Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Episode no 04
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 14/05/2026
13 Views
Episode no 04
میں بولتی معذرت کرنے لگی۔۔۔ ’’اب آپ کے شرمندہ ہونے سے کچھ نہیں ہوگا،کیونکہ اپنی ماں کو تو میں نے ہی سنبھالنا ہے۔‘‘وہ گاڑی اسٹارٹ کر چکا تھا۔۔ثمرہ نے چونک کر اسکی جانب دیکھا۔جس کا لہجا ایک بار پھر سخت ہوگیا تھا۔۔ ’’کیا آپ مجھ سے نکاح نہیں کرنا چاہتے تھے؟‘‘لہجے میں بے یقینی سی تھی۔۔ ’’نہیں۔۔‘‘اس نے بغیر کسی تک و دو کے سیدھا سا جواب دیا تھا۔ثمرہ نے دکھ سے اسکی جانب دیکھا تھا،مصطفیٰ بخوبی اسکی شکوہ کناں نگاہیں خود پر محسوس کر رہا تھا۔۔ ’’میں مانتا ہوں،کہ میں نے کبھی زندگی میں یہ خواہش کی تھی،کہ آپ میری زندگی کا حصہٰ بنتی،میری شریک سفر ہوتیں۔۔۔۔مگر میں نے اپنی یہ خواہش آج سے پانچ سال قبل ہی اپنے دل میں دبا لی تھی جب آپ کے بابا نے رشتے سے انکار کیا تھا،کیونکہ میں خود غرض بن کر اپنی محبت میں اندھا ہوکر ایک بیٹی کو کبھی مجبور نہیں کرنا چاہتا تھا۔جس کا کوئی بھی غلط قدم اسکی زندگی کا روگ بن جاتا۔۔۔مگر جس لڑکی کو میں نے اتنی محبت کی،جس کی خوشی اور عزت کی خاطر میں اپنی محبت تک سے دستبردار ہوگیا۔۔اب میرا دل یہ کیسے گوارہ کرلے کہ وہی لڑکی ایک گھٹیا سے انتقامی بدلے میں خون بہا کے عوض میرے نکاح میں آئی۔۔جیسے میں نے دنیا کی ہر خوشی دینی چاہی تھی،اس کے لئے میری ہی ذات سب سے بڑے دکھ کا باعث بن گئی ہے۔۔۔آپ نے ہمارے ساتھ،ہماری محبت کے ساتھ بالکل اچھا نہیں کیا ثمرہ۔۔۔آپ نے مجھے ،خود کو بہت بڑے امتحان میں ڈال دیا ہے یار۔۔۔‘‘وہ چہرے پر سپاٹ تاثرات سجائے ،رش ڈرائیونگ کرتا دکھ سے بول رہا تھا،جبکہ ثمرہ دم سادھے صرف اسے سن رہی تھی۔۔ ’’آپ نے بہت زیادتی کی ہے میری محبت کے ساتھ۔۔۔‘‘ثمرہ نے رشک بھری نظروں سے سامنے بیٹھے شخص کو دیکھا تھا،جس نے اتنا سب کچھ ہوجانے کے باوجود صرف اسکی ہی بھلائی سوچی تھی۔۔اس نے ایک بار بھی اسکی مجبوری کا فائدہ اٹھانے کی کوشش نہیں کی تھی۔۔ ’’مجھے معاف کردیں مصطفیٰ!میں بہت مجبور تھی۔۔بابا ہر حال میں خون بہا کرنا چاہتے تھے،اور میرے پاس پلٹ کر جانے کے لئے کوئی راستہ موجود نہیں تھا۔۔۔‘‘اس نے بے بسی سے لب کاٹے تھے،جبکہ اب وہ خاموشی سے ڈرائیور کرنے میں مصروف تھا،گاڑی ہوا سے باتیں کر رہی تھی۔۔۔اس بات سے یہ آندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ وہ کس حد غصےٰ میں تھا۔۔ ’’میں فی الحال آپ کو اپنے فلیٹ پر چھوڑ رہا ہوں۔۔اپنے ساتھ گھر نہیں لے جاسکتا۔۔ممی کبھی آپ کو اپنی بہو کے طور پر قبول نہیں کریں گی۔۔اور میں نہیں چاہتا کہ میرے گھر میں کسی بھی قسم کا کوئی میلو ڈرامہ سین کرئیٹ ہو۔۔۔‘‘اس کے سنجیدہ لہجے پر ثمرہ کی آنکھیں باہر آئی تھیں۔ ’’یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں مصطفیٰ!میں الگ گھر۔۔۔‘‘ ’’کیا آپ بھی میرے ساتھ رہیں گے؟‘‘ اس نے اپنی تسلی کے لیے پوچھنا چاہا۔ ’’نہیں۔۔کیونکہ میں نے یہ نکاح صرف آپ کی ضد پر کیا تھا۔۔میرا شادی یا پھر ہمارے درمیان کسی بھی قسم کے جذباتی رشتے کو قائم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔۔کیونکہ یہاں کوئی فلم نہیں چل رہی۔۔سب کچھ رئیل ہے۔۔اور یہ حقیقت ہے کہ میرا دماغ ابھی تک یہ حقیقت قبول نہیں کر پارہا کہ میں نے اپنے ہی بھائی کے قاتل کی بہن سے نکاح کرلیا ہے۔۔‘‘مصطفیٰ کے لفظ سیدھا دل پر جاکر لگے تھے۔۔اور کتنی رسوائی اسکے نصیب کا حصہٰ تھی۔۔ضبط کی زیادتی کے باعث آنکھیں سرخ پڑگئیں تھیں۔ ’’آپ تو کہتے تھے کہ ثمرہ کچھ بھی ہوجائے لیکن میں کبھی تم سے محبت کرنا نہیں چھوڑ سکتا۔۔‘‘اس کے لہجے میں دکھ شامل تھا۔۔ ’’یہ سب پہلے کی باتیں تھیں ثمرہ۔۔۔جب یہ حالات نہیں تھے۔۔‘‘اس نے اسے وقت کی نزاکت کا احساس کرانا چاہا۔ ’’میں اکیلے گھر میں نہیں رہونگی۔۔مجھے رات کو اکیلے ڈر لگتا ہے۔‘‘اس بار اسنے سپاٹ لہجے میں کہا،مصطفیٰ نے تاسف سے اسکی جانب دیکھا تھا۔ ’’تو آپ چاہتی ہیں کہ میں آپ کو اپنے ساتھ،اپنے گھر لے جاؤں۔۔مت بھولیں،میری ماں جس ثمرہ کا رشتہ لینے کی غرض سے آپ کے گھر کی دہلیز پر سوالی بن کر آئی تھی وہ انکے بڑے بیٹے کی پسند تھی،مگر اب وہ اپنے چھوٹے بیٹے کے قاتل کی بہن کو بہو کی حثیت سے کسی صورت بھی قبول نہیں کریں گی۔۔یہی حقیقت ہے اور . پلیز سمجھیں اس بات کو۔۔اسی لیے کہہ رہا ہوں،مجھے مزید کسی آزمائش میں نہ ڈالیں،کیونکہ ایک طرف بھائی کی روح،دوسری طرف ماں،اور۔۔۔۔۔‘‘اس نے سنجیدگی سے کہتے اختتامی لفظوں پر بمشکل خود پر قابو کیا تھا۔ ’’اور تیسری طرف ایک قاتل کی بہن،جو خون بہا میں آئی ہے۔۔آپ کو یہی ڈر ہے نا کہ وہ میرے ساتھ غلط رویہ نہ اختیار کرلیں۔کہیں بیٹے کی محبت نہ غالب ہوجائے اور وہ سچ میں مجھے خون بہا میں آئی ایک حقیر لڑکی سمجھ لیں۔۔اور یہ بات آپ کو گوارہ نہیں؟‘‘اس نے سوالیہ نگاہوں سےا سکی جانب دیکھا تھا۔ ’’جی بالکل ٹھیک سمجھی ہیں آپ۔ایسا ہی ہے۔۔کیونکہ حالات جو بھی ہوں،میں نے آپ کو نکاح میں لیا ہے۔۔