Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Episode no 16
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 26/05/2026
1 Views
Episode no 16
ہارا جنون از_ہما_قریشی قسط_نمبر_16 عریشہ اس وقت اپنی گاڑی خود ڈرائیو کرتی مست مگن سی گنگناتی ہوئی کار سڑک پر دوڑا رہی تھی۔۔۔جبھی اسے محسوس ہوا تھا کہ کوئی ایک بار پھر اسے فالو کر رہا تھا۔۔ ’’افف اب یہ کون ہے؟؟‘‘اس نے سائیڈ مرر سے دیکھتے خود ساختہ قیاس کیا۔۔ ’’بیٹا تو جو کوئی بھی ہے۔۔میرے ہاتھوں سے اب گیا۔۔‘‘وہ غصےٰ سے سوچتی، ڈیش بورڈ پر رکھی گن اٹھا کر لوڈ کر چکی تھی۔۔ساتھ ہی کار کو اسپیڈ دی تھی۔۔اب وہ پوش آئیریا کی سُن سَان گلیوں میں گھس گئی تھی۔۔ وہ گاڑی جو اسے فالو کر رہی تھی۔۔۔اسکے پیچھے پیچھے ہی تھی۔۔عریشہ نے ونڈو سے سر باہر نکالتے فائز کھول دیا تھا۔۔۔دوسری جانب سے بھی جوابی وار کیا گیا تھا۔۔۔ ’’افف!یہ تو مرنے مارنے پر اتر آئے۔۔‘‘وہ خوف سے سوچتی اب جلدی سے مصطفیٰ کا نمبر ڈائل کر رہی تھی۔۔جہاں دوسری طرف سے کوئی رسپانس نہیں تھا۔۔ ’’ماتھے پر پسینہ چمک اٹھا تھا۔۔دل بہت رفتار سے دھڑک رہا تھا۔۔ ’’گاڑی بھی ڈرائیو کرنا مشکل ہوا تھا۔۔جبھی وہ گاڑی اسے آور ٹیک کرتی سامنے سے آئی تھی۔۔اور سیاہ رنگ وردی میں ملبوس گارڈز نےا سکی جانب قدم بڑھائے۔۔ ’’ باہر نکلو۔۔۔‘‘عریشہ کا دم خشک ہوا۔۔ ’’دیکھو۔۔تم جانتے نہیں ہو میں کون ہوں۔۔میرے تایا کے آدمی ہو نا تم۔۔ْ‘‘وہ کپکپاتے لہجے میں بول رہی تھی۔۔جبکہ وہ باوردی گارڈز اسکی سنی ان سنی کرتے۔۔ زبردستی گاڑی سے باہر نکالتے اپنی گاڑی میں دھکا دے کر بیٹھا چکے تھے۔۔۔ ’’چھوڑو مجھے۔۔‘‘وہ مسلسل مزاحمت کر رہی تھی۔۔معاً فرنٹ سیٹ پر موجود شخص کے اشارے پر گارڈز اسکی مخصوص رگ دباتے بے ہوش کر چکے تھے۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نیم اندھیرے میں ڈوبے کمرے میں موجود بیڈ پر چت لیٹی وہ آہستہ آہستہ بیدار ہو رہی تھی۔۔ زہن ماؤف ہوچکا تھا۔۔دھیرے سے پلکیں وا کی تو نگاہ سیدھی چھت پر گئی تھی۔۔مندی مندی سی آنکھیں مسلتے صورتحال سمجھنے کی کوشش میں وہ نامانوس جگہ دیکھ ادھر سے ادھر نگاہیں گھما رہی تھی۔۔ ،زہن کے بیدار ہوتے ہی یکدم چونک کر اُٹھ بیٹھی تھی۔۔ ’’کون ہے یہاں۔۔مجھے کیوں لائے ہو۔۔‘‘عریشہ نے جلدی سے اپنی ٹی شرٹ کا بگڑا گلا کھینچ کر دُرست کیا تھا۔۔ ’’اوہ ہیلو ڈئیر کزن۔۔۔‘‘دوسری جانب سے اُسکی آواز سُن دروازہ کھول کر آندر داخل ہوتا وہ نوجوان شوخ سے لہجے میں بولا تھا۔۔۔ ’’تم۔۔۔گھٹیا انسان۔۔یہ کیا بے ہودہ حرکت ہے۔۔