Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Episode no 02
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 12/05/2026
8 Views
Episode no 02
اس دھن دولت کے بدلے میرا چھوٹا لاڈلا بھائی واپس لا کر دے سکتے ہیں؟؟؟آگر آپ اس طرح کر سکتے ہیں تو میں شارق جبران کو معاف کر کہ خون بہا کرنے کے لئے تیار ہوں۔۔‘‘ اس بار وکیل صاحب گڑبڑائے۔۔۔ ’’یہ آپ کیا بات کر رہے ہیں مصطفیٰ صاحب بھلا ایسے کیسے ممکن ہے۔۔‘‘وہ ذرا کھسیا کر رہ گئے۔ ’’جس طرح آپ اس دولت کے عوض میرا بھائی مجھے واپس لاکر نہیں دے سکتے،بالکل اسی طرح میں پیسے کے بدلے اپنے بھائی کے قاتل کو معاف نہیں کرسکتا سمجھے آپ۔۔‘‘وہ یکدم ہی غصےٰ سے چنگھاڑا تھا۔۔۔اسکی اس قدر سخت آواز پر گھر میں موجود تمام گارڈز ہی ڈرائینگ روم میں بھاگے چلے آئے تھے۔۔۔جبکہ وکیل یکدم اپنی جگہ چھوڑ کر کھڑا ہوگیا تھا۔۔۔۔ ’’بہتر ہے کہ آپ یہاں سے تشریف لے جائیں!‘‘وہ غصےٰ سے بولتا ڈرائینگ روم سے نکل آیا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بابا !اس سب میں میرا کیا قصور ہے؟آپ لوگ مجھے کس چیز کی سزا سنا رہے ہیں؟‘‘وہ اس وقت باپ کے گھٹنے سے لگ کر بیٹھی آنسوؤں سے لبريز چہرہ لیا سوالیہ لہجے میں بولی تھی۔۔ ’’تمہارا قصوریہ ہے کہ وہ شخص،ہم سے اپنی بے عزتی کا بدلہ لے رہا ہے،جس کی زمہ دار صرف تم ہو۔‘‘صوفے پر نزدیک بیٹھی فرناز نے درشتگی سے کہا تھا۔۔ ’’مگر بابا!اس نے کچھ کہنا چاہا تھا۔۔ ’’بس خاموش ہوجاؤ۔۔۔۔اور بہتر ہے کہ جیسے تمہاری ماں کہتی ہے بالکل ویسا ہی کرو۔۔‘‘ثمرہ نے بے یقینی سے باپ کو دیکھا تھا،کیا واقعی مقابل بیٹھا شخص اسکا سگا باپ تھا۔۔ ’’یہ کیا فضول بکواس ہے بابا!اس سارے میس میں ثمرہ کا کیا قصور ہے بھلا؟ قتل آپ کے بیٹے نے کیا ہے تو اسکا بھگتان یہ کیوں بھتگے گی۔۔‘‘قصویٰ نے بہن کا دفاع کیا تھا۔۔ ’’تم خاموش رہو قصویٰ،احد مصطفیٰ تمہاری بہن کی محبت رہا ہے،تم دیکھنا یہ منت کرے گی تو وہ خون بہا کرنے کو ضرور تیار ہوجائے گا۔۔‘‘فرناز نے ذرا نخوت بھرے لہجے میں کہا۔۔ ’’لیکن بابا آپ تو۔۔‘‘قصویٰ نے تاسفی نظروں سے ماں کو دیکھا۔ ’’بس خاموش ہوجاؤ بیٹا!صحیح کہہ رہی ہے تمہاری ماں،ثمرہ بات کرے گی تو وہ ضرور مان جائے گا،اب کیا میں اس فضول سی انا کے چکر میں اپنے بیٹے کو پھانسی کے پھندے پر لٹکا دوں۔‘‘ وہ ناگواری سے غرائے۔ ’’تم اٹھو یہاں سے۔‘‘انہونے پاؤں میں بیٹھی بیٹی کو جھڑک دیا تھا،جبکہ ثمرہ زرشرمندہ شرمندہ سی اٹھتی ہوئی بھاگنے کے آنداز میں وہاں سے جانے لگی تھی ’’رک جاؤ۔۔