Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Episode no 11
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 21/05/2026
1 Views
Episode no 11
ہے۔۔جو وہ دونوں اس وقت محسوس کر رہے تھے۔۔۔۔ ’’اسے بدتمیزی تو بالکل نہیں کہتے مسز مصطفیٰ!‘‘گرفت مزید سخت کرتے جان کر ثمرہ کو چھیڑا تھا،جو خود کو اس سے آزاد کرانا چاہتی تھی۔۔ ’’یہ کام ہے آپ کا۔۔چھوڑیں مجھے۔۔۔‘‘وہ زچ ہوئی ،وہ جس قدر سنجیدہ اور میچیور بندہ تھا ،ثمرہ کو ہر گز بھی اس سے اس قسم کی حرکت کی توقع نہیں تھی۔۔مگر ثمرہ بی بی بھول رہی تھیں کہ وہ اس سنجیدہ بندے کے نکاح میں تھیں۔۔ ’’نیچے میں نے محسوس کیا تھا جب عریشہ نے مجھے ہگ کیا تو ایسی ہی کوئی خواہش آپ کی بھی تھی۔۔کہ عریشہ کو دکھا دے کر خود مجھے ہگ کرلیں۔۔میں نے تو بس آپ کی مشکل آسان کی ہے۔۔‘‘وہ اب جان بوجھ کرا سے اپنے حصار میں لئے کھڑا تھا،جس کا چہرہ شرم و حیا کے باعث سرخ پڑ گیا تھا۔۔ ’’میری ایسی کوئی واہیات خواہش نہیں ہیں۔۔مجھے چھوڑین مصطفیٰ۔۔لگتا ہے اپنی اس بے باک دوست کی صحبت میں رہ کر آپ بھی فلرٹی ہوگئے ہیں۔۔۔‘‘اس بار اس کی جھنجھلاہٹ اور غصےٰ پر مصطفیٰ کا چھت پھاڑ قہقہہ بے ساختہ تھا۔۔ ’’یار سیم بیوی سے کون فلرٹ کرتا ہے۔۔‘‘اسکے لہجے میں خوشی محسوسکر اب وہ مزاحمت ترک کر چکی تھی۔۔اتنا تو اندازہ ہوگیا تھا وہ جان کر اسے زچ کر رہا تھا۔۔۔ ’’ اب چھوڑ بھی دیں۔۔میری خواہش کی آڑ میں اپنی خواہشیں نہ پوری کریں۔۔‘‘اس بار اس نے ذرا غصےٰ سے کہا تھا،تو مصطفٰی نرمی سے الگ ہوتا اسکے پیشانی پر ہونٹ رکھ گیا۔۔۔ ’’آئی مس یو سو مچ!‘‘اسے یونہی اپنے حصار میں لئے پیشانی سے پیشانی جوڑ کر کھڑا وہ جذبات سے بوجھل گھمبیر لہجے میں بولا تھا۔۔ثمرہ پلکیں جھکا گئی تھی۔۔اس کے دل نے کبھی یہ خواہش ضرور کی تھی کہ یہ لمحات ان دونوں کے مابین آ ٹھریں۔۔مگر پانچ سال قبل وہ اپنی ہر ایسی خواہش سینے میں دفن کر گئی۔۔ ’’آپ نے مس کیا مجھے۔۔۔‘‘اس کے حسین چہرے کے نقوش محبت سے مہکاتا وہ آنچ دیتے لہجے میں سوالیہ گویا ہوا۔۔ ’’نہیں!‘‘دل ایکدم اداس ہوا تھا۔۔ دل چاہا کہ یونہی اسکے سینے سے لگ کر بتائے کہ اسکی موجودگی اسکے لئے کتنی اہمیت کی حامل ہے۔۔کیونکہ جہاں وہ ہوتا ہے وہاں کی گرم ہواؤں کو بھی اجازت نہیں کہ وہ ثمرہ مصطفیٰ کے خلاف جا سکیں۔۔ ’’کیوں؟‘‘اس نے ذرا مصنوئی ناراضی سےا سکی جانب دیکھا۔۔ ’’کیوں کیا مطلب؟آپ مجھ سے مل کر گئے تھے کیا؟جو میں آپ کو یاد کروں۔۔‘‘اب وہ فاصلے پر ہوگئی تھی۔۔۔جبکہ مصطفیٰ ایک گہری سانس لیتا بیڈ پر بیٹھ گیا تھا۔۔۔ ’’یار جلدی میں نکلا تھا۔۔پتہ تو ہے آپ کو آفٹر آل آپ میرے ساتھ اتنا عرصہ کام کر چکی ہیں آپ۔۔‘‘اس نے ماضی کا حوالہ دیا۔ْ۔ ’’ہاں اور پھر خبر ہی نہیں لی کہ پیچھے کوئی ثمرہ بھی ہے۔۔‘‘ثمرہ کے سارے شکوہ شکایتیں بھی بس اسی سے تھے ایک مان تھا کیونکہ وہ کبھی اسکی کوئی بات نہیں ٹالتا تھا۔۔ ’’روز تو کال کرتا رہا ہوں آپ کو۔۔ہاں مگر وہاں دبئی سے بیٹھ کر آپ کو ایسے ہگ تھوڑی دے سکتا تھا۔۔‘‘اسکا ہاتھ پکڑ کر اپنے پاس بیٹھاتا وہ اک بار پھر شرارت پر آمادہ ہوا۔۔۔ثمرہ نے منہ بگاڑ کر گھورا تھا۔۔مصطفیٰ کو اسکے چہرے کے ایکسپریشنز دیکھ ہنسی آئی تھی۔۔ ’’ہنستی رہا کریں اچھی لگتی ہیں۔۔‘‘اسکا ہاتھ اپنی گرفت میں لیتے وہ محبت سے بولا تھا۔۔ ’’اب جلدی سے مجھے بتائیں کہ یہاں میرے پیچھے میں کیا ہوا؟‘‘ وہ جو اسکا ہاتھ اپنی گرفت میں لئے بیٹھا تھا کہ انگوٹھے پر سینکڑوں کٹ دیکھ وہ ٹھٹھک گیا تھا۔۔ ’’کچھ ہونا تھا؟کچھ بھی نہیں ہوا؟‘‘وہ اپنا ہاتھ اسکی گرفت سے نکالنے کی کوشش کرتی،سٹپٹائی۔۔ ’’یہ ہاتھ پر کیا ہوا پھر۔۔۔۔ایسا لگ رہا ہے دیگیں چڑھانے کے لئے پیاز ٹماٹر کاٹیں ہیں آپ نے؟‘‘اسنے اسکا انگوٹھا اسکے سامنے کیا۔۔ثمرہ کو یکدم اپنی حماقت کا احساس ہوا۔۔کٹنگ بورڈ یوز کرنے کی اسے عادت نہیں تھی اور یہ سب کٹس بھی تیز دھار چھری کی بدولت تھے۔۔ ’’یہ تو ویسے ہی بس۔۔‘‘اس نے ایک بار پھر ہاتھ آزاد کرانا چاہا۔۔ ’’ویسے ہی بس کچھ نہیں۔۔پانچ سال اپنے گھر سے دور دیار غیر میں رہا ہوں۔۔وہاں کام کرنے کے لئے میری بیوی نہیں بیٹھی تھی۔۔ کچن کے سارے کام اپنے ہاتھ سے کئے ہیں۔۔سب جانتا ہوں یہ کٹ چھری کی وجہ سے لگیں ہیں۔۔اب زیادہ ڈرامے کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔مجھے فوراً بتائیں میرے پیچھے میں یہاں کیا ہوا ہے۔۔‘‘اس بار اسکا لہجا سخت تھا۔۔ ’’ایسا کچھ نہیں ہے مصطفیٰ!‘‘اس نے منمنا کر اپنا ہاتھ اسکی گرفت سے نکالنا چاہا تھا۔۔ ’’آپ خود بتا رہی ہیں یا میں ملازمین کو یہاں بلاؤں۔۔۔