صرف تحفظ کی بھیک مانگنے کے لئے آپ نے میرے سامنے اپنی عزت نفس کو کچل دیا تھا۔اور میں ان بے غیرت مردوں میں سے ہر گز نہیں ہوں جو کسی عورت کی مجبوری کا ناجائز فائدہ اٹھاؤں۔۔آپ کو محفوظ سائباب،اور سر چھپانے کو عزت کی چھت چاہئے تھی نا،میں آپ کو وہ وہ عزت دینے کے لئے تیار ہوں۔۔مگر آپ کو میری یہ بات ماننی پڑے گی۔۔اور الگ فلیٹ میں رہنے ہوگا۔۔۔باقی مستقبل کے حوالے سے ابھی میں نے کچھ نہیں سوچا،اور نہ ہی اپنے بھائی کے قتل کا بدلہ لئے بغیر کچھ سوچنا چاہتا ہوں۔مگر میں اس میس میں آپ کو بھی پریشان نہیں کر نا چاہتا۔۔‘‘وہ ایک گہری سانس کھینچ کر خاموش ہوا۔۔ ’’آگر آنٹی میرے ساتھ کسی بھی قسم کا ہتک آمیز رویہ اختیار کریں گی تو آپ بے فکر رہیں۔۔میں کبھی آپ سے شکایت نہیں کرونگی۔۔آپ چاہیں تو ساری زندگی مجھے بیوی نہ قبول کیجئے گا،اب مجھے ویسے بھی اپنی زندگی میں کسی کے آنے یا جانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔۔۔ مگر میں الگ گھر میں چھپ کر ہرگز نہیں رہونگی،نکاح کیا ہے گناہ نہیں۔۔۔‘‘‘وہ تلخی سے بولی۔ ’’ثمرہ لیکن ماں۔۔۔۔‘‘وہ کسی صورت آمادہ نہیں تھا۔ ’’بے فکر رہیں آپ۔۔آگر انٹی کچھ کہہ بھی دیں گی تو ایک مظلوم ماں کی تکلیف سمجھ کر برادشت کرلونگی،ویسے بھی ایک جانوار سے بھی اسکی اولاد الگ کردو تو وہ مرنے مارنے پر اتر آتا ہے وہ تو پھر جیتی جاگتی انسان ہیں۔۔۔جوان سال بیٹا کھویا ہے انہونے۔۔انکا دکھ بہت بڑا ہے۔۔۔‘‘مصطفیٰ اس بار خاموش رہا،آنکھیں ضبط کی زیادتی سے سرخ ہوگئی تھیں۔۔جبکہ گاڑی کو اب مصطفیٰ پیلس کر راستے پر گامزن دیکھ وہ خاموش ہوگئی تھی۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’مما!ثمرہ کہاں ہے؟‘‘وہ حد درجہ حیرانگی سے بولی،جبکہ جبران خاموش رہے تھے۔۔ ’’تمہاری وہ پارسا بہن احد مصطفیٰ کے ساتھ شادی رچا آئی ہے۔۔جیسے تم سیدھا اور معصوم سمجھتی تھیں،وہ بہت تیز نکلی ہے۔۔‘‘فرناز نفرت سے گویا ہوئیں۔۔ ’’ماما !آئی کانٹ بلیو دس!یہ کیا کر دیا ہے آپ لوگوں نے۔۔۔ہوسکتا ہے احد مصطفیٰ نے بھی ثمرہ کو ایسے ہی بلیک میل کیا ہو،جس طرح آپ لوگوں نے کیا تھا۔۔۔اور زبردستی کوئی دھمکی لگا کر اس سے نکاح کرلیا ہو۔۔‘‘جبران صاحب جو خاموش بیٹھے تھے۔قصویٰ کی باریکی بینی پر چونکے۔۔ ’’شٹ اپ!تم بچی ہو ابھی۔۔تم نہیں سمجھوگی۔‘‘فرناز نے بیٹی کو آنکھیں دیکھائیں۔ ’’بابا!آپ تو اس کی بات سنتے۔۔مما کو تو ویسے بھی ثمرہ سے خدا واسطے کا بیر ہے۔۔‘‘اس نے ذرا تاسفی لہجے
