Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Episode no 21
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 01/06/2026
1 Views
Episode no 21
ہارا جنون از_ہما_قریشی قسط_نمبر_21 ’’ ثمرہ۔۔۔۔یہ کیا بکواس کر رہی ہو۔۔۔دیکھو میرا بچہ۔۔تمہیں اس شخص سے ڈرنے یا گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔۔ یہ شخص تمہارا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتا۔۔تم چلو میرے ساتھ۔۔‘‘اس نے ثمرہ کو کندھوں سے تھامنا چاہا،جبھی مصطفیٰ ایک لمحے میں ثمرہ کو اپنی سخت گرفت میں لیتا شارق کو باز کرگیا،اسکا چہرہ اہانت اور شرمندگی کے باعث سُرخ پڑا تھا۔۔۔ ’’ثمرہ روم میں جائیں۔۔۔‘‘مصطفیٰ نے وکیل کی موجودگی کے باعث ایک بار پھر سختی سے تنبیہ کی تھی۔۔۔اور اس بار وہ نظر آنداز نہیں کر سکی تھی۔۔ ’’اچھی بات ہے کہ تم اپنی اس بہن کو لینے خود ہی چلے آئے۔۔چلو بی بی نکلو میرے گھر سے۔۔‘‘اِس سے قبل کے ثمرہ پلٹتی،زنیرہ کے نفرت میں ڈوبے حقارت ذدہ لفظ سماعتوں سے ٹکرائے تھے۔۔ ’’ ماں۔۔۔‘‘مصطفیٰ نے انہیں کسی بھی قسم کے تماشے سے باز رکھنا چاہا تھا۔۔ ’’کیا ماں۔۔باہر نکالو اس لڑکی کو مصطفیٰ۔۔مجھ سے اس لڑکی کا وجود اس گھر میں برداشت نہیں ہوتا۔۔۔‘‘وہ ناگواری سے غرائیں تھیں۔۔ ’’دیکھا یہ ہے تمہاری اصلیت احد مصطفیٰ۔۔تم اس گھر میں میری بہن پر ظلم کرتے ہو۔اور تمہیں لگتا ہے کہ میں خاموشی سے یہان سے پلٹ جاؤنگا۔۔۔‘‘وہ جو پہلے ہی مصطفیٰ کے عمل پر تپا ہوا تھا، مصطفیٰ پر جھپٹا تھا۔ایک ساتھ کتنی ہی چیخیں بلند ہوئیں تھیں۔۔ ’’بھائی۔۔۔یہ کیا کر رہے ہیں آپ۔۔۔‘‘اس سے قبل کے ثمرہ کچھ کرتی مصطفیٰ کی جانب سے بھی جوابی وار کیا گیا تھا اور وہ وار اتنا شدید تھا کہ شارق پورے وجود سے لڑکھڑا یا تھا۔۔ہونٹ پھٹ کر خون رِسنے لگا تھا۔۔۔ ’’دیکھ رہی ہو یہ تمہارے بھائی پر کیسے ہاتھ اٹھا رہا ہے۔۔۔اب بھی یہاں رہنا چاہتی ہو ۔‘‘شارق نے کہتے ساتھ ہی مصطفیٰ پر وار کرنا چاہا مگر وہ اسکا یہ داؤ ناکام بنا گیا تھا۔۔ ’’بھائی۔۔۔۔۔بس کردیں۔۔۔بس کردیں۔۔خبردار۔۔۔جو اب آپ نے میرے شوہر پر ہاتھ اٹھایا تو۔۔۔۔‘‘وہ یکدم ہی ان دونوں کے درمیان ہائل ہوئی تھی۔۔ دونوں ہی ہانپ گئے تھے۔۔ ’’ یہ کمینہ شخص تمہاری زندگی برباد کردے گا ثمرہ۔۔۔‘‘وہ چلایا۔۔ ’’ہوجانے دیں برباد۔۔اگر یہ شخص اس گھر میں زندہ دفن بھی کردے تو بھی میں یہاں سے کہیں نہیں جاؤنگی۔۔کیونکہ اس شخص نے مجھے اس وقت سہارا دیا تھا،جب بابا کے گھر میں میرے لئے جگہ تنگ ہوگئی تھی۔۔