‘‘عریشہ کمرے کی بتی روشن ہونے پر چندھیائی آنکھوں سے دیکھتی سختی سے غرائی تھی۔۔ ’’ہاہاہا۔۔۔بے بی اس میں کیا گھٹیا پن ہے ہاں۔۔‘‘وہ پچکارنے والے لہجے میں بولا۔۔ ’’تمہیں شرم نہیں آتی۔۔اس طرح کی چیپ حرکتیں کرتے ہوئے۔۔‘‘وہ ناگواری سے غرائی تھی۔ ’’نہیں۔۔ویسے میں نے تمہارا ریپ تو ہر گز نہیں کیا۔۔جو تم یوں چلا رہی ہو۔۔‘‘اسکی بے ہودگی پر عریشہ کان کی لو تک سرخ پڑ گئی تھی۔۔ ’’تمہاری اتنی اوقات بھی نہیں ہے۔۔گھر چھوڑ کر آؤ مجھے۔۔‘‘وہ تندہی سے بولی۔۔ ’’چھوڑ دیں گے۔۔یہ بتاؤ بے بی کہ تم گھر کیوں نہیں آتیں؟‘‘وہ سوالیہ لہجے میں بولا۔ ’’کیونکہ تم میرے باپ کے رشتے دار ہر گز نہیں ہو اسی لئے۔۔‘‘وہ نفرت سے غرا کر بولی تو مقابل کا فلک شگاف قہقہہ بلند ہوا تھا۔۔ ’’مت بھولو بے بی کہ میں نہ صرف تمہارے باپ کا رشتہ دار ہوں بلکہ بچپن کا منکوح بھی تو ہوں تمہارا۔۔۔‘‘ مقابل آنکھ دبا کر معنی خیزی سے بولا تھا۔۔عریشہ نے خوف سے اسکی جانب دیکھا۔۔ ’’کیا بکواس کررہے ہو۔۔ایسا کچھ نہیں ہے۔۔‘‘وہ نفرت سے غرائی تو وہ اسکی بے بسی پر قدم اٹھاتا نزدیک آنے لگا۔۔ ’’دیکھو میرے نزدیک مت آنا۔۔ورنہ میں تمہیں چھوڑونگی نہیں۔۔مصطفیٰ۔۔۔مصطفیٰ تمہیں جان سے مار دے گا۔۔۔‘‘ وہ ہزیانی سی ہوکر چلانے لگی تھی۔۔جبکہ مقابل اپنی ہی کرنے میں مگن اسکے بے حد نزدیک چلا آیا تھاْ۔۔۔ چلاؤ تمہاری چیخین مجھے سکون پہنچاتی ہیں۔۔۔۔۔‘‘وہ خباثت سے مسکرایا تھا۔۔عریشہ کو اپنے حواس پر قابو رکھنا مشکل لگا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ثمرہ ڈنر کے بعد پانی پینے کی غرض سے روم سے باہر آئی تو مصطفیٰ کو لاؤنج میں پریشان سا ٹہلتا پایا۔وہ آج افس سے ذرا دیر سے واپس آیا تھا۔۔۔ ’’کیا ہوا مصطفیٰ؟آپ کچھ پریشان لگ رہے ہیں؟‘‘اس نے اسکی جانب سوالیہ نگاہوں سے دیکھا۔۔جو اسکی آمد کے باعث چونک گیا تھا۔۔ ’’آپ سوئی نہیں۔۔۔‘‘اس نے ذرا حیرت سے گھڑی کی جانب دیکھا۔ جو بارہ کا ہندسہ عبور کر رہی تھی۔۔ ’’بس سونے ہی جا رہی تھی۔مگر آپ اتنے پریشان کیوں ہیں؟‘‘اس نے سوالیہ نگاہوں سے اسکی جانب دیکھا۔۔ ’’پتہ نہیں عریشہ کہاں رہ گئی ہے۔۔‘‘اس نے پیشانی مسلی۔۔ ’’کیا مطلب۔۔اتنی رات کو عریشہ کہاں گئی؟‘‘اس نے ہونقوں کی مانند سوال کیا۔۔کار پورچ میں گاڑی ٹھہرنے کی آواز پر وہ دونوں چونکے ’’معلوم نہیں۔دیکھتا ہوں۔‘‘وہ اتنا کہہ کر ایک بار پھر سے نمبر ڈائل کرتا قدم بڑھانے لگا ،جبھی وہ سامنے سے آتی ہوئی دکھائی دی تھئ۔۔چہرہ سرخ ہورہا تھا۔۔بال بکھرے ہوئے تھے۔۔۔ ’’عریشہ تمہارا دماغ خراب ہوگیا ہے کیا؟؟کہاں تھیں صبح سے؟