Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Episode no 13
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 23/05/2026
1 Views
Episode no 13
ہارا جنون از_ہما_قریشی قسط_نمبر_13 ’’میرا مزمل۔۔۔۔میرا بچہ۔۔۔میرا معصوم بچہ۔۔۔ابھی اسے گئے دن ہی کتنے ہوئے ہیں کہ اس لڑکی نے مجھ سے میرا دوسرا بیٹا بھی چھین لیا ہے۔۔۔ بد بخت۔۔۔منحوس۔۔۔بے غیرت خاندان سے ہے نا۔۔۔جو گھر آئے مہمانوں کی تزلیل کریں وہ بھلا کیا جانیں گے گھر خاندان کیا ہوتے ہیں۔۔۔‘‘وہ صدمے سے دوچار جو منہ میں آرہا تھا بولتی چلی جارہی تھیں۔۔جبکہ مصطفیٰ یہاں آکر بے بس ہوجاتا تھا۔۔وہ ماں تھیں آخر اور کتنا منع روک سکتا تھا۔۔مگر وہ جس طرح ثمرہ کو بُرا بھلا بول رہی تھیں اسکا غصہ سوا نیزے پر پہنچ چکا تھا۔۔اور طیش تو اسے ثمرہ کے خاندان والوں پر بھی آرہا تھا۔۔یہ سب انہی کی وجہ سے ہورہا تھا۔۔۔ ’’مما پلیز کچھ خیال کریں۔۔عریشہ بھی گھر میں موجود ہے۔۔اور مجھے کسی صورت یہ برداشت نہیں ہے کہ آپ کسی تیسرے کے سامنے بھی ثمرہ کی بے عزتی کریں۔۔اب وہ میری عزت ہے اس گھر کی عزت ہے۔۔میرے نکاح میں ہے۔۔۔‘‘مصطفیٰ نے اس بار تحمل مزاجی سے انہیں سمجھانا چاہا۔۔ ’’مصطفیٰ وہ یہاں تمہیں مجھ سے چھیننے کے لئے آئی ہے۔۔‘‘انہوں نے خوفزدہ سے لہجے میں باور کرایا تھا۔۔ ’’ماں۔۔۔ایسا کچھ نہیں ہے۔۔آپ تو جانتی ہیں ثمرہ کو وہ ایسی لڑکی نہیں ہیں۔۔آپ کو تو وہ بہت اچھی لگتی تھیں۔۔‘‘مصطفیٰ نے ماضی کا حوالہ دیا تھا۔۔ ’’نہیں غلط تھی میں۔۔پہلے تم اس لڑکی کی وجہ سے اپنی ماں اور چھوٹے بھائی کو تن تنہا لاوارث چھوڑ کر دوسرے ملک چلے گئے۔۔اور اب یہ لڑکی ایک بار پھر تمہیں مجھ سے دور کرنا چاہ رہی ہے۔۔‘‘وہ ہنوز بے یقینی کا شکار تھیں۔۔۔مصطفیٰ کو شدت سے اپنے غلط فیصلے کا احساس ہوا تھا۔۔وہ اسکی حماقت کو بھی ثمرہ کے سر ڈال رہی تھیں۔۔۔شرمندگی ہی شرمندگی تھی۔۔۔ ’’ماں اس میں ثمرہ کی کوئی غلطی نہیں ہے۔اس جگہ سے دور جانے کا فیصلہ میرا اپنا ذاتی تھا۔۔‘‘اس نے صفائی پیش کرنی چاہی۔۔ ’’یہ۔۔تم۔تم مسلسل اس لڑکی کی حمایت کر رہے ہو۔۔‘‘انہوں نے اسکی گرفت سے اپنے ہاتھ چھڑائے۔۔ ’’ماں پلیز۔۔۔۔۔‘‘اس بار وہ مزید کچھ نہ کہہ سکا۔۔ ’’تم اپنے بھائی کا خون بھول گئے ہو مصطفیٰ۔۔تم اس لڑکی کی محبت میں اندھے ہوگئے ہو۔۔‘‘وہ مسلسل بڑبڑا رہی تھیں۔۔ ’’کیا چاہتی ہیں آپ؟‘‘اس نے سوال کیا۔۔ ’’اس لڑکی سے دور رہو۔۔۔۔میں اس لڑکی کی زندگی بخش دونگی ،آدھی بات بھی نہیں کرونگی مگر تم مجھ سے وعدہ کرو۔۔