‘‘مصطفیٰ کے بدلتے تیور دیکھ ثمرہ کا سانس خشک ہوا تھا۔۔ ’’گھر میں بور ہو رہی تھی۔بس اسی لیے کوکنگ کی تھی۔۔‘‘ثمرہ نے بہانہ تراشا۔۔ ’’اور جیسے میں تو جانتا ہی نہیں ہوں کہ آپ کو کچن کے کام کرنے میں کتنی الجھن ہوتی ہے۔۔‘‘اس بار ثمرہ نے شکوہ کناں نظروں سےا سکی جانب دیکھا تھا۔۔اگر اب وہ سب خود ہی سمجھ گیا تھا تو بار بار اسے اکسا کر سب کچھ اگلوانے کی کیا ضرورت تھی۔۔ ’’آپ ممی کو انکار بھی کر سکتیں تھیں۔۔‘‘ مصطفیٰ نے آنکھیں میچ کر خود پر ضبط کیا تھا۔۔ ’’انٹی نے ایسا کچھ بھی انوکھا نہیں کہا تھا مصطفیٰ!گھر کا کام ہے۔۔اگر کردیا تو کونسی آفت آگئی۔۔۔‘‘ اس بار وہ بھی ذرا ناگواری سے بولی۔۔ ’’گھر میں ملازمین کی فوج موجود ہے ایسے میں آپ کا گھر کے کام کرنا مجھے سمجھ نہیں آیا۔۔اور کچن تک بات سمجھ آتی ہے۔۔روز کپڑے دھونے کی کونسی تُک ہے۔۔اور جب میں نے آپ سے پوچھا ۔آپ نے مجھے انکار کردیا۔۔مجھ سے جھوٹ بولا۔۔جبکہ میں نے ہمیشہ آپ کو ایک بات کہی ہے کہ کوئی بھی مسلہ یا پریشانی ہو آپ بلا جھجھک مجھے بتایا کریں۔۔مگر نہیں آپ کو تو عادت ہے مصطفیٰ سے باتیں چھپانے کی۔۔‘‘اب وہ خفگی کا اظہار کرتا غصہٰ ہوا تھا۔۔جبکہ وہ چہرے کےساتھ ساتھ نگاہیں بھی جھکا گئی تھی۔۔آنکھیں نمکین پانیوں سے بھر گئی تھیں۔۔ ’’فی الحال مجھے آپ پر بالکل بھی ترس نہیں آرہا کیونکہ جو شخص خود پر ترس نہ کھائے اس سے ہمدردی یا محبّت کرنا بے کار ہے۔۔۔‘‘وہ اسکے چہرے سےرُخ پھیرتا سخت لہجے میں بولا تھا۔۔ثمرہ کو یہ خوش فہمی تھی کہ اتنے سارے ملازمین کے ہوتے ہوئے وہ گھر میں ہوتی کارروائی سے بے خبر رہے گا۔۔اصل غصہٰ تو اسے اسکے باتیں چھپانے پر آیا تھا۔ ’’تو مت کریں ہمدردی۔۔میں نے نہیں کہا آپ سے کہ مجھ سے ہمدردی کریں۔۔‘‘اس بار ثمرہ کو بھی غصہٰ آیا تھا وہ بجائے اسے سینے سے لگا کر دلاسہ دینے کے الٹا ڈانٹ رہا تھا۔۔ ’’یہ جتنی زبان آپ کی میرے سامنے چلتی ہے نا اتنی باقی سب کے سامنے بھی چلالیں تو ،آپ کے حق میں بہت بہتر ہوگا۔۔۔۔‘‘وہ خود کو طنز کرنے سے روک نہیں پایا تھا،جو اسے غصےٰ سے دیکھتی اپنے گال رگڑتی تن فن کرتی کمرے سے نکلنے لگی تھی۔۔ ’’ثمرہ۔۔۔‘‘مصطفیٰ نے اُسے پکارا مگر وہ سنی ان سنی کر گئی۔۔۔جبکہ وہ ضبط سے ہاتھ کا مکابنا کر بیڈ پر مارتا تاسف کھاتا ہی رہ گیا تھا۔۔۔