اب ثمرہ کا گھر یہی ہے۔۔اور پلیز آئندہ یہاں نہ آئیے گا چلیں جائیں یہاں سے۔‘‘وہ انتہائی غصےٰ اور دکھ سے بولتی شارق کو پیچھے دھکیل گئی تھی۔۔اس نے آگے بڑھ کر کچھ کہنا چاہا،،جبھی مصطفیٰ روتی ہوئی ثمرہ کو اپنے حصار میں لے گیا۔۔ ’’بہتر ہوگا کہ تم اپنی شکل لے کر یہاں سے دفعہ ہوجاؤ۔ورنہ اس بار میں اپنی بیوی کے سو کالڈ بھائی کا ذرا بھی لحاظ نہیں کرونگا اور سیدھا پولیس کو کال کرونگا۔۔‘‘وہ درشت ناگوار لہجے میں غرایا تھا۔۔۔ "یعنی انٹی سہی کہہ رہی تھیں ،تم نے بھائی کی آڑ میں اپنی سابقہ محبّت کو حاصل کیا ہے۔۔۔"وہ نفرت سے غرایا،اس الزام پر اس نے دکھ سے آنکھیں میچ لیں تھیں۔۔۔۔ "تمہارے خلاف میرے بھائی کے قتل کا کیس تو بہت عزت سے عدالت میں چل رہا ہے مگر ،آگر تم نے میری بیوی کے خلاف کوئی بھی بکواس کی تو میں ابھی اسی وقت تمھیں یہیں پر زندہ دفن کردونگا اور پھر دیکھ لونگا تمہارے باپ کو بھی۔۔۔۔دفعہ ہوجاؤ یہاں سے۔۔۔"ثمرہ کو حصّار میں لئے وہ درشتگی سے چنگھاڑتا اس سے قبل کے اسکی جانب قدم بڑھاتا سیم کے ہاتھوں کی سخت گرفت اپنی شرٹ پر محسوس ہوئی تھی۔۔۔ شارق لب بھنچتا ، ثمرہ پر ایک قہر بھری نگاہ ڈالتا وکیل کی ہمراہی میں وہاں سے پلٹ گیا تھا۔۔جبکہ زنیرہ ثمرہ کے لرزتے سراپے پر ایک تیز نگاہ ڈالتیں پلٹ گئیں تھیں۔۔۔ ……………………….. اہان آئزل کو لینے پالر کے باہر کھڑا کب سے اسکا انتظار کر رہا تھا۔۔جبھی اسکا موبائل تھرتھرایا تھا۔۔اس نے تیزی سے جیب سے موبائل نکال کر کان سے لگایا تھا۔۔وہ ابھی تک گھریلو حلیے میں موجود تھا۔۔ ’’اہان کہاں ہو تم؟یہاں سہرہ بندھائی کی رسم کرنے کے لئے مہمان گھر پر جما ہوئے ہیں،اور اللہ کی قدرت دیکھو جس کا سہرہ بننا ہے وہ دلہا خود منظر سے غائب ہوگیا ہے۔۔‘‘ دوسری جانب سے باپ کی طنزیہ آواز سماعتوں سے ٹکرائی تھی۔۔ ’’وہ بابا دراصل میں آئزل کو پالر سے پک کرنے کے لئے آیا تھا۔۔‘‘اس نے سامنے سے چادر میں چھپی آئزل کو قریب آتے دیکھ کان کھجا کر جواز پیش کیا۔۔وہ لڑکی کی ہمراہی میں سہج سہج کر قدم اٹھاتی نزدیک آرہی تھی۔۔۔۔ ’’کیوں ؟اسکا بھائی کہاں گیا۔۔۔جو تم یہ زمہ داریاں نبھانے وقت سے پہلے پہنچ گئے؟‘‘دوسری جانب سے غصے سے پوچھا گیا تھا۔۔ ’’بابا آپ جانتے تو ہیں وہ مصروف ہے۔۔‘‘اس نے ہمیشہ والا بہانہ گھڑا تھا۔ ’’اچھا وہ مصروف ہے اور تم تو سدا کے فرصت سے فارغ ہو نا؟‘‘دوسری جانب سے دانت کچکچا کر جھاڑ پلا ئی ۔۔ ’’ایسی بات نہیں ہے بابا۔۔۔بس آئزل آگئی ہے۔۔