Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Episode no 04
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 14/05/2026
13 Views
Episode no 04
ہارا جنون از_ہما_قریشی قسط_نمبر_4 ’’اوہ شٹ!‘‘وہ اپنی کار میں واپس آکر بیٹھا تو اسکی پہلی نگاہ سیدھی ڈیش بورڈ کی جانب اٹھی تھی، جہاں ثمرہ اپنا موبائل رکھا بھول گئی تھی۔جبھی ذرا آگے ہوکر نگاہ سیٹ پر ڈالی تو نیچے اسکا بیگ بھی پڑا تھا،جو شاید اسے گاڑی سے نکالتے وقت ہی گر گیا تھا۔۔ ’’ثمرہ پتہ نہیں ،آپ نے مجھے کس مشکل میں ڈال دیا ہے۔‘‘وہ بڑبڑاتا ہوا اسکا موبائل اور بیگ اٹھا کر ُالٹے قدموں واپس آیا تھا۔۔اسکا ارادہ گارڈ کو چیزیں پکڑا کر واپس پلٹنے کا تھا،مگر پھر کچھ سوچ کر خود ہی گھر کے آندرونی حصےٰ کی جناب قدم بڑھائے تھے۔۔گارڈ میں تو اتنی ہمت ہی نہیں تھی کہ کوئی سوال کر سکتا۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’یہ کیا حرکت کی ہے تم نے بے حیا لڑکی!‘‘جبران صاحب مصطفیٰ کے جاتے ہی سخت لہجے میں غرائے تھے۔۔۔ ’’بابا میں ۔۔۔نے صرف بھائی کی بھلائی چاہی تھی،مگر مصطفیٰ!‘‘اس نے کپکپاتے لفظوں میں اپنا دفاع کرنا چاہا تھا۔ مصطفیٰ نجانے اسے کس ازیت میں ڈال گیا تھا۔۔ ’’میری بات پر یقین۔۔‘‘وہ بے ربطگی سے بولتی باپ کا غصےٰ سے سرخ پڑتا چہرہ تک رہی تھی۔۔ ’’شٹ اپ! یہ فضول کے بہانے بنانے بند کرو۔۔تم نے خون بہا کی آڑ میں اپنی دلی خواہش پوری کی ہے۔۔شادی کرنا چاہتی تھیں نا تم اس لڑکے سے۔۔۔ تو بھلا ہاتھ آیا موقع کیسے جانے دیتیں۔۔۔میں بھی سوچوں ایک لڑکی کی غیرت اس بات کو کیسے گوارہ کر سکتی ہے کہ وہ خود چل کر کسی مرد کے پاس جائے اورخون بہا کا تقاضہ کرے۔۔۔۔اب سمجھ آیا خون بہا کی آڑ میں عاشقایہ پوری کی جا رہی تھیں۔بدبخت خون بہا میں رقم دینے کا وعدہ کیا تھا تمھیں نہیں ۔جو نکاح کر کہ واپس آرہی ہو۔۔۔۔‘‘فرناز نے یکدم آگے بڑھ کر اسے بالوں سے پکڑ کر جھنجھوڑ ڈالا تھا۔۔ ’’بابا!‘‘ثمرہ کے منہ سے چیخ نکلی تھی۔۔جبکہ وہ بے حس بنے کھڑے تھے۔۔ ’’آپ تو باپ ہیں میرے۔۔آپ تو میری بات کا یقین کریں۔۔‘‘اس نے روتے ہوئے التجا کی تھی۔۔۔ ’’خاموش ہوجاؤ بد بخت۔۔تمہیں ہم نے وہاں بھائی کی زندگی بچانے کے لئے بھیجا تھا۔اور تم نے وہاں اپنی شادی رچا لی۔بدکردار،بےحیا۔۔۔۔‘‘ثمرہ نے بے یقینی سے باپ کی جانب دیکھا تھا،فرناز سوتیلی تھیں اسکی بات دل پر نہیں لگتی تھی،جبکہ مقابل کھڑا شخص اسکا باپ تھا اسکا ایک لفظ بھی دل چھلی کر جاتا تھا۔۔