Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Episode no 20
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 30/05/2026
1 Views
Episode no 20
پتہ پوچھتی ہیں۔۔اب بھلا نیند کس کم بخت کو آنی ہے مسز۔۔۔‘‘اس کے بالوں سے اپنا چہرہ سہلاتا وہ معنی خیزی سے بولا تھا،تو ثمرہ کھلکھلا کر ہنسی تھی۔۔ ’’یعنی آج،جم اور جاگنگ دونوں کینسل۔۔۔‘‘اس نے لب دانتوں تلے دبائے ذر شرارتی لہجے میں دریافت کیا تھا۔۔ ’’اہمم !صحت پر نو کمپرو مائز!‘‘ خود کو شرارت سے دیکھتی ثمرہ کو دیکھتا وہ ذرا اترا کر بولا تو وہ قہقہہ لگا گئی۔۔۔۔ ’’لیکن اب مجھے تو بہت زور کی نیند آرہی ہیں۔۔چلیں روم میں چلتے ہیں۔۔بلکہ آپ جاگنگ پر جائیں۔۔ میں سونے جارہی ہوں۔۔‘‘وہ ہنوز شرارت کے موڈ میں تھی۔۔مصطفیٰ نے ذرا خفگی سے گھورا تھا۔۔۔ ’’ چلیں پھر ساتھ میں نیندیں پوری کرتے ہیں نا مسز۔۔اکیلے کا کیا مزاح۔۔‘‘وہ آنکھ دبا کر ذرا شرارت سے بولا تو وہ خائف نظروں سے گھورتی اسکے سینے پر بازو جڑتی اب وہ اسکے حصار میں ہی چہل قدمی کرنے لگی تھی۔۔جبھی اپنے کمرے میں ونڈو پر آتی زنیرہ بیٹے کو ثمرہ کے نزدیک دیکھ پردے برابر کرتیں پلٹ گئیں تھیں۔۔جبکہ وہ دونوں اس نئی شروعات پر خوش اور مطمئن آئندہ بہاروں کو خیرمقدم کر رہے تھے۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آج مجتبیٰ کا دن حد سے زیادہ مصروف ہونے والا تھا۔۔وہ ناشتے سے فارغ ہوتا ہی تیزی سے سب کچھ مینج کر رہا تھا۔۔آج آئزل کی رخصتی تھی بلآخر وہ رخصت ہوکر اپنے سسرال جارہی تھی۔۔ایسے میں وہ اکیلا تنہا بھائی ،کیا کچھ کرتا،سب رشتہ دار شام کو ہال آنے کا وعدہ کرتے سرے سے ہی غائب ہوگئے تھے۔۔ایسے میں ان دونوں بہن بھائیوں نے بھی کسی سے کوئی شکوہ نہیں کیا تھا۔۔۔مجتبیٰ کی مصروفیت کا خیال کرتے ہوئے اہان نے آئزل کو پالر چھوڑنے اور پک کرنے کی زمہ داری اپنے سر لے لی تھی کیونکہ گھر میں تو سینکڑوں ملازمین تھے مگر وہ بچارہ اکیلا ہی تھا۔۔۔ ’’مجتبیٰ!‘‘وہ مہندی لگے ہاتھوں سے بھائی کے لئے ناشتہ تیار کر رہی تھی۔۔۔آج بار بار آنکھیں بھر کر آرہی تھیں۔۔یہاں سے رخصت ہونے کے خیال نے ہی جان نکال لی تھی۔۔ ’’ہاں آئزل آرہا ہوں یار!‘‘وہ اس وقت الیکٹڑیشن بنا بورڈ میں گھسا ہوا تھا۔جبھی آئزل کی پکار پر ہمیشہ کی طرح جھنجھلایا تھا۔۔ ’’آجاؤ۔۔آج اور برداشت کرلو میری آواز۔۔کل جب صبح صبح میں یہاں نہیں ہونگی نا تو پھر تمہیں بہن کی قدر آئے گی۔۔۔