Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Episode no 21
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 01/06/2026
1 Views
Episode no 21
کرتا اسکی خواہش کا احترام کرتا وہ خود پر ضبط کے کڑے پہرے بیٹھائے ذرا فاصلے پر ہوکر بیٹھ گیا تھا۔۔ ’’کتنے؟‘‘وہ اتھل پتھل ہوتی ڈھڑکنوں کو سنبھالتی اپنا چہرہ چادر میں کور کر گئی ۔۔ ’’اتنا کے میں اپنی خوشی لفظوں میں بیان بھی نہیں کر سکتا۔۔‘‘ وہ پر مسرت لہجے میں گویا ہوا تھا ہلکی پھلکی باتوں کے درمیان وہ ہال پہنچ گئے تھے۔۔۔ آئزل کو مجتبیٰ کے حوالے کرتا اب وہ سیدھا گھر کی جانب گامزن تھا۔۔ جہاں اسے دلہا بن کر اب اپنی محرم محبت کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے رخصت کرانے آنا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’ایک کام کرتے اکیلے ہی بارات لے جاتے۔۔ہماری کیا ضرورت ہے تمہیں؟‘‘وہ اسے شرارت سے تیار ہوتا دیکھ غصے سے بولے،جو اب تیزی سے شیروانی کے بٹن لگا رہا تھا۔۔اسکے دوست پہلے ہی اسے چھیڑ چھیڑ کر ناک میں دم کر چکے تھے،اور اب رہی سہی کسر باپ پوری کر رہا تھا۔۔ ’’بابا آپ کے بغیر میرا سالا میری بیوی میرے حوالے نہیں کرے گا۔۔‘‘وہ شرارت سے بولتا اب بالوں میں سیٹنگ اسپرے کر رہا تھا۔۔ ’’انکل تاریخ لکھی جائے گی کہ ایک ایسا بھی دلہا گزرا ہے جو اپنی دلہن کو دیکھنے کے لئے اس قدر بے تاب تھا کہ سہرہ بندھائی کی رسم چھوڑ کر دلہن کو پالر سے پک کرنے پہنچ گیا تھا۔۔‘‘ کمرے میں داخل ہوتا اسکا ایک دوست ذرا شرارت سے بولا،جو کافی دیر سے آہان کی اپنے باپ سے جھڑکیاں کھاتا سن رہا تھا۔ ’’بیٹا تاریخ تو ایک اور رقم ہوگئی کہ یہ واحد دلہا تھا جو رخصتی سے پہلے ہی بیوی کا غلام بن گیا تھا۔۔‘‘انہوں نے دانت پیسے۔ ’’مورخ تو پہلے ہی میرے بابا کی شان میں قصیدے لکھ چکا ہے اب مزید کیا کاغذ اور قلم کی سیاہی کا ضیاع کر تاریخ دہرائی جائے۔۔‘‘وہ کمرے میں داخل ہوتی ماں کو معنی خیز نظروں سے دیکھ اپنے جلالی باپ کو چھیڑنا ہرگز بھی نہیں بھولا تھا۔۔جن کا چہرہ بیٹے کی بے باکی پر شرمندگی کے باعث سرخ پڑا تھا۔۔باقی سارے لڑکے کھی کھی کرنے لگے تھے۔۔۔ ’’آپ بھی اپنے بیٹے کے ساتھ یہاں بیٹھ کر ہی رہ گئے ہیں۔۔باہر سارے مہمان انتظار کر رہے ہیں کہ کب دلہا اور دلہے کا باپ کمرے سے باہر تشریف لائیں گے اور ہم بارات لے کر ہال جائیں گے۔۔‘‘ تحمینہ بیگم نے ہمیشہ کی طرح ایک ساتھ دونوں باپ بیٹے کے لتے لئے تھے۔۔ ’’بیگم یہ آپ کا بیٹا دلہنوں کی طرح تیاری میں وقت لے رہا ہے تو میرا کیا قصور۔۔‘‘انہوں نے اپنے بیٹے کو گھورا،جو آج شہزادوں جیسا حسین لگ رہا تھا۔۔۔ ’’ ماما ،بابا آپ لوگ اپنی بحث کسی اور دن کے لئے رکھیں۔۔میری دلہن میرا انتظار کر رہی ہوگی۔۔آپ لوگ جلدی بارات لے کر نکلیں ورنہ میں اکیلا ہی رخصت کروا کر لے آؤنگا۔۔‘‘اس بار وہ دونوں ماں ،باپ کو بحث میں پڑتا دیکھ،پاؤں میں کھسا ڈالتا تیزی سے اٹھ کھڑا ہوا۔۔ تحمینہ نے اسکو محبت بھری نگاہوں سے دیکھتے،اس کا صدقہ اتارا تھا۔۔۔ ’’آج لگ رہے ہو نا میرے بیٹے۔۔‘‘ انہوں نے فرط جذبات میں بڑی ہی کوئی انوکھی بات کہی تھی۔۔ ’’نہیں تو بیگم ورنہ کیا یہ صرف میرا بیٹا لگتا ہے؟‘‘انہوں نے عادتاً بیوی کو چھیڑا تھا۔ ’’جی ویسے تو یہ صرف اپنے باپ کا بیٹا لگتا ہے۔۔خیر آپ سے کون بحث کرے۔۔چلو جلدی سہرہ بندی کی رسم ادا کرنی ہے۔۔‘‘وہ ذرا عجلت میں بولتی اہان کا ہاتھ پکڑ کر باہر لے آئیں تھیں۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’بارات آگئی ہے۔۔۔‘‘آئزل ڈریسنگ روم میں موجود تھی،جب کسی کم عمر لڑکی نے وہاں آتے ڈھنڈورا پیٹا تھا۔۔آئزل کا ننها سا دل تیزی سے دھڑک اٹھا تھا۔۔ ’’چلو آئزل تیاری پکڑ لو۔۔بارات ایز یجول لیٹ ہے۔۔ تو مجتبیٰ بھائی نے کہا ہے بس تمہیں فوراً اسٹیج پر لے جانا ہے۔۔‘‘اسکی ایک دوست نے آکر اطلاع کی۔۔وہ جو بلڈ ریڈ رنگ کے شرارے میں ملبوس بلا کی حسین لگ رہی تھی۔۔اب دل مزید دھک دھک کرنے لگا تھا۔۔ویسے تو وہ پہلے ہی اہان سے مل چکی تھی۔۔مگر رخصت ہونے کا سوچ کر ہی دل عجیب لے میں دھڑکا جارہا تھا۔۔جبھی سامنے سے مجتبیٰ ڈریسنگ روم میں انٹر ہوا تھا۔۔ "تمہارا شوہر آج بھی اپنے بے غیرتی سے باز نہیں آیا ہے۔۔جب سے آیا ہے آفیشل سالا کہہ کر دماغ خراب کر رہا ہے ۔۔اور لگ بھی بهورا بندر رہا ہے۔۔۔ "بلڈ ريڈ شرارے میں ملبوس آئزل بھائی کی جھنجھلاہٹ پر دھیرے سے مسکرائی ۔جبکہ اس نے آگے بڑھ کر پیشانی پر ہونٹ رکھے تھے ۔۔آنکھیں نم ہوئیں تھیں ۔۔۔۔ "اللّه تمھیں ہمیشہ خوش رکھے ۔۔۔"کتنی ہی دیر سینے سے لگائے کھڑا رہا تھا ۔۔اس وقت ڈریسنگ روم میں صرف وہ دونوں بہن بھائی ہی تھے۔۔۔جبھی شور اٹھا تھا۔۔اور ایک ساتھ لڑکیوں کا ٹولا انٹر ہوا تھا۔۔۔۔۔ ’’چلو لڑکیوں،دلہن کو باہر لے آؤ۔۔‘‘آئزل اپنا شرارہ سنبھالتی اُٹھ کر لڑکیوں کی ہمراہی میں باہر کی جانب بڑھی تھی۔۔۔۔۔۔