تم اس لڑکی سے دُور رہوگے۔۔‘‘انہوں نے جھٹ بیٹے کا ہاتھ تھاما تھا۔۔ ’’ماں۔۔۔‘‘مصطفیٰ بے یقینی سے ماں کا چہرہ تکتا رہ گیا۔۔ ’’وعدہ کرو مجھ سے مصطفیٰ!‘‘وہ عجیب ہزیانی سی کیفیت سے دوچار تھیں۔۔ ’’ وعدہ کرو تم اس لڑکی سے دور رہو گے۔۔‘‘وہ مسلسل ضد پر قائم تھیں۔۔کمرے میں موجود ثمرہ اب خاموش ہوگئی تھی۔۔زنیرہ کے تقاضے کا سوچ سوچ کر دل خون کے آنسو رو رہا تھا۔۔ ’’وعدہ کرو جب تک تم اپنے بھائی کے قاتل کو سزا نہیں دلا دوگے تم اس لڑکی سے بات تک نہیں کروگے۔۔‘‘ اب وہ زیادتی پر اتر آئی تھیں۔۔ ’’یہ غلط ہے۔‘‘ ’’تو ٹھیک ہے پھر نکالو اس لڑکی کو میرے گھر سے۔۔‘‘وہ غصہ ہوئیں تھیں۔۔ "میں اس لڑکی کا وجود اپنے گھر میں نہیں برداشت کر سکتی۔۔‘‘وہ غصّے میں پاگل ہوری تھیں۔۔۔ ’’میں اپنے سابقہ فیصلے پر قائم ہوں ماں۔۔میں جب تک آپ کے بیٹے کے قاتل کو سزا نہیں کرادونگا۔۔سکون سےنہیں بیٹھونگا۔۔۔اور رہی ثمرہ کی بات۔۔تو وہ لڑکی میرے آسرے پر اس گھر میں موجود ہے۔۔۔میں ان سے قطع تعلقی نہیں کر سکتا۔۔‘‘ وہ متوازن لہجے میں بولا تو زنیرہ نے بے یقینی سے اپنے فرما بردار بیٹے کو دیکھا تھا۔۔جو ان سے نگاہیں چراتا وہاں سے نکلتا چلا گیا تھا۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’آئزل!‘‘مجتبیٰ آج معمول کے مطابق پکارتا ہوا گھر میں داخل ہوا تھا۔۔آئزل خوشگوار حیرت میں مبتلہ اپنے کمرے سے باہر آئی۔۔کیونکہ وہ اس روز کے بعد سے اس سے ضرورت کے علاوہ بات نہیں کرتا تھا۔۔ ’’کیا ہوا مجتبیٰ!‘‘وہ مٹھائی کا ڈبہ ہاتھ میں پکڑے روم میں داخل ہوا تھا۔۔ ’’میری جاب لگ گئی ہے۔۔۔‘‘ آئزل کے منہ میں مٹھائی کا ٹکرا ڈالتا وہ ضرورت سے زیادہ خوش دکھائی دے رہا تھا۔۔۔ ’’کیا واقعی! بہت مبارک ہو تمہیں۔۔‘‘آئزل نے بھی بھائی کو مبارکباد دیتے مٹھائی کا بچا ہوا ٹکرا اسکے منہ میں رکھا تھا۔۔ ’’کہاں لگی ہے جاب!‘‘ اس نے اب سوالیہ پوچھا۔۔ ’’ایک سوفٹ وئیر ہاؤس ہے۔۔۔وہاں ایز آ گرافک ڈیزائنر۔۔‘‘ثمرہ اوہ کرتی رہ گئی۔۔۔ ’’مجھے پتہ ہے تم یقیناً یہ سوچ رہی ہوگی کہ تنخواہ تو بہت کم ہوگی۔۔تو ہاں بہت چھوٹا سا سوفٹ وئیر ہاؤس ہے۔۔ابھی نیو سیٹ اپ ڈالا ہے۔۔ مگر ان شاء اللہ جلد بڑھ جائے گی۔۔‘‘اس نے مسکرا کر اگاہ کیا۔۔ ’’نہیں مجتبیٰ جتنی بھی سیلری ہوگی ہمارے لئے بہت ہے۔۔دو ہی تو لوگ ہیں ہم۔۔‘‘آئزل نے بھائی کی پریشانی کم کرنی چاہی تھی۔۔ ’’جی اور عنقریب میں اکیلا رہ جاؤں گا۔۔‘‘آئزل نے دکھ سے اسکی جانب دیکھا تھا۔ ’’میری طرف سے اپنا دل برا نہ کرو مجتبیٰ۔۔‘‘آئزل نے صفائی پیش کرنی چاہی۔۔ ’’ہاں وہ سب چھوڑو۔۔میں کل تمہیں کچھ پیسے دے دونگا شاپنگ پر چلی جانا۔۔ اپنے لئے جو چاہے خرید لینا۔۔۔‘‘ وہ اس بار اسے کندھے سے لگاتا نرمی سے بولا تھا۔۔ان دونوں بہن بھائیوں کی دنیا ایک دوسرے کے گرد ہی تو گھومتی تھی۔۔۔ ’’اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے مصطفیٰ۔۔۔۔اہان لوگ کے گھر میں سب کچھ تو ہے۔۔‘‘اس نے نرمی سے بھائی کو انکار کرتے بوجھ کم کرنا چاہا۔۔ ’’مگر میں نہیں چاہتا کہ میری بہن زندگی کے کسی بھی موڑ پر خود کو کم تر محسوس کرے۔۔۔جتنا کر سکتا ہوں وہ ضرور کرونگا۔۔ویسے بھی اماں کا سارا زیور تمہارا ہی ہے۔۔اور پھر یہ گھر بھی تو ہے۔۔‘‘ وہ اسے کیا بتاتا کہ اس کی شادی کے لئے اسنے یہ گھر ہی گروی رکھ دیا تھا۔۔ ’’کیسی باتیں کر ر ہے ہو مجتبیٰ یہ گھر ہمارے ماں باپ کا ہے اور اب تمہارا۔۔۔مجھے اس گھر میں سے کوئی حصہ وغیرہ نہیں چاہئے۔۔بس میری رخصتی ہوجائے پھر میں جلدی سے تمہارے لئے بھی کوئی اچھی سی لڑکی دیکھ کر شادی کرودونگی۔۔‘‘اس نے بڑی بہنوں والا رعب جمایا تھا۔۔۔ ’’ اچھا!پہلے تمہاری تو ہوجائے۔۔اچھا بتاؤ۔۔کھانے میں کیا بنایا ہے؟‘‘اس بار اس نے بات گول کرتے اشتیاق آ میز لہجے میں پوچھا تھا۔۔ ’’مونگ مسور کی دال اور چاول۔۔۔‘‘آئزل نے ہنسی ضبط کی تھی۔۔جبکہ اسنے ناک چڑھائی۔۔۔ ’’چھوڑو میں باہر سے کچھ لے کر آتا ہوں۔۔تمہارا بھی یہ دالیں سبزیاں کھا کھا کر منہ خراب ہوگیا ہوگا ہے نا۔۔‘‘اس نے آئزل کی نہ نہ نظر انداز کرتے جلدی سے قدم گھر سے باہر کی جانب بڑھائے تھے۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ثمرہ کتنی ہی دیر تک روتے روتے نیند کی وادیوں میں اتر گئی تھی۔۔۔۔رات کا نجانے کونسا پہر تھا جب اسے محسوس ہوا جیسے کوئی تھا جو اسکے کمرے کا دروازہ بجا رہا ہو۔۔۔وہ کتنی ہی دیر تک بستر پر چت لیٹی محض چھت کو گھورتی رہی تھی۔۔۔۔۔۔ مگر جب دروازے پر دستک مسلسل جاری رہی تو ذہن آہستہ آہستہ بیدار ہونا شروع ہوا تھا اور وہ چار ونچار اٹھ کر دروازے کی جانب بڑھی۔۔ ’’جی!‘‘سامنے الماس خالہ کھڑی تھیں۔۔ ’’دلہن یہ کیا حلیہ بنایا ہوا ہے آپ نے اپنا۔۔چلیں مصطفیٰ بابا نے آپ کو کھانے کے لئے بلایا ہے۔۔۔‘‘ثمرہ کی غمزدہ آنکھیں سرخ انگارا ہورہی تھیں۔۔ ’’مجھے بھوک نہیں ہے۔۔‘‘اس نے بہانہ بنانا چاہا۔۔ ’’ دلہن مصطفیٰ بابا بہت غصے میں ہیں۔۔انہوں نے سختی سے ہدایت کی ہیں کہ میں آپ کو لازمی ڈنر ٹیبل پر ساتھ لاؤں۔۔ مہربانی کرکہ چلیں ورنہ وہ بہت خفا ہونگے۔۔وہ کبھی غصہ نہیں کرتے۔۔مگر آج بہت
