Do Pal Ko Thera Ishq Ka Karwan E Book Special Novel — Episode no 4
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 23/04/2026
33 Views
Episode no 4
ساتھ میں گولڈن فرائیڈ کباب، چکن ملائی بوٹی،بریانی فش،پرونز اور تازہ خمیری نان رکھے تھے۔ رائتہ میں ہلکے سے بھنے ہوئے زیرے کی خوشبو آ رہی تھی، اور ایک طرف فرنی اور گلاب جامن بھی موجود تھے۔اپنے ماں ،باپ کے گزر جانے کے بعد اتنے لزیز کھانے وہ آج دیکھ رہی تھی۔۔بلکہ وہ تو انکی خوشبو بھی بھول گئی تھی۔ورنہ اسکی ماں اسکی پسند کی ہر چیز بنا کر کھلاتی تھیں۔ "مقدس، تم نے کچھ لیا نہیں؟" عائشہ نے اسے کنفیوز دیکھ،اس کی مشکل آسان کرتے خود ہی سالن پلیٹ میں ڈالاتھا۔ "اور یہ ، بریانی تو آپ نے ضرور کھانی ہے، یہ ہماری اسپیشل ہے۔کیونکہ یہ میں نے خود اپنی بیٹی کے لئے بنائی ہے۔!" جی ضرور ، بہت اچھی لگ رہی ہے!شکریہ ۔۔" مقدس نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ پلیٹ آگے بڑھائی۔ اہتمام دیکھ کر آندازہ ہورہا تھا کہ یہ سب اسکے لئے تھا۔۔۔ مقدس نے پہلا نوالہ لیا، تو بے ساختہ ماں کی یاد ستائی تھی۔بریانی اسکی فیورٹ تھی اور وہ بہت محبت سے اسکے لئے بناتی تھیں۔۔۔ مقدس آپ کو پتہ ہے،بریانی ہمارے گھر میں سب کی فیورٹ ہے۔سوائے ایک شخص کے۔‘‘عثمان صاحب نے اسے نروس دیکھ بات کا آغار کیا۔۔ پوچھو کس کے؟‘‘ کس کے؟‘‘ بھئی اس گھر کے لاڈلے،اکلوتے چشم و چراغ کے۔۔اور تمھیں پتہ ہے،میرم اور عیسیٰ کی بہت لڑائی ہوتی تھی،عیسیٰ کو ہر بار پلاؤ چاہیے ہوتا تھا اور میرم کو بریانی،تو پھر بابا صاحب نے فکس کردیا کہ،اب جب بھی مینو میں بریانی ہوگی تو عیسیٰ کا پلاؤ بھی لازمی ہوگا۔‘‘وہ ہنستے ہوئے بتا رہے تھے۔ تو پھر آج بھی ایسا ہی ہوا ہے کیا؟‘‘وہ ذرا دلچسپی سے استفساریہ گویا ہوئی۔ نہیں !کیونکہ اب میرم کی شاد ی ہوچکی ہے،ہم بوڑھے ہوگئے ہیں،اب ہلکے نمک مرچ والی چیزوں پر آگئے ہیں،اس لئے اب ہم بھی پلاؤ ہی شوق سے کھاتے ہیں۔یہ بریانی تو ہم نے آپ کی وجہ سے آج مینو میں رکھوائی ہے،کیونکہ آپ بچوں کے آگے دنیا کی نعمت ایک طرف اور بریانی ایک طرف۔۔‘‘عثمان صاحب نے ذرا آنکھیں گھما کر کہا تھا،کیونکہ انکی لاڈلی کا بھی یہی حال تھا۔۔ ہاہاہا!میرے بابا بھی ایسے ہی بولتے تھے کہ مقدس اللہ کی دی ہوئی اتنی نعمتیں چھوڑ کر ، یہ اُبلے ہوئے چاول کھاتی ہو۔‘‘وہ یکدم باپ کو یاد کر بے ساختگی میں بول گئی۔۔سب یکدم خاموش ہوگئے تھے۔۔ وہ میرا مطلب!میرے بابا۔۔۔۔‘‘وہ خجل ہوئی۔۔ ’’بالکل ٹھیک کہتے تھے۔