰ کےآفس میں پہلا دن تھا۔۔ وہ وقت سے کچھ دیر پہلے ہی آفس پہنچ چکا تھا۔۔ رسپشنسٹ نے عریشہ کو اسکی آمد سے آگاہ کیا تھا۔۔جس نے اسے اپنے آفس میں بلایا تھا۔۔۔ ’’شٹ اپ! اپنی بکواس بند کرو۔۔اور یہ دھمکی کس کو دے رہے ہو۔۔تم جانتے کیا ہو ابھی۔۔تمہیں لگتا ہے کہ اکیلی لڑکی کو ڈرا دھمکا لوگے۔۔‘‘مجتبیٰ جو ہلکا سا دروازہ کھولتا اس سے اندر آنے کی اجازت مانگ رہا تھا۔۔اسے اس قدر غصے میں دیکھ ایک لمحے کو ٹھہرا۔۔۔ ’’مے آئی کم ان۔۔‘‘وہ جو موبائل سائیڈ پر رکھتی غصے سے کھول رہی تھی۔۔سیدھی ہوکر بیٹھی۔ ’’یس کم ان۔۔۔۔‘‘مجتبیٰ کا چہرہ نمودار ہوتا دیکھ وہ ایک لمحے کو ٹھہری۔۔ ’’مسٹر مجتبیٰ۔۔۔ویلکم ٹو دا آفس۔۔‘‘اس نے دیکھتے ہی اپنے تاثرات پر قابو کیا تھا۔۔ ’’تھینک یو۔۔‘‘ ’’آپ ریسیپشن پر جائیں۔وہ آپ کو آپ کی جاب اور سیٹ بتا دیں گی۔۔‘‘پہلے تو بالکل بھول ہی چکی تھی کہ مجتبیٰ نے آنا تھا، اور اب جبکہ وہ واقعی آگیا تھا تو وہ گڑبڑا گئی تھی۔۔ ’’بٹ آپ نے کہا تھا کہ کسی دوسری برانچ۔۔۔‘‘ ’’یس بٹ ٹریننگ تو یہیں ہیڈ آفس میں ہوگی،،اس کے بعد ٹرانسفر ہوجائے گا۔۔‘‘اس نے آگاہ کیا۔۔ ’’اوکے میڈم۔۔‘‘وہ سر ہلاتا آفس سے باہر نکل آیا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’ایزی۔۔۔‘‘آہان آفس سے فارغ ہوتا گھر آتا سیدھا آئزل کو پکارتا اپنے روم
