Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Episode no 15
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 25/05/2026
1 Views
Episode no 15
ہارا جنون از_ہما_قریشی قسط_نمبر_15 ثمرہ تیزی سے ہاتھ چلاتی کافی پھینٹ کر ٹرئے میں رکھتی ساتھ پیناڈول کا پتا رکھتی مصطفیٰ کے کمرے کی جانب بڑھی تھی۔۔۔ کمرے کے پاس پہنچ کر ہولے سے دستک دی گئی تھی۔۔ ’’آجائیں۔۔۔‘‘ وہ جو ابھی فریش ہوکر واشروم سے باہر نکلا تھا ذرا مصروف سے آنداز میں بولا تھا۔۔پھر پلٹ کر عقب میں دیکھا جہاں ثمرہ کھڑی شاید اسی کی طرف سے کسی قسم کی پیش قدمی کی منتظر تھی۔۔ ’’آجائیں ثمرہ۔۔۔‘‘وہ دو قدم لینے کے بعد پھر سے وہیں ٹھہر گئی تھی۔۔مصطفیٰ نے ہنوز نرم لہجے میں کہا تو وہ قدم اٹھاتی نزدیک چلی آئی۔۔ ’’آپ نے بلاوجہ خود آنے کی زحمت کی۔۔کسی ملازم سے کہہ دیتیں۔۔‘‘ڈریسنگ ٹیبل کے عین سامنے کھڑا وہ بالوں میں برش پھیرتا سنجیدگی سے بولا۔۔وہ اس وقت کیجول سے حلیے میں ٹراؤزر شرٹ میں ملبوس تھا۔۔ ’’ یہ میڈیسن بھی لے لیجئے گا۔۔‘‘دونوں ہتھیلیاں رگڑتی وہ دھیمی سی آواز میں گویا ہوئی تھی۔۔مصطفیٰ نے بغور آئینے میں نظر آتا اُسکا عکس دیکھا تھا۔۔ ’’تھینک یو!‘‘اس نے نرمی سے کہتے قدم بیڈ کی جانب بڑھائے۔۔۔جبکہ لب چباتی ثمرہ ابھی تک وہیں کھڑی تھی۔۔ ’’آپ کوکچھ کہنا تھا؟‘‘اس نے ثمرہ کو یونہی جما کھڑا دیکھ سرسری لہجے میں پوچھا تھا۔۔ ’’نہ۔۔نہیں۔۔وہ میں یہ پوچھ رہی تھی کہ ڈنر میں کیا لیں گے آپ۔۔‘‘ گڑبڑا کر ہوش میں آتے جلدی سے استفسار کیا گیا تھا۔۔ ’’جو سب کے لئے بنا رہی ہیں وہی بنا لیں۔۔میں بھی کھالونگا۔۔‘‘اس کی بے رخی اب دل پر لگ رہی تھی۔۔وہ کہاں اس سے اس لہجے میں بات کرتا تھا۔اسکا لہجا ازلی نرمی سمیٹے ہوئے تھا مگر اب اجنبیت سی محسوس ہورہی تھی۔۔۔ ’’پلیز ثمرہ جاتے ہوئے رومز کی لائٹ آف کردیجئے گا۔۔‘‘وہ کہہ کر آنکھوں پر بازؤ رکھ گیا۔۔اس بار اسکی آنکھین لبالب آنسوؤں سے بھر گئیں تھیں۔۔دل چاہا کہ ابھی مصطفیٰ سے اسکے رویہ کا حساب لے۔۔مگر پھر اپنا تلخ رویہ اختیار کرنا یاد آیا تو وہ تیزی سے روم سے نکل گئی تھی۔۔ ’’ثمرہ لائٹ؟؟‘‘ اس نے پیچھے سے ہانک لگائی مگر بے سدھ۔پھر خود ہی ریموٹ کنٹرول لائٹس آف کرتا یاد آنے پر کافی کے سپ لیتا واپس سے بستر پر نیم دراز ہوتا آنکھیں موند گیا تھا ۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجتبیٰ میرے بھائی ہوا کیا ہے اتنے غصےٰ میں کیوں ہو؟‘‘وہ جب سے گھر واپس آیا تھا غصےٰ میں چیزیں ادھر سے ادھر پٹخ رہا تھا۔۔ ’’آفس میں کسی سے کوئی لڑائی ہوئی ہے کیا؟‘‘اس نے سوالیہ آنداز میں پوچھا۔وہ منہ پر بارہ بجائے صوفے کی پشت پر سر گرائے خاموش بیٹھا تھا۔۔ ’’نہیں۔لڑائی نہیں ہوئی میرا دماغ خراب ہے۔‘‘وہ شرٹ اتار کر ایک طرف کو پھینک گیا۔ ’’اس بات میں تو واقعی کوئی شک نہیں۔‘‘اس نے شرٹ اٹھائی ۔۔مصطفیٰ نے گھورا۔۔ ’’اچھا اچھا سوری۔۔‘‘اسے خفگی سے گھورتا پاکر وہ فوری سیدھی ہوئی۔۔ ’’اب بتا بھی دو،،ہر بات پر روٹھی حسینہ کیوں بن جاتے ہو۔۔اتنا نخرہ تو لڑکیاں بھی نہیں دکھاتی ہیں۔۔‘‘مجتبیٰ کا پارا ہائی ہوا۔۔ ’’انسان بن جاؤ آئزل۔۔خبردار جو مجھے کسی عورت سے تشبیہ دی تو۔۔‘‘وہ بہن پر خفا ہوا۔۔ ’’اچھا ا چھا!خفا کیوں ہورہے ہو۔۔‘‘اس نے رام کرنا چاہا۔۔ ’’اب بتاؤ آفس میں کیا ہوا؟‘‘اس نے اسکے بالوں میں ہاتھ چلائے شفقت سے استفسار کیا ،جو ماتھے پر سینکڑوں بل سمیٹے ہوئے تھا۔۔ ’’میں نے جاب چھوڑ دی۔۔۔‘‘آئزل نے ہونقوں کی مانند گھورا۔۔ ’’کیا کہا تم نے؟؟‘‘اس کی پیشانی پر سینکڑوں بل سمٹ آئے تھے۔۔ ’’جاب چھوڑ دی۔۔‘‘اس نے لب بھینچ لئے۔۔ ’’کیوں چھوڑ دی؟‘‘آئزل کے لہجے میں تاسف در آیا تھا۔۔۔ ’’بس مجھے سمجھ نہیں آئی۔۔تم آج کھانے کا نہیں پوچھو گی کیا بے روزگار بھائی کو کھانے کو نہیں پوچھا جاتا؟‘‘وہ ذرا ناراض ہوا یا پھر ہواؤں سے بھی لڑ رہا تھا۔۔ ’’یہ بھائی کافی عرصے سے بے روزگار ہے۔۔یہی بہن کھانا پانی پوچھتی ہے ابھی تمہاری بیوی نہیں آئی۔جو مجھے نخرے دکھا رہے ہو۔۔‘‘آئزل نے اسکی ڈرامے بازیوں پر بال نوچے تھے۔۔وہ کراہ کر رہ گیا۔۔ ’’جاؤ جاؤ کھانا لے کر آؤ۔۔پھر تو تم اپنے نکمے شوہر کے سامنے کھانے پیش کر رہی ہوگی۔پتہ نہیں کیا پسند آگیا تمہیں اِس لفنگے میں۔۔‘‘وہ بڑبڑایا تو آئزل اسے گھورتی ہوئی کچن کی جانب بڑھ گئی۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’السلام علیکم!‘‘وہ رات کا کھانا کھانے کے بعد ابھی روم میں آئی تھی۔۔جبھی نظر موبائل پر گئی جہاں اہان کی سینکڑوں مسڈ کالز آئی ہوئی تھیں۔۔ ’’وعلیکم السلام۔۔۔کہاں ہو یار؟کب سے کال کر رہا ہوں۔۔‘‘دوسری جانب سے اسکی جھنجھلائی ہوئی آواز سنائی دی تھی۔۔ ’’وہ دراصل مجتبیٰ کو کھانا دے رہی تھی۔آپ بتائیں خیریت۔۔‘‘آئزل نرم لہجے میں استفساریہ گویا ہوئی۔ ’’ افف ایک تو یہ جب آپ،آپ کہتی ہیں نا بخدا سیدھی دل پر لگتی ہیں۔۔‘‘دوسری جانب سے اسکی مسحور کن آواز بلند ہوئی۔۔ آئزل کے گال سرخ ہوئے۔۔ ’’پھر تم ہی بولونگی میں رخصتی کے بعد بھی۔۔پھر نہ کہنا آئزل مجھے عزت سے مخاطب کیا کرو۔۔‘‘وہ نروٹھے پن سے بولی۔۔ ’’آپ جو بھی کہیں ہمارا دل تو بس آپ ہی کی سنتا ہے نا جاناں۔۔