‘‘فرناز کی کرخت آواز پر اسکے قدموں کو بریک لگی تھی۔۔ ’’تم کل ہی احد مصطفیٰ کے آفس جاؤگی اور اسے خون بہا کے لئے کنوینس کرونگی۔۔۔میری ایک بات کان کھول کر سن لو ثمرہ،کچھ بھی ہوجائے تم اس شخص کو راضی کئے بغیر گھر واپس نہیں آؤگی۔‘‘فرناز نے ساتھ تنبیہ کی تو وہ حیرانگی سے انکی جانب پلٹی۔ ’’آپ کہنا کیا چاہتی ہیں؟آگر وہ نہیں مانے تو میں انہیں فورس تو نہیں کر سکتی ناں۔‘‘اس بار وہ سختی سے غرائی تھی۔۔ ’’کیوں نہیں مانے گا۔۔جب وہ تم سے شادی کرنے کے لئے مان سکتا ہے،تمہارے پیچھے تمہارے باپ سے بدتمیزی کر سکتا ہے،تو تمہاری خاطر تمہارے بھائی کو اپنے بھائی کا قتل کیوں نہیں معاف کر سکتا؟؟‘‘ فرناز کی گوہر افشائی پر اسکا چہرہ شدید ضبط کے باعث سُرخ پڑ گیا تھا۔ ثمرہ نے ایک شکوہ کناں نظر باپ پر ڈالی،جو سوتیلوں سے زیادہ برا رویہ اختیار کئے ہوئے تھے۔۔ ’’ماما پلیز!آپ ثمرہ کو اس طرح لیٹ ڈاؤن نہیں کر سکتیں۔‘‘قصویٰ نے ایک بار پھر مداخلت ضروری سمجھی تھی۔۔ ’’ ڈانٹ وری قصویٰ !میں کل احد مصطفیٰ کے آفس ضرور جاؤنگی،اور آپ دونوں بے فکر رہیں۔۔میں مرنا پسند کرونگی مگر آپ کے لاڈلے کی جان بخشی کی نوید لئے بغیر علوی ہاؤس کی دہلیز پار کرنا نہیں۔‘‘وہ درشت لہجے میں بولتی تیزی سے باقی سیڑھیاں بھی عبور کر گئی تھی۔۔۔جبکہ پیچھے سے فرناز نے نخوت سے سر جھٹکا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شام کا وقت تھا،شارق قتل کے کیس میں حوالات میں موجود تھا،وہ زمین پر بیٹھا اب اپنے غصےٰ پر افسوس کر رہا تھا۔۔کاش کے اسے وہ بے وقت غصہٰ نہ آیا ہوتا تو اس وقت مزمل زندہ ہوتا اور وہ اپنے اپنی لائف انجوائے کر رہا ہوتا۔۔بھلا ایک کار کی کیا ہی اوقات تھی۔۔۔۔ ’’تمہاری ملاقات آئی ہے۔۔‘‘وہ حولدار کی آواز پر چونکا،جہاں سامنے ہی وکیل کی ہمراہی میں اسکا باپ کھڑا تھا۔۔ ’’کیسے ہیں شارق صاحب!‘‘وکیل صفدر محمود نے شارق کی پتلی ہوئی حالت دیکھ معنی خیز ی سے خیریت دریافت کی۔۔ ’’بابا ضمانت کا کچھ ہوا؟‘‘اس نے سیدھا باپ کو مخاطب کیا،جو جوان بیٹے کو یوں حوالات کے پیچھے دیکھ رنجیدہ ہورہے تھے۔۔ ’’نہیں احد مصطفیٰ اس وقت بہت غصےٰ میں ہے۔۔خون بہا کے لئے بھی نہیں مان رہا ہے۔۔ہم نے ہر ممکن کوشش کی کہ ہم اسے منا لیں مگر ساری کوشیش بے کار گئیں۔۔۔وہ تو تمہارے خون کا پیاسہ بنا گھوم رہا ہے۔۔‘‘شارق نے پریشانی سے چہرے پر ہاتھ پھیرا تھا۔۔ ’’تو پھر؟‘‘ ’’تو پھر یہ کہ شارق صاحب مینٹلی طور پر آپ ہر طرح کی صورت حال فیس کرنے کے لئے تیار رہیں۔۔کیونکہ جہاں تک میں سمجھ پایا ہوں مصطفیٰ صاحب آپ کو اتنی آسانی سے نہیں بخشیں گے۔۔ ہم اپنی پوری کوشیش کریں گے کہ یہ کیس ہم ہی جیتے مگر پھر بھی۔۔‘‘وکیل صاحب پر شاید احد کے سخت رویے کا اثر تھا کہ انہو ں نے ڈینگے مارے بغیر شارق کو باور کرایا تھا۔۔ ’’وکیل صاحب!ہمیں دو منٹ چاہئے!‘‘ ’’شیور!‘‘وہ سر ہلاتے سائیڈ پر ہوگئے تھے۔۔ ’’تم فکر نہ کرو ،تمہاری ماں نے اور میں نے مل کر حکمت عملی بنائی ہے،بس دعا کرو یہ والا آئیڈیا کام کر جائے۔۔‘‘انہونے بے حسی کی انتہا کر رکھی تھی۔۔۔ ’’وہاٹ؟یہ کیا بکواس ہے بابا۔۔۔اب آپ لوگ ثمرہ کو استعمال کریں گے؟‘‘اس کے آگ ہی تو لگ گئی تھی۔۔ ’’ہاں تو ؟؟پھر تم کیا پھانسی کے پھندے پر لٹکنا چاہتے ہو؟‘‘انہونے دانت پیسے۔۔ ’’نہیں!مگر میری بہن کو اس سب میں بیچ میں لانے کی قطعً کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔‘‘اس نے بناگواری سے کہتے غرا کر کہا۔۔ کسی کی غیر ت نے تو جوش مارنا ہی تھا۔۔ ’’تم اپنے مشورے اپنے پاس ہی رکھو،تمہارے اسی جذباتیت کی وجہ سے آج ہم اس مشکل میں پھنسے ہوئے ہیں۔۔بہنوں کا آگر اتنا ہی خیال تھا تو ایسی حرکتیں کرنی ہی نہیں چاہئے تھیں نا۔۔‘‘وہ خاموش رہا۔۔ ’’اب وکیل صاحب کی سنو!یہ جیسا کہتا ہیں بالکل ویسا ہی کرنا۔۔۔اوکے!‘‘وہ بول کر وہاں سے نکل آئے تھے،جبکہ شارق لب بھینچ کر رہ گیا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’تم آخر چاہتی کیا ہو لڑکی؟ کیوں میرے معاملات میں دخل آندازی کرتی ہو؟‘‘انہونے غصےٰ سے غرا کر پوچھا تھا،جبکہ عریشہ پاگلوں کی طرح ایک ایک چیز کھنگال کر دیکھ رہی تھی۔۔ ’’اوہ پلیز مما!مجھے پاگل سمجھنے کی کوشش بھی نہ کیجئے گا۔۔ کیا کہا تھا مجھ سے آپ نے۔کہ وہ جسٹ آپ کا فرینڈ ہے۔۔۔اور اب آپ اس سے شادی کرنا چاہ رہی ہیں۔۔‘‘ وہ اپنی سوتیلی ماں کی حرکتیں سن پاگل ہونے کے در پر تھی۔ ’’ہاں تو کیا میں اب اپنی ساری عمر تمہارے باپ کی بیوہ بن کر گزار دوں؟‘‘ انہونے ناگواری سے غرا کر کہا تھا۔۔ ’’اوہ پلیز !خاموش رہیں آپ۔۔اور مجھے بتائیں آپ کا پاسپورٹ کہاں ہے۔۔کیونکہ آپ میرے ساتھ پاکستان واپس جا رہی ہیں۔۔‘‘ اس نے ذرا ناگوار لہجے میں کہتے ان کی طبیعت صاف کی تھی۔۔ ’’تم تو بالکل ہی پاگل ہوگئ ہو لڑکی۔۔اور تمہاری نالج میں اضافہ کرتی چلوں۔میرا پاسپورٹ ایکسپائر ہوچکا ہے۔۔‘‘عریشہ نے ضبط سے آنکھیں میچ لیں۔۔ ’’آپ میرے ساتھ
