Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Episode no 13
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 23/05/2026
1 Views
Episode no 13
غصے میں ہیں۔۔‘‘ثمرہ کتنی ہی دیر خاموش کھڑی انکی بچاری سی شکل تکتی رہی تھی۔۔ ’’اچھا آپ چلیں ۔۔میں آتی ہوں۔۔‘‘وہ آنکھیں رگڑتی فریش ہونے کی غرض سے واشروم کی جانب بڑھی تھی۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’مصطفیٰ خیریت تو ہے تم اتنا غصے میں لال پیلے کیوں ہورہے ہو آج۔۔‘‘وہ سب اس وقت ڈنر ٹیبل پر ثمرہ کا انتظار کر رہے تھے۔۔ ’’کچھ خاص نہیں۔۔بس ویسے ہی کچھ باہر کی ٹینشنز ہیں۔۔‘‘زنیرہ خاموش تھیں جبکہ وہ ان دونوں کا انتظار کسی بھی خاطر میں لائے بغیر اپنا کھانا شروع کر چکی تھیں۔۔ ’’آنٹی یہ آپ کی بھانجی کہاں رہ گئی ہے؟‘‘عریشہ کو کوفت ہوئی مصطفیٰ کلائی پر بندھی گھڑی میں وقت دیکھ رہا تھا۔۔دس منٹ گزر چکے تھے۔۔ ’’میرے خیال سے اسے بھوک نہیں ہے مصطفیٰ۔یار خود کھا لے گی۔۔‘‘اس نے منہ بنایا۔۔ ’’تم چاہو تو کھانا شروع کر سکتی ہو۔۔۔‘‘وہ سپاٹ لہجے میں بولا تو وہ منہ بنا گئی۔۔ ’’السلام علیکم!‘‘ عقب سے ابھرتی بھاری آواز پر مصطفیٰ نے ذرا رخ ترچھا کر کے دیکھنا چاہا۔ جہاں ثمرہ پیچھے سے گزرتی اس سے دو کرسیاں چھوڑ کر ایک چئیر گھسیٹ کر بیٹھ گئی تھی۔۔۔چہرہ بالوں کی اوٹ میں چھپانے کی ناکام سی کوشش کی تھی۔۔ مصطفیٰ نے بغور اسکا چہرہ دیکھا تھا،گندمی رنگت میں پیلاہٹ سی گھل گئی تھی۔۔خاموشی سے اپنی پلیٹ اٹھاتی وہ کسی مجرم کی طرح سر اور نگاہیں دونوں جھکائے ہوئے تھی۔مگر انکی نم پلکیں اس بات کا واضح ثبوت تھیں کہ وہ سارا دن روتی رہی تھی۔۔مصطفیٰ نے اسے دیکھ ایک نظر اپنی اماں پر ڈالی جو نظروں میں بے پناہ نفرت سموئے ثمرہ کے جھکے سر کو گھور رہی تھیں۔۔جو پلیٹ میں تھوڑے سے چاول لئے کھا کم اور کھیل زیادہ رہی تھی۔۔۔۔ ’’لڑکی تم کیا سو گئیں تھیں،،ہم کب سے تمہارا انتظار کر رہے تھے۔۔‘‘ ثمرہ نے ابھی بھی نگاہیں نہیں اٹھائیں تھیں۔۔وہ ہنوز خاموش بیٹھی تھیں ۔۔عریشہ نے سوالیہ نظروں سے مصطفیٰ کی جانب دیکھا۔۔ ’’ثمرہ آپ کی طبیعت ٹھیک ہے۔۔‘‘مصطفیٰ نے سنجیدگی سے سوالیہ پوچھا۔۔ ’’ہمم!‘‘وہ یونہی سر جھکائے ہنکار بھر گئی۔۔مصطفیٰ کتنی ہی دیر خاموشی سے اسے دیکھتا رہا تھا ،جس نے اسے ایک نظر اٹھا کر دیکھنا بھی گوارہ نہیں کیا تھا۔یا پھر وہ اپنے تاثرات چھپانے کی ناکام سی کوشش کر رہی تھی۔۔ ’’اب ثمرہ نامہ بند ہوگیا ہو تو ہم سکون سے کھانا کھالیں۔۔‘‘بلاآخر زنیرہ کا ضبط جواب دے گیا تھا۔۔ ’’آپ ٹھیک سے کھانا کھائیں ممی۔۔پھر آپ کو میڈیسن بھی لینی ہوتی ہے۔