‘‘دوسری جانب وہ زیادہ ہی اچھے مزاج میں تھا۔۔ ’’کیا ہورہا تھا؟‘‘وہ بات گھما گئی۔۔ ’’آپ کی یاد میں تارے گن رہا تھا۔۔یہ رات کاٹے نہیں کٹ رہی۔۔‘‘وہ مخمور لہجے میں گھمبیرتا سے بولا۔۔آئزل نے لب دبائے۔۔ ’’ان لبوں پر اتنا ظلم نہ کیا کریں پلیز۔۔‘‘دوسری جانب وہ اسکی خاموشی اور حرکت بھانپ گیا تھا۔۔ ’’ کھانا کھا لیا؟‘‘اب وہ دوپٹہ اتارتی آرام دھ آنداز میں لیٹی تھی۔۔ ’’ہمم!مگر آپ کی یاد نیند نہیں آنے دے رہی جاناں۔۔‘‘آئزل نے اسکرین کو گھورا۔۔ ’’پاکستان کب واپس آرہے ہو۔۔‘‘وہ سنجیدگی سے بولی۔دوسری جانب اہان نے منہ بنایا۔۔ ’’بیوی بندہ محبت کا جواب محبت سے دیتا ہے۔۔‘‘وہ نروٹھے پن سے بولا۔۔ ’’تمہارا دماغ خراب ہوگیا ہے۔۔‘‘وہ آپ سے تم پر آگئی تھی۔۔ ’’آپ بولا کریں مجھے اچھا لگتا ہے۔۔‘‘دوسری جانب وہ پھر پٹھری سے اُترا۔۔ ’’میں سونے لگی ہوں۔۔‘‘ ’’ویڈیو کال پر آئیں نا۔۔‘‘وہ ضد کرنے لگا۔۔ ’’کیا بدتمیزی سے اہان۔۔‘‘وہ خفت زدہ سی گالوں پر ہاتھ پھیرنے لگی۔ ’’ٹھیک ہے پھر۔۔جیسے آپ کی مرضی۔۔‘‘وہ غصےٰ میں رابطہ منقطع کرگیا۔۔اس کے اس عمل پر آئزل کی جان لبوں پر آئی تھی۔۔ ’’اہان پلیز۔۔نہیں کرو۔۔‘‘وہ روہانسو سی التجائیہ بڑبڑائی۔۔ساتھ ہی موبائل پر نمبر ڈائل کیا تھا۔۔۔جبکہ اب وہ ناراضی دکھاتا اسکی حالت کا مزاح لے رہا تھا۔جو کال پر کال کر رہی تھی۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس وقت سب رات کے کھانے کی میز پر موجود تھے۔ثمرہ الماس خالہ کی ہمراہی میں جلدی جلدی کھانا میز پر لگا رہی تھی۔۔مصطفیٰ اور عریشہ لاؤنج میں پڑے صوفوں پر بیٹھے باتوں میں مصروف تھے۔۔وہ کچھ دیر قبل ہی فریش ہوکر نیچے آیا تھا بظاہر وہ عریشہ سے باتوں میں مصروف تھا۔۔۔ مگر ساری توجہ ثمرہ کی جانب تھی جو بار بار اس طرف سے گزرتی کچن کی جانب جارہی تھی۔۔ ’الماس خالہ انٹی کو بھی بلالیں۔۔‘‘وہ خود دوپٹہ درست کرتی لاؤنج کی جانب بڑھی۔۔ ’’کھانا لگ گیا ہے آجائیں آپ لوگ۔۔‘‘وہ دونوں ہی چونکے۔۔مصطفیٰ نے خاموشی سے سر ہلایا۔۔ ’’ارے ثمرہ ۔۔لڑکی کیا ہر وقت ان فضول سے کاموں میں لگی رہتی ہو۔۔مصطفیٰ نے بتایا تھا کہ تم اس کے ساتھ آفس میں کام کرتی تھیں۔۔میں تو کہتی ہوں۔۔تم بھی ہمارے ساتھ کام شروع کردو۔۔‘‘ وہ مزے سے بولی تو ثمرہ دھیما سا مسکرائی۔۔ ’’نہیں انکی کیا ضرورت ہے آفس میں۔ویسے بھی یہ گھر کے کام کرتی زیادہ اچھی لگتی ہیں ۔۔۔‘‘مصطفیٰ کے لہجے میں عجیب سی چبھن تھی۔ثمرہ کو اسکا رویہ بری طرح محسوس ہوا تھا۔۔ ’’کیا مطلب ہے۔۔ملازمہ لگی ہے تمہاری۔۔جو گھر کے کام کرے گی۔۔بس ثمرہ تم کل سے ہمارے ساتھ
