Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Episode no 11
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 21/05/2026
1 Views
Episode no 11
وہ ماتھے پر ناگواری کے بل سجائے واک آوٹ کر گئیں،جبکہ خود کو مصطفیٰ کے حصار سے آزاد کراتی وہ بھی جلدی سے وہاں سے نکلنے کے لئے پر تولنے لگی۔۔۔۔ ’’ اور سناؤ مصطفیٰ ٹرپ کیسا رہا۔۔‘‘عریشہ نے اسکی توجہ بھٹکانی چاہی۔۔مصطفیٰ کا یوں ثمرہ کی جانب جھکاؤ اسے بری طرح سے کھل رہا تھا۔۔ ’’ویسا ہی جیسا بزنس ٹرپ ہوتا ہے۔۔ چلو میں چینج کر کہ آتا ہوں۔۔ثمرہ میرے ساتھ آئیے۔۔‘‘وہ جو نظر بچا کر وہاں سے بھاگنے کے چکر میں تھی کہ مصطفیٰ کی آواز پر سٹپٹا کر ایک نظر عریشہ پر ڈالتی مصطفیٰ کے ہم قدم ہوئی۔۔جو اسے آگے چلنے کا اشارہ کرتا خود بھی ساتھ ہی قدم اٹھا رہا تھا۔۔ ’’یہ مصطفیٰ کب سے لڑکیوں میں انٹرسٹ لینے لگا۔‘‘عریشہ نے خود ساختہ قیاس کیا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’فار گاڈ سیک مما! کیا ہوگیا ہے آپ کو۔۔اور مت بھولیں ثمرہ کے ساتھ یہ سب کچھ صرف آپ کی وجہ سے ہوا ہے۔۔کیا ہوا آپ کے اس سو کالڈ خون بہا کا۔۔ثمرہ وہاں پر نوکرانیوں جیسی زندگی گزار رہی ہے۔۔‘‘قصویٰ جس دن سے مصطفیٰ پیلس سے واپس آئی تھی مسلسل فرناز بیگم سے جرح ہی کئے جارہی تھی۔۔ ’’جسٹ شٹ اپ قصویٰ میں ماں ہوں تمہاری۔۔یہ تم مجھ سے کس لہجے میں بات کر رہی ہو۔‘‘وہ آپے سے باہر ہوئیں تھیں۔۔جبکہ ہمیشہ کی طرح ایک طرف کو کونے میں بیٹھے جبران صاحب ماں بیٹی کی لڑائی میں بالکل خاموش تھے۔۔ ’’جبران صاحب ۔۔آپ کچھ بولتے کیوں نہیں ہیں۔۔دیکھ رہے ہیں اپنی لاڈلی کو یہ مجھ سے کس انداز میں بات کر رہی ہے۔۔‘‘وہ نخوت سے چنگھاڑی تھیں۔۔۔جبران خاموش رہے۔۔ ’’بابا میں آپ کو بتا رہی ہوں وہاں ثمرہ بہت ازیت میں ہے۔۔وہ زنیرہ آنٹی انہونے مجھے ثمرہ سے ملنے تک نہیں دیا۔۔وہ احد مصطفیٰ بھی ویسا نہیں ہے جیسا نظر آتا ہے۔۔انہونے وہاں ثمرہ کو سرونٹس کواٹرز میں رکھا ہوا ہے۔۔سارے گھر کا کام کراتے ہیں۔۔اور پتہ نہیں کیسا سلوک کرتے ہونگے اسکے ساتھ۔۔۔‘‘قصویٰ کی بات پرجبران کے دل کو کچھ ہوا تھا۔۔ ’’میں بتا رہی ہوں آپ کو بابا یہ ثمرہ کے ساتھ زیادتی ہے۔۔۔کل ہی وکیل کریں اور میرے ساتھ چلیں۔۔ہم ثمرہ کی ڈائیورس کراکر اپنے ساتھ واپس لے کر آئیں گے۔۔ شارق بھائی اپنے کئے کی سزا بھگتا رہا ہے ناں۔۔جب تک کیس چل رہا ہے کیا ہم ثمرہ کو یہ تمام اذیتیں بھگتنے کے لئے تنہا چھوڑ دیں۔۔کیا لاوارث ہے وہ۔۔ باپ اور بھائی کے ہوتے ہوئے بھی وہ یہ سب کیوں برداشت کرے۔۔‘‘قصویٰ تیز چنگھاڑتے ہوئے لہجے میں پہلی بار اس قدر شدت سے غرائی تھی۔۔ ’’دماغ خراب ہوگیا ہے تمہارا لڑکی۔۔۔جبران صاحب سمجھائیں اپنی لاڈلی کو ہمارے یہاں طلاقیں نہیں ہوا کرتیں۔۔اور تم یہ منحوس لفظ اپنی زبان پر لائی بھی کیسے۔۔جو کیا ہے ثمرہ نے خود اپنے ساتھ کیا ہے۔۔۔میں نے یا تمہارے باپ نے اس سے نہیں کہا تھا کہ وہ جاکر احد مصطفیٰ سے شادی رچا لے۔۔‘‘فرناز قریب آتیں بیٹی کو لتاڑ چکی تھیں۔جبکہ قصویٰ نے دکھ سے اپنے باپ کو دیکھا تھا۔۔۔ان سے زیادہ کمزور شخص شاید ہی کبھی اس نے اپنی زندگی میں دیکھا ہو۔۔۔ ’’بابا آپ نے ثمرہ کی طرح مجھے بھی مایوس ہی کیا ہے۔۔اب سمجھ آتا ہے مجھے کہ اس نے کبھی اپنے لئے کوئی اسٹینڈ کیوں نہ لیا۔۔جس لڑکی کی بیک اتنی کمزور ہو،اسکا باپ بھی اسکا نہ ہو پھر ایسی لڑکیاں معاشرے کے ہاتھوں کھلونا ہی بنتی ہیں۔جس طرح ثمرہ بنی ہوئی ہے۔۔احد مصطفیٰ کے گھر کی زینت اسکا دل بہلانے کا سامان۔۔‘‘وہ بہت تلخی سے بولی۔۔جبران صاحب بلبلا اٹھے تھے۔۔ ’’قصویٰ خاموش ہوجاؤ۔اور خبردار جو تم نے آئندہ اس قسم کے واہیات الفاظ استعمال کئے۔۔۔ثمرہ نے اپنے لئے یہ گڑھا خود کھودا ہے۔۔وہ نہ مانتی مصطفیٰ کی بات اور واپس آجاتی پھر میں دیکھتا کہ احد مصطفیٰ میری بیٹی سے کیسے زبردستی کرتا۔۔۔اگر وہ کوئی زیادتی برداشت کر رہی ہے تو یہ سب اسکی جلد بازی کا نتیجہ ہے۔۔۔‘‘جبران کو سخت قسم کا تاؤ آیا تھا۔۔ ’’بالکل صحیح کہہ رہے ہیں جبران۔۔‘‘فرناز نے حمایت کرنی چاہی۔۔ ’’شٹ اپ!جسٹ شٹ اپ۔۔یہ سب تمہاری وجہ سے ہوا ہے منافق عورت۔۔۔نہ تم مجھے خون بہا کے لئے فورس کرتیں نہ میں اپنی بچی کو اس آزمائش میں ڈالتا اور نہ ہی وہ یہ جذباتی قدم اٹھاتی۔۔‘‘اس بار وہ فرناز پر دھاڑے تھے جن کی بولتی بند ہوگئی تھی۔۔۔ ’’قصویٰ جائیں آپ اپنے کمرے میں۔۔‘‘قصویٰ دونوں ماں باپ پر ایک تاسفی نگاہ ڈالتی اپنے کمرے میں بند ہوگئی تھی۔۔۔وہ دونوں صرف ایک دوسرے کو بلیم کرنے میں مصرورف تھے۔۔جبکہ ثمرہ کی زندگی جہنم بنی ہوئی تھی۔۔۔ ’’اگر بیٹی کا اتنا ہی خیال ہے یا اگر غیرت جوش مار رہی ہے تو کرلیں اپنی دوسری بیٹی کے مشورے پر عمل۔۔مگر مجھے باتیں سناننے کی ضرورت نہیں ہے۔۔آپ کی بیٹی کی نیت پہلے سے خراب تھی۔۔ہے نا اپنی ماں جیسی۔۔‘‘وہ غصےٰ اور تنفر سے بولتی وہاں سے واک آوٹ کر گئیں۔۔جبکہ جبران صاحب اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گئے تھے۔۔آّخر یہ انکے گھر میں ہو کیا رہا تھا۔۔یہ بات سمجھ سے بالا تر تھی۔۔۔۔۔ان کی تینوں اولادیں ان سے بدظن ہوگئی تھیں۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ دونوں آگے پیچھے ہی مصطفیٰ کے کمرے میں داخل ہوئے تھے۔۔۔اور پیچھے آتے مصطفیٰ نے احتیاطً کمرے کا دروازہ بند کر دیا تھا۔ثمرہ چونک کر مڑی تھی۔۔ ’’کیا ہوا اتنا گھبرا کیوں گئیں۔۔‘‘و ہ اسے ایک نظر دیکھ خود اپنا کوٹ اتارکر ایک طرف پھینکتا سوالیہ گویا ہوا۔۔چہرہ پر سنجیدگی طاری تھی۔۔۔ ’’میں کیوں گھبراؤنگی۔۔‘‘وہ اپنا لہجا حتیٰ المقدور مضبوط بناتی ذرا منہ بنا کر بولتی صوفے پر پڑا اسکا کوٹ اٹھانے لگی تھیْ۔ ’’اہمم!رہنے دیجئے میں نے اس کام کے لئیے آپ کو نہیں بلایا ہے۔۔‘‘سائیڈ ٹیبل پر اپنی گھڑی اتار کر رکھتے اسنے اسے باز رکھا۔۔ ’’میں رکھ دیتی ہوں۔۔‘‘اس نے اسرار کیا،تو وہ اسکی گھبراہٹ محسوس کر خاموش رہا۔جو اسکی جانب سے خاموشی محسوس کر کوٹ جلدی سے ہینگر میں لگانے لگی تھی۔۔ ’’عریشہ میری بہت اچھی دوست ہے۔۔وہ اسٹریلیا میں پلی بڑی ہے۔۔۔ تھوڑی بولڈ ہے۔۔ اور مجھ سے فرینک بھی ہے۔۔اس لئے تھوڑا سا جزباتی ہوجاتی ہے۔۔‘‘آستین اور کالر کے بٹن کھولتے مصطفیٰ نے سرسری سے لہجے میں عریشہ کے عمل کو جسٹيفائی کیا۔۔جبکہ دوبارہ وہ منظر یاد کر ثمرہ کی آنکھیں جلنے لگی تھیں۔ْ۔ ’’آپ نے مجھے کس کام کے لئے بلایا ہے مصطفیٰ!‘‘اس نے ذرا ناگواری سے پوچھا۔۔وہ جو اسکی طرف سے رخ پھیر کر پینٹ میں لگی شرٹ باہر نکال رہا تھا،اس کے لہجے میں جھنجھلاہٹ محسوس کر ٹھرا۔۔۔ ’’یہاں آئیں۔۔۔‘‘اب وہ بے حد سنجیدگی سے بولا۔۔ثمرہ کو اپنے ارد گرد خطرے کی گھنٹی بجتی محسوس ہوئی تھی۔۔ ’’میں؟‘‘انتہائی بیوقوفانہ سوال کیا گیا تھا۔۔ ’’جی آپ؟‘‘وہ ثمرہ کے چہرے کی ہوائیاں اُڑتی دیکھ مسکراہٹ ضبط کر کہ بولا۔۔جبکہ وہ لب چباتی چھوٹے چھوٹے قدم اُٹھاتی نزدیک گئی تھی۔۔ ’’جی!‘‘وہ دو قدموں کے فاصلے پر ٹھری،اور سوالیہ نگاہوں سے مصطفیٰ کی جانب دیکھا جو بڑی گہری نگاہوں سے اسکے سراپے کا جائزہ لے رہا تھا۔۔ ’’اس کام کے لئے بلایا تھا۔۔‘‘وہ دو قدموں کا فاصلے سمیٹتے اسے سینے سے لگا گیا تھا،جو اس اچانک افتاد پر سانس تک روک گئی تھی۔ ’’یہ کیا بدتمیزی ہے مصطفیٰ ! چھوڑیں مجھے۔۔‘‘ہوش میں آتی خود کو اسکے حصار میں قید محسوس کر وہ بری طرح سٹپٹائی تھی۔۔وہ تو ابھی تک نیچے والے لمس کے حصار سے نہیں نکل پائی تھی کجاکہ مصطفیٰ کا یوں ہگ کرنا، دل ڈھڑکا گیا تھا۔۔ڈھڑکنیں تو مصطفیٰ کی بھی تیز ہوئیں تھیں۔۔محبوب کو پہلی بار حصار میں قید کرلینے کی خوشی ہی الگ ہوتی
