Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Episode no 13
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 23/05/2026
1 Views
Episode no 13
خود کو بہت بے بس محسوس کیا تھا۔۔ ’’مگر آپ کی آنکھیں تمام داستان سنا ر ہی ہیں ثمرہ۔۔‘‘وہ گھمبیرتا سے گویا ہوتا اسکا مومی ہاتھ تھام گیا۔۔وہ ابھی تک اسی بسکٹی رنگ جوڑے میں ملبوس تھی ۔۔۔ ’’غلط فہمی ہے آپ کی۔۔‘‘وہ تلخی سے بولتی نگاہیں پھیر گئی۔۔ساتھ ہی اپنے ہاتھ اسکی گرفت سے آزاد کرائے۔۔ ’’تو پھر یہاں دیکھیں میری طرف۔۔نگاہیں کیوں چرا رہی ہیں۔۔‘‘ثمرہ نے یکدم ہی نظر اٹھا کر بغور اسکی جانب دیکھا تھا۔۔جو سیاہ رنگ شلوار سوٹ میں ملبوس نکھرا نکھرا سا تھا۔۔ وجیہہ چہرے پر ازلی سنجیدگی قائم تھی۔نم بالوں کو پیچھے سیٹ کر رکھا تھا۔۔وہ شاید ابھی شاور لے کر آیا تھا۔۔ ’’ مصطفٰی نگاہیں وہ چُراتے ہیں جن کے دل میں چور ہوتا ہے۔۔میرے دل میں کوئی چور نہیں ہے۔۔مگر ہاں اب مجھے پچھتاوا ضرور ہے۔۔میں نے اپنے ایک جذباتی فیصلے کی وجہ سے ہم دونوں کی زندگی مشکل میں ڈال دی ہے۔۔خاص کر آپ کی۔۔‘‘ اس بار وہ کڑے دل سے بولتی رخ پھیر گئی۔۔ ’’جو نصیب میں لکھا ہوتا ہے اسے کوئی بدل نہیں سکتا۔۔آپ کا اور میرا ملنا یونہی لکھا تھا۔۔‘‘وہ متوازن لہجے میں بولا،جبکہ وہ ہنوز پشت کئے کھڑی تھی۔۔ ’’نصیب۔۔۔۔‘‘وہ تلخی سے زیر لب بڑبڑائی۔۔ ’’آنٹی نہیں چاہتی کہ آپ مجھ سے یوں باتیں کریں ،یا پھر میرے روم میں آئیں تو بہتر یہی ہے کہ آپ اپنی ماں سے کیا وعدہ ضرور وفا کریں۔۔پہلے اپنے بھائی کے قاتل کو سزا دلانے کا بندوبست کریں اپنی ازدواجی زندگی کے بارے میں بعد میں سوچ لیجئے گاْ۔۔‘‘وہ بہت سختی سے گویا ہوئی تھی۔۔مصطفیٰ کی پیشانی پر بل نمودار ہوئے تھے۔ ’’آپ کون ہوتیں ہیں مجھے یہ بتانے والی کہ مجھے کیا کرنا چاہئے؟ ‘‘وہ گھوم کر اسکی جانب آیا۔۔ساتھ ہی بازؤں سے پکڑ کر نزدیک کیا ۔ ’’کوئی بھی نہیں مصطفیٰ ۔۔پلیز جائیں یہاں سے۔‘‘وہ بے رخی سے بولی۔ ’’میں یہاں سے جانے نہیں،بلکہ آپ کو ساتھ اپنے روم میں لے جانے آیا ہوں۔۔صرف نکاح کر لینا کافی نہیں ہوتا اس رشتے کے کچھ تقاضے ہوتے ہیں اور میرے خیال سے اب ہمیں اس بارے میں سنجیدگی سے سوچنا چاہئے۔۔‘‘اس کے لفظوں کی گہرائی اور مفہوم سمجھ کر ثمرہ کی گندمی رنگت میں پل میں سرخیاں سی گھل گئیں تھیں۔۔پلکیں لرز پر عارضوں پر سجدہ ریز ھوئیں تھیں۔۔ ’’چلیں میرے ساتھ۔۔ اس رشتے کو اسکا اصل مقام دینے کا اصل وقت آچکا ہے۔۔۔‘‘وہ اسے لب چباتا دیکھ مزید بولا تھا۔ ’’رات کی تاریکی میں؟‘‘ثمرہ کے منہ سے بے ساختہ ہی پھسلا تھا۔ ’’کہنا کیا چاہتی ہیں آپ؟ کیا میں نے آپ سے یہ نکاح چھپ کر کیا ہے۔۔اس نکاح کے بارے میں آپ کا پورا خاندان جانتا ہے تو پھر اس فضول بات کا مطلب۔۔‘‘اس کی پیشانی پر بل پڑے تھے۔۔ ’’کوئی مطلب نہیں ہے۔۔فی الحال میں اس رشتے کو آگے بڑھانے میں دلچسپی نہیں رکھتی اور آنٹی بھی ایسا نہیں چاہتیں ہیں۔۔اور میرے خیال سے اپنے جذبات سے پہلے آپ کو اپنی ماں کے جذبات کا خیال کرنا چاہیے۔‘‘مصطفیٰ نے غصے سے مٹھیاں بھینچ لی تھیں۔۔ ’’آپ کو معلوم ہے نا آپ کیا کہہ رہی ہیں؟‘‘ثمرہ کا انکار اسکی انا پر کاری وار کر گیا تھا۔۔ ’’جی۔۔اور اب آپ کو بھی سمجھ لینا چاہئے۔۔بہتر یہی کہ آپ مجھ سے دور رہیں۔۔کم از کم اپنی ماں سے وعدہ وفا کرنے تک تو لازمی دور رہیں۔۔‘‘وہ سختی سے بولتی ڈریسنگ روم میں جاکر بند ہوگئی تھی۔۔مصطفیٰ کا چہرہ اس تزليل کے باعث سرخ پڑ گیا تھا۔۔ ’’اس رشتے کو دنیا کے سامنے ایک جائز مقام دینے کی یہ میری آخری کوشش تھی۔۔ اب آئندہ قدم میں نہیں بلکہ آپ کو بڑھانا ہوگا ثمرہ۔۔۔‘‘وہ اتنا سب سننے کے باوجود بہت ضبط سے بولا تھا۔ ڈریسنگ روم میں موجود ثمرہ نے منہ پر ہاتھ رکھتے اپنے آنسوؤں پر ضبط کیا تھا۔۔ ’’اگر آپ کو اپنے لفظوں کا احساس ہوجائے تو میرے کمرے کے دروازے ہمیشہ آپ کے لئے کھلے ہیں۔۔مگر آج کے بعد احد مصطفیٰ آپ کی طرف قدم ہر گز نہیں بڑھائے گا یہ بات یاد رکھئے گا۔۔۔‘‘وہ انتہائی درشتگی سے بولتا کمرے سے واک آوٹ کر گیا۔۔ حسیں تو اور ہیں لیکن کوئی کہاں تجھ سا جو دل جلائے بہت پھر بھی دل ربا ہی لگے بشیر بدر
