Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Episode no 11
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 21/05/2026
1 Views
Episode no 11
ہارا جنون از_ہما_قریشی قسط_نمبر_11 ’’اوکے ریلیکس میں چلی جاتی ہوں۔۔مگر میں پھر آؤنگی اور اس بار اپنی بہن کو ساتھ لے جانے کے لئے وکیل بھی ساتھ لاؤنگی۔۔‘‘وہ بھی نڈر لہجے میں بولتی بھاری دل کے ساتھ مصطفیٰ پیلس سے نکل آئی تھی۔۔۔زنیرہ نے سر جھٹکا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شام میں اہان اپنے ماں ،باپ سمیت آئزل کا رشتہ لینے آیا تھا، مجتبیٰ بھی ان لوگوں کی وجہ سے جلدی گھر آگیا تھا۔۔البتہ اب وہ لوگ چھوٹے سے مہمان خانے میں بیٹھے تھے، آئزل تو چائے پانی سرو کرنے کے بعد اندر چلی گئی تھی۔۔اب وہاں صرف اہان اور اس کے پیرنٹس جبکہ دوسری طرف سے مجتبیٰ خاموش بیٹھا تھا۔۔ ’’انکل اماں بابا کی حیات میں آپ لوگ کبھی اس رشتے کے لئے راضی نہیں ہوئے، اب اہان کا ضد لگانا اور انتہائی قدم اٹھانا ، میں خود مجبور ہوگیا ہوں وگرنہ میں کبھی اپنی بہن کی شادی آپ کے خاندان میں نہیں کرتا۔۔‘‘وہ ٹھر ٹھر کر متوازن لہجے میں گویا ہوا تھا۔۔جبکہ اہان گڑبڑایا کہیں وہ اسکی ماں کے سامنے نکاح والا راز ہی نہ فاش کردے۔۔ ’’بیٹا ہم نہیں، صرف آپ کی آنٹی، اور اسکے پیچھے بھی ایک وجہ ہے کہ یہ اہان کی شادی اپنی بھانجی سے کرنا چاہتی ہیں۔ ورنہ مجھے تو شروع سے ہی آئزل بہو کے روپ میں بہت پسند ہے۔۔‘‘ انہوں نے خوش دلی سے جواب دیا تھا۔۔مجتبیٰ نے ایک گہری سانس بھری تھی۔۔ ’’تو پھر آپ رخصتی کی کوئی ڈیٹ دے دیں۔۔‘‘وہ سنجیدہ تھا۔ ’’وہاٹ؟اتنی جلدی۔۔نہیں بھئی۔۔۔ابھی تو میں اتنی جلدی اپنے بیٹے کی شادی کا ارادہ نہیں رکھتی۔۔‘‘انہوں نے صاف انکار کیا تھا۔۔ ’’کیا مطلب ہے آپ کا آنٹی؟؟ اہان یہ کیا کہہ رہی ہیں؟‘‘ اس نے ناگواری سے اہان کو دیکھا۔۔ ’’ریلیکس رہو۔۔میں سمجھا لونگا انہیں۔۔۔ تم بس رخصتی کی تیاری مکمل رکھو۔۔۔ہم جلد ہی کوئی تاریخ طے کرلیں گے۔۔‘‘اہان نے فی الحال اسے آنکھ کے اشارے سے تحمل رکھنے کا کہا تھا۔۔ ’’تیاری کیا کرنی ہے۔۔آپ لوگ تو سب جانتے ہی ہیں کہ میں اپنی بہن کو جہیز کے نام پر زیادہ کچھ نہیں دے سکتا۔۔بس جو کچھ ہے وہ آئزل کا نصیب ہے۔۔‘‘اس نے بغیر کسی لگی لپٹی رکھے سیدھی بات کی تھی۔۔ ’’ہمیں اور کچھ چاہئے بھی نہیں۔۔بس ہماری بیٹی ہمارے حوالے کردو۔۔۔‘‘مہروز کی محبت پر اوٹ میں چھپی آئزل اور مجبتیٰ دونوں ہی مسکرائے تھے۔۔اس بات سے یکسر بے خبر کہ ابھی محبت کے بہت سے امتحان پاس کرنے باقی تھے۔۔۔ …………………….. آج مصطفیٰ کی واپسی کی فلائٹ تھی۔۔۔ ثمرہ سے آج زنیرہ بیگم نے کوئی کام نہیں کرایا تھا۔۔کک اپنی ڈیوٹی پر واپس آچکا تھا۔البتہ وہ صبح سے ہی کمرے میں بند تھی۔۔بلاضرورت تو وہ ویسے بھی کمرے سے باہر نکلنے سے گریز ہی کرتی تھی۔۔۔ اس وقت سنگھار آئینے کے سامنے کھڑی اپنا تنقیدی جائزہ لینے میں مگن تھی۔۔گندمی رنگت ،جس پر سی گرین رنگ کا ہلکی کڑھائی والا کرتا کھل سا رہا تھا۔۔۔گلے میں شیفون کا دوپٹہ پڑا تھا۔۔گہری سیاہ آنکھیں ہمیشہ کی طرح بجھی بجھی سی تھیں۔۔۔ چہرے کی شادابی ہنوز قائم تھی۔۔باورچی خانے کے دو کام کرنے سے اس کے ملکوتی حسن میں کوئی خاص فرق نہیں آیا تھا۔۔ وہ کوئی ایسی بھی حسین لڑکی نہیں تھی کہ کوئی اس پر بری طرح فدا ہوتا،مگر یہ حقیقت تھی کہ مصطفیٰ نہ صرف اس سے بہت محبت کرتا تھا،بلکہ اس سے زیادہ ان دونوں کے مابین ہمیشہ سے احساس کا رشتہ قائم رہا تھا۔۔ وہ دونوں ہی میچور تھے،ایک دوسرے کی بہت عزت کرتے تھے۔۔۔یہی وجہ تھی کہ آج سے پانچ سال قبل مصطفیٰ نے اسکے اور اسکے خاندان کے فیصلہ کا احترام کیا تھا۔۔اور اب جو حالات پیدا ہوگئے تھے،ان میں مصطفیٰ چاہتا تو اپنے بھائی کے خون کے بدلے کے ساتھ ساتھ اپنی بے عزتی کا بھی بدلہ لے سکتا تھا۔۔اسے زنیرہ سے کوئی شکوہ نہیں تھا۔۔انسان ایسے ہی ہوتے ہیں،جب چوٹ لگتی ہے تو اچھے اچھے تڑپ جاتے ہیں اس عورت نے تو پھر جوان بیٹا کھویا تھا۔۔۔جسے بغیر شوہر کے بڑی مشکلوں سے پال پوس کر جوان کیا تھا۔۔۔وہ انسان تھیں جبھی ایسا رویہ اختیار کر گئیں تھیں اور اگر وہ ایسا کچھ نہ کرتی تو پھر شاید انکا شمار فرشتوں میں ہوتا،بلکہ وہ تو اس سے زیادہ برے حالات کے لئے خود کو تیار کر کہ آئی تھی۔۔۔ابھی تو ویسا کچھ بھی نہیں ہوا تھا۔۔۔ جو بھی تھا مگر یہاں اسکے ساتھ انسانیت سے گرا سلوک تو ہرگز نہیں ہو رہا تھا۔۔۔اس نے تو سگے باپ کے گھر میں ہمیشہ منٹلی ٹارچر برداشت کیا تھا۔۔۔ سگے باپ سے بدکرداری کے طنز اور طعنے سنیں تھے۔۔وہ ساری زہنی ازیتیں ان دو کاموں پر بھاری تھیں۔۔۔ وہ اپنے معمولی سے نقوش دھیرے سے چھوتی اپنی سوچوں میں گم تھی کہ جبھی اسے باہر سے آواز آنے لگی تھیں۔۔۔یقیناً مصطفیٰ واپس آگیا تھا۔۔لب خود بخود مسکراہٹ میں ڈھلے تھے۔۔دل عجیب لے میں ڈھڑک اٹھا تھا۔۔بجھی آنکھیں چمکنے لگی تھیں۔۔۔اپنے نم بالوں کو ہارف کیچر میں قید کرتی وہ تیزی سے روم سے باہر نکلی تھی۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’میں بالکل ٹھیک ہوں ماما!کیا ہوگیا ہے آپ کو۔۔۔صرف چار دن کے لئے ہی تو گیا تھا۔۔اور پہلی بار تو ہر گز بھی نہیں گیا تھا۔۔‘‘وہ کتنی ہی دیر سے روتی ہوئی زنیرہ کو سینے سے لگائے کھڑا تھا۔۔۔جو شاید مزمل کے بعد سے کچھ زیادہ ہی حساس ہوگئی تھیں۔۔ ’’مصطفیٰ آئندہ اپنی جگہ کسی بھی امپلائی کو باہر بھیج دینا مگر تم نہ جانا۔۔تم جانتے تو ہو نا کہ میں اب تمہیں ایک لمحے کے لئے بھی اپنی نظروں کے سامنے سے اوجھل نہیں کر سکتی۔۔‘‘‘وہ کتنی ہی دیر ماں کو سینے سے لگائے کھڑا تھا۔۔۔ایک طرف کو کھڑی عریشہ ماں بیٹے کی محبت دیکھ دھیرے سے مسکرا رہی تھی۔۔جبکہ مصطفیٰ کی تشنہ نگاہیں ہمیشہ کی طرح اس ستمگر لڑکی کو ڈھونڈ رہی تھیں۔۔ ’’آنٹی مجھے بھی تو ملنے دیں اپنے دوست سے۔۔‘‘وہ ماحول میں تناو محسوس کر خود چل کر نزدیک آئی تھی۔۔۔تو وہ مسکرا کر پیچھے ہوئیں،اور عریشہ ہمیشہ کی طرح لاپرواہی سے مصطفیٰ کے سینے سے لگی تھی۔۔۔وہ جو اپنی نگاہیں ثمرہ کے کمرے کے دروازے پر مرکوز کئے کھڑا تھا یکدم سٹپٹایا۔۔اور یہی وہ لمحہ تھا جب ثمرہ کے کمرے کا دروازہ کھلا تھا اور اسکا حسین چہرہ نمودار ہوا تھا،مگر وہاں کا منظر دیکھ اسکی پیشانی پر سینکڑوں بل نمودار ہوئے تھے۔۔چہرہ غصےٰ کی زیادتی سے سرخ پڑ گیا تھا۔۔۔اتنا تو وہ کبھی اپنے شوہر کے نزدیک نہیں ہوئی تھی جتنا یہ لڑکی مصطفیٰ سے چپک رہی تھی۔۔مصطفیٰ کو گڑبڑاہٹ کا شکار دیکھ وہ چہرے پر سپاٹ تاثرات سجائے ہولے ہولے قدم اٹھاتی نزدیک گئی تھی۔۔۔ ’’السلام علیکم!‘‘مصطفیٰ نے نرمی سے اپنے سینے سے لگی عریشہ کو خود سے جدا کیا تھا،اور اسکے سلام کا جواب دیتے خفت سے انگھوٹے سے ماتھا کھجتے سلام کا جواب دیا۔۔۔ ’’کیسی ہیں آپ؟‘‘ وہ ذرا فاصلے سے کھڑی ثمرہ کے قریب ہوتا ایک لمحے میں اسے بازوؤں سے پکڑ کر کندھے سے لگا گیا۔اس بار سٹپٹانے کی باری ثمرہ کی تھی۔۔زنیرہ کے ماتھے پر ناگورای کی شکنیں نمودار ہوئیں تھیں۔۔عریشہ کو بھی مصطفیٰ کا یہ عمل ایک آنکھ نہ بھایا تھا۔۔ ’’ٹھیک۔۔‘‘اس نے جلدی سے اپنا آپ مصطفیٰ کی گرفت سے آزادکراتے فاصلے پر ہونا چاہا ،جو اسے کندھے سے لگائے کھڑا شاید چھوڑنا بھول چکا تھا۔جبکہ اب وہ شرارت سے ثمرہ کے چہرے کے تاثرات سے حظ اٹھا رہا تھا جو شرمائی گھبرائی سی مسلسل نا محسوس انداز میں مزاحمت کررہی تھی۔۔۔ ’’ مصطفیٰ چلو تم فریش ہوجاؤ۔میں کھانا لگواتی ہوں۔۔‘‘
