Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Episode no 17
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 27/05/2026
1 Views
Episode no 17
کہ میں غصے میں چیخ چیخ کر پاگل ہوگئی تھی اور مصطفیٰ تم نے مجھے ایک گلاس پانی تک نہیں پوچھا۔۔‘‘ثمرہ نے چونک کر گردن اٹھا کر اسکی جانب دیکھا تھا،وہ طنز تو ہر گز نہیں کر رہا تھا۔۔۔لب دانتوں تلے دبائے اب وہ سنجیدہ صورت لئے کھڑے مصطفیٰ کو گھور رہی تھی۔۔ ’’کیا ہوا سر پھاڑنے کا دل چاہ رہا ہے؟یہ لیمپ پاس ہی رکھا ہے آپ کے۔۔‘‘مصطفیٰ نے مزید مشورے سے نوازہ تھا۔۔ ’’میں کیوں ایسا کرونگی۔۔‘‘وہ پہلے ہی اسکے طرز تخاطب پر حیران تھی۔۔ان دونوں نے ہی کبھی ایک دوسرے کو تم کہہ کر مخاطب نہیں کیا تھا۔۔ تو پھر اس نے کیوں کہا تھا۔۔ ’’نہیں آپ ایسا ہی کچھ چاہ رہی ہیں۔۔اتنا غصہ یوں بلاوجہ تو نہیں ہوتا۔۔اب تو مجھے واقعی شادی شدہ والی فیلنگز آنے لگی ہیں۔۔مطلب بیوی کا غصہ اتنا خطرناک ہوتا ہے کہ اچھا خاصہ میچور ،کاروباری آدمی خاموش ہوکر رہ جائے۔۔‘‘مصطفیٰ کے حیرانگی کے اظہار پر ثمرہ کا سر مزید جھک گیا تھا۔۔ ’’ثمرہ تیزی سے کھڑی ہوئی تھی۔۔پانی کا گلاس ابھی بھی نہیں تھاما تھا۔۔۔ ’’سوری وہ مجھے پتہ نہیں کیسے غصہ آگیا تھا۔۔‘‘ثمرہ کو رہ رہ کر اب اپنے انداز پر تاسف آرہا تھا بھلا وہ یہ سب مصطفیٰ کو کیسے بول سکتی تھی۔۔ ’’چلیں اسی بہانے آپ نے اپنے دل کی بات تو کی۔۔‘‘ثمرہ نے ایک لمحے کو ٹھہر کر اس شخص کو دیکھا تھا۔کیا تھا وہ شخص جس کی پیشانی پر مجال ہے جو کبھی ایک بھی بل پڑ جاتا ہو۔۔۔اس کے اتنا نارمل ریئکٹ کرنے پر وہ مزید پشیمان ہوئی تھی۔۔ آنکھوں سے آنسو بہنے کو بیتاب ہوئے تھے۔۔مصطفیٰ ٹراؤوز کی جیبوں میں ہاتھ ڈال کر کھڑا اسکے چہرے کے اتار چڑھاؤ ہی ملاحظہ کر رہا تھا۔۔وہ لڑکی اپنے احساسات چھپا کر رکھنے والوں میں سے تھی۔۔اسکی ماں کی اس حرکت نے اسکی ذات میں کتنا بڑا خلا پیدا کردیا تھا۔۔اس چیز کا احساس آج مصطفیٰ کو شدت سے ہوا تھا۔۔اسے اس بات کا بہت ملال تھا کہ کاش وہ پانچ سال قبل یوں ثمرہ کو چھوڑ کر نہ گیا ہوتا اسکے باپ سے لڑ گیا ہوتا مگر اس لڑکی کو اکیلا نہ کیا ہوتا۔۔ ’’آپ بھی پتہ نہیں میرے بارے میں کیا سوچ رہے ہونگے کہ کتنی احسان فراموش لڑکی ہے ۔آپ کی ساری مہربانیوں کو ایک پل میں خاک میں ملا دیا۔۔‘‘وہ ایک بار پھر تلخ ہوئی،مصطفیٰ کا نرم رویہ نجانے کیوں ہضم نہیں ہورہا تھا۔۔وہ چاہتی تھی وہ چیخ چلائے اس پر غصہ کرے جیسے اسکا باپ ،بھائی کیا کرتے تھے،مگر وہ مصطفیٰ سے لڑنا چاہتی تھی اپنی ساری شکایتیں لگانا چاہتی تھی،مگر شاید وہ اسے اس قابل بھی نہیں سمجھتا تھا کہ اس سے لڑائی کر سکے۔۔ ’’اور کوئی نیگیٹو تھوٹس ہیں آپ کی میرے خلاف تو وہ بھی بتادیں پلیز ۔۔‘‘اس بار وہ ذرا سا خفا ہوا تھا۔۔ ’’میری کوئی نیگیٹو سوچ نہیں ہے۔۔آپ ریسٹ کریں صبح آفس جانا ہوگا۔۔‘‘وہ اب کترا کر نکلنا چاہ رہی تھی۔۔ ’’جی اب آرام کرنے کا ہی ارادہ ہے۔۔۔ لائٹس آف کردیجئے۔۔۔‘‘ثمرہ نے ایک نظر غصےٰ سے دیکھتے قدم باہر کی جانب بڑھانے چاہئے۔۔ ’’آپ کہاں جارہی ہیں؟‘‘مصطفیٰ نے لمحے کے ہزارویں حصے میں اسکی کلائی تھام کر روک لیا تھا۔۔ ’’اپنے روم میں۔۔۔‘‘اس نے ناسمجھی سے اسکی جانب دیکھا۔۔ ’’آپ کا روم یہ ہے وہ نہیں۔۔آپ وہاں کچھ دن عارضی طور پر رہیں۔۔اس کے لئے میں معذرت خواں ہوں۔۔اب آپ یہیں رہیں گی میرے پاس۔۔۔‘‘ وہ ایک لمحے میں ٹون چینج کرتا اسے قریب کر گیا۔جو ہکا بکا سی اسکے پل پل بدلتے تیور ملاحظہ کر رہی تھی۔۔۔ ’’یو نوواٹ ثمرہ ۔۔۔ یو نیڈ آ ٹائٹ ہگ!‘‘وہ محبت سے بولتا اسے سینے سے لگا گیا جو ایک بار پھر سکتہ میں آگئی تھی۔ دھڑکنوں کی رفتار ساکت پڑی تھی۔۔۔جبکہ وہ اسکے گرد مضبوط حصار قائم کرتا اسکے سارے غموں پر مداوا کر رہا تھا ،معاً کچھ دیر یونہی ساکت کھڑے رہنے کے بعد اسکی آنکھوں سے آنسو جھرنے کی مانند بہنے لگے تھے۔۔مصطفیٰ کے گرد حصار ڈالتی،پہلی بار پیش قدمی کرتی، وہ اپنے دل کا سارا غبار نکالنے لگی تھی۔۔جو اب اسکا سر سہلا رہا تھا۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صبح کا روشن سویرا خود میں ایک نئی اُمنگ اور جازبیت لے کر طلوع ہوا تھا۔۔۔ مصطفیٰ معمول کے مطابق آفس جانے کے لئے تیار ہو رہا تھا۔وہ صرف ایک گھنٹے کی نیند لیتا دوبارہ سے وقت پر اٹھ گیا تھا۔۔پھر جاگنگ سے واپس آتا وہ آفس کے لئے ریڈی ہونے لگا۔۔۔۔۔ ثمرہ کل رات دیر سے سوئی تھی۔۔اس لئے وہ ابھی تک بے خبر سو رہی تھی۔۔۔مصطفیٰ ڈریسنگ روم میں جاتا اب اپنے لئے کوئی دوسری شرٹ سلیکٹ کر رہا تھا۔۔۔آج اسکا ارادہ سفید کے علاوہ کوئی لائٹ سا رنگ پہننے کا تھا۔۔ وہ ہلکے آسمانی رنگ کی ڈریس شرٹ کے ساتھ رُوئل بلیو کلر پنٹس کوٹ میں ملبوس نک سک سا جانے کے لئے بالکل تیار تھا۔۔جبھی مسلسل ہوتی کھٹ پٹ کی آواز پر ثمرہ چونک کر بیدار ہوئی تھی۔۔بھاری ہوتے ذہن کے ساتھ دماغ پَر زُور ڈالتے نظر اُدھر اُدھر گھُمائی تو سامنے ہی مصطفیٰ آئینے کے سامنے کھڑا نظر آیا۔ ’’ جاگ گئیں ہیں آپ۔۔۔گڈ مارننگ!‘‘وہ جو ٹائی اٹھانے کی غرض سے پلٹا تھا اسے کہنیوں کے بل اٹھتا دیکھ مسکرا کر گویا ہوا۔۔۔ثمرہ کی نگاہوں کے سامنے گزری رات کے مناظر چل گئے تھے۔۔کس طرح وہ روتے روتے یونہی مصطفیٰ کے حصار میں نیم غنودگی میں چلی گئی تھی۔۔ ’’گڈ مارننگ!‘‘اس نے ذرا جھجھک کر کہتے خود پر سے کمفرٹر ہٹا کر ایک طرف کو کیا تھا۔۔ساتھ ہی قدم فرش پر رکھتے پنڈلیوں سے اونچا ہوتا پاجامہ کھینچ کر نیچے کیا تھا۔۔۔ ’’اب اٹھ ہی گئیں ہیں تو ٹائی باندھنے میں میری ہیلپ کردیں۔۔‘‘وہ نرمی سے گویا ہوا تو وہ لب چباتی اٹھ کر نزدیک چلی آئی تھی۔۔۔ ’’لیجئے!‘‘وہ اچھے خاصے فاصلے پر ٹھہرتی مصطفیٰ کو دیکھنے لگی۔جس کی پرسنالٹی ہمیشہ کی طرح نِکھری نکِھری سی تھی۔۔گزری رات کی تلخی کا شبہ تک نہ تھا۔۔وہ ذرَا جھجھک کر آگے بڑھتی نگاہیں جھکائے اسکی ٹائی باندھنے لگی تھی۔۔وہ اچھی خاصہ ہائٹ کی مالک تھی مگر مصطفیٰ کے قد کاٹھ کے سامنے اسکی ہائٹ ذرا کم تھی۔۔پنجوں کے بل ذرا سا اونچا ہوتی وہ بہت انہماک سے کام میں غرق تھی۔۔۔ ’’طبیعت ٹھیک ہے آپ کی؟‘‘اس بار اسنے نرمی سے استفسار کیا تھا۔۔۔۔ ’’جی۔۔۔‘‘وہ ہنوز شرمندہ دکھائی دے رہی تھی۔۔ ’’شام میں ریڈی رہئیے گا ہم شاپنگ پر چلیں گے۔۔‘‘ثمرہ نے حیرانگی سے اسکی جانب دیکھا۔۔۔ ’’شاپنگ مگر کیوں؟؟‘‘اس نے ناسمجھی سے دیکھا۔۔ ’’ ولیمے کی شاپنگ۔۔‘‘وہ ٹائی باندہ چکی تھی۔۔۔اب مصطفیٰ بالوں کو سیٹ کرتا تیزی سے ڈریسنگ روم کی جانب بڑھا تھا۔۔ ’’میں کچھ کام کر رہا ہوں۔۔ فٹا فٹ سے فریش ہوجائیں۔۔‘‘ثمرہ اپنا بکھرا حلیہ دیکھ خیال آنے پر تیزی سے روم سے باہر جانے لگی۔۔ ’’ثمرہ!‘‘وہ ڈریسنگ روم سے باہر آتا اسے باہر جاتا دیکھ ٹوک گیا۔۔ ’’جی؟‘‘وہ پلٹی۔۔ ’’آپ کا ڈریس باتھ روم میں ہینگ کرد یا ہے۔۔اور پلیز آئندہ اس طرح کے حلیے میں باہر جانے سے گریز کیجئے گا۔۔‘‘لیپ ٹاپ لے کر صوفے پر بیٹھتا وہ تنبیہ کرنا نہیں بھولا تھا۔ثمرہ خفت ذدہ سی جلدی سے قدم بڑھاتی باتھ روم میں غائب ہوگئی تھی۔۔مصطفیٰ نے گھڑی پر نظر ڈالی تو ابھی آٹھ بجنے میں اچھا خاصہ وقت تھا۔۔۔ثمرہ تو اسکے حصار میں پرسکون نیند سو چکی تھی۔مگر اسکی پوری رات آنکھوں میں ہی کٹ گئی تھی۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’گڈ مارننگ ایوری ون!‘‘ عریشہ ہشاش بشاش سی تیار ناشتے کی میز تک آئی تھیں۔۔جہاں مصطفیٰ اور ثمرہ کی آمد ساتھ