‘‘ اسنے اس بار توجہ ماں کی جانب کی۔۔۔۔ ’’بیٹا جی آپ میری فکر نہ ہی کریں تو بہتر ہے۔‘‘انکا لہجہ جتاتا ہوا تھا۔۔مصطفیٰ خاموش ہوگیا۔۔جبکہ ثمرہ جگ سے پانی نکال کر پیتی جلدی سے ٹیبل چھوڑ کر جانے لگی۔۔ ’’ثمرہ کھانا تو ٹھیک سے کھالیں۔۔‘‘ ’’میں نے کھا لیا احد۔۔۔‘‘وہ اسکے لہجے میں فکر محسوس کر نرمی سے جواب دیتی یونہی پلٹ گئی تھی۔۔ ’’مصطفیٰ یہ کیا سین ہے بھئی۔۔تم کب سے لڑکیوں میں اتنی دلچسپی لینے لگے۔۔‘‘اس نے اشتیاق آمیز لہجے میں پوچھا۔۔ ’’بکاز شی از مائی وائف۔۔منکوحہ ہیں میری۔۔‘‘مصطفیٰ نے اس قدر اچانک سے بم پھوڑا تھا کہ وہ ہونقوں کی مانند حواس باختہ سی کتنے ہی لمحے تو گنگ سی مصطفیٰ کو بے یقینی سے تکتی رہ گئی تھی۔۔۔۔ ’’وہاٹ؟؟؟؟؟؟؟؟؟‘‘ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ واٹ؟؟واٹ آر یو سیئنگ مصطفیٰ؟؟‘‘اس کی حیرانگی بجا تھی۔۔زنیرہ ٹیبل چھوڑ گئیں تھیں۔۔ ’’اس میں اتنا حیران ہونے کی کیا بات ہے؟‘‘مصطفیٰ نے آئی برو اٹھائے۔۔۔۔۔ ’’ نہیں مطلب۔۔آنٹی نے کہا تھا کہ وہ ۔۔۔مطلب تم نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا۔۔‘‘اب عریشہ کو اپنے رویے پر افسوس ہوا تھا۔۔ ’’پہلے بتایا یا اب۔۔۔ایک ہی بات ہے۔۔‘‘اُس نے کندھے اچکائے۔۔ ’’مگر پھر بھی۔۔تمہیں کم از کم مجھے تو لازمی بتانا چاہئے تھا۔۔‘‘اس نے تاسف کا اظہار کیا۔۔ ’’تم اور تھنک کرتی ہو عریشہ۔۔۔‘‘اس کے لہجے میں کچھ تھا جو عریشہ کو کھٹکا گیا تھا۔۔۔ ’’خیر تم بتاؤ تمہارے والد صاحب کے خاندان والوں کے جانب سے اب تو کوئی ایکشن نہیں لیا گیا ناں؟‘‘اس نے سوالیہ نگاہوں سے دیکھا۔۔ ’’نہیں ۔۔۔اور پلیز ابھی یہ سب باتیں نہیں کرو۔۔میں تمہاری شادی کے صدمے میں ہوں۔۔‘‘اس نے کچھ اس طرح کہا تھا کہ ناچاہتے ہوئے بھی مصطفیٰ کے لبوں پر مسکراہٹ سی کھل گئی تھی۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’ثمرہ سیدھی کمرے میں آکر بند ہوگئی تھی۔۔مصطفیٰ کے ساتھ ایسا رویہ اختیار کر کے اسے بالکل بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا۔۔یونہی بستر پر چت لیٹے دو گھنٹے گزر گئے تھے۔۔ابھی مزید تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ تب ہی کوئی دستک دے کر اسکے روم میں داخل ہوا تھا۔۔ ’’آپ یہاں؟‘‘وہ مقابل ہستی کو دیکھ چونک گئی تھی۔۔ ’’کیوں میں یہاں نہیں آسکتی۔۔‘‘وہ ہولے سے مسکراتی اسکے قریب آئی۔۔ثمرہ اب خاموش کھڑی تھی۔۔ ’’سب سے پہلے تو بہت مبارک ہو۔۔۔میں تمہارے اور مصطفیٰ کے لئے دل سے بہت خوش ہوں۔۔‘‘اس نے فرط جذبات میں یکدم آگے بڑھ کر ثمرہ کو سینے سے لگایا تھا۔۔وہ تو ایک لمحے کو گنگ ہی رہ گئی تھی۔۔۔ ’’ مجھے معاف کردو مجھے علم نہیں تھا کہ مصطفیٰ اور تم نکاح کے بندھن میں بندھے ہو۔۔ورنہ میں کبھی ایسا رویہ نہ اختیار کرتی۔۔‘‘وہ اپنے جذبات پر قابو پاچکی تھی۔۔ساتھ ہی اسے اپنے رویے کا بھی افسوس ہوا تھا۔۔وہ ثمرہ سے ہر گز بھی اپنا دل برا نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔وہ اسکے پیارے دوست کی بیوی تھی۔ بھلے وہ اسکی محبت رہا تھا،مگر ضروری تو نہیں کہ محبتیں میسر بھی آجائیں۔۔ ’’کوئی بات نہیں۔۔ویسے یہ بات آپ کو کس نے بتائی۔۔۔‘‘ اس سے الگ ہوتی ثمرہ نے ذرا متجسس ہوکر سوالیہ پوچھا۔۔ ’’مصطفیٰ نے خود بتایا ہے یار! اور تمہیں معلوم ہے۔۔اب میں اس سے سخت قسم کا ناراض ہونے والی ہوں۔۔‘‘عریشہ نے ذرا ناک چڑھ کر کہا۔۔تو وہ مسکرا دی۔۔ ’’ کیا میں اندر آسکتا ہوں؟‘‘دروازے پر کھڑے مصطفٰی نے اجازت چاہی۔۔ثمرہ اور وہ دونوں ہی چونک گئیں ،وہ پشت پر ہاتھ باندھے چہرے پر حد درجہ سنجیدگی سجائے گویا انکی اجازت کا منتظر تھا۔۔ ’’ضرور آئیے بلکہ یہ تو آپ ہی کا کمرہ ہے۔۔‘‘عریشہ عادتاً شرارتی لہجے میں گویا ہوئی تو مصطفیٰ نے اسے گھورا۔۔ ’’مجھے لگتا ہے آپ دونوں میں اچھی دوستی ہوگئی ہے؟‘‘ ان دونوں کو ساتھ کھڑا دیکھ اس نے اپنے تئیں اندازہ لگایا۔۔ ’’صرف دوستی؟؟مصطفیٰ صاحب میں اور ثمرہ اب ایک ٹیم بن چکے ہیں۔۔بی ریڈی کیوں کہ ہم تمہیں مل کر بہت ٹف ٹائم دینے والے ہیں۔۔میں ثمرہ کو تمہارے سارے افئیرز کے بارے میں ضرور بتاؤنگی۔۔‘‘وہ آنکھ دباتی شرارتی لہجے میں بولی تو مصطفیٰ نے اپنی خرافاتی دوست کو گھورا۔۔جبکہ ثمرہ چہرے پر سپاٹ تاثرات سجائے خاموش کھڑی ایک بار پھر نگاہیں جھکا گئی تھی۔۔مصطفیٰ نے شدت سے اسکا یہ انداز نوٹس کیا تھا۔۔۔ ’’باز آجاؤ تم۔۔‘‘اس نے تنبیہہ ضروری سمجھی۔۔۔ ’’اب آپ یہ بھول جائیں مصطفیٰ صاحب۔۔کہ ہم آپ کو بخش دیں گے۔۔نہیں نہیں۔۔ایسا نہیں ہونے والا۔۔‘‘وہ ہولے سے مسکرایا۔۔ ’’چلیں اب میں کباب میں ہڈی نہیں بنتی۔۔۔آپ دونوں باتیں کریں۔میں سونے جارہی ہوں۔۔۔‘‘وہ ہنستی مسکراتی وہاں سے نکلتی چلی گئی تھی۔۔مصطفیٰ نے آگے بڑھ کر دروازہ بند کر دیا تھا۔۔۔ثمرہ نے لب دبائے تھے۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’’جو کچھ صبح ہوا اس کے لئے ایم سوری یہی وجہ تھی میں نے نکاح کے باوجود آپ کو گھر واپس چھوڑ دیا تھا۔۔مگر وہاں کے حالات ایسے تھے خیر۔۔صبح والی تلخ کلامی کے لئے میں دل سے معذرت خواں ہوں۔۔۔‘‘وہ اسکے مقابل آتا معذرتی لہجے میں بولا تھا۔۔ ’’کیا میں نے آپ سے کوئی شکوہ کیا؟‘‘ اس بار اس نے اپنی سرخ آنکھیں اٹھا کر مصطفیٰ کو دیکھا،اور یہی وہ لمحہ تھا جب اس نے