اور جبران اسکے جذبات ،احساسات،مان ،ہر چیز کا قتل کرچکے تھے۔۔افسوس کہ اس پر پتھر اچھالنے والوں میں پہلا شخص اسکا باپ تھا۔۔پورا زمانہ بدکردار کہہ دیتا تو شاید فرق نہ پڑتا،مگر باپ نے کہا تھا تو وہ پورے وجود سے بلبلا اٹھی تھی۔۔۔ اپنی اس غلطی کا الزام وہ مصطفیٰ پر بھی نہیں ڈال سکتی تھی کیونکہ اس نے تو عین لمحات تک اسے انکار کیا تھا،مگر وہی تھی جو بلیک میلنگ پر اتر آئی تھی۔۔نجانے اسے کیا ہوگیا تھا۔۔۔ ’’بہتر ہے کہ اپنے اس شوہر کے گھر دفعہ ہوجاؤ،میں اب مزید تمہارے وجود کو اپنے گھر کی چھت تلے ہر گز بھی برداشت نہیں کر سکتا۔۔‘‘ثمرہ اب اپنا دفاع نہیں کر رہی تھی،بلکہ خاموش ہوگئی تھی۔۔۔جبھی وہ اس پر ایک قہر بھری نگاہ ڈالتے وہاں سے جانے لگے۔۔ ’’سالوں پہلے جب ہماری ماں ،ہمیں روتا بلکتا چھوڑ اپنے کسی چاہنے والے کے ساتھ چلی گئی تھی نا،تو اس وقت لگا تھا کہ اس دنیا میں ابھی ہمارا باپ ہے، جو صرف ہمارا بھلا چاہتا ہے۔لیکن آج یقین ہوگیا کہ ماں کے ساتھ ساتھ ہم نے،خاص طور پر میں نے اپنا باپ بھی کھو دیا تھا۔۔آج اپنا آپ یتیم لگ رہا ہے مجھے۔۔۔جس کے ساتھ دنیا کچھ بھی کرے مگر کوئی سوال جواب کرنے والا نہیں ہوتا۔۔۔۔‘‘اس کے لہجے میں کرب بول رہا تھا،جبران صاحب کے قدم اب زنجیر ہوئے تھے۔۔۔ ’’بدبخت!کیسی بے حیا بیٹی ہے۔۔زندہ باپ کو ہوتے ہوئے خود کو یتیم بول رہی ہے۔۔دفعہ ہوجاؤ یہاں سے۔۔‘‘فرناز نے ایک جھٹکے سے اسکے بالوں کو جھٹکا دیتے دروازے کی جانب دھکا دیا تھا،اور وہ لڑکھڑا کر گر پڑتی آگر سامنے سے آتا وجود اسے تھام نہ لیتا۔۔ ثمرہ نے ذرا سی نظر اُٹھا کر اس مہربان شخص کو دیکھا تھا،جس نے اسے اپنا نام دے کر اسکا بهرم رکھ لیا تھا۔۔اور پھر اپنے ساتھ ہوتا سلوک دیکھ اسکے آنکھوں سے آنسورواں ہوگئے تھے،جبکہ احد کے چہرے پر بلا کی سختی تھی۔۔۔اس نے اسے کندھوں سے تھام کر سہارا دیا تھا۔۔۔ ’’مسز جبران آپ کی ہمت کیسے ہوئی میری بیوی کے ساتھ یہ سلوک کرنے کی؟‘‘وہ ثمرہ کو بری طرح سسکتا دیکھ بری طرح سے دھاڑا تھا۔۔۔جبران نے دھل پر اپنی بیٹی کو دیکھا تھا جو انکے دشمن کے حصار میں کھڑی سسک سسک کر رو رہی تھی۔،، ’’آگر اتنی ہی پرواہ ہے اپنی بیوی کو تو اپنے ساتھ لے جاؤ اس بے حیا کو۔۔ہمارے دَر پر کیوں چھوڑ کر جا رہے ہو۔۔‘‘فرناز نے نفرت آمیز لہجے میں غرا کر کہا۔۔۔مصطفیٰ نے ایک نظر بلکتی ہوئی ثمرہ کو دیکھ ایک طیش بھری نگاہ جبران پر ڈالی تھی۔۔جو پتھر کا مجسمہ بنے بیٹھے تھے۔۔۔ ’’مجھے یہ گماں تھا کہ ایک لڑکی کے لئے اس کے باپ کے گھر سے زیادہ کوئی جگہ اتنی محفوظ نہیں ہوسکتی ۔ایک باپ سے بڑھ کر کوئی مضبوط سائبان نہیں ہوسکتا ۔مگر میں غلط تھا۔۔۔مجھے ابھی ابھی ادراک ہوا کہ یہ گھر نہ پہلے کبھی ثمرہ جبران کے لئے تھا اور نہ ہی اب ثمرہ مصطفیٰ کے لئے محفوظ ہے۔۔‘‘ وہ اسے یونہی حصار میں لئے کھڑا تھا،جبران نے یہ منظر دیکھ نگاہیں پھیر لی تھیں۔۔ ’’اب تو آپ پر ڈبل حساب نکلتا ہے جبران صاحب۔ایک میرے معصوم بھائی کے خون کا دوسرا میری بیوی کے ساتھ یہ سلوک روا رکھنےکا۔۔۔۔میرے بدلے کے لئے تیار رہیئے گا۔۔میں انہیں یہاں چھوڑ۔۔‘‘اسکا جملہ ابھی ادھورا ہی تھا،جب ثمرہ نے جھٹ سے سر اٹھا کر اسکی جانب دیکھا تھا،اور زور زور سے نفی میں سر ہلانے لگی۔۔ ’’نہیں۔۔مصطفیٰ۔۔پلیز۔۔مجھے یہاں چھوڑ کر مت جائیے گا۔۔مجھے۔۔مجھے اپنے ساتھ لے جائیں۔۔مجھے یہاں نہیں رہنا۔۔۔میں آپ کے گھر میں ،آپ کی ملازمہ بن کر رہ لونگی۔۔مگر پلیز مجھے یہاں چھوڑ کر مت جائیں۔۔۔‘‘احد کو یکدم شرمندگی نے آن گھیرا تھا،وہ لڑکی واقعی صحیح تو کہہ رہی تھی کہ وہ بہت بے بس تھی،اور اسکی یہ بے بسی اسکے لفظوں سے واضح جھلک رہی تھی۔۔۔ ’’آپ فکر نہ کریں۔۔کیونکہ میں آپ کو چھوڑ کر کہیں بھی نہیں جارہا۔۔۔آپ میرے ساتھ جائیں گی۔۔اور جبران صاحب آپ میری جانب سے کی گئی انتقامی کارروائی کے لئے تیار رہیے گا۔۔‘‘ وہ درشت لہجے میں بولتا،روتی ہوئی ثمرہ کو اپنے حصار میں لئے پلٹ آیا تھا۔۔ جبکہ وہ پیچھے اپنا سا منہ لے کر رہ گئے تھے۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’ثمرہ پلیز ریلیکس!یہ پانی پئیں آپ۔۔‘‘اس نے پانی کی بوتل اسکی جانب بڑھاتے نرمی سے کہا۔۔جو پورے وجود سے کانپ رہی تھئ۔۔ ’’نہیں۔۔۔مجھے نہیں پینا۔۔‘‘اس نے سسکیاں بھرتے ہانپتے ہوئے لہجے میں کہا تھا،جبکہ وہ پریشانی سے پیشانی مسلنے لگا۔۔ ’’ثمرہ پلیز آپ رونا تو بند کریں۔۔۔۔‘‘اس نے اس بار زچ ہوکر کہا تو وہ اسکے لہجے میں بیزاری سی محسوس کر دوبارہ سے رونے لگی۔۔مصطفیٰ کو سمجھ نہیں آیا وہ اس سچوئشن کو کیسے ہینڈل کرتا۔۔۔۔ ’’ثمرہ پلیز خاموش ہوجاؤ۔۔آگر ٹیشن میں آپ ہیں۔تو ٹینشن میں تو میں بھی بہت ہوں۔مجھے کچھ سوچنے دیں۔۔‘‘وہ جھنجھلا کر رہ گیا تھا۔۔جبکہ اسکی سیکریڑی کی کالز پر کالز آرہی تھیں۔۔جو اسے میٹنگز کے حوالے سے اپڈیٹس دینا چاہ رہی تھی ۔۔مگر وہ مسلسل اگنور کر رہا تھا۔۔۔ ’’میری وجہ سے۔۔۔میں بہت شرمندہ ہوں۔۔‘‘کچھ پل خاموشی کی نظر ہوئے تو وہ رندھے ہوئے لہجے
