Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Episode no 15
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 25/05/2026
1 Views
Episode no 15
چلنا۔۔‘‘عریشہ نے ذرا گھور کر دیکھا۔۔یہ تو وہ بھی بھانپ چکی تھی کہ دونوں کے مابین ناراضی چل رہی تھی۔۔ ’’کھانا لگ چکا ہے ۔۔باقی باتیں بعد میں کرلیجئے گا۔۔برائے مہربانی باقی تمام افراد آندر تشریف لے آئیں۔۔‘‘ زنیرہ کی آواز پرو وہ سب ہی چونک گئے۔۔ ’’آرہے ہیں آنٹی۔۔‘‘وہ تیزی سے بولتی آگے بڑھی تھی۔۔جبکہ مصطفیٰ نے ایکدم ثمرہ کو ہاتھ پکڑ کر روکا تھا۔۔جو اسے شکوہ کناں نگاہوں سے دیکھتی خود بھی قدم بڑھا رہی تھی۔۔ ’’کیا ہوا؟رو کیوں رہی ہیں آپ؟‘‘اس کی آنکھوں میں چمکتے آنسو دیکھ وہ سوالیہ گویا ہوا۔۔ساتھ ہی ہاتھ بڑھا کر چہرے پر جھولتی لٹ سنواری تھی۔۔ ’’ہاتھ چھوڑیں میرا۔۔‘‘وہ خفگی سے بولتی مزاحمت کرنے لگی۔۔ ’’کیوں۔۔کیا ہوا ہے ہاتھ پر جو چھوڑ دوں؟‘‘وہ ائی برو اٹھا کر سوالیہ بولا۔۔جبکہ وہ آنکھوں میں خفگی لئے اپنا ہاتھ جھٹک گئی۔۔ ’’ثمرہ۔۔‘‘اسے اسکا یہ عمل ایک آنکھ نہ بھایا تھا۔۔ ’’باتیں کرنے کے لئے ہم آپ دونوں کو ہم پورا وقت دیں گے۔۔مگر براہ کرم ابھی میز پر آجائیں کھانا ٹھنڈا ہورہا ہے۔‘‘وہ شرارتی لہجے میں بولی تو اس بار ثمرہ کے ساتھ ساتھ مصطفیٰ بھی سٹپٹایا تھا۔۔مجال ہے جو یہ لڑکی کبھی لحاظ کرتی ہو۔۔ ’’میں ایک کال سن رہا تھا۔۔‘‘وہ آگے پیچھے ہی میز تک آئے تھے۔۔اور اسکے لبوں پر شرارتی مسکراہٹ رقص کرتی محسوس کر وہ صفائیہ بولا ساتھ خود بھی مسکرایا تھا۔۔زنیرہ نے ثمرہ کو ایک نظر دیکھ سر جھٹکا۔۔ ’’واہ واہ۔۔ کیا بات ہے مصطفیٰ۔۔آج تو لگ رہا ہے آپ کی زوجہ نے واقعی بہت دل سے کھانا بنایا ہے،مطلب سب کچھ آپ کی پسند کا ہے۔۔‘‘ وہ ڈش کے ڈھکن اٹھا اٹھا کر چیک کرتی ایک بار پھر شرارت سے بولی تھی۔۔ مصطفیٰ نے میز پر ایک جائزانہ نگاہ ڈال ثمرہ کو دیکھا تھا۔۔جو فوری نگاہوں کا رخ پھیر گئی۔۔ ’’لیکن میں تو یہ سب بالکل نہیں کھا سکتا۔۔بتایا تھا نا تمہیں طبیعت ناساز ہے میری ذرا۔۔تو مجھے یہ مما کا پرہیزی چکن پاس کرو ذرا۔۔‘‘ وہ جان کر ثمرہ کا دل جلانے کو زنیرہ کا کھانا کھا رہا تھا۔۔جبکہ وہ اس اچھے خاصے بیمار کو ایک نظر دیکھتی غصےٰ سے لال پیلی ہورہی تھی۔۔ عریشہ ان دونوں کو کیٹ فائٹ کرتا دیکھ مسلسل مسکرا رہی تھی۔۔۔ ’’تمہاری بیوی کا بس نہیں چل رہا۔۔یہ باؤل ہی اٹھا کر سر پر دے مارے۔۔‘‘پاس رکھے موبائل پر پاپ اپ نوٹیفیکشن میں پیغام جگمگایا تھا۔۔