Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Episode no 16
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 26/05/2026
1 Views
Episode no 16
کرو میں صبح ہی پولیس میں کمپلین کرونگا انکی۔۔‘‘اب مصطفیٰ کا سوچ سوچ کر خون کھول رہا تھا۔۔وہ نہیں چاہتا تھا کہ انکے فیملی میٹر میں بولے مگر وہ لوگ۔۔ ’’کچھ بھی کرو مصطفیٰ مگر مجھے ان لوگوں سے رہائی چاہئے۔۔‘‘ وہ بول کر اپنے کمرے کی جانب بڑھی تھی۔۔عریشہ کا بار بار قریب آنا اسے اچھا خاصہ اریٹیٹ کر جاتا تھا۔۔۔ اب وہ خاموش کھڑی ثمرہ کی جانب متوجہ ہوا تھا۔۔جو سینے پر بازو لیپٹے اسے کینہ توز نگاہوں سے گھور رہی تھی۔۔ ’’جائیں آپ بھی روم میں۔۔‘‘اس نے ذرا پیشانی مسلی۔۔ ’’کیوں آپ کو میرے یہاں کھڑے ہونے سے کوئی پروبلم ہے کیا؟‘‘اس کی پیشانی پر بل پڑے۔۔ ’’نہیں بالکل نہیں۔۔بھلا مجھے کیا مسئلہ ہونا ہے۔‘‘اس نے کندھے اچکائے۔۔ ’’جبھی باہر سے بادلوں کی گڑگڑاہٹ کی آواز سنائی دی تھی۔۔۔آج شام سے موسم خراب تھا۔۔ ’’مجھے لگتا ہے بارش ہونے والی ہے۔۔ایک کام کیجئے ساری کھڑکیاں بند کر دیجئے۔۔‘‘یکایک ہواؤں کو رخ تبدیل کرتا دیکھ مصطفیٰ نے کہا۔۔ ’’ہاں میں تو یہاں صرف کام کرنے کے لئے رہ گئی ہوں نا۔۔ثمرہ یہ کردیں ثمرہ وہ کردیں۔۔‘‘اسے نجانے غصہ کس بات پر آرہا تھا۔۔وہ مسلسل تپی ہوئی پٹخ پٹخ کر ساری کھڑکیاں دروازے بند کر رہی تھی۔۔ مصطفیٰ اپنی ناک کھجاتا لاؤنج کی ساری بتیاں گل کرتا اُسکے تعاقب میں بڑھا۔۔جو اب کچن کی کھڑکیاں بند کر رہی تھی۔۔پورے گھر کی بتیاں ہمیشہ کی طرح سیکیورٹی ریزن کے باعث بجھا رکھی تھی۔۔نیم روشنی میں ڈوبے کچن میں تیزی سے کھڑکیاں بند کر کہ جیسے ہی پلٹی تو سامنے دیوار سے ٹیک لگائے کھڑے مصطفیٰ کو دیکھ چونکی۔۔جو بغور گہری نگاہوں سے اسی کے سراپے پر نگاہیں جمائے ہوئے کھڑا تھا۔۔۔ ’’کیا ہوا؟کچھ چاہئے؟‘‘اس نے سوالیہ نگاہوں سے اسکی جانب دیکھا۔۔ ’’جی تھوڑی سی چاہ چاہیئے۔‘‘ گھمبیر لہجے میں کی گئی سرگوشی پر ثمرہ کی ڈھڑکنوں کی رفتار تیز ہوئی تھی۔۔جو اب قدم اٹھاتا نزدیک آیا تھا۔۔۔گلے میں گلٹی ابھر کر معدوم ہوئی تھی۔۔ ’’یہ کیا کر رہے ہیں آپ۔۔‘‘وہ خود بھی دو قدم پیچھے لیتی کاؤنٹر سے جا لگی تھی۔۔ ’’کیا کر رہا ہوں؟‘‘اُس کے ارد گرد کاؤنٹر پر ہاتھ رکھ کر اسے اپنے حصار میں قید کرتا مصطفیٰ ثمرہ کو بری طرح سے حیرت ذدہ کر گیا۔۔خوف زدہ سی ہرنی کی مانند چمکتی آنکھوں میں گھبراہٹ کا تاثر واضح تھا۔۔۔ ’’وہ۔۔میرا مطلب۔۔مجھے اپنے روم میں جانا ہے۔۔‘‘رات کا پہر،گھر کا سناٹا،نیم روشنی میں ڈوبے کچن میں ،مصطفیٰ کی قربت پر اسکا چہرہ دہک اُٹھا تھا۔۔۔ کپڑوں سے آتی مخصوص پرفیوم کی خوشبو حواسوں پر سوار ہوتی محسوس ہوئی تھی۔۔ ’’ابھی تو آپ مزید کوئی دوسرا کام بھی کرنا چاہ رہی تھیں۔۔‘‘اسکی نگاہیں ثمرہ کے چہرے پر ہی ٹکی تھیں،جہاں گھبراہٹ واضح تھی۔۔اور وہ اُس سے اچھا خاصا محظوظ ہو رہا تھا۔۔ ’’میں۔۔نہیں تو۔۔‘‘ مصطفیٰ نے اپنی مسکراہٹ ضبط کرتے ، چہرے پر جھولتی ایک شرارتی سی لٹ کو کان کے پیچھے اڑسا تھا۔۔ ’’واقعی!‘‘ وہ اچھا خاصہ جھکا ہوا کھڑا تھا۔جبکہ اِدھر اُدھر نظریں پھیرتی ثمرہ نے ہر ممکن کوشش کی تھی۔۔کہ اس سے فاصلہ قائم رکھ سکے۔۔ ماتھے پر پسینے کے شبنمی قطرے نمودار ہوئے تھے۔ دل کان میں بجتا محسوس ہوا تھا۔۔ ’’مصطفیٰ وہ میں کہہ۔۔۔۔‘‘ابھی اسکے لفظ لبوں میں ادھورے ہی رہ گئے تھے جب اچانک باہر سے بجلی کڑکنے کی آواز کے ساتھ لائٹ چلی گئی تھی۔۔ ’’اوہ شٹ!‘‘ وہ یکدم ہی پیچھے ہوا۔۔ ’’مصطفیٰ پلیز یہیں رہیں مجھے اندھیرے سے ڈر لگتا ہے۔۔‘‘ اس سے قبل کے وہ پیچھے ہوتا ثمرہ نے خوف سے سینے سے اسکی شرٹ کو دونوں ہاتھوں سے تھام لیا تھا۔۔ ’’ریلیکس یہیں ہوں۔۔‘‘اس نے ثمرہ کے ہاتھوں پر ہاتھ رکھتے اسے ریلیکس کیا۔۔ ’’میرا موبائل۔۔‘‘ٹراؤزر کی جیب میں ہاتھ ڈال کر موبائل باہر نکالتے اس نے ٹارچ روشن کی۔۔جبکہ اب باقاعدہ کھڑکی دروازے طوفانی بارش کے باعث بجنے لگے تھے۔۔ ’’شکر! یہ لائٹ کیوں چلی گئی۔۔‘‘اب ثمرہ کو نئی فکر لاحق ہوئی۔۔۔مصطفیٰ نے ٹارچ کی روشنی میں اسکے گھبرائے ہوئے چہرہ کو دیکھ تاسف سے سر جھٹکا۔۔جو اسکے رومینٹک موڈ کا بیڑا غرق کر چکی تھی۔۔ ’’مجھے کیا معلوم۔۔‘‘اس نے ذرا چڑ کر کہتے فاصلے سے رکھی ڈائننگ ٹیبل کی ایک کرسی کھینچ کر اس پر نشست سنبھالی۔۔ ’’ کہاں جارہے ہیں مجھے چھوڑ کر۔۔‘‘وہ بھی تیزی سے اسکی سمت آئی مگر اسے بیٹھتا دیکھ ٹھہر گئی۔۔ ’’ثمرہ کبھی کبھی دل تو چاہتا ہے کہ بس۔۔۔۔‘‘اس نے گھومتے ہوئے دماغ اور غصے پر بمشکل قابو پایا تھا۔ ’’اب میں نے کیا کردیا۔۔‘‘وہ اندھیرے سے خوف زدہ سی خود بھی اپنی چئیر مصطفیٰ کے قریب لگاتی ساتھ ہی بیٹھ گئی تھی۔۔ ’’آپ کچھ نہیں کرتیں محترمہ۔۔سب کچھ خود بخود ہوجاتا ہے بس۔۔‘‘اس نے منہ بنایا۔۔ ’’پتہ نہیں آپ کس بات پر اتنا خفا ہورہے ہیں۔۔‘‘اس نے نروٹھے پن سے سر جھٹکا۔۔جبھی باہر تیز بجلی کڑکی تھی۔۔اور ثمرہ نے خوف سے اسکا ہاتھ کلائی سے تھاما تھا۔۔ ’’ثمرہ یار اتنا بچوں کی طرح ریکٹ نہ کریں۔۔بالکل اچھی نہیں لگ رہی مجھے۔۔‘‘مصطفیٰ نے اپنا ہاتھ اسکی گرفت سے آزاد کیا تو وہ روہانسی ہوگئی۔۔ ’’آپ جان کر ایسا کر کرہے ہیں۔جبکہ آپ کو معلوم ہے مجھے اندھیرے سے خوف آتا ہے۔۔‘‘ اس نے اپنے ڈر کا اظہار کیا۔۔وہ کتنی دیر سے خود پر قابو کئے ہوئے تھی۔۔ دل ہولے ہولے کانپ رہا تھا۔۔اسے بچپن سے فوبیا تھا۔۔ سد شکر تھا کہ وہ اب اپنے اس ڈر پر بہت قابو کر چکی تھی۔۔مگر اس کے باوجود دل کی دھڑکن کا تیز ہونا تو نارمل سی بات تھی۔۔۔ ’’آپ یہاں بیٹھیں میں باہر جاکر دیکھتا ہوں ان نالائقوں نے جنیٹر کیوں نہیں آن کیا اب تک نہ ہی یو پی ایس کی لائٹ روشن ہوئی۔۔‘‘اب وہ پرسوچ ہوتا کھڑا ہوا۔۔ ’’کیا۔۔نہیں میں یہاں اکیلے ہرگز نہیں بیٹھونگی۔۔‘‘ وہ فوری ساتھ کھڑی ہوئی تھی۔۔ ’’باہر بارش ہورہی ہے۔‘‘اس نے ّآئی برو اٹھائے۔۔ ’’تو آپ بھی نہیں جائیں نا یہیں رہیں میرے ساتھ۔۔ابھی کچھ دیر بعد لائٹ خود آجائے گی۔۔‘‘اس نے جھٹ جواز پیش کیا۔۔ ’’سوچ لیں۔۔‘‘اس کی ٹون ایک بار پھر چینج ہوئی۔۔ ’’کیا سوچ لیں۔پلیز یہیں رہیں بس۔۔۔‘‘اس کی آنکھوں میں نمی اتر آئی تو مصطفیٰ اسکی حالت کے پیش نظر مزید بے رخی نہیں برت سکا تھا۔۔ ’’اچھا روئیں تو نہیں۔۔کہیں نہیں جارہا یار!مجھے بھی کوئی شوق نہیں ہے اتنی خوبصورت بیوی کو اکیلے اندھیرے میں چھوڑ کر باہر جانے کا۔۔‘‘اسے بازؤں سے پکڑ کر اپنے سینے سے لگاتے اسے تحفظ فراہم کیا تھا۔۔جو اچانک پڑنے والی افتاد پر ایک گہرا سانس بھرتی اسکے سینے میں منہ چھپا گئی تھی۔۔جبکہ ایک ہاتھ سےا سکے گرد حصار بنا کر وہ دوسرے سے موبائل پر کچھ ٹائپ کر رہا تھا۔۔ ’’کس کا میسج ہے؟‘‘اس نے ذرا اچک کر دیکھنا چاہا۔۔۔ ’’میری سیکریٹری کا۔۔‘‘ اس نے مسکراہٹ دبائی۔۔ ’’تو یہ کوسنا وقت ہے میسج کا۔۔‘‘ثمرہ کے ماتھے پر بل نمودار ہوئے۔۔ ’’بس ویسے ہی وہ بھی جاگ رہی ہوگی نا۔۔‘‘اپنے جذبات پر تو وہ فاتح پڑ چکا تھا۔اب ذرا ثمرہ کو تپا رہا تھا۔۔ ’’تو؟‘‘اس نے غصے سے اسکی جانب دیکھا۔۔ ’’تو کچھ بھی نہیں بھئی۔۔بلاوجہ میں غصہ کیوں کر رہی ہیں۔۔‘‘ موبائل آف کر کہ ٹراؤزر میں ڈالتا وہ اسے مکمل طور پر اپنے حصار میں لے چکا تھا۔۔کچن میں اب گھپ اندھیرا تھا۔۔ ’’مصطفیٰ لائٹ تو روشن کریں پلیز۔۔مجھے گھٹن ہورہی ہے۔۔‘‘ نادانستہ اس کے مزید نزدیک ہوتی اسکے جذبات بھڑکا چکی تھی۔۔ ’’آپ ڈر کو خود پر حاوی نہ ہونے دیں نا۔۔‘‘نرمی سے اسکی نم آنکھوں پر اپنے لب رکھتا وہ گھبمیر لہجے میں گویا ہوا تھا۔۔حصار مزید تنگ ہوا تھا۔۔۔ثمرہ کی
