Do Pal Ko Thera Ishq Ka Karwan E Book Special Novel — Episode no 4
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 23/04/2026
33 Views
Episode no 4
باتوں کا مفہوم بخوبی سمجھ رہے تھے۔ "تو آپ چاہتی ہیں کہ ہم اس کی ذمہ داری لے لیں؟" "ارے بھائی! آپ نے کہہ دیا، تو سمجھیں مقدس کا نصیب سنور گیا۔ آخر وہ آپ کے خاندان کی عزت دار بیٹی ہے، اور ویسے بھی، آپ جیسے خدا ترس لوگوں کے در پر آ کر کوئی خالی ہاتھ نہیں جاتا، میں نے تو صرف آپ سے مشورہ کرنا تھا کہ… اگر آپ اسے قبول کر لیں تو اس کی زندگی بن سکتی ہے۔" "’’آپ سیدھی بات کریں ؟" ابتسام صاحب نے دو ٹوک لہجے میں پوچھا۔ "ہائے نہیں نہیں! ایسی کوئی بات نہیں، میں تو بس چاہتی تھی کہ ایک بار آپ ہمارے گھر تشریف لے آئیں، ہم غریبوں کا گھر تو آپ کے جوتے کی خاک کے برابر بھی نہیں، مگر ہماری عزت افزائی ہو جائے گی… اور ہاں، مقدس کے مستقبل پر بھی آپ کی رائے لے سکوں گی!" ابتسام صاحب لمحہ بھر کو خاموش رہے، وہ اس مکار عورت سے بخوبی واقف تھے۔مگر مقدس کا معاملہ واقعی حساس تھا۔ "ٹھیک ہے، میں میں کچھ دیر میں آ رہا ہوں۔" ’’ارے واہ! کیا نصیب والے ہیں ہم، چلیے میں بس چائے کا بندوبست کراتی ہوں، اور مقدس کو بھی تیار ہونے کا کہتی ہوں، آخر وہ آپ سے ملنے کے لیے کتنی بےچین تھی۔۔‘‘ جھوٹ سے کام لیتے وہ آٹھلا کر بولیں ،کال ختم ہو چکی تھی، مگر ابتسام صاحب کو معلوم تھا کہ معاملہ کو سنجیدگی سے حل کرنا تھا۔ ۔مگر اس سے قبل انھونے اپنے بھائی سے مشورہ کرنا بہتر سمجھا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عبدﷲ ہاؤس کے باہر گاڑی ایک جھٹکے سے ٹھہری تھی۔ رات کا وقت تھا، مگر گھر کی روشنیاں اب بھی جگمگا رہی تھیں۔ مقدس کی خالی خالی نگاہوں سے گیٹ کو دیکھا تھا۔گاڑی کا دروازہ کھولتے ابتسام صاحب نے مقدس کو بھی ساتھ آنے کا اشارہ کیا تھا۔ "چلو بیٹا آجاؤ ! اندر چلتے ہیں۔" مقدس نے بے اختیار اپنے دوپٹے کا کنارہ مٹھی میں دبا لیا تھا۔ اس کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔ اندر جانے کے خیال سے ہی عجیب سا بوجھ محسوس ہونے لگا۔ وہ ایک لمحے کو جھجکی، مگر پھر خاموشی سے گاڑی سے باہر آ گئی۔ "گھبراؤ مت، یہ تمھارا اپنا گھر ہے ۔"" ابتسام صاحب نے اس کے تاثرات بھانپ کر نرم لہجے میں کہا۔ مقدس نے سر ہلایا، مگر قدموں میں اب بھی ہلکی سی کپکپاہٹ تھی۔ وہ نچلے لب کو دانتوں میں دبا کر اانہی کی ہمراہی میں ساتھ آئی تھی۔ جیسے ہی وہ اندر داخل ہوئے، ہال میں سب پہلے سے موجود تھے۔ ایک عیسی ہی تھا جو کسی انٹرويو کی وجہ سے اسلام آباد گیا ہوا تھا۔۔۔ "آؤ بیٹا، آپ کا اپنا گھر ہے !"جیسے ہی مقدس نے ہال میں قدم رکھا تھا۔۔سب نے ہی خوش اسلوبی سے اسکا خیر مقدم کیا تھا۔ "شکریہ انٹی !کیسی ہیں آپ ؟"عائشہ بیگم نے آگے بڑھ کر مقدس کو گلے سے لگایا تھا۔ ’’ان سے ملو یہ تمھارے بڑے تایا ابو عرشمان عبداللہ! اور چچا عثماں اور چچی فریحہ!‘‘انھونے سب سے تعارف کرایا۔۔سب نے باری باری اسکے سر پر ہاتھ رکھا تھا۔۔ ’’بھئی عائشہ ہماری بیٹی کو اسکا کمرہ دکھائیں۔۔بچی پہلے آرام کرے گی۔۔پھر سب سے تفصیلی ملاقات ہوگی۔‘‘ابتسام صاحب نے مقدس کو جھکجھتے دیکھ مسکرا کر کہا۔۔۔ چلو بیٹا، میں تمہیں تمہارا کمرہ دکھاتی ہوں، تم تھک گئی ہوگی۔"مقدس نے آہستہ سے سر ہلایا، مگر دل میں ہلچل سی مچی تھی۔ کیا واقعی اس نے صحیح فیصلہ کیا تھا؟ ؟ کیا یہ گھر اس کا اپنا بن سکے گا؟ یا ہمیشہ کی طرح دهتکار ہی اسکا مقدر ٹھہرائی جائے گی۔۔مگر وہ کہاں جانتی تھی کہ عبدﷲ ہاؤس کی دہلیز پار کرتے ہی، مقدس کی زندگی کا ایک نیا باب کھل چکا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عائشہ بیگم فیمل سرونٹ کی آواز پر اُسے روم تک چھوڑتی خود وہیں سے پلٹ گئی تھیں۔۔گیسٹ رُوم کا دروازہ دھیرے سے کھول کر ، مقدس نے اَندر قدم رکھا۔ اس کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔ وہ زندگی میں پہلی بار اتنے شاندار گھر میں آئی تھی، اور یہ کمرہ... جیسے کسی خواب کی تعبیر جیسے تھا۔ جیسے ہی اس نے اندر قدم رکھا، ایک ہلکی، مدھم سی خوشبو اس کے نتھنوں سے ٹکرائی،شاید کسی قیمتی پرفیوم یا خوشبودار موم بتی کی مہک تھی۔ چھت پر لٹکتا بڑا سنہری فانوس روشنی کی کرنیں فرش پر بکھیر رہا تھا۔ وہ آنکھیں جھپکائے بغیر سب کچھ اشتیاق بھرے آنداز میں دیکھتی رہی۔ وہ دبے پاؤں چلتے ہوئے ایک طرف رکھی مخملی صوفہ سیٹ کے قریب آئی تھی۔ اس نے نرمی سے اسے چھوا، اور پھر نگاہوں کے سامنےاپنی پوری زندگی گھوم گئی تو لبوں پر ایک تلخ مسکراہٹ سجائے وہ لب بھینچ گئی۔۔ دیواروں پر لگی پینٹنگز پر نظر پڑی تو ذرا متعجب سی قریب آئی تھی۔ ایک میں نیلا سمندر تھا، تو دوسری میں کسی عورت کی ادھوری سی شبیہ۔ ۔ "یہ کیا آرٹ ہے؟ آدھا چہرہ بنایا اور باقی ادھورا چھوڑ دیا؟ امیر لوگوں کی سمجھ بھی امیروں جیسی ہوتی ہے!" اس نے ہلکی آواز میں خود ساختہ سرگوشی کی اور پھر لبوں پر مسکراہٹ آ گئی۔ سامنے موجود شیشے کی بڑی کھڑکی سے باہر کا نظارہ بے پناہ خوبصورت تھا۔ باغیچے میں رنگ برنگے پھول کھلے تھے، اور ایک جانب خوبصورت فوارہ بہہ رہا تھا، جس کا پانی موتی کی طرح چمک رہا تھا۔!" ابھی وہ مزید چیزوں کو دیکھ رہی تھی کہ اچانک دروازہ کھلا۔ مقدس چونک کر پلٹی اور فوراً سیدھی ہو گئی، جیسے کسی چوری پر پکڑی گئی ہو۔۔۔ بی بی جی بیگم صاحبہ نے کہا کہ آپ فریش ہوکر نیچے آجائیں،ڈنر لگ گیا ہے،آپ کی ضرورت کا سارا سامان یہیں روم میں موجود ہے۔‘‘ملازمہ سر جھکا ئے مودبانہ،آنداز میں اِنکا پیغام پہنچاتی وہیں سے واپس پلٹ گئی تھی۔مقدس نے ایک گہری سانس بھری۔ ’’افف مقدس چار دن مناہل کے ساتھ ساتھ رہ کر تم بھی اسی کی طرح ہر چیز کو للچائی ہوئی نگاہوں سے دیکھ رہی ہو۔۔بیڈ مینرز!‘‘خود کو خود ہی سرزنش کرتی وہ واشروم کی جانب بڑھی تھی۔۔۔ …………………………… مقدس نے ڈائننگ رُوم میں قدم رکھا تو سب نے بھی خوشگوارآنداز میں مسکرا کر دیکھا تھا۔تاکہ اسکی جھجھک کم ہوسکے۔ سامنے لمبی، خوبصورت شیشے کی میز پر سنہری کناروں والی سفید پلیٹیں رکھی تھیں، اور ان کے گرد چمکتے کانٹے چمچ ترتیب سے سجے تھے۔ سرونٹس ٹیبل کے ارد گرد نظریں بالکل سامنے مرکