Do Pal Ko Thera Ishq Ka Karwan E Book Special Novel — Episode no 4
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 23/04/2026
33 Views
Episode no 4
دو پل کو ٹھہرا عشق کا کارواں ازقلم ہما قریشی 4 قسط نمبر عیسیٰ عبداللہ تیزی سے گاڑی ڈرائیو کرتا ہوا اپنے گھر کی طرف جا رہا تھا۔ ۔ گاڑی میں ہلکی آواز میں میوزک چل رہا تھا، اور وہ آرام دہ انداز میں اسٹیئرنگ پر ہاتھ رکھے سڑک پر نظریں جمائے ہوئے تھا۔ اچانک، جیسے ہی وہ ایک سگنل کے قریب پہنچا، ایک لڑکی بنا دیکھے سڑک پار کرنے لگی۔ عیسی نے اچانک ہوئی افتاد پر جھٹ سے بریک لگایا تھا ، اور گاڑی کے ٹائر رگڑنے کی آواز کے ساتھ چند انچ کے فاصلے پر رک گئے تھے۔آگر ابھی وہ بروقت بریک نہ لگاتا تو ابھی یہ منظر ایک خوفناک حادثہ کی شکل اختیار کر لیتا! مقدس جو آج آفس سے واپسی پر دیر ہوجانے کے باعث ذرا پریشان سی تیزی سے روڈ کراس کرنے لگی تھی کہ کسی کی گاڑی بالکل انچ بھر کے فاصلے پر ٹھہرتی دیکھ،خوفزدہ نظروں سے گاڑی کی طرف دیکھنے لگی۔ چہرے پر پریشانی کے آثار واضح تھے۔ عیسیٰ نے تیز روشنیوں میں اس لڑکی کے ہیولے کو دیکھ غصےٰ سے گہری سانس لی اور جھٹکے سے دروازہ کھول کر باہر نکلا۔مگر پھر بھی ضبط کرنا بالکل نہیں بھولا تھا،کیونکہ شاید نہیں یقیناً لڑکی خوفزدہ ہوگئی تھی۔۔ آر یو اوکے؟‘‘ اس نے پریشانی سے پوچھا۔ لڑکی نے سر اثبات میں ہلایا، مگر اس کی سانسیں ابھی بھی بے ترتیب تھیں۔ وہ شاید آفس سے واپس آ رہی تھی، اس کا لباس نفاست سے استری شدہ تھا اور ہاتھ میں فائلیں دبی ہوئی تھیں۔ آپ... آپ کی گاڑی بہت تیز تھی ۔۔‘‘ مقدس نے قدرے جھجھکتے ہوئے الٹا الزام اس کے سر ڈالا تھا۔۔ " وہ دونوں گاڑیوں کی تیز روشنی میں ایک دوسرےکا چہرہ واضح طور پر نہیں دیکھ سکے تھے۔۔ مجھے نہیں لگتا کہ میں کار اتنی تیز چلا رہا تھا، لیکن آپ کو دھیان سے چلنا چاہیے تھا۔ رات کو اس طرح سڑک پارکرناخطرے سے خالی ہرگز نہیں ہے۔‘‘اس نے خود پر ضبط کرتے نرمی سے کہا، مگر اس کے لہجے میں ہلکی سی ناراضی واضح تھی۔ لڑکی نے ایک نظر گھڑی پر ڈالی اور بغور اس شخص کا چہرہ دیکھا، اور عجلت میں شکریہ ادا کرتی اپنے راستے چل دی،عیسیٰ بھی سر جھٹکتا، اپنی گاڑی میں جا بیٹھا،کیونکہ اب پیچھے گاڑیوں کا رَش لگنے لگا تھا۔۔۔ٹریفک پولیس اہلکار بھی سگنل کی دوسری سائیڈ سے اُسے اشارہ دے رہا تھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گھر کی فضا میں ایک عجیب سا تناؤ تھا۔ دیوار گیر گھڑی کی سوئیاں رات کے گیارہ بجنے کا عندیہ دے رہی تھیں۔ پورا گھر خاموشی میں ڈوبا ہوا تھا، مگر ڈرائنگ روم میں دو چہرے بےچینی سے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔ صوفے پر بیٹھی پھپھو کے چہرہ سے فکر واضح جھلک رہی تھی،نجانے وہ لڑکی کہاں رہ گئی تھی۔۔بظاہر وہ لاوارث تھی،مگر وہ یہ بھی جانتی تھیں کہ آگر ذرا سی اونچ نیچ ہوجاتی تو اس کے دس وارثین نے کھڑے ہوکر پوچھ گچھ شروع کردینی تھی۔۔ جبکہ پھوپھا کی نظریں دروازے پر جمی ہوئی تھیں، پیشانی پر سینکڑوں بل پڑے ہوئے تھے۔۔۔ دروازہ آہستہ سے کھلا، اور مقدس اُڑی ہوئی رنگت کے ساتھ، تھکے تھکےقدموں سے اندر داخل ہوئی۔ جیسے ہی اس نے اندر قدم رکھا، پھوپھا کی تیز چبھتی ہوئی نظروں نے اسے اپنے حصار میں لے لیا تھا۔ ان کی تیوری چڑھی ہوئی تھی، چہرہ غصے سے سرخ ہو رہا تھا۔ "یہ کوئی وقت ہے گھر آنے کا؟" ان کی دھاڑتی ہوئی آواز پر مقدس چونک کر رک گئی۔ اس نے نظریں اٹھائیں تو پھپھو کی تیز نگاہیں اسی پر مرکوز تھیں، اس نے آج پہلی بار آغا صاحب کو غصہٰ کرتے دیکھا تھا،ورنہ وہ تو اچھے خاصے نرم مزاج کے انسان تھے۔۔ "کہاں تھی تو اتنی دیر تک؟" پھپھو نے سخت لہجے میں پوچھا۔ "آفس میں کام زیادہ تھا، اس لیے دیر ہو گئی۔" مقدس نے دھیمے لہجے میں جواب دیا۔ دل زوروں سے دھڑک رہا تھا۔۔ "کام زیادہ تھا؟ یا کوئی اور بہانہ بنا رہی ہو؟" یہ کوئی طریقہ ہے؟ رات کے اس پہر جوان لڑکی کا یوں گھر سے باہر رہنا؟ میں نے پہلے بھی کہا تھا، میں اس لڑکی کو اپنے گھر میں مزید برداشت نہیں کر سکتا!‘‘مقدس کا دل زور سے دھڑکا۔ اسے اندازہ تھا کہ دیر سے واپسی پر غصہ ہو گا، مگر اتنا شدید ردعمل؟ "پھوپھا، میں" "بس! اب میں اور کچھ سننے کے موڈ میں نہیں ہوں۔" وہ نشست چھوڑ کر اُٹھ کھڑے ہوئے،مقدس نے خوف سے دو قدم پیچھے لئے۔ یہ لڑکی جیسے چاہے گھومے، مجھے کوئی غرض نہیں، مگر میں اس کی ذمہ داری نہیں لے سکتا۔ جوان لڑکی کو پالنا آسان نہیں ہے، نہ ہی ہمارے بس کی بات ہے۔ اس کا کوئی انتظام کرو! اس کی ماں سے بات کرو،اور آگر وہ کان نہیں دھرتی تو اس کے اُن لینڈ لارڈ باپ دادا سے رابطہ کرو،جو اپنی اولادوں کو گناہ کی طرح چھپاتے پھرتے ہیں۔‘‘ مقدس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ وہ پھپھو کی طرف دیکھنے لگی، شاید وہ اس کے دفاع میں کچھ کہتیں، مگر وہ خاموش بیٹھی رہیں، جیسے انھیں اس سے کوئی غرض ہی نہ ہو۔۔بھلا وہ اتنے بھی خود غرض رویہ کی مستحق تو ہر گز نہیں تھی۔وہ پھپھو پر ایک نظر ڈال کر اپنے آنسوؤں پر ضبط کرتی بھاگنے کے آنداز میں اپنے کمرے کی جانب بڑھی تھی۔۔ ………………… عیسی کو پاکستان واپس آئے ایک ماہ گزر گیا تھا۔۔وہ دھیرے دھیرے روٹين پر واپس آرہا تھا۔۔۔وہ اسٹڈی میں موجود تھے ۔۔جبھی ان کے موبائل پر کوئی نمبر جگمگایا تھا انھونے اجنبی نمبر دیکھ متعجب ہوتے کال ریسيو کی تھی۔۔دوسری جانب سے سماعتوں سے ٹکراتی آواز پر انکی پیشانی پر بل نمودار ہوئے تھے۔۔ "السلام علیکم، ارے ابتسام صاحب ! کیسی طبیعت ہے آپ کی؟میں مقدس کی پھپھو بات کر رہی ہوں۔۔۔ بہت دنوں بعد آپ سے بات ہو رہی ہے، دل تو کب سے چاہ رہا تھا کہ آپ سے ملاقات ہو، بس ہمت نہیں ہوئی، آپ تو اتنے بڑے آدمی ہیں، ہماری کہاں مجال کہ آپ کو زحمت دیں؟" ابتسام صاحب نے پیشانی پر آتی شکن کو ہاتھ سے ہلکا سا دبایا، "وعلیکم السلام، سب خیریت؟ کوئی خاص بات؟" دوسری طرف سے ہلکی سی ہنسی سنائی دی۔۔۔ "ارے بھائی، کیا خاص بات ہوگی؟ بس یہی کہ ایک چھوٹا سا مسئلہ تھا، تو میں نے سوچا کہ آپ جیسے بڑے اور سمجھدار انسان سے بات کر لی جائے… ورنہ آپ جانتے ہیں، ہم جیسے لوگ کس قابل کہ آپ جیسے بزنس ٹائیکون کو تنگ کریں!" ’’اصل بات کہیے، وقت ضائع مت کیجیے۔"ابتسام صاحب نے گہری سانس لی، "’’ہائے ہائے، آپ تو ہمیشہ سیدھی بات کرتے ہیں، بس یہی کہ مقدس کا معاملہ ہے… آپ کو تو معلوم ہے نا کہ وہ میری ذمہ داری ہے، میری جان سے پیاری بھتیجی ہے،ماں باپ کی جانے کے بعد بالکل تنہا ہوگئی ہے ، مگر آپ تو جانتے ہیں حالات کیسے ہیں!" "کیا کہنا چاہتی ہیں؟ کھل کر بولیے۔" "دراصل، مقدس کی ماں نے تو مکمل ہاتھ اٹھا لیے ہیں، نہ خرچے کا پوچھا، نہ بچی کی ذمہ داری لی، اور میں… میں ایک عام سی عورت، محدود وسائل، میرا شوہر کی کوئی خاص آمدنی نہیں ہے، اور اوپر سے مقدس کی کفالت کا بوجھ… میں تو صرف یہ چاہتی ہوں کہ یہ بچی بھی کسی اچھے ہاتھوں میں چلی جائے، کسی اچھے خاندان کا حصہ بنے، جہاں اس کا مستقبل محفوظ ہو۔" ابتسام صاحب نے پیشانی مسلی۔۔۔وہ انکی