بھئی بریانی بھی اچھی ہوتی ہے مگر باقی نعمتوں کو یوں نظر آنداز کرنا ٹھیک نہیں۔‘‘وہ اتفاقیہ بولے،ساتھ ہی سب مسکرائے،تاکہ وہ اجنبیت محسوس نہ کرے۔۔عبداللہ صاحب محبت بھری نگاہوں سے اسی کی جانب دیکھ رہے تھے۔۔ملیحہ اور میرم کے بعد یہ پہلی لڑکی تھی جو انھیں دل کے نزدیک محسوس ہو رہی تھی۔اور ہوتی بھی کیوں نہ،آخر وہ انہی کے بھائی کا خون تھی۔اس خاندان کا خون تھی۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عبداللہ ہاؤس کے لان میں صبح کی تازگی ہر سو پھیلی ہوئی تھی۔ درختوں پر بیٹھے پرندے چہچہا رہے تھے، ہلکی ہلکی خنکی میں ہوا کے جھونکے سبزے کو ہلا رہے تھے۔ سورج کی پہلی کرنیں آسمان پر سنہری رنگ بکھیر رہی تھیں۔ عیسیٰ اپنی روزمرہ روٹین کے مطابق جاگنگ سے لوٹا تھا۔ ہلکی سانسیں بحال کرتا ہوا، وہ گیلری میں داخل ہوا۔ دراز قدامت ، کسرتی جسم اور خوبرو چہرہ تروتازہ تھا۔ کالی ٹریک پینٹ اور سفید ٹی شرٹ میں اس کی پرسنیلٹی مزید نمایاں لگ رہی تھی۔ بکھرے ہوئے سیاہ بالوں میں ہلکی نمی تھی، شاید پسینے یا پانی کے چھینٹوں کی وجہ سے۔ کلائی پر اسمارٹ واچ بندھی تھی، جو اس کے قدموں کی رفتار اور کیلوریز گن رہی تھی۔ وہ تولیے سے گردن پونچھتا ہوا سیدھا کچن کی طرف بڑھا تھا۔ اندر داخل ہوتے ہی اس نے ہاتھ بڑھا کر فریج کھولی اور پانی کی بوتل نکالی۔ پہلا گھونٹ لیتے ہی آنکھیں موند کر تازگی محسوس کی، پھر نگاہیں گھمائیں۔ کچن میں کوئی کھڑا تھا۔لمبے بالوں والی کوئی لڑکی تھی، جو کاؤنٹر کے قریب کسی الجھن میں گم تھی، جیسے کچھ ڈھونڈ رہی ہو یا کسی چیز کو سمجھنے کی کوشش کر رہی ہو۔ اس کا چہرہ عیسیٰ کی طرف نہیں تھا، بس پشت دکھائی دے رہی تھی۔ سفید رنگ کے سادہ سے سوٹ میں وہ اسے کوئی ملازمہ لگی تھی۔ظاہر ہے انکے گھر میں بھلا لڑکی کہاں سے آگئی تھی۔میرم پٹاخہ تو اپنے گھر کی ہوچکی تھی۔۔ عیسیٰ نے ایک نظر ڈالی اور معمول کے مطابق گویا ہوا۔۔۔ ’’میرے لیے ایک گلاس فریش جوس نکال دو، اور ہاں بیوقوفوں کی طرح اس میں چینی ڈال کر شربت مت بنا دینا پلیز۔۔ا!" وہ ذرا بیزاری سے بولتا بغیر اسکا جواب سنے یا پلٹنے کا انتظار کئے وپس باہر نکل گیا۔پہلے ایک ملازمہ یہ کارنامہ کر چکی تھی۔۔ مقدس جو کہ گلاس پکڑے سوچوں میں گم تھی، اچانک کسی مردانہ آواز سن کر چونکی۔ اس نے جلدی سے پیچھے مڑنے کی کوشش کی، مگر تب تک وہ شخص جا چکا تھا۔ یہ... یہ مجھ سے کہہ رہے تھے؟" وہ ہلکی آواز میں بڑبڑائی، اور فوراً اپنے ہاتھوں کو دیکھنے لگی۔۔۔۔۔ جاری ہے
