Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Episode no 17
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 27/05/2026
1 Views
Episode no 17
ہی ہوئی تھی۔جبکہ زنیرہ ثمرہ کو اپنے بیٹے کے کمرے سے نکلتا دیکھ بہت کچھ سوچنے پر مجبور ہو گئی تھیں۔۔۔ ’’گڈ مارننگ!نیند ٹھیک سے لی تم نے۔‘‘وہ رات ہوئے حادثے کے پیش نظر سوال کر رہا تھا۔۔ ’’ہاں جی۔۔نیند کا کیا ہے وہ تو پتھروں پر بھی آجاتی ہے۔۔‘‘ بڑا فلسفانہ جواب موصول ہوا تھا۔۔ہلکے گلابی رنگ کے جوڑے میں ملبوس ثمرہ ذرا جھجھک کر مصطفیٰ کے پاس ہی بیٹھ گئی تھی۔۔ ’’ الماس خالہ سب لوگ آچکے ہیں۔۔‘‘ثمرہ نے جانا چاہا مگر وہ اشارے سے انکار کر گیا۔۔ ’’ جی بابا بس لائی۔۔‘‘انہوں نے وہیں سے ہانک لگائی۔۔جبکہ ثمرہ کو مسلسل خود پر زنیرہ کی تیز نگاہیں محسوس ہو رہی تھیں۔۔ ’’اہمم! ماما مجھے آپ سے کچھ بات کرنی تھی۔۔‘‘اس نے گلا کھنکھار کر بات کا آغار کیا۔۔ عریشہ بھی ہمہ تن گوش ہوئی۔ ’’ جی بولیں۔۔‘‘وہ سپاٹ سے لہجے میں گویا ہوئیں۔ ’’میں چاہ رہا تھا کہ ہم ایک چھوٹی سی تقریب میں ولیمہ کر لیتے ہیں۔تاکہ سب کو میری اور ثمرہ کی شادی کا علم ہو جائے۔۔آخر کب تک یوں سب سے چھپا کر رکھا جائے گا۔۔‘‘ ثمرہ نے ذرا خوف سے زنیرہ کی جانب دیکھا۔۔ ’’جو شادیاں اس طرح سے کی جائیں پھر عمر گزر جاتی ہے انہیں چھپانے میں۔‘‘وہ نخوت بھرے لہجے میں گویا ہوئیں۔،۔ ’’مما پلیز۔۔۔‘‘مصطفیٰ نے انکے ہاتھ پر ہاتھ رکھا۔۔ ’’تمہارے بھائی کے قتل کو کتنے دن ہوگئے خیر سے؟‘‘ اس بار انہوں نے کڑے تیوروں سے استفسار کیا تھا۔۔ ’’تقریباً دو ماہ سے زائد ہوگیا ہےْ۔۔‘‘مصطفیٰ نے ناسمجھی سے دیکھا۔۔ ’’اور دو ماہ میں اسکے قاتل کا کیا بنا؟‘‘ اس بار انہوں نے ناگوار لہجے میں دریافت کیا۔۔ ’’عدالت میں کیس چل رہا ہے۔۔میں نے اپنی ہر ممکن کوشش لڑا لی ہے۔۔آپ دیکھ لیں جبران علوی کی بارہا کوششوں کے باوجود شارق کی ضمانت ممکن نہیں ہوسکی۔۔جبکہ آپ جانتی ہیں کہ انکی سورسز کہاں کہاں تک ہیں۔تو آپ اس غلط فہمی میں تو ہر گز نہ رہیں کہ آپ کا بیٹا ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھا ہے۔۔‘‘مصطفیٰ نے ایک نگاہ نظریں جھکائے بیٹھی ثمرہ کو دیکھ متوازن لہجے میں باور کرایا تھا۔۔ ’’جس دن اس لڑکی کے بھائی کو سزا کرادو اس دن بات کرنا ۔۔۔‘‘وہ نخوت سے بولتیں سر جھٹک گئیں۔۔اتنے میں الماس ملازمہ کی ہمراہی میں ناشتہ سرو کرنے لگیں تو وہ خاموش ہوگیا۔۔۔ ’’یہ میری زندگی کا سوال ہے مما۔۔اور ہماری عدالتوں کا تو آپ کو علم ہے ہی۔۔اگر کیس سال بھر چلتا رہا تو کیا ہم سال بھر انتظار کریں گے۔‘‘اس کے جاتے ہی وہ ذرا ناگواری سے بولا۔۔ ’’اگر دس سال بھی چلا تو ہاں۔۔پہلے اس لڑکی کے بھائی کو سزا کرواؤ پھر میں سوچونگی کہ اسے بہو بنانا بھی ہے یا نہیں۔۔‘‘ وہ نفرت سے گویا ہوئیں۔ ’’آپ مانیں یا نہ مانیں اب یہ میری بیوی ہیں۔۔آپ کی بہو ہیں۔۔‘‘اس نے ہر لفظ جتا کر کہا تھا۔۔عریشہ خاموشی سے کال کا بہانہ کرتی میز چھوڑ گئی اب یہ انکا فیملی میٹر تھا۔۔ ’’تمہاری بیوی تمہارے کمرے تک محدود رہنی چاہئے پھر۔۔‘‘انکے لہجے اور لفظوں کا مفہوم سمجھ اسکا چہرہ سرخ پڑ گیا تھا۔۔ ’’کہنا کیا چاہ رہی ہیں آپ کھل کر کہیں پلیز۔۔‘‘وہ ضبط سے آنکھیں میچ گیا جبکہ ثمرہ کی آنکھوں میں نمی اتر آئی تھی۔۔ ’’ جس طرح کل رات تم اس لڑکی کو اپنے کمرے میں لے گئے ۔۔اسی طرح بیوی بھی بنا لو،مگر یاد رکھنا یہ اس گھر کی عزت اور بہو کبھی نہیں بن سکتی۔۔‘‘اس بار وہ صاف گوئی کا مظاہرہ کر گئیں۔۔مصطفیٰ نے ضبط سے مٹھیاں بھینچ لی تھیں۔۔ ’’اگلے ماہ ولیمہ ہے میرا۔۔اور آج ہی پریس کو بلا کر میں ہمارے سادگی سے نکاح کا علان کرنے والا ہوں۔‘‘اس نے ٹھوس لہجے میں کہا۔۔ ’’ ٹھیک ہے جو مرضی کرو۔۔‘‘وہ لاتعلقی کا اظہار کر گئیں۔۔ ’’میں چاہتا ہوں کہ میری خوشیوں میں میری ماں بھی شامل ہو۔‘‘ اس نے احساس کرایا،۔۔ ’’ٹھیک ہے اگر تمہاری خوشی اس لڑکی میں ہے تو میں تمہاری خوشی میں خوش ہوجاتی ہوں۔۔مگر پھر تمہیں بھی ماں کی خوشی کا خیال رکھنا ہوگا۔۔‘‘ مصطفیٰ نے اچھنبے سے انکی جانب دیکھا۔۔ ’’کیا مطلب ہے اس بات کا؟‘‘وہ ذرا حیران ہوا۔۔ ’’تمہیں میری مرضی کی لڑکی سے شادی کرنی ہوگی۔۔بلکہ میں تو کہتی ہوں عریشہ سے شادی کرلو۔۔۔‘‘انہوں نے اس قدر اچانک سے کہا تھا کہ ثمرہ نے ایک جھٹکے سے سر اٹھا کر انکی جانب دیکھا جبکہ مصطفیٰ اپنی ماں کے اس قدر عجیب تقاضے پر ہونق بنا خاموش کھڑا رہ گیا۔۔ ’’ ماما یہ کیا کہہ رہی ہیں آپ۔۔۔آج تک ہمارے خاندان میں کسی نے ایک بیوی کی موجودگی میں دوسری شادی نہیں کی۔۔‘‘اس نے حیرت کا اظہار کیا۔۔ ’’تو کسی کی بیوی انکے بھائی کے قاتل کی بہن،خون بہا میں آئی لڑکی تھوڑی تھی۔۔‘‘وہ طنزیہ گویا ہوئیں۔۔ ’’ثمرہ خون بہا نہیں ہیں۔۔‘‘ ’’تو پھر اس سے اتنا اناً فاناً نکاح کرنے کی وجہ؟‘‘اس بار وہ خاموش رہ گیا۔۔اور ثمرہ کو اپنا آپ بے مول لگنے لگا۔۔ ’’ثمرہ پر فیملی پریشر تھا اور میں انہیں مزید کسی آزمائش میں نہیں ڈالنا چاہتا تھا۔۔‘‘ذرا ٹھہر کر اسنے صاف گوئی سے کہا۔۔ ’’یہ تو بہت اچھی بات ہے کہ تم نے ایک بے سہارا لڑکی کو سہارا دیا۔۔۔۔تو بس پھر نیکی کے ساتھ ساتھ جنت بھی کماؤ اور ماں کی بات مان لو۔۔‘‘انہوں نے بڑے پیار سے مصطفیٰ کو پھنسا دیا تھا۔۔۔ ’’آنٹی اس میں مصطفیٰ کی کوئی غلطی نہیں ہے۔۔وہ تو میں۔۔۔۔‘‘ثمرہ نے گھبراہٹ میں کچھ کہنا چاہا۔۔ ’’میں اپنے بیٹے سے بات کر رہی ہوں لڑکی۔۔‘‘انہوں نے سختی سے کہتے باز رکھا۔مصطفیٰ نے بھی ہاتھ کے اشارے سے اُسے کچھ بھی کہنے سے باز رکھا۔۔۔ ’’ ٹھیک ہے پھر جیسے آپ کی مرضی۔۔۔‘‘ثمرہ نے ذرا حیرانگی سے اسکی جانب دیکھا۔۔ ’’مطلب تم دوسری شادی کے لئے تیار ہو؟‘‘انہوں نے خوش ہوکر بیٹے کو دیکھا۔ ’’ اگر ثمرہ کو اپنانے کے لئے آپ کی یہی شرط ہے تو پھر ٹھیک ہے۔۔مگر پھر ایک بات یاد رکھئے گا وہ صرف آپ کی بہو ہوگی کیونکہ میری بیوی تو ثمرہ ہی ہیں۔۔‘‘وہ بغیر ناشتہ کئے لہجہ ہموار رکھتا انہیں اور ثمرہ کو حیرت زدہ کرگیا۔۔۔ ’’عریشہ باہر آ جاؤ۔۔میں ویٹ کر رہا ہوں۔۔ثمرہ میرے ساتھ آئیں۔۔‘‘وہ عریشہ کو آواز لگاتا ساتھ ثمرہ کو بھی آواز لگاتا وہاں سے نکلتا چلا گیا تھا۔۔زنیرہ نے نفرت سے ثمرہ کو دیکھا تھا۔۔جس نے نجانے انکے بیٹے پر کون سا جادو کر رکھا تھا۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مصطفیٰ یہ تمہارے آفس کے باہر لائن کیوں لگی ہے؟‘‘عریشہ نے آفس میں داخل ہوتے سوال کیا۔۔ ’’ یار وہ دراصل گلشن والی برانچ کے لئے کچھ امپلائیز کی ضرورت ہے تو بس انٹرویوز چل رہے ہیں۔۔‘‘اس نے مصروف سے انداز میں جواب دیا۔۔ ’’اچھا ایک بات بولوں۔۔‘‘وہ اب مقابل بیٹھ گئی تھی۔۔ ’’ہمم!‘‘وہ لبوں کو باہم آپس میں بھینچ کر بیٹھا تھا۔۔ ’’آنٹی ثمرہ کو خون بہا میں آئی لڑکی کیوں کہہ رہی تھیں۔۔کیا یہ واقعی شارق کی سسٹر ہے؟‘‘اس بار وہ متجسس ہوئی۔ ’’شارق کی سسٹر سے پہلے وہ میری محبت ہیں اور اب بیوی۔۔۔بات ختم۔۔‘‘مصطفیٰ کی جانب سے دیئے گئے کلئیر کٹ انسر پر وہ خاموش ہوگئی۔۔اس کا یہی مطلب تھا کہ وہ مزید بات نہیں کرنا چاہتا۔۔ ’’لنچ کرنے چلیں؟‘‘اس نے ماحول خوشگوار کرنا چاہا۔۔ ’’نہیں یار!میں نے ثمرہ سے شاپنگ پر جانے کا کا پرومس کر رکھا ہے۔۔آج جلدی گھر کے لئے نکل جاؤنگا۔۔‘‘اس نے آگاہ کیا۔۔تو وہ خاموش ہوگئی۔۔ ’’ویسے مائنڈ نہ کرنا مگر میں تم سے کہونگی کہ اگر ایسا کچھ ہو تو ان تمام حالات
