Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Episode no 15
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 25/05/2026
1 Views
Episode no 15
حیرت ذدہ کر گئ۔۔ ’’یہ کیا بدتمیزی سے ثمرہ۔۔‘‘تکیہ کیچ کرتے ،اس کی پیشانی پر بل نمودار ہوئے۔۔ ’’کوئی بدتمیزی نہیں ہے جائیں یہاں سے۔۔ابھی آنٹی آجائیں گی تو فضول میں ڈرامہ بن جائے گا۔۔‘‘وہ غصےٰ میں کانپتی ہوئی آواز میں بولی تھی۔۔اتنا غصہٰ نجانے کس وجہ سے آرہا تھا۔۔۔ ’’اوکے جیسے آپ کی مرضی۔۔‘‘وہ اسکا غصّہ کسی بھی خاطر میں لائے بغیر، لاپراواہی سے کندھے اُچکاتا اُسکے لال سُرخ چہرے پر ایک نگاہ ڈالتا کمرے سے نکلنے لگا پھر ٹھہرا۔۔ "سُنيں۔۔۔۔کھانا کھالیجئے گا۔۔۔۔"وہ اپنی نرم فطرت کے تحت خود کو احساس کرنے سے باز نہیں رکھ سکا تھا۔۔۔جبکہ ثمرہ کا دل کیا۔۔ چیخ چیخ کر آسمان سر پر اُٹھالے۔۔مگر فی الحال وہ اپنی بے بسی پر رُونے کے سوا کچھ بھی نہیں کر سکتی تھی۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صبح کا رُوشن اُجالا ہر سو اپنی روشن کرنیں بکھیرتا تازگی سی پھونک رہا تھا۔۔ہر سو اَبر ساچھایا ہوا تھا۔۔۔۔مجتبیٰ صبح سویرے ہی اُٹھ گیا تھا۔۔دو روز قبل اہان پاکستان واپس آچکا تھا۔۔ اس ماہ کی دس کو اہان اور آئزل کی شادی ہونا طے پائی تھی۔۔۔ وہ اس وقت موبائل پر مگن ساکچھ ٹائپ کرنے میں مشغول تھا۔۔۔ ’’مجتبیٰ!‘‘آئزل سنجیدگی سے پکارتی نزدیک ہی صوفے پر بیٹھ گئی تھی۔۔ ’’ہمم!‘‘وہ موبائل سائیڈ پر رکھ گیا۔۔ ’’میں نے تم سے کچھ بات کرنی تھی۔۔‘‘وہ مسلسل جھجھک کا شکار تھی۔ ’’بولو۔۔۔‘‘وہ ناسمجھی کے تاثرات چہرے پر سجائ اسے اجازت دینے لگا۔۔ ’’تمہیں یہی لگتا ہے نا کہ میں نے اور اہان نے اپنی مرضی سے، بغیر تمہارے علم میں لائے یہ نکاح کر لیا۔۔‘‘وہ ہتھیلوں پر نگاہ جمائے دھیمی سی آواز میں بولنا شروع ہوئی۔۔مجتبیٰ کی پیشانی پر شکنوں کا جال سا بن گیا تھا۔۔ ’’میں اس بارے میں کوئی بات نہیں کرنا چاہتا آئزل۔۔‘‘وہ ذرا خفا ہوا۔۔ ’’مگر میں کرنا چاہتی ہوں۔۔‘‘ اس نے آگے بڑھ کر اسکے ہاتھ تھامے۔۔ ’’جب تم اپنی مرضی کر چکیں تو اب صفائیاں پیش کرنے کا فائدہ۔۔‘‘وہ ناراضی سے بولی۔۔ ’’میں نے یہ نکاح اپنی نہیں بلکہ بابا کی مرضی سے کیا تھا۔۔‘‘وہ اس قدر اچانک سے بولی تھی کہ ایک لمحے کو تو مصطفیٰ گنگ رہ گیا۔۔ ’’کیا؟؟کیا کہا تم نے ؟‘‘وہ جتنا حیران ہوتا کم تھا۔۔ ’’سچ کہہ رہی ہوں۔۔جس روز بابا کا ایکسڈینٹ ہوا ماما تو اسی وقت ہمیں چھوڑ گئیں تھیں۔۔مگر بابا ہسپتال میں تھے۔۔‘‘اس نے تہمید باندھی۔۔ ’’آگے بولو آئزل یہ سب معلوم ہے مجھے۔۔۔‘‘وہ بے چینی سے بولا۔۔اسکا باپ اسے علم میں لائے بغیر اتنا بڑا قدم کیسا اٹھا سکتا تھا۔۔ ’’ابا جانتے تھے کہ تم کم عمر ہو اور جذباتی بھی۔۔اور جب انہیں اپنی زندگی کا بھروسہ نہیں رہا تو وہ اپنی بیٹی کو محفوظ ہاتھوں میں سونپ کر جانا چاہتے تھے۔۔‘‘آئزل کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔۔ ’’اوہ مطلب انہیں اپنے بیٹے سے زیادہ اس اہان پر یقین تھا۔۔‘‘وہ مایوس ہوا۔۔ ’’ایسا نہیں ہے مجتبیٰ۔۔انکل اور اہان شروع سے یہی چاہتے تھے مگر تحمینہ آنٹی کی وجہ سے ہمیشہ خاموش ہوجاتے تھے۔۔‘‘وہ مزید گویا ہوئی۔۔ ’’تو اب مجھے کیوں بتا رہی ہو۔۔‘‘وہ تلخی سے بولا۔۔ ’’بابا نے یہ نکاح ہسپتال میں کرایا تھا۔۔جس وقت تم ماں کی تدفین کے بعد خود کو کمرے میں بند کر چکے تھے۔۔اسی شام یہ نکاح ہوا تھا۔۔اس وقت وہاں اہان، انکل اور بابا موجود تھے۔۔ ہم تمہیں بھی بتانا چاہتے تھے۔۔مگر اس وقت تم صدمے میں تھے۔۔صدمے میں تو میں بھی تھی مگر بابا کی خاطر میں نے حوصلہ کیا تھا۔۔اور صرف انہی کی وجہ سے یہ نکاح بھی کیا تھا۔۔ورنہ جس طرح ہر بار تحمینہ آنٹی ہمیں نیچا دکھانے کی کوشش کرتی ہیں تو میں یہ نکاح کبھی نہ کرتی۔۔بابا نے کہا تھا کہ تمہیں بتا دوں۔۔۔مگر گزرے سالوں میں اسیے حالات ہی نہیں بن سکے۔۔پھر اہان نے کہا کہ وہ آنٹی کو منا کر باقاعدہ رشتہ لے کر آئے گا۔۔مگر ایسا بھی نہ ہوا۔۔۔‘‘وہ بتاتے ہوئے کس کرب سے گزر رہی تھی یہ صرف وہی جانتی تھی۔۔ ’’بابا نے اتنا بڑا فیصلہ کرلیا اور مجھے بتانا بھی ضروری نہیں سمجھا۔۔انہونے ہمیشہ مجھے چھوٹا ہی سمجھا۔۔تو کیا اب چھوٹا نہیں ہوں میں؟‘‘وہ آنکھیں مسلتا کسی بچے کی طرح شکوہ کر رہا تھا۔۔ ’’ایسی بات نہیں ہے مجتبیٰ۔۔۔تم یہ بھی تو دیکھو نا ماما چھوڑ گئیں۔۔پھر بابا کو اپنی سانسوں کا بھروسہ نہیں رہا۔۔ وہ اسی رات ہمیں چھوڑ گئے۔۔تو سوچوں نا وہ اپنی جوان بیٹی کے لئے کس قدر پریشان ہونگے۔۔۔‘‘ آئزل نے اسکے ہاتھ تھامتے ،اسکے آنسو صاف کئے۔۔ اور آگے بڑھ کر اس کے کندھے سے لگی تھی۔۔ ’’پلیز مجھ سے اپنی ناراضی ختم کرلو۔۔ورنہ میں اپنی نئی زندگی شروع نہیں کر سکونگی۔۔‘‘وہ ماں ،باپ کو یاد کر بھائی کی بے رخی پر پھپھک پھپھک کر رونے لگی تھی۔۔رو تو وہ بھی رہا تھا۔۔کچھ دنوں بعد اسکا واحد رشتہ بھی اس سے دور ہونے جارہا تھا۔۔ ’’مٰں تم سے ناراض نہیں ہوں آئزل۔۔۔بھلا تم سے ناراض ہوسکتا ہون۔۔اور آگر تم سے ناراض ہوگیا تو پھر کہاں جاؤنگا۔۔‘‘بہن کو کندھے سے لگائے وہ آنسوؤں سے گلوگیر لہجے میں گویا ہوا تھا۔۔جو اب اس سے بہت سی باتیں کرتی کبھی ہنس رہی تھی۔۔تو کبھی آنسو بہا رہی تھی۔۔ْ جبکہ وہ بھی اپنا بچپن اور ماں،باپ کو یاد کر بڑی بہن کی محبت ؤ شفقت پر سب بھول گیا تھا۔۔وہ اس سے عمر میں چھوٹا ضرور تھا۔مگر مان ہمیشہ بڑے بھائیوں والا ہی دیتا تھا۔۔۔
