Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Episode no 20
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 30/05/2026
1 Views
Episode no 20
زبردستی گھر میں گھس آیا ہے۔۔اور الٹا بدمعاشی بھی کر رہا ہے۔۔‘‘زنیرہ نے بیٹے کو دیکھ جھٹ اسکی جانب قدم اٹھائے۔۔ ’’ میری بہن کہاں ہے بلاؤ اسے۔۔‘‘وہ مصطفیٰ کو دیکھ غرایا۔۔ ’’آواز نیچی کر کہ بات کرو۔۔اور تمہاری ہمت کیسے ہوئی اس گھر کی دہلیز پار کرنے کی۔۔وکیل صاحب آپ کس کی اجازت سے ان محترم کو اس گھر میں لائیں ہیں۔۔‘‘خود پر ضبط کرتا وہ بوکھلائے ہوئے وکیل سے مخاطب ہو ا۔۔ ’’ مجھے بھی کوئی شوق نہیں ہے تمہارے گھر آنے کا۔۔میری بہن کو بلاؤ بزدل انسان۔۔مردوں کی لڑائی میں عورت کو استعمال کرتے ہو شرم نہیں آتی۔۔‘‘وہ انتہائی بدتہذیبی سے گویا ہوا تھا۔جبھی عقب میں اسے فق چہرہ لئے ثمرہ اپنی جانب بڑھتی دکھائی دی تھی۔۔ ’’ثمرہ۔۔۔بھائی کی جان۔۔یہاں آئیں میرے پاس۔۔‘‘اس نے جھٹ محبت بھرے لہجے میں دیکھ پکارا۔۔ ’’ثمرہ۔۔بیڈ روم میں واپس جائیں۔۔‘‘مصطفیٰ نے شارق کی آنکھوں میں آنکھیں گاڑ کر کھڑے تیز لہجے میں حکم صادر کیا تھا۔۔ثمرہ کے قدموں کو بریک لگی تھی۔۔ ’’ثمرہ یہاں آؤ۔۔میں لینے آیا ہوں تمہیں۔اس شخص سے ڈرنے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے میرا بچہ۔۔بھائی کے پاس آؤ۔۔‘‘وہ ثمرہ کا خوف زدہ چہرہ دیکھ پچکارنے والے لہجے میں بولا،مصطفیٰ استہزائیہ مسکرایا تھا۔۔ ’’ تمہاری بہن تھی۔۔اب میری بیوی ہے۔۔اور خبردار جو اسکا نام اپنی قاتلہ زبان سے لیا توْ۔‘‘مصطفیٰ ناگواری سے غرایاْ۔ ’’مصطفیٰ تم ان دنوں بہن بھائیوں کو میرے گھر ےس نکالتے کیوں نہیں ہو۔۔دفعہ کردو ان دونوں کو یہاں سے۔۔‘‘زنیردونوں کو الجھتے دیکھ مصطفیٰ پر غصہ ہوئیں۔۔ ’’مجھے بھی کوئی شوق نہیں ہے بی بی۔۔۔۔میں یہاں صرف اپنی بہن کو لینے آیا ہوں۔۔‘‘وہ نخوت بھرے لہجے میں بولا۔۔مصطفیٰ کی پیشانی پر سینکڑوں بل سمٹ آئے تھے۔۔غصے سے آنکھیں لال انگارا ہوئیں تھیں۔۔۔ ’’تمیز سے بات کرو میری ماں سے۔۔‘‘مصطفیٰ اسکے لہجے میں موجود حقارت پر غصہ ہوا۔۔ثمرہ نے دہل کر سینے پر ہاتھ رکھا تھا۔۔ ’’اوہ چپ کرو۔۔ثمرہ۔۔یہاں آؤ بچے۔۔‘‘وہ ایک بار پھر بہن کی جانب قدم اٹھاتا پکارنے لگا۔۔ ’’ثمرہ احد مصطفیٰ ملک میں نے کہا اپنے روم میں جائیں آپ۔۔‘‘وہ اس قدر شدت سے دھاڑا تھا کہ مصطفیٰ پیلس کے درو دیوار تک ہل گئے تھے،ثمرہ کو اپنی سانسیں تھمتی محسوس ہوئیں تھیں۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’تم میری بہن پر اپنا رعب نہیں جما سکتے احد مصطفیٰ!‘‘وہ دونوں مدے مقابل آگئے تھے۔۔ ’’کیوں ؟کیوں نہیں جما سکتا؟ہاں؟‘‘وہ خونخوار نظروں سے گھور رہا تھا۔۔جبکہ ثمرہ کے پاؤں تو گویا زمین نے جکڑ لئے تھے۔۔۔ ’’کیونکہ وہ میری بہن ہے کوئی خون بہا نہیں۔۔‘‘وہ شدت سے دھاڑا،زنیرہ نے دھل کر سینے پر ہاتھ رکھا۔۔ ’’دیکھیں آپ دونوں فریق بیٹھ کر معاملے کو سُلجھا لیں، مصطفیٰ صاحب آپ کے بھائی کا خون ہوا ہے عدالت میں کیس چل رہا ہے مگر اس طرح شارق صاحب کی بہن کو زَبردستی اپنے گھر میں رَکھنا دُرست نہیں ہے۔۔‘‘اِس بار َ وکیل میدان میں کودا تھا۔۔ ’’تم سے کس نے کہا کہ وہ لڑکی شارق علوی کی بہن ہے؟‘‘اس بار وہ وکیل پر غرایا تھا،اور وکیل اپنی جگہ جزبز سا خاموش ہوگیا۔مصطفیٰ کے سامنے منہ کھولنے کی ہمت تو ویسے ہی نہیں تھی۔۔ ’’وہ۔۔۔ ’’بیوی ہیں میری۔۔نکاح میں ہیں میرے۔۔شارق علوی کی بہن تھیں مگر اب اس گھر کی بہو،اس گھر کی عزت ہیں سمجھ آئی۔۔اور آگر کسی نے اس گھر کی عزت کو آنکھ اٹھا کر بھی دیکھنے کی ہمت کی تو یہیں زندہ دفن کردونگا۔یاد رکھنا میری بات ۔۔۔‘‘شارق کے سرخ چہرے پر نظریں گاڑتا وہ انتہائی درشت لہجے میں دھاڑا تھا۔۔شارق نے ایک قہر برساتی نگاہ ثمرہ پر ڈالی تھی،جو ہنوز سیڑھیوں پر جمی بیٹھی تھی۔۔ ’’یہ اور اسکی ماں مارتے ہیں نا تمہیں ثمرہ۔۔۔ظلم کرتے ہیں تم پر۔۔چلو میرے ساتھ۔۔عدالت میں گواہی دینا اس بزدل شخص کے خلاف۔۔تمہارا بھائی ابھی زندہ ہے تمہیں کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔‘‘وہ مزید چبھتے ہوئے لہجے میں بولا تھا۔۔۔ ’’اوہ بے غیرت بھائی۔۔۔جو اب زیادہ دن زندہ نہیں رہ سکے گا پھر ، تمہاری بہن کو احد مصطفیٰ کے عتاب سے کون بچائے گا شارق علوی۔۔‘‘وہ استہزائیہ مسکرایا تھا۔۔شارق کی سُرخ رَنگت اسکے لفظوں کی حقارت پر مزید سرخ ہوئی تھی۔۔ ’’ثمرہ چلو میرے ساتھ۔۔‘‘اس نے قدم بڑھانے چاہئے،جبھی مصطفیٰ اسے گریبان سے پکڑ کر عین راستے میں روک گیا۔۔ثمرہ جو اپر سے کھڑی یہ سارا منظر دیکھ رہی تھی۔ایک لمحے کو وہ گھبرائی۔۔ ’’مصطفیٰ پلیز!‘‘اسکی آواز پر مصطفیٰ نےاسکے ڈھیٹ پن پر ضبط سے آنکھیں میچی تھیں،جو ابھی تک پتھر کی مورت بنی یہیں جمی کھڑی تھی۔۔۔ ’’میں نے شاید کچھ بکواس کی ہے مسز مصطفیٰ۔۔مجھے لگتا ہے آپ قوت سماعت سے محروم ہو چکی ہیں؟‘‘شارق کا گریبان ہنوز اسکی گرفت میں تھا۔۔۔مصطفیٰ ذرا سا رُخ پلٹتا ثمرہ سے سخت لہجے میں بولا تھا۔۔جسکی آنکھوں سے آنسو چھلکنے کو بے تاب تھے۔۔۔ ’’ بھائی پلیز جائیں یہاں سے۔۔‘‘‘وہ معاملہ بگڑتا دیکھ،مصطفیٰ کی بات نظر آنداز کرتی سیڑھیاں اُتر کر نیچے آئی تھی۔۔۔ مصطفیٰ نے اُسکے عمل پر لب بھینچ لئے تھے۔۔ ’’ثمرہ تمہیں ڈرنے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔۔تم چلو میرے ساتھ،،اور عدالت میں گواہی دینا کہ یہ شخص اور اسکی ماں ظلم کرتے رہے ہیں تم پر۔۔۔ہاتھ اٹھایا ہے نا تم نے میری بہن پر۔۔‘‘اس کے ہونٹوں کے قریب لگی معمولی سی چوٹ کو دیکھ وہ وہ آندازً بولتا غرایا،قریب آنے پر چہرے پر کل زنیرہ بیگم کے باعث ملیں ہلکی کھروچیں واضح ہوئی تھیں۔۔ ’’پلیز بھائی بس کردیں یہ تماشہ اور جائیں یہاں سے۔۔میں نے یہ شادی اپنی مرضی سے کی تھی۔۔میں بہت خوش ہوں یہاں پر۔۔‘‘بلاآخر مصطفیٰ کے عین برابر میں آتی ثمرہ آنسوؤں سے تر چہرہ لئے کپکپاتے لہجے میں گویا ہوئی تھی۔۔پورا بدن لرزاہٹ کا شکار تھا۔۔۔شارق نے حیرت سے اپنی بہن کو دیکھا تھا۔۔ جاری ہے