‘‘وہ ذرا روٹھے سے لہجے خفگی سے بولی تو اسکی آواز میں نمی محسوس کر سب کام دھرے کے دھرے چھوڑ جلدی سے کچن کی جانب بھاگا تھا۔۔ ’’آرہا تھا یار۔۔اور ناشتہ تو اب میں روز صبح تمہارے سسرال میں ہی کرونگا۔‘‘وہ اس کا موڈ اچھا کرنے کی غرض سے بولا تھا۔۔ ’’ہاں تم وہاں آہی نہ جانا۔۔۔ ابا کیا کہتے تھے بہن بیٹی کے گھر کا تو پانی بھی حرام ہوتا ہے۔۔‘‘وہ ابا کی پرانی سوچ یاد کر ذرا جتا کر بولی تھی۔۔کیونکہ اسکا بھائی بھی اسی سوچ کا مالک تھا۔۔ ’’پانی حرام ہے نا تم مجھے کولڈ ڈرنک یا کافی پیش کردیا کرنا۔۔‘‘وہ ذرا شرارت سے بولا تو وہ سر جھٹک کر ہنس دی۔۔ ’’اچھا ہاتھ تو دھو لو۔۔ہر وقت میکنک بنے گھومتے ہو۔۔‘‘وہ اسکے کالے پیلے ہاتھ دیکھ ٹوکے بغیر نہیں رہ سکی تھی۔۔ ’’ اچھا نہ دھو رہا ہوں یار۔۔۔ہر بات میں نارض کیوں ہورہی ہو۔۔اور مت بھولو تم دلہن ہو۔۔یہ کچن میں بھی کیوں آگئیں۔۔میں بنا دیتا نا ناشتہ۔۔‘‘وہ سینک میں ہاتھ دھوتا بہن کے لئے ایک سلائس پر مکھن لگاتا محبت سے بولا تھا۔۔ ’’پہلے ہی اتنا سب کر رہے ہو اور کیا کیا کرتے۔۔‘‘وہ افسردہ ہوئی۔۔ ’’بہن یہ سب بھائی کرتے ہیں۔کچھ نیا نہیں کر رہا میں۔۔‘‘اس نے خفگی سے گھورا۔۔ ’’اچھا۔۔۔ مجتبیٰ پلیز مجھے بتا دو تم نے شادی اور جہیز کے لئے اتنی ساری رقم کا بندوبست کہاں سے کیا تھا؟‘‘وہ ایک بار پھر فکر مندانہ لہجے میں سوالیہ گویا ہوئی۔۔ ’’بس ہو ہی گیا تھا یار۔۔۔۔بار بار سوال نہ کرو۔۔،،تم بس خوش رہو۔۔‘‘وہ اسےاپنے ہاتھ سے ناشتہ کراتا ہمیشہ کی طرح بات ہوا میں اڑا گیا تھا۔۔ ’’نہیں بتاؤگے نا۔۔‘‘ وہ خفا ہوئی تو وہ ہولے سے مسکراتا نفی میں سر ہلا گیا،وہ منہ بنا گئی ’’اچھا اپنے ایکسپریشنز تو اچھے رکھو۔۔۔رات میں دلہن بننا ہے تم نے۔۔بالکل بھی اچھی نہیں لگو گی۔‘‘اس نے محبت سے کہا تو وہ جو کب سے اپنے آنسوؤں پر ضبط کر رہی تھی۔یکدم بھائی کے کندھے سے لگتی سسُکیوں سے رُو پڑی تھی۔۔بہن کی جدائی پر رو تو وہ بھی رہا تھا۔۔دل تو اسکا بھی اُداس ہوگیا تھا۔۔مگر کیا کرتا بہن کی زمہ داری سے ایک نہ ایک دن تو سبکدوش ہونا ہی تھا۔۔۔۔ ’’اچھا بس چپ ہوجاؤ ورنہ رات کو چہرے پر گلو نہیں آئیگا۔۔پھر وہ اہان میری جان کا عزاب بن جائے گا کہ میں نے اسکی بیوی سے کچن میں کام کرا کر اسکے حسن کا بیڑہ غرق کردیا۔۔‘‘آئزل ان دونوں کی اِس قدر گہری دُوستی اور اِس قسم کی گفتگو میں ہمیشہ کی طرح خود کو اَن فٹ محسوس کرتی شرمندہ سی ہوئی تھی۔۔جو بھی تھا اگر وہ شوہر تھا تو وہ بھائی تھا ہمیشہ حیا آڑے آجاتی تھی۔۔۔ ’’چلو شاباش جلدی سے تیاری پکڑو۔۔