تمہیں پتہ ہے میں کتنا پریشان تھا۔۔‘‘اس کا چہرہ رونے کی زیادتی کے باعث سُرخ ہورہا تھا۔۔وہ قدم اُٹھاتا نزدیک گیا تھا،جبکہ وہ خود پر قابو کھوتی ،یکدم آگے بڑھتی اسکے سینے سے جا لگی تھی۔۔ ’’مصطفیٰ!وہ وہ۔۔۔۔ وہ کہہ رہا تھا وہ میرا شوہر ہے۔۔‘‘مصطفی جو اسکی حرکت پر ہمیشہ کی طرح سٹپٹایا تھا۔۔ذرا حیران ہوا۔۔جبکہ ثمرہ کے چہرے پر ناگواری کے تاثرات واضح تھے۔۔ ’’کون۔۔۔کیا ہوا؟مجھے ٹھیک سے بتاؤ۔۔‘‘وہ اسے کندھوں سے پکڑ کر نرمی سے خود سے جدا کرگیا۔۔ ’’وہ ۔۔۔وہ میرے تایا ابو کابیٹا۔۔وہ کہہ رہا ہے کہ وہ میرا شوہر ہے۔۔دادا ابو نے بچپن میں ہمارا نکاح کرا دیا تھا۔۔‘‘وہ سسکیوں سے رو رہی تھی۔۔ ’’ایسا کچھ نہیں ہے یار!تم ذرا حوصلہ رکھو۔۔میں دیکھتا ہوں۔۔مگر تم سارا دن سے کہاں غائب تھیں۔۔آج میں ذرا گھر لیٹ واپس آیا تو مجھے پتہ لگا تم ابھی تک آفس سے گھر نہیں آئیں ۔۔میں نے مما کو اتنی مشکل سے مطمعین کیا ہے۔‘‘اب وہ اس کو پکڑ کر صوفے تک لایا۔۔ ’’ثمرہ پلیز ان کے لئے پانی لے آئیں۔۔‘‘ وہ خاموش کھڑی ثمرہ سے مخاطب ہوا۔۔ ’’ مصطفیٰ وہ۔۔۔اس نے مجھے گاڑی سمیت کڈنیپ کرلیا تھا۔۔اور تمہارا نمبر کیوں نہیں لگ رہا تھا۔۔میں نے کتنی کالز کی تمہیں۔۔‘‘اب وہ الٹا اسی پر چڑھ دوڑی تھی۔۔ ’’ریلیکس میں بزی تھا۔۔ایک سائٹ کے وزٹ پر تھا وہاں سگنلز نہیں آتے یار۔۔‘‘اس نے سمجھانے کی ناکام سی کوشش کی تھی۔ ’’مجھے بچاؤ پلیز ان لوگوں سے۔۔‘‘اس نے مصطفیٰ کا ہاتھ تھام لیا تھا۔۔ ’’میری بات سنو۔۔ایسا کچھ نہیں ہے۔۔جب تمہارے بابا نے کبھی تمہیں اس حقیقت کا نہیں بتایا تو وہ یقیناً جھوٹ بول رہا ہوگا تم ریلیکس کرو یار۔۔‘‘ وہ ایک بار پھر روتے روتے مصطفیٰ کے کندھے سے جالگی تھی۔۔ثمرہ کی برداشت کی انتہا ہوئی تھی۔۔اس سے مزید یہ سب ڈرامہ دیکھا نہیں جا رہا تھا۔۔ ’’میرے خیال سے اب تمہیں ریسٹ کرنا چاہئے۔۔‘‘مصطفیٰ نے نرم لہجے میں کہا،جبھی وہ ثمرہ کو رُخ پھیر کر کھڑا دیکھ،احساس ہونے پر فوری سیدھی ہوئی۔۔۔ ’’سوری ثمرہ۔۔وہ بس۔۔‘‘وہ نادم ہوئی۔۔ ’’اٹس اوکے۔۔اس میں سوری کرنے والی کوئی بات نہیں ہے۔۔ثمرہ پلیز عریشہ کو انکے روم تک چھوڑ آئیں۔۔‘‘بھلے عریشہ کا رویہ اسکے ساتھ نارمل ہو چکا تھا۔۔مگر اسے اسکی یہ چپکا چپکی ایک آنکھ نہیں بھاتی تھی۔۔مصطفیٰ کے لہجے میں التجا محسوس کر ایک گہری سانس خارج کر کہ رہ گئی۔۔ ’’نہیں تھینک یو۔۔میں خود چلی جاؤنگی۔۔اینڈ سوری۔۔ میں نے بلاوجہ پریشان کر دیا۔۔‘‘اب وہ خود پر قابو کر چکی تھی۔۔ ’’ تم فکر نہیں کرو۔۔اب میں خود بات کرونگا ان سےکہ آخر ان لوگوں کے ساتھ مسئلہ کیا ہے۔۔اور تم فکر نہیں