ہم آرہے ہیں۔۔۔‘‘اس نے چادر میں چھپی آئزل کو دیکھنے کی کوشش کرتے اپنا ہاتھ اسکی سمت بڑھایا۔۔جسے پالر والی لڑکی باہر تک چھوڑ کر گئی تھی۔۔مہندی سے سجا ہاتھ اسکے ہاتھ میں دیتی آئزل کی ہتھلیاں مکمل طور پر بھیگی ہوئی تھی۔۔اسکے ہاتھوں کی لرزاہٹ آہان نے واضح طور پر محسوس کی تھی۔۔ ’’اوکے اچھا اچھا۔۔ساری زندگی پڑی ہے مجھے بیوی کا غلام ہونے کا طعنہ دینے کی آرام سے دیتے رہیے گا۔۔ابھی میری بیوی آگئی ہے۔مجھے اسے وقت دینے دیں۔۔‘‘وہ آئزل کو نظروں کے حصار میں لئے کھڑا ذرا شوخی سے بولا تھا،جبکہ چادر کے پیچھے چھپے چہرے میں آئزل کی پیشانی پر پسینہ چمکا تھا۔۔۔ ’’السلام علیکم!‘‘اسکی گھبراہٹ انجوائے کرتے آہان نے ذرا شرارت سے کہا،اسنے سر ہلانے پر ہی اکتفا کیا تھا۔۔مگر پھر وقت اور حالات کا خیال آنے پر وہ تیزی سے آئزل کو گاڑی میں بیٹھنے کے لئے مدد کرتا ،خود گھوم کر ڈرائیونگ سیٹ سنبھال گیا۔۔دونوں کے ہی جذبات عجیب ہورہے تھے۔۔دل الگ ہی لے میں دھڑک رہا تھا۔۔ ’’جانِ من اب تو اپنے حسین چہرے کا دیدار کرا دیجئے۔۔بندہ نا چیز ماں،باپ سے اتنی گالیاں کھانے کے بعد صرف آپ کے حسن کا دیدار کرنے کی خاطر اتنا دور آیا ہے،تاکہ مجھ سے کوئی اور پہلا حق نہ چھین سکے۔۔تمہیں نہیں معلوم کہ تمہارے چپکو بھائی کو میں نے کتنی مشکل سے راضی کیا تھا۔۔‘‘اہان گاڑی اسٹارٹ کرتا اسکی حرکت پر ذرا بد مزاح ہوا تھا۔ ’’جی نہیں۔۔بارات لے کر آؤ گے اب جبھی دیکھنا۔۔‘‘اس نے سرے سے ہی رُخ پھیر لیا۔ ’’نو نیور۔۔بالکل بھی نہیں بھئی۔۔ پھر تو تمہیں سب دیکھ چکے ہونگے۔۔‘‘آہان نے فوری انکار کیا۔۔ ’’تو کیا ہوا؟ ‘‘اس نے لاپرواہی سے کندھے اچکائے۔۔جبھی آہان آئی برو اٹھاتا گاڑی سائیڈ میں لگا گیا۔۔۔آئزل نے حیرت سے اسکی جانب دیکھا۔۔ ’’اب بتائیں محترمہ ۔۔کیا کہہ رہی ہیں آپ؟‘‘ اب وہ باقاعدہ طور پر اسکی جانب متوجہ تھا۔۔جو راہ فرار تلاشتی بس بھاگ جانے کے دَر پر تھی۔۔ ’’بھئی نہیں کرو آہان۔۔۔‘‘اس نے دامن بچانا چاہا۔۔جبکہ گاڑی کی لائٹس آف کرتا اسکا چہرہ اپنی جانب کرتا چادر سر سے اتار چکا تھا۔۔نیم اندھیرے میں بھی وہ دیکھ سکتا تھا کہ اس پر اسکی محبت کا روپ کھل کر آیا ہے۔۔وہ مبہوت سا اسے تکے جارہا تھا۔جبکہ وہ شرمائی شرمائی سی کہیں چھپ جانے کی خواہش مند تھی۔۔ ’’حسین۔۔‘‘آگے بڑھ کر اسکی جبیں پر اپنے ہونٹ رکھتا وہ اسے کپکپانے پر مجبور کر گیا ،جس نے شرما کر نگاہیں جھکا لی تھیں۔۔ ’’آپ کو پتہ ہے میں کتنا خوش ہوں آج۔۔۔‘‘اسکی پیشانی پر مہر محبت ثبت
