Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Episode no 21
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 01/06/2026
1 Views
Episode no 21
میں نظر آتا عکس دیکھ ہلکے سے مسکرائی تھی۔۔ ’’میری تعریف ہی کردو۔۔‘‘اہان نے اسے خاموش دیکھ بولنے کو اُکسایا۔۔۔ ’’ اچھے لگ رہے ہو۔۔‘‘اس نے گردن ترچھی کر مسکرا کر کہا تھا۔۔ ’’تعریف کے ساتھ ہنسی کیوں؟‘‘اس نے ذرا ناسمجھی سے پوچھا۔۔ ’’بارات آنے سے قبل مجتبیٰ نے ڈریسنگ رُوم میں آکر خاص الخاص تمہاری تعریف کی تھی۔۔‘‘وہ لب دبا گئی۔۔اہان نے ناسمجھی سے دیکھا،۔ ’’ضرور کچھ بکواس کی ہوگی۔۔زوجہ آپ کی ہنسی بتا رہی ہے۔۔آپ کا بھائی ایک نمبر کا۔۔۔۔۔۔سالا کہیں کا۔۔۔‘‘وہ دانت پیس کر بڑبڑایا تھا آئزل نے آنکھیں پھیلا کر دیکھا۔۔ ’’اہان میرے بھائی کو سالا کہہ رہے ہو تھوڑی شرم کرو۔۔‘‘اس نے بھائی کی سائیڈ لیتے افسوس سے کہا۔۔ ’’سالے کو سالا نہ کہوں تو کیا سالی کہوں۔۔‘‘اس نے ذرا خفگی سے آئزل کو دیکھا تھا،جو بھائی کی خاطر پٹر پٹر شروع کر چکی تھی۔۔جبکہ اتنی دیر سے چپ کا روزہ رکھے ہوئے تھی۔ ’’مجتبیٰ بالکل درست کہہ رہا تھا تمہارے بارے میں کہ دلہا بن کر بھی ایسے ہی رہو گے بالکل۔۔۔۔۔۔‘‘وہ مزید کچھ کہتی اہان نے ذرا گھور کر دیکھا تھا تو وہ اپنے لفظوں پر بریک لگاتی زبان دانتوں تلے دبا گئی۔۔ ’’آئزل آج ہماری زندگی کی نئی شروعات ہے خبردار جو آپ نے اس سالے کا ذکر بھی کیا تو۔۔اسے تو اسکی نئی بوس ہی ٹھیک کرے گی۔۔‘‘وہ دانتے کچکچا کر بولتا خیالوں میں گم خود ہی مسکرایا تھا۔ ’’نئی بوس۔۔۔اہان تم۔۔۔‘‘ ’’اہاں آپ۔۔۔۔زوجہ آپ کہیں۔۔۔یہ تم تم کیا لگا رکھی ہے۔۔۔اب میں مستقل شوہر ہوں آپ کا۔۔۔‘‘اس نے تصیح ضروری سمجھی تھی۔۔ ’’کیوں پہلے عارضی تھے کیا۔۔۔‘‘اس نے شرارتاً کہا تو اہان اسے ریلیکس ہوتا دیکھ متبسم ہوا۔۔اسکی الفت بھری نگاہوں میں محبت کا جہاں آباد دیکھ وہ بھی مسکرا دی تھی۔۔ ’’جاؤ فریش ہو جاؤ۔۔۔یہ کپڑے چینج کرلو۔۔ میں بھی چینج کرلو۔پھر دو نفل شکرانے کے بھی ادا کرنے ہیں امی نے مجھے لازمی تلقین کی ہے۔۔‘‘اہان نے یاد آنے پر تیزی سے کہا تو وہ بھی واشروم کی جانب بڑھی تھی۔۔ ………………… ’’آہان!‘‘وہ کب سے اسے جگانے کی کوشش کر رہی تھی۔۔جو گدھے گھوڑے سب بیچ کر سو رہا تھا۔۔ ’’آہان اُٹھ جائیں۔۔صبح کے دس بج رہے ہیں۔۔سب لوگ ہمارا ناشتے پر انتظار کر رہے ہونگے۔۔‘‘وہ تیار ہوئی کب سے اسے جگانے کے لئے جتن کر رہی تھی۔۔جس کی نیند اتنی پکی تھی۔۔کہ کھلنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔۔ ’’آہان۔۔‘‘اس بار اس نے جھنجھلا کر اسکا کندھا جھنجھوڑ ڈالا تھا۔۔ ’’جی جان ِ آہان۔۔‘‘اس نے خمار سے لبزیز آنکھیں کھول کر نکھری نکھری سی آئزل کو دیکھا تھا۔۔جو شاید ابھی شاور لے کر نکلی تھی۔۔بالوں سے شبنمی قطرے ٹپک رہے تھے۔۔ ’’صبح ہوگئی ہے۔۔مہربانی ہوگی اگر آپ اٹھ کر واشروم میں تشریف لے جائیں گے تو۔۔‘‘اس نے دانت کچکچائے تو آہان اس کے انداز پر ہولے سے مسکراتا، اٹھ کر بیٹھتا بیڈ کراؤن سے ٹیک لگا گیا۔۔جبکہ وہ اسے بیدار ہوتا دیکھ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی بال سکھا رہی تھی۔۔ ’’یار آپ کو آج سرُخ رنگ کا جوڑا پہننا چاہئے تھا۔۔۔‘‘وہ اس وقت گلابی رنگ کے جوڑے میں ملبوس بلا کی حسین لگ رہی تھی۔۔ ’’ کل پہن تو لیا سرخ رنگ کا جوڑا۔۔اب کیا روز ایک ہی رنگ پہنتی رہو۔۔‘‘اس نے آئینے سے نظر آتے عکس کو گھور کر دیکھا تھا۔۔ ’’کل تو میں نے تمہیں ٹھیک سے دیکھا ہی نہیں تھا۔۔‘‘وہ جمائی روکتا شرارت سے بولا۔۔ ’’اب ساری زندگی دیکھتے رہنا۔۔۔فی الحال اٹھ جاؤ ہمیں نیچے جانا ہے ناشتے پر مجتبیٰ ہمارا انتظار کر رہا ہوگا۔۔‘‘آہان کی پیشانی پر بل نمودار ہوئے تھے۔ ’ڈانٹ ٹیل می آئزل تمہارا وہ بھائی یہاں بھی عورتوں والی رسمیں نبھانے کے لئے پہنچ چکا ہے۔۔‘‘وہ کمفرٹر اتار کر سائیڈ پر پھینکتا اس کے نزدیک آیا۔ ’’عورتوں والی رسم سے کیا مراد ہے بھئی؟رسم رسم ہوتی ہے۔‘‘اس نے ناک سے مکھی اڑائی تھی۔۔ ’’جی جی درست فرمایا آپ نے۔‘‘اس نے دانت کچکچائے۔ ’’اچھا جلدی سے شاور لے لو،میں نے تمہارے لئے شلوار قمیض نکال دیا ہے۔۔ٹھیک ہے نا۔۔‘‘اُس نے دَائیں جانب اشارہ کیا تو اہان نے ناک چڑھائی۔۔ ’’کیا شلوار قمیض پہننا ضروری ہے؟‘‘وہ جانتی تھی اسے عام دنوں میں بھی یہ پہننا پسند نہیں تھا۔ ’’ہاں کیوں ہر جگہ پینٹ شرٹ پہننے کے نہیں گھوما جاتا۔۔‘‘اس نے گھور کر دیکھا تو وہ مسکرا کربالوں میں ہاتھ پھیر گیا۔۔ ’’اچھا جی۔۔اب آپ کہتی ہیں تو پہن لیتے ہیں۔‘‘شرارت سے اسکا گال چھوتا وہ کپڑے اٹھا کر واشروم کی جانب بڑھا تھا۔۔شام کو ولیمہ تھا اور وہ اب مزید وقت ضائع نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔ جاری ہے
