Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Episode no 17
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 27/05/2026
1 Views
Episode no 17
ہارا جنون از_ہما_قریشی قسط_نمبر_17 ’’ثمرہ اپنے روم میں جائیں پلیز۔۔وگرنہ میں یہاں سے چلا جاؤنگا۔۔ضروری تو نہیں ہے نا کہ ہر بار آپ ہی قدم پیچھے لیں۔۔‘‘وہ استہزائیہ مسکرایا تھا۔۔ ’’ایسی بات نہیں ہے مصطفیٰ۔۔۔آپ غلط سمجھ رہے۔۔۔‘‘وہ یکدم بوکھلائی ،اسے سمجھ ہی نہ آئی کہ کس طرح سے مصطفیٰ کو اپنے دل کی بات کہے۔۔‘‘ ’’یو نو واٹ ثمرہ اصل مسئلہ کیا ہے۔۔پہلے دن سے آپ کے نزدیک میں اور میری محبت کی کوئی ویلیو تھی ہی نہیں۔۔وہ تو میں ہی پاگل تھا جو مسلسل سب کچھ بھلا کر ایک بار پھر آپ کی جانب پیش قدمی کر رہا تھا۔۔مگر آپ ابھی تک اپنی بات پر قائم ہیں۔۔آپ اپنی اسی بات پر قائم ہیں کہ آپ یہاں صرف خون بہا میں آئی ہیں۔۔تو ٹھیک ہے اب آپ میری طرف سے۔۔۔۔۔‘‘وہ طیش میں بری طرح سے چنگھاڑا تھا۔۔ثمرہ سہم کر دو قدم پیچھے ہوئی تھی۔۔یوں اس طرح اچانک نجانے اسے ہو کیا گیا تھا۔۔۔ ’’مصطفیٰ آپ کو غلط فہمی ہو رہی ہے۔۔ایسا نہیں ہے میں آپ سے بہت محبت کرتی ہوں۔۔‘‘بات بگڑتی دیکھ بلاخر اپنی شرم و حیا ایک جانب رکھتی وہ سسکتی آواز میں گویا ہوئی تھی۔۔ ایک بار پھر بجلی چمکی تھی اور کمرہ روشن ہوگیا تھا۔۔مصطفیٰ نے بغور اسکا چہرہ دیکھا تھا جسکی سیاہ آنکھیں آنسوؤں سے لبریز تھیں،خوف کے مارے پورا سراپا تھرتھر کانپ رہا تھا۔۔ ہاتھوں کی لرزش واضح تھی۔۔۔ ’’نہیں ثمرہ ! پلیز اپنی خود غرضی کو محبت کا نام مت دیں۔۔۔‘‘اسنے اپنے بازؤں پر رکھے اسکے ہاتھ نرمی سے اپنے کندھے سے ہٹائے تھے۔۔۔ ’’مصطفیٰ آپ غلط سمجھ رہے ہیں۔۔۔‘‘وہ ایک بار پھر اسے سمجھانے کی غرض سے بولی۔۔ ’’پلیز جائیں یہاں سے ثمرہ۔۔۔۔‘‘ ’’مصطفیٰ!‘‘اسنے اس بار بے بسی سے پکارا تھا۔۔ ’’بس یہی تھی آپ کی ثمرہ جبران سے محبت۔۔بس اتنا ہی جانا ہے آپ نے مجھے۔۔‘‘اس بار اپنے آنسوؤں کو بیدردی سے رگڑتی وہ تاسفی لہجے میں سوالیہ گویا ہوئی تھی۔۔۔ ’’اب آپ میری محبت پر بھی سوال اٹھائیں گی۔۔‘‘وہ استہزائیہ مسکراتا ،رخ پھیر گیا۔۔ ’’ہاں کیونکہ آپ سب ثمرہ کو جاننے کا دعوی ضرور کرتے ہیں مگر جانتے ہر گز نہیں ہیں۔‘‘وہ بھی اس بار غصے سے غرائی تھی۔۔مصطفیٰ نے رخ پھیر کر حیرت سے اسکی جانب دیکھا۔۔ ’’ایسے نہ دیکھیں مجھے۔۔۔آپ سب ایک جیسے ہیں پھر چاہے میرا باپ ہو،بھائی ہو یا پھر میرا شوہر۔۔۔‘‘اسکی آنکھوں سے آنسوؤں جھرنے کی مانند بہہ رہے تھے۔۔اب اسے چپ لگی تھی۔۔ ’’مانا ہے میری غلطی تھی۔۔ بلکہ گناہ تھا جو میں نے آپ سے اپنے بھائی کی زندگی بھیک میں مانگ لی۔۔اپنی عزت نفس کو کچل کر آئی تھی آپ کے پاس۔۔۔ ایک مان تھا مجھے،کہ مصطفیٰ کبھی میری بات رد نہیں کریں گے۔۔۔ وہ میرا ،ہماری محبت کا مان ضرور رکھیں گے۔۔میری مجبوری کو سمجھیں گے۔۔ مگر نہیں آپ نے بھی میرا ویسے ہی استعمال کیا جیسے میرے باپ نے کیا تھا۔۔انہوں نے مجھے اپنے بیٹے کی زندگی کی بھیک مانگنے آپ کے در پر بھیج دیا تھا۔۔۔‘‘وہ بولتے بولتے ہانپ گئی تھی۔۔مصطفیٰ خاموش ہوگیا تھا۔۔۔ ’’ آپ نے میری بات تو مان لی،مجھ سے نکاح تو کرلیا مگر اسے قبول نہیں کرسکے ،اور کسی بھیڑ بکری کی طرح لے جاکر پھینک دیا میرے باپ کے سامنے،میں نے پھر بھی برداشت کیا کہ آپ غصے میں تھے،آپ نے جوان بھائی کھویا تھا جذبات آپ کے قابو سے باہر تھے۔۔اور جب میرے باپ نے مجھے ٹھکرا دیا تو آپ کو اپنی عزت،اپنی بیوی یاد آگئی۔۔ اس وقت کیوں یاد نہیں آئی جب چھوڑ کر جارہے تھے۔۔اور پھر جب اس گھر میں لائے تو میں ایک بار پھر اپنی عزت نفس کو کچل کر خود چل کر اس کمرے میں آئی تھی۔۔۔جانتے ہیں کیا گزری تھی مجھ پر۔۔۔نہیں آپ کیسے جانے گے ،جو شخص اپنی عزت بنا کر لایا ہوں،خون بہا نہیں ہو جیسا بھاشن دیتا ہے وہ مجھے قبول نہیں کرتا اور دوسرے کمرے میں ٹھہرا دیتا ہے۔۔میں نے پھر بھی برداشت کرلیا کہ وقت کا تقاضہ ہے،سوچنے سمجھنے کے لئے وقت چاہئے۔۔جب میں نے آپ کو ہر لمحہ سمجھا ہے تو اب آپ بھی تو میرے جذبات سمجھیں۔۔اب آپ چاہتے ہیں کہ میں خود۔۔۔۔۔۔‘‘ بولتے بولتے آواز رندھ گئی تھی۔۔وہ یکدم ہی لڑکھڑائی تھی،اور پھر دو قدم پیچھے ہوکر بیڈ پر بیٹھی تھی۔۔جبکہ مصطفیٰ ہنوز خاموش ساکت و صامت کھڑا تھا۔۔ ’’آپ سارے مرد ایک جیسے ہوتے ہیں، بے حس اور خود غرض ،آپ لوگ چاہتے ہیں کہ اگر مہربانی آپ کی طرف سے ہے تو عورت فوراً قبول کرلے ،اسکے احساسات، جذبات کوئی معنی نہیں رکھتے۔۔اگر عورت ایک بار انکاری ہوجائے تو آپ کی انا اڑے آجاتی ہے۔۔اور خود چاہے جو مرضی کرلیں۔۔۔‘‘وہ غصے وہ جذبات میں اب کچھ زیادہ ہی بول گئی تھی۔۔اسی اثنا میں لائٹ بھی آگئی تھی۔۔۔جبکہ مصطفیٰ تو جیسے وہاں ہوکر بھی نہیں تھا۔۔وہ اب بول بول کر تھکتی خاموشی سے سسکیاں بھر رہی تھی۔۔ ’’بابا نے کہا ثمرہ تم اپنی ماں جیسی ہو بد کردار اور بے حیا۔۔۔تمہاری ماں دو بچوں کی ماں ہوتے ہوئے بھی کسی دوسرے شخص کے ساتھ چلی گئی تھی۔۔۔۔تم بھی اسی کی شبیہہ ہو۔۔۔اگر اس گھر میں رہنا چاہتی ہو،اپنے باپ کا نام چاہتی ہو ، تو مصطفیٰ کو چھوڑ دو۔۔۔۔اور میں نے مصطفیٰ کو چھوڑ دیا،کیونکہ میں اپنی ماں کی شبیہہ نہیں ہوں۔۔‘‘وہ خود ساختہ بڑبڑاتی یکدم ہی چنگھاڑی تھی۔۔اس وقت کوئی اور اسے دیکھ لیتا تو یقیناً اس کی دماغی حالت پر شبہ ہوتا۔۔۔ ’’پھر شارق نے قتل کردیا۔۔بابا نے کہا مصطفیٰ تمہاری وجہ سے بدلہ لے رہا ہے۔۔تم مناؤ اس کو۔۔۔چاہے کچھ بھی کرو۔ خود مرجاؤ یا اپنی عزت نفس کچل دو کوئی فرق نہیں پڑتا بس انکے وارث، انکے بیٹے کو بچا لوں۔۔۔‘‘وہ اب ہولے ہولے کانپ رہی تھی،رُونا سسکیوں میں تبدیل ہوگیا تھا۔۔ مصطفیٰ خاموش کھڑا ،اسے اپنے دل کی بھڑاس نکالنے دے رہا تھا۔۔اسکے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ اسکی ذرا َسی خفگی پر یُوں بکھر جائے گی۔۔ ’’اور پھر میں نے اپنی عزت نفس کچل دی۔۔محبت تو اب ویسے بھی اِس رشتہ میں باقی رہی نہیں ہے مصطفیٰ!یہ بس سمجھوتا ہے ،جو آپ کر رہے ہیں۔۔صرف اپنی سوکالڈ محبت کو نبھانے کے لئے۔۔ورنہ اپنے بھائی کے قاتل کی بہن کس کو اچھی لگتی ہے۔۔آپ کو بھی اب میں اتنی ہی بری لگتی ہوں جتنا آنٹی کو۔۔‘‘وہ ایک نظر دیکھ غصے سے غرائی تھی۔اس بار مصطفیٰ کی پیشانی پر بل نمودار ہوئے تھے جو اب غصے میں کچھ زیادہ ہی مظلوم بننے کی کوشش کر رہی تھی۔۔مگر پھر بھی وہ اسے مزید کچھ بھی کہہ کر چھیڑنے سے پرہیز کرتا سائیڈ ٹیبل پر رکھے جگ سے گلاس میں پانی انڈیلتا، گلاس اسکی طرف بڑھا چکا تھا۔۔۔ ’’یہ لیں پانی پی لیجئےثمرہ ،شوہر پر اِس قدر غصے اور چیخ چلانے کے بعد حلق سوکھ گیا ہوگا آپ کا۔۔‘‘مصطفیٰ اس کی تمام روداد کو کسی بھی خاطر میں لائے بغیر ازلی نرم گوئی سے بولتا اسے ورطہ حیرت میں مبتلہ کرگیا تھا۔۔ ’’پانی پی لیں !! کیونکہ مصطفیٰ سے مزید شکوہ شکایت کرنے کے لئے آپ کو ابھی بہت انرجی کی ضرورت ہے۔۔‘‘اسکا لرزتا سراپا دیکھ وہ نرم خوئی سے ذرا جتاکر گویا ہوا ،جبکہ وہ ہنوز سر جھکائے بیٹھی تھی۔۔اسے احساس ہوا تھا کہ وہ کتنا اور کس قدر فضول بول گئی تھی۔۔ ’’مجھے نہیں پینا۔۔‘‘ہاتھ سے گلاس ایک طرف کو کرتی اب وہ اپنا بھرم قائم رکھنا چاہ رہی تھی۔۔کیونکہ غصے میں بول تو بہت کچھ دیا تھا۔۔ ’’آہمم! پی لیں ورنہ کل کو ایک اور الزام لگا دیں گی
