Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Episode no 02
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 12/05/2026
8 Views
Episode no 02
ہارا جنون از_ہما_قریشی قسط_نمبر_2 ’’کہاں گھسے چلے آرہے ہیں آپ لوگ؟‘‘وہ ایس ایس پی کو گھر میں پوری نفری کے ساتھ گھر میں گھستا دیکھ کڑک دار آواز میں سوالیہ غرائے۔۔ ’’السلام علیکم جبران صاحب۔۔۔ آپ کو اب تک خبر تک لگ ہی چکی ہوگی کہ آپ کے بیٹے نے قتل کیا ہے۔‘‘وہ اب باقی نفری کو وہیں ٹھرنے کا اشارہ کرتے انکے نزدیک آئے تھے۔۔ ’’میرا بیٹا بے قصور ہے۔۔‘‘ وہ یکدم چنگھاڑے۔ ’’آگر آپ کا بیٹا بے قصور ہے تو اسے سامنے بلائیں،پولیس اپنی تفتیش خود کرے گی۔۔آگر آپ کا بیٹا بے قصور ہوا تو آپ کو واپس مل جائے گا۔بے فکر رہیں۔۔‘‘جبران صاحب غصےٰ سے پاگل ہورہے تھے،اب وہاں ثمرہ اور فرناز بھی چلی آئی تھیں۔۔ ’’کیا ہوا بابا؟اتنا شور کس بات کا ہے؟‘‘ قصویٰ نے ایک نظر پولیس کو دیکھ استفساریہ آنداز میں پوچھا۔۔ ’’میڈم آپ کے بھائی نے وجدان مصطفیٰ کے چھوٹے بیٹے مزمل مصطفیٰ کا قتل کیا ہے؟‘‘ وہ شہر کی ایک معروف بزنس شخصیت تھے،تو بھلا لوگ انکے نام سے کیسے نہ واقف ہوتے۔۔ ’’وہاٹ؟یہ کیا بکواس کر رہے ہیں؟‘‘ سب سے پہلے ثمرہ کو ہوش آیا تھا۔۔ ’’’جبران صاحب اپنے بیٹے کو بلائیں۔۔‘‘وہ مزید بولے،جبکہ شارق جو وہاں سے بھاگنے کی پلینگ میں تھا،گھر میں پولیس کو دیکھ الٹے قدموں بھاگا تھا۔۔ ’’پکڑو اسے!‘‘پولیس اہلکار نے گھر میں ہی اسے چاروں جانب سے گھیر لیا تھا۔۔ ’’بابا!‘‘وہ خود کو چاروں طرف سے گھرا محسوس کر کشمکش میں گھرا، کود کر دوسری جانب سے بھاگنے کو پر تولنے لگا،جبھی دور کھڑے ایس ایس پی نے اسکی ٹانگ کا نشان لیا تھا اور فائر کھول دیا تھا۔ ’’شارق۔۔۔یا میرے اللہ!‘‘ایک ساتھ کئی خوفزدہ آوازیں بلند ہوئیں تھیں۔ ’’یہ آپ کیا کر رہے ہیں ایسی پی صاحب!‘‘قسمت اچھی تھی کہ نشان چونک گیا تھا،مگر اب وہ زمین پر گرتا مکمل طور پر پولیس کی حراست میں تھا۔۔ ’’شکر کریں جبران صاحب کہ ہم آپ کا لحاظ کر رہے ہیں۔۔وگرنہ اس سے بہتر طریقے سے کارروائی بھی کرنا جانتے ہیں۔۔‘‘ ایسی پی کے کاٹ دار لہجے پر وہ لب بھینچ گئے۔۔ ’’’چلو یہاں سے۔۔‘‘وہ شارق کو ہتھکڑیاں لگاتے وہاں سے نکل آئے تھے،جبکہ ثمرہ اور قصویٰ بری طریقے سے رونے لگی تھیں۔۔ ’’’جبران صاحب کچھ کریں وہ ہمارے شارق کو اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔۔‘‘ فرناز نے حواس باختہ سے جبران کو جھنجھوڑ ڈالا تھا۔۔ ’’’تمہارے بیٹے کی حرکتیں ہی ایسی ہیں کون کیا کر سکتا ہے بھلا۔۔