Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Episode no 04
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 14/05/2026
13 Views
Episode no 04
میں کہا۔۔گہری سوچوں میں ڈوبے جبران صاحب۔۔ایک نظر بیوی کو دیکھ اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئے۔۔جبکہ فرناز نے باقاعدہ بیٹی کو گھورا تھا۔۔ ’’آپ نے اچھا نہیں کیا مما۔۔۔‘‘وہ اپنی ماں کا مکاری پن خوب سمجھتی تھی۔۔۔تاسفی آنداز میں بولتی وہاں سے واک آوٹ کر گئی۔۔جبکہ فرناز نے نخوت سے سر جھٹکا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شام کا وقت تھا،گھر پہنچنے تک انہیں اچھی خاصی دیر ہو چکی تھی۔۔مصطفیٰ نے ایک نظر سپاٹ نگاہوں سے خاموش بیٹھی ثمرہ کو دیکھا،اور پھر گاڑی سے باہر نکلا۔گارڈز کے ہاتھ میں چابی تھامتا وہ گھوم کی اسکی سائیڈ پر آیا تھا۔۔۔ ’’میرے ساتھ آئیں ثمرہ!‘‘وہ اپنا دوپٹہ سر پر جماتی کانپتے قدموں سے گاڑی سے باہر نکلی تھی۔۔ساتھ ہی قدم مصطفیٰ کی جانب بڑھائے۔۔ وہ بہت خاموشی سے گھر کے آندرونی حصےٰ کی جانب بڑھی تھیں۔۔۔ ’’الماس خالہ!‘‘اس نے لاؤنج میں ٹھہر کر انہیں با آواز بلند پکارا۔۔ ’’جی بابا!‘‘وہ زنیرہ بیگم کے کمرے میں موجود تھیں۔فوری دوڑ کر قریب آئیں تھیں۔۔ ’’مما جاگ رہی ہیں؟‘‘اس نے کلائی پر بندھی گھڑی میں وقت دیکھا تو سوئیاں پانچ کا ہندسہ عبور کر رہی تھی۔ ’’جی بابا بیگم صاحبہ ابھی نماز پڑھ کر قرآن پڑھنے بیٹھی ہیں۔۔‘‘مصطفیٰ نے سر ہلایا،جبکہ انکی نگاہیں ثمرہ پر ہی مرکوز تھیں،جونگاہیں جھکائے مصطفیٰ کے عین برابر میں خاموش کھڑی تھی۔۔۔ میرے ساتھ آئیں!‘‘وہ کچھ سوچ کر اپنی ماں کے کمرے کی جانب بڑھا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’مصطفیٰ میرے بچے آج جلدی آگئے۔‘‘وہ جو قرآن پاک کو غلاف میں لپیٹ رہی تھیں،کمرے میں داخل ہوتے بیٹے کی آہٹ پر بھرپور آنداز میں مسکرائیں تھیں۔۔جبھی اس کے پیچھے کوئی لڑکی کمرے میں ساتھ ہی داخل ہوئی تھی۔۔ ’’کیسی ہیں مما!‘‘اس نے آگے بڑھ کر ماں کے ماتھے پر بوسہ دیا تھا۔۔۔جبکہ انکی بے یقین نگاہیں ثمرہ پر ہی مرکوز تھیں۔۔جو اب مصطفیٰ کے عقب سے نکلتی بالکل عین سامنے آکھڑی ہوئی تھی۔۔ ’’مصطفیٰ یہ لڑکی؟‘‘انہونے حیرت سے دریافت کیا۔۔۔ثمرہ دونوں ہاتھ آپس میں مسلتی سر جھکاگئ۔۔ ’’ مما وہ ہم نے۔۔۔‘‘اس نے بمشکل لفظ ترتیب دئے تھے۔۔ ’’مصطفیٰ کچھ ایسا نہ کہہ دینا،جس کا صدمہ میں برداشت نہ کر سکوں۔۔‘‘انکی آنکھوں میں اب نفرت اُتر آئی تھی۔ ’’دراصل مما!وہ۔۔۔‘‘وہ چاہ کر بھی کچھ نہیں بول پارہا تھا۔۔ ’’آنٹی میں اس گھر میں خون بہا میں آئیں ہوں۔۔۔بے فکر رہیں ،ایسا ویسا کچھ نہیں ہے جیسا آپ سوچ رہی ہیں۔۔‘‘ اسے تذبذب کا شکار دیکھ، ثمرہ اچانک سے بیچ میں بول اُٹھی تھی۔۔مصطفیٰ نے سخت نظروں سے گھورکر اسکی جانب دیکھا تھا۔جبکہ انہونے حیرت سے اپنے بیٹے کو دیکھا۔۔۔ ’’یہ کیا جہالت ہے مصطفیٰ!اس لڑکی کو اس کے باپ کے گھر پر چھوڑ کر آئیں۔۔۔ہمارا مجرم اسکا بھائی ہے۔۔اور سزا بھی اسے ہی ملے گی۔۔‘‘ انہونے طیش بھرے لہجے میں کہتے بیٹے کو جھڑکا۔۔جبکہ مصطفیٰ نے تاسفی نظروں سے ثمرہ کو دیکھا تھا جو اب اپنے کارنامے پر بڑی مطمئن نظر آرہی تھی۔۔ ’’مما میں نے ثمرہ سے نکاح کیا ہے۔۔اب سے یہ اسی گھر میں رہیں گی۔۔‘‘بلآخر اس نے ماں کو حقیقت سے آشنا کیا تھا۔۔ ’’احد!یہ کیا کہہ رہے ہیں؟؟آپ ہوش میں تو ہیں؟؟اپنے بھائی کے قاتل کی بہن کو اپنی بیوی کا درجہ دے رہے ہیں؟؟کیا آپ کا خون اتنا سفید ہوگیا ہے۔۔ارے ابھی تو میرے بچے کا کفن بھی میلا نہیں ہوا اور آپ نے دشمن کی بیٹی سے شادی کرلی۔۔اتنی جلدی بھول گئے آپ اپنے بھائی کو۔۔‘‘وہ یکدم ہی شدت گریہ سے روتیں، بیٹے سے شکوہ کرنے لگی تھیں۔۔ ’’مما پلیز!سچوئش ہی کچھ ایسی ہوگئی تھی کہ مجھے ثمرہ کو اپنے نکاح میں لینا پڑا۔۔میں مجبور تھا۔۔‘‘وہ نادم ہوا۔۔ ’’واقعی آپ مجبور تھے۔۔اپنی محبت کے آگے۔۔جو محبت آج بھی آ پ اس لڑکی سے کرتے ہیں۔۔مگر محبت میں اتنی خود غرضی اچھی نہیں ہوتی کہ ایک لڑکی کی خا طر آپ اپنے جوان سال بھائی کا خون بھول جائیں۔۔۔‘‘وہ شدت سے غراتی اٹھ کھڑی ہوئیں تھیں۔۔مصطفیٰ نے انکی نفی نہیں کی تھی۔۔ ’’لڑکی نکلو میرے گھر سے۔۔میں تمہارا وجود اپنے گھر میں ہر گز بھی نہیں برداشت کر سکتی۔۔‘‘ غصےٰ سے کہتے اسکا ہاتھ پکڑ کر پیچھے کو جھٹکا دیا تھا۔ ’’مما!پلیز!ایسا نہ کریں۔۔‘‘وہ یکدم ثمرہ کو سنبھالتا اسکی ڈھال بن کر سامنے کھڑا ہوا تھا۔۔ ’’مصطفیٰ آپ اس لڑکی کی خاطر میری نافرمانی کر رہے ہیں؟؟‘‘انہونے بے یقینی سے بیٹے کو دیکھا۔ ’’میں آپ کی نافرمانی نہیں کر رہا ماں۔۔میں بس اتنا کہہ رہا ہوں کہ اب ثمرہ میری بیوی ہیں۔۔‘‘اس نے بہت ضبط سے ماں سے نظریں چُرا کر اپنا جملہ مکمل کیا تھا۔ ’’واہ بیٹا واہ ! ان لوگوں نے میرا ایک بیٹا موت کے منہ میں اتار دیا اور دوسرے کو مجھ سے چھینے کی کوشش کر رہے ہیں۔اور آپ پھر بھی اس لڑکی طرفداری کر رہے ہیں۔۔‘‘انہونے نفرت سے ثمرہ دیکھا تھا،جو نگاہیں جھکائے کھڑی تھی۔۔ جاری ہے