ایک بجے تک اہان آجائے گا تمہیں پک کرنے۔۔وہ پالر چھوڑ دے گا۔۔جب تک میں ذرا ہال کا چکر لگا لونگا۔۔سب انتظامات ٹھیک ٹھاک ہیں نا۔۔‘‘وہ اسے ایک بار پھر اموشنل ہوتا دیکھ ،تیزی سے بولتا اسے خود سے جدا کرگیا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آج مصطفٰی کا آفس جانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔۔وہ گھر ہی تھا۔۔ناشتہ کے بعد وہ رُوم میں واپس آگیا تھا۔۔۔عریشہ آفس جا چکی تھی۔۔۔وہ لیپ ٹاپ گود میں لئے بیٹھا کچھ امپورٹنٹ کام کرنے میں مصروف تھا۔۔ثمرہ کمرے میں موجود ٹیبل پر کاغذ قلم رکھے،خود فرش پر بچھے قالین پر بیٹھی پیپر پر کچھ ڈرا کرنے میں مگن تھی۔۔وہ دونوں ہی بڑے انہماک سے اپنے اپنے کاموں میں غرق تھے جبھی باہر سے اچانک چیخ و پکار کی آوازیں سنائی دی تھیں۔۔مصطفیٰ کے ساتھ ساتھ ثمرہ بھی بری طرح سے چونکی تھی۔۔کیونکہ یہ آواز اسکے بھائی کی تھی۔وہ مسلسل اُسے پُکار رہا تھا۔۔۔۔دِل کو بُری طرح سے دھڑکا سا لگا تھا۔۔مصطفیٰ ایک نظر ثمرہ کے فق پڑتے چہرے پر ڈالتا لیپ ٹاپ سائیڈ پر رکھتا تیزی سے باہر کی جانب بڑھا تھا۔۔معاً خود کو بمشکل سنبھالتی ثمرہ بھی کانپتے قدموں سے بھائی کے تعاقب میں بڑھی تھی۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’لڑکے تم کس کی اجازت سے اس گھر میں داخل ہوئے ہو؟زنیرہ جو لان میں کھڑی مالی کو کچھ ہدایات کر رہی تھیں،کہ ملازم کی وکیل صاحب آئے ہیں کی اطلاع دینے پر انہیں گھر میں آنے کی اجازت دیتیں انکی طرف قدم اٹھا ہی رہی تھیں کہ ساتھ ہی ثمرہ کے بھائی کو دیکھ وہ غصہ ہوئیں تھیں۔۔جو انکی بات نظر انداز کرتا سیدھا دندناتا ہوا گھر میں داخل ہوا تھا۔۔ ’’ثمرہ۔۔‘‘وہ بلند آواز میں چنگھاڑا تھا۔۔ ’’آواز نیچی رکھو لڑکے۔۔‘‘زنیرہ نے اسے باز رکھنا چاہا۔۔ ’’کہاں ہے میری بہن بلائیں اسے۔۔اور اپنے بزدل بیٹے کو بھی۔۔جو مردوں کی لڑائی میں کمزور عورت کو مہرہ بناتا ہے۔۔‘‘وہ حد سے زیادہ بدتمیزی سے گویا ہوا تھا۔۔وکیل جو ساتھ آیا تھا اسے یوں بد معاشی کرتا دیکھ خود بھی بوکھلایا تھا۔۔کیونکہ وہ شاید بھول چکا تھا،کہ وہ اب تک اس کیس سے پوری طرح سے بری الزامہ نہیں ہوا تھا بلکہ ضمانت پر باہر تھا۔۔ ’’ کون ہے ماں۔۔‘‘سیڑھیوں سے اترتے مصطفیٰ کی سخت آواز پر وہ سیدھا ہوا تھا۔۔۔نظر اٹھا کر سامنے دیکھا جہاں وہ ٹراؤزر شرٹ میں ملبوس ماتھے پر سینکڑوں بل سجائے، درشت لہجےمیں استفسار کرتا قریب آرہا تھا۔۔ ’’ مصطفیٰ بیٹا۔۔دیکھو اس لڑکے کو