اور اسے اہان کے برابر میں اسٹیج پر بیٹھا دیا گیا تھا،،جس نے خود اُٹھ کر اسکے لئے ہاتھ بڑھا مجتبیٰ سے ہاتھ تھام کر اپنی گرفت میں قید کرتے اسکے لئے جگہ بنائی تھی۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فنکش کافی دیر تک چلا تھا اور پھر وہ رخصتی کے وقت اپنے ماں باپ کو یاد کر آئزل مجتبیٰ کے سینے سے لگتی سسک سسک کر رُو پڑی تھی۔۔ وہ تمام رسم و رواج سے فارغ ہونے کے بعد کافی دیر سے اہان کی خواب گاہ میں موجود اسکی منتظر تھی۔۔جو نجانے کہاں رہ گیا تھا۔۔۔ وہ ابھی اپنی سوچوں میں گم تھی جب کھٹکے کی آواز کے ساتھ ہی وہ کمرے میں داخل ہوا تھا۔۔آئزل نے ذرا کی ذرا نظر اٹھا کر اسکی جانب دیکھتے فوراً سے نگاہیں جھکا لی تھیں۔۔۔وہ سفید رنگ شیروانی زیب تن کئے حد سے زیادہ پیارا لگ رہا تھا۔۔۔ ’’تھک تو نہیں گئیں؟‘‘ شیروانی اتار کر ریلیکس انداز میں اسکے ساتھ ہی بیڈ پر بیٹھتا وہ متوازن لہجے میں سوالیہ بولا تھا۔۔ ’’نہیں۔۔۔‘‘اس نے دھیرے سے نفی میں سر ہلایا،جبکہ چہرے پر اہان کی نظروں کی تپش واضح محسوس ہورہی تھی۔۔وہ بہت گہری نظروں سے اسکے نقوش کا جائزہ لیتا ملکوتی حسن میں کھویا تھا۔۔گاڑی کی ڈم لائٹ میں اور پھر اسٹیج پر وہ بھلے ہی اِس چہرے کا دیدار کر چکا تھا،مگر اس وقت اسے قریب سے دیکھنا ایک الگ ہی فرط بخش احساس بخش رہا تھا۔۔ ’’بہت خوبصورت لگ رہی ہو جانم۔۔۔‘‘ اس نے ذرا سا نزدیک ہوکر اپنے دہکتے لب اسکی نازک سی جبیں پر رکھے تھے۔۔آئزل کی پلکیں لرز اُٹھی تھی۔۔دل تیزی سے دھڑک اُٹھا تھا۔۔۔وہ اب آہستہ آہستہ اسکے دوپٹے سے پنیں نکالتا دوپٹے کے بوجھ سے آزاد کر گیا تھا۔۔۔آئزل نے ذرا سی نگاہ اُٹھا کر اسکی جانب دیکھتے نگاہیں جھکا لی تھیں۔۔ ’’تمہیں پتہ ہے آئزل ،تم مجھے اس وقت کتنی پیاری لگ رہی ہو۔۔‘‘ اہان بیڈ سے اٹھ کر الماری سے دو جیولری کیس نکالتا استفساریہ بولا،جبکہ وہ جو اپنی حالت پر زرا شرمائی شرمائی سی تھی۔ چونک کر سیدھی ہوئی تھی۔۔ ’’اپنے پاؤں سامنے لاؤ۔۔‘‘آئزل اسکے ہاتھ میں پائل دیکھتی پاؤں سامنے کر گئی۔ تو اہان نے بہت محبت سے اسکے پاؤں میں پائل پہنائی تھی۔۔اہان کا لمس اپنے پاؤں پر محسوس کر وہ سمٹ گئی تھی۔۔ ’’بہت پیاری لگ رہی ہو۔۔اتنی پیاری کہ میں لفظوں میں بیان نہیں کر سکتا۔۔‘‘ اس کے بال ہٹا کر نیکلس گلے میں پہناتا وہ محبت سے بولتا اسے اپنے حصار میں لے گیا تھا۔۔ ’’میرا بننے کا شکریہ ۔‘‘اسکے گلابی رخسار اپنے لمس سے مہکاتا محبت سے بولا تھا۔۔جبکہ وہ آئینے
