Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Episode no 16
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 26/05/2026
1 Views
Episode no 16
زبان تالو سے چپک گئی تھی۔۔۔ ’’وہ میں۔۔ہم روم۔۔میرا مطلب لائٹ پتہ نہیں کب آئے گی ،روم میں چلتے ہیں۔۔‘‘اس نے ذرا گڑبڑا کر صفائی پیش کی۔۔ ’’سوچ لیں اکیلے کمرے میں اندھیرے میں رہ لیں گی۔۔‘‘اسکا چہرہ اپنے لمس سے مہکاتا وہ گھمبیر لہجے میں گویا ہوا تھا۔۔ ’’مصطفیٰ پلیز!‘‘زوروں سے دھڑکتے دل پر قابو پاتی ایک جھٹکے سے اس سے فاصلے پر ہوئی تھی۔۔مصطفیٰ اچھا خاصہ بد مزہ ہوا تھا۔۔۔ ’’ثمرہ آپ کا کچھ نہیں ہو سکتا۔۔۔چلیں اب۔۔۔‘‘ وہ ناگواری سے بولتا،ایک ہاتھ سے تھامتا تیزی سے اپنے کمرے کی جانب بڑھا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’مصطفیٰ میرا کمرہ وہاں ہے۔۔‘‘ثمرہ نے نچار لب چبائے۔۔ ’’آج ساری رات شاید لائٹ نہ آئے اور جنریٹر میں کوئی مسلہ ہی ہوا ہوگا جبھی ابھی تک لائٹ نہیں جلی۔۔۔آپ اپنے کمرے میں کیسے رہیں گی۔۔۔‘‘مصطفئٰ نے اسے بیڈ پر دھکیلنے کے انداز میں بیٹھاتے متوازن لہجے میں کہا۔۔ساتھ ہی سائیڈ پر رکھی سیگریٹ کی ڈبیاں اٹھائی تھی۔۔موبائل کی ٹارچ جلا کر وہ سائیڈ پر رکھ چکا تھا۔۔ ’’آپ کہاں جارہے ہیں۔۔‘‘وہ ایک لمحے کو ٹھہرا۔۔ایک نظر نیم اندھیرے میں واضح ہوتے اسکے پریشان چہرے پر ڈالی۔۔ ’’دیکھتا ہوں کوئی چارجنگ لائٹ وغیرہ۔۔لائٹ جاتی تو نہیں ہے پتہ نہیں اس وقت کیوں چلی گئی ہے۔۔‘‘وہ خود ساختہ قیاس کرتا ڈریسنگ روم کی جانب بڑھا۔۔اب اسے کیا بتاتا رات کے اس پہر وہ اسے اچھا خاصہ پریشان کر چکی تھی۔۔اسکی یہاں موجودگی کسی امتحان سے کم ہر گز نہیں تھی۔ایسے میں اب سیگریٹ پھونک کر ہی یہ رات گزارنے والا تھا۔۔ ’’رہنے دیں نا یہیں رہیں پلیز۔۔۔اس نے جلدی سے آگے بڑھ کر ایک بار پھر اسکا ہاتھ تھام لیا تھا۔۔اور بس مصطفیٰ کا ضبط یہیں تک کا تھا۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’پلیز ثمرہ! کچھ ہوش کریں۔۔بندہ بشر ہوں میں بھی۔۔آپ اس طرح بار بار مجھے اپنی جانب متوجہ کریں گی تو میرا اپنے جذبات پر قابو رکھنا مشکل ہو جائے گا جانم۔۔‘‘وہ ایک لمحے میں اسے اپنے جانب کھینچتا اسکے گرد اپنا مضبوط حصار قائم کرتا اسے ساکت کر گیا۔۔ ’’آپ کیوں کرتی ہیں ایسے۔۔جبکہ آپ جانتی ہیں کہ میرا دل آپ کی نفی کبھی کر ہی نہیں سکتا۔۔‘‘اسکی زلفوں سے اٹھتی مسحور کن مہک ناک کے نتھنوں سے سینے میں اتارتا وہ جذبات سے بوجھل گھمبیر لہجے میں بولا تھا۔۔ثمرہ کو اپنی اور اسکی ڈھڑکنوں کی تال ایک ساتھ بجتی محسوس ہوئی تھی۔۔۔دل اسکی قربت میں پگھلا جارہا تھا۔۔ ’’کیا چاہتی ہیں۔۔۔‘‘اسکے حسین نقوش کو اپنے پر کیف لمس سے مہکاتا وہ اپنے ساتھ ساتھ اسے بھی بہکا رہا تھا۔۔ نیم اندھیرے کمرے میں پڑتی چاند کی روشنی کے باعث اجالا سا بکھرا ہوا تھا۔۔تو کبھی طوفانی بارش میں کڑکتی بجلی کمرے کو روشن کر جاتی۔۔۔۔ ’’بتائیں کیا چاہتی ہیں آپ؟؟‘‘وہ سوالیہ گویا ہوا۔۔ساتھ ہی حصار مضبوط کیا تھا۔ ’’مصطفیٰ چھوڑیں پلیز!‘‘ خشک پڑتے لبوں پر زبان پھیرتے اسنے بمشکل الفاظ ادا کئے تھے۔۔دل تھا کہ مانو پسلیاں توڑ کر باہر نکلنے کو بے تاب تھا۔۔ ’’لیں چھوڑ دیا۔۔۔‘‘مصطفیٰ جو اسکی فسوں خیز قربت میں خود کو گرفتار محسوس کر ایک بار پھر اسکی جانب پیش قدمی کر چکا تھا کہ مقابل کے اپنے احساسات اور جذبات کی نفی محسوس کرتے ایک لمحے میں اسے خود سے جدا کرگیا۔۔ ’’اپنے روم میں جائیں۔۔۔‘‘یکایک ایک لمحے میں وہ اُس سے رُخ پھیرتا ثمرہ کو حیرت ذدہ کرگیا،جو حواس باختہ سی اسکی پشت تک رہی تھی۔۔۔ ’’مصطفیٰ!‘‘ثمرہ نے ایک لمحے کو ٹھہر کے اسکی جانب قدم بڑھائے تھے۔۔اگر وہ مہربان ہو رہا تھا تو وہ کیونکر نفی کرتی۔۔ ’’ثمرہ میں نے کہا اپنے روم میں جائیں آپ۔۔‘‘وہ خود پر شدید ضبط کے کڑے پہرے بیٹھائے ہوئے دانت کچکچا کر بولا تھا۔۔ ’’لیکن ہوا کیا ہے؟؟‘‘وہ حیران ہوئی۔۔ ’’یہ بھی میں آپ کو بتاؤں کہ ہوا کیا ہے؟؟‘‘ مصطفیٰ ایک لمحے میں اسکی جانب پلٹا تھا۔۔۔جسکی سیاہ آنکھوں میں خوف ہچکولے لے رہا تھا۔۔ ’’لیکن میں نے۔۔۔وہ۔۔۔‘‘ اس رشتہ کا احترام تھا،اور جھجھک کے وہ چاہ کر بھی اپنے لفظ مکمل نہیں کر سکی تھی۔۔ جاری ہے