‘‘وہ نخوت سے سر جھٹکتے خود بھی پولیس اسٹیشن جانے کے لئے نکلے تھے،تاکہ معاملے کی طے تک پہنچا جا سکے۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسٹریلیا کے شہر ملبرن پر ایک اور سنہری شام اُتر آئی تھی۔۔جبکہ اپنے روم میں موجود عریشہ گلاس ونڈو سے پار کے مناظر پر نظریں جمائے کھڑی پرسکون سانسیں بھر رہی تھی۔۔جبھی کھٹکے کی آواز پر وہ چونکی ضرور تھی،مگر رخ پلٹ کر دیکھنے کی زحمت ابھی بھی نہیں کی گئی تھی۔۔ ’’تم آخر چاہتی کیا ہو ہنی!تمہارا باپ ہمیں چھوڑ کر اس دنیا سے چلا گیا ،اور کونسی سزا دینا چاہتی ہو مجھے۔۔‘‘وہ حد سے زیادہ رنجیدگی کے عالم میں گویا ہوئیں تھیں۔۔ ’’مام پلیز!‘‘وہ ناگوار لہجے میں چنگھاڑی۔ ’’کیا پلیز!مسٔلہ کیا ہے آخر تمہارے ساتھ۔۔تم کیوں پاکستان واپس جانا چاہتی ہو۔۔‘‘ وہ اس بار غصےٰ سے بولیں۔۔ ’’آپ کو یہاں اپنے بوائی فرینڈ کے ساتھ رہنا تو شوق سے رہیں مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے،مگر میں پاکستان واپس جانا چاہتی ہوں ،اٹس ڈیٹ کلئیر!‘‘ اس نے پھاڑ کھاتے لہجے میں کہتے ماں کو باز رکھا تھا۔۔۔ ’’اوکے ایز یو وش!‘‘وہ کندھے اچکا گئیں،سال پہلے ہی انکا شوہر اس دنیا سے گیا تھا،جب سے انہونے اپنے شوہر کی اس بیٹی کو اپنی بیٹی طرح پالا تھا،مگر آگر اب وہ اپنی من مانی کرنا چاہتی تھی تو وہ فورس نہیں کر سکتی تھیں۔۔ ’’میری ایک ہفتے بعد پاکستان کی کی فلائٹ ہے ۔‘‘ اس نے مزید آگاہ کیا۔ ’’ اوکے فائن!‘‘وہ اتنا بول کر کمرے سے باہر نکل گئیں تھیں،جبکہ اب وہ کھڑکیاں کھولتی باہر کی پرسکون فضا میں سانس لے رہی تھی۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’مصطفیٰ مصطفیٰ میرا مزمل!میرا مزمل مجھے لادو۔۔میں نہیں جانتی مجھے میرا بیٹا واپس چاہئے۔۔۔‘‘مزمل کو اس دنیا سے گئے پندرہ دن ہونے کو آگئے تھے،اور شارق جب سے ہی جیل میں تھا،اس کے خلاف قانونی کارروائی شروع ہو چکی تھی۔۔ ’’ماں حوصلہ رکھیں۔۔۔آپ اس طرح کریں گی تو مزمل کو تکلیف ہوگی۔۔‘‘خود پر ضبط کے کڑے پہرے بیٹھائے وہ ماں کو دلاسہ دینے لگا،جو مسلسل روئے جا رہی تھیں،وہ آج آفس جانے کا ارادہ رکھتا تھا،مگر جانے سے قبل وہ ماں سے ملنے انکے روم میں آیا تھا،جبکہ وہ بیٹے کو دیکھ ایک بار پھر چھوٹے کی یاد میں بکھر سی گئیں تھیں۔۔ ’’نہیں۔۔۔مجھے صبر نہیں آتا مصطفیٰ!بس کچھ بھی کرو مگر مجھے میرا بیٹا واپس چاہئے!‘‘ انہونے ذرا ضدی لہجے میں کہا۔۔ ’’اوکے اوکے ریلیکس!ابھی آپ یہ میڈیسن لیں ، تھوڑا آرام کریں،مزمل ہمارے پاس آجائے گا۔۔