مصطفیٰ کے لبوں پر مسکراہٹ سی کھل گئی تھی۔ثمرہ نے ذرا تپ کر دیکھا تھا۔۔جو نجانے موبائل پر کیا دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔۔ ’’اور جان بوجھ کر تیلی لگانے کا کام تم کر رہئ ہو ڈئیر فرینڈ۔۔فضول میں تنگ نہ کرو میری معصوم سی بیوی کو۔۔‘‘وہ ثمرہ کی نظروں کی تپش خود پر بخوبی محسوس کر چکا تھا۔۔جبھی جان کر میسج ٹائپ کرنے لگا۔۔ ’’کس کا میسج ہے مصطفیٰ۔جو آپ کھانا چھوڑ کر موبائل میں لگے ہیں۔‘‘اس بار زنیرہ نے بیٹے کی حرکت پر ٹوکا۔۔ ’’وہ میری سیکریڑی ہے ماما۔۔ایکچوئیلی وہ نیو کار لینا چاہ رہی ہے تو اسے سمجھ نہیں آرہا کس موڈل کی لوں۔۔وہ اس وقت شوروم میں موجود ہے تو بس۔۔‘‘‘ مصطفیٰ نے جان بوجھ کر بہانہ گھڑا ۔ثمرہ کی پیشانی پر بل نمودار ہوئے ۔زنیرہ نے سمجھ کر سر ہلایا جبکہ عریشہ کو اپنا قہقہہ ضبط کرنا مشکل لگا۔۔ ’’وہ سیکریٹری۔۔افف مصطفیٰ کتنی حسین ہے نا یار وہ۔۔کاش میں لڑکا ہوتی تو اس سے شادی کر لیتی۔۔۔‘‘عریشہ نے آہ بھرنے والے لہجے میں کہا۔۔ ’’ایگزیکٹلی ۔۔۔آگر میرا بھی یہ ذرا سا نکاح نہ ہوا ہوتا تو میں بھی اپنی سیکریڑی کو فوری طور پر اپنی بیٹر ہاف بنا لیتا۔۔‘‘اب ثمرہ کی بس ہوئی تھی۔۔وہ اسکے رویہ کا بدلہ ایسے اموشنلی ٹارچر کر کہ لے رہا تھا۔۔ ’’ہاہاہا!ویسے تم تو مرد ہو دو بیویاں بھی رکھ سکتے ہو۔۔‘‘عریشہ کونسی کم تھی۔۔مصطفیٰ نے نظر ترچھی کر ثمرہ کو دیکھا،جس کا چہرہہ شدید ضبط کے باعث سرخ پڑ گیا تھا۔۔ مصطفیٰ کو مسکرا مسکرا کر اسکرین کی جانب دیکھتا پاکر وہ ایکدم چئیر چھوڑ کر کھڑی ہوئی تھی۔۔ ’’ارے ثمرہ کیا ہوا؟کہاں جارہی ہو۔۔کھانا تو کھا لو‘‘وہ معصوم بنی۔مصطفیٰ نے بھی ناسمجھی کے تاثرات سجائے اسکا لال بھبوکا چہرہ دیکھا تھا۔۔ ’’بھوک نہیں ہے مجھے۔۔آپ لوگ کھائیں۔۔‘‘مصطفیٰ کو گھورتی ایک ایک لفظ چبا چبا کر بولتی وہ وہاں سے واک آوٹ کر گئی۔۔جبکہ مصطفیٰ کو اسکا یوں کھانا چھوڑ کر جانا اچھا ہی نہیں لگا۔۔ ’’اللہ جانے کس بات کے ڈرامے کرتی ہے یہ لڑکی۔۔ہم تو پھر اتنی عزت دے رہے ہیں۔۔اپنے گھر میں تو میڈم کی دو کوڑی کی بھی عزت نہیں تھی۔۔‘‘زنیرہ جو خاموشی سے یہ ساری صورتحال ملاحظہ کر رہی تھیں۔ذرا ناگواری سے بولیں۔۔مصطفیٰ کے لبوں سے مسکراہٹ پل میں جدا ہوگئی تھی۔۔ ’’اب تم کہاں جارہے ہو؟‘‘دو منٹ بعد پانی پی کر مصطفیٰ کو جاتے دیکھ عریشہ نے اچھنبے سے پوچھا۔۔ ’’ثمرہ کو لے کر آتا ہوں۔۔وہ شاید تمہاری کسی بات کو مائینڈ کر گئی ہیں۔۔‘‘ماں کے خیال سے وہ عریشہ پر سارا الزام دھرتا خود ثمرہ کے تعاقب میں اسکے روم کی جانب بڑھا۔۔ اب وہ بھوکی رہے ،اس دل کو یہ بھی تو گوارہ ……………………….. ’’ثمرہ غصےٰ سے تن فن کرتی رُوم میں داخل ہوتی بیڈ پر جابیٹھی تھی۔۔۔۔۔رہ رہ کر مصطفیٰ پر غصہٰ اور اپنی بے بسی پر رونا آرہا تھا۔۔وہ بھلا کیسے کہہ سکتا تھا کہ وہ نہ ہوتی تو وہ دوسری شادی کر لیتا۔۔اس نے تو کبھی اس کے علاوہ کسی کے بارے میں سوچا بھی نہیں تھا۔۔اور وہ۔۔۔۔ دوپٹہ گلے سے اتار کر ایک طرف کو پھینک دیا تھا۔۔ بادامی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔۔۔دل بار بار بھر کر آرہا تھا۔۔ ’’ثمرہ!‘‘چند ساعتوں بعد وہ اُسے پکارتا ہوا رُوم میں دَاخل ہوا تھا۔۔ثمرہ چونک سی گئی تھی۔۔ ’’کیا ہوا رو کیوں رہی ہیں؟‘‘مصطفیٰ جیسے ہی کمرے میں داخل ہوا تھا اسے روتا ہوا دیکھ اسکے قریب آیا،جو غصےٰ سے رُخ پھیر گئی۔۔ ’’ثمرہ وہاٹ ہیپنڈ ؟؟ہوا کیا ہے؟‘‘اس بار وہ حیران ہوا۔۔ ’’کچھ نہیں۔۔ جائیں یہاں سے پلیز۔۔‘‘ اپنی حالت کا احساس ہونے پر جلدی سے سٹپٹا کر دوپٹہ گلے میں لیا تھا۔۔ ’’رونے کی و جہ تو بتائیں۔۔‘‘وہ نرمی سے گویا ہوا۔۔ ’’آپ جاکر دوسری شادی کریں اپنی اس سیکریڑی سے۔۔‘‘اس بار وہ غصےٰ سے غرائی تھی۔پتہ نہیں یہ مردوں کو دوسری شادی کا اتنا شوق کیوں ہوتا ہے۔۔ مصطفیٰ نے مسکراہٹ دبائی ْ۔۔ ’’تو آپ کو کیا پروبلم ہے۔۔‘‘اب وہ جان کر جی جلا رہا تھا۔۔ثمرہ نے ایک خونخوار نگاہ اس پر ڈالی تھی۔۔مصطفیٰ نے آئی برو اٹھائے۔۔ ’’نہیں مطلب مجھے آپ کا یہ ریکشن سمجھ نہیں آرہا۔۔آپ تو خون بہا میں آئی لڑکی ہیں نا۔۔۔۔۔ تو پھر میں دوسری شادی کروں یا کچھ بھی۔۔۔‘‘ جیبوں میں ہاتھ پھنسائےمصطفیٰ چہرے پر حد درجہ سنجیدگی سجا کر بولا ، ثمرہ نے حیرت سے اسکی جانب دیکھا۔۔ ’’مطلب آگر آنٹی آپ کی دوسری شادی کرائیں گی تو آپ مان جائیں گے؟‘‘ثمرہ کو اپنی ہی آوازکھائی سے آتی محسوس ہوئی تھی۔۔ دل مانو بیٹھ سا گیا تھا۔۔ ’’افکورس مان جاؤں گا۔۔۔ اب آگر پہلی والی ایک ہی راگ الاپتی رہے گی کہ میں خون بہا میں آئی ہوں۔ تو پھر میں تو ساری زندگی اسی بیوقوف عورت کے انتظار میں نہیں خراب کر سکتا نا۔۔‘‘وہ ہنوز لاپراہ لہجے میں گویا ہو ا۔۔آگر اس کی محبّت ٹیڑھی تھی تو وہ سیدھی بھی خوب کرنا جانتا تھا۔۔۔ ’’تو پھر یہاں کیا کر رہے ہیں۔جائیں اور جاکر دوسری والی کی کار سلیکٹ کرانے میں مدد کریں۔۔‘‘وہ اچانک ہی بیڈ کے سرہانے رکھا تکیہ اٹھا کر مصطفیٰ کی جانب اُچھالتی اسے