‘‘انکی حالت کے پیش نظر انہیں نیند کی گولی کھلاتا وہ بستر پر لیٹاتا ان پر چادر برابر کرتا روم سے نکل آیا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’الماس خالہ!آپ پلیز ماں کا دھیان رکھئے گا۔۔میں کچھ دیر میں آفس سے واپس آجاؤنگا۔۔جب تک مما آپ کی زمہ داری ہیں۔۔۔‘‘وہ ذرا مصروف لہجے میں بولا تھا۔۔ ’’ٹھیک ہے مصطفیٰ بابا!‘‘الماس بیگم انکی کافی پرانی اور خاندانی ملازمہ تھیں،مزمل اور احد کی پرورش اِنہی کے ہاتھوں میں ہوئی تھی۔۔۔مصطفیٰ ہداہت جاری کرتا گھر سے نکل آیا تھا جبکہ وہ ا ب اپنے کاموں میں جت گئیں تھیں۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’جبران آپ کچھ کرتے کیوں نہیں ہیں۔۔کیا فائدہ اتنی مال و دولت کا جب ہم ہمارے بیٹے کو ہی نہیں بچا سکتے۔۔‘‘وہ درشت لہجے میں چنگھاڑی تھی۔۔جبکہ وہ ماتھا مسلتے پریشان دکھائی دے رہے تھے۔۔عدالت سے تاریخ پر تاریخ تو مل رہی تھی مگر وہ ضمانت کرانے میں پھر بھی کامیاب نہیں ہورہے تھے۔۔ ’’میں نے بات کی ہے وکیل سے۔۔وہ آج شام جائے گا مصطفیٰ ہاؤس ،ان سے خون بہا کی بات کرنے۔۔‘‘انہونے پیشانی مسلی تھی۔۔جبکہ ثمرہ بالکل خاموش کھڑی تھی۔۔ ’’اس کی تو ویسے ہی ہم سے پرانی دشمنی ہے اس لڑکی کی وجہ سے۔۔۔ ‘‘انہونے ناگواری سے ثمرہ کو دیکھا،جو خاموش رہی۔ ’’بس چپ ہوجاؤ فرناز!ابھی میں بہت ٹینشن میں ہوں۔۔آگر وہ خون بہا کے لئے مان گئے تو ہمیں بدلے میں بزنس کے ۵۱ پرسنٹ شئیرز کے ساتھ ساتھ شاید یہ گھر بھی چھوڑنا پڑے۔۔‘‘ بیٹا بہت عزیز تھا،مگر یہ مال و دولت بھی تو بہت محنت سے بنایا تھا۔۔ ’’کیا؟؟مگر اتنا سب دینے کی کیا ضرورت ہے؟‘‘اس بار انکے ماتھے پر بل نمودار ہوئے۔ ’’تو ظاہر سی بات ہے، تمہیں کیا لگتا ہے وہ بزنس ٹائیکون احد مصطفیٰ کیا صرف چند کڑوڑ میں راضی ہوجائیے گا۔۔۔‘‘انہونے ناگواری سے بیوی کو دیکھا،جو خاموشی اختیار کر گئیں۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شام کا وقت تھا،مصطفیٰ ہاؤس کے شاہانہ طرز کے بنے ڈرائینگ روم میں موجود وکیل صاحب جبران صاحب کا پیغام لے کر حاضر ہوئے تھے۔۔ ’’آپ ایک بار پھر سوچ لیں مصطفیٰ صاحب جبران صاحب اپنے بیٹے کی جان کے بدلے خون بہا میں منہ مانگی قیمت ادا کرنے کے لئے تیار ہیں۔۔‘‘وکیل نے اسکے سنجیدہ چہرے پر سوچ کی پرچھائیاں رقم دیکھ ایک بار پھر باور کرایا۔۔ ’’جی کیا کہا آپ نے؟؟‘‘ اس بار مصطفیٰ کڑے تیوروں سے انکی جانب پلٹا تھا۔۔ ’’یہی کہ آپ خون بہا میں جو چاہے ڈیمانڈ رکھ سکتے ہیں۔۔‘‘ وکیل صاحب نے اپنے الفاظ دہرائے تھے۔ ’’وکیل صاحب میں آپ کو جبران صاحب سے دگنی رقم دینے کے لئے تیار ہوں ،لیکن کیا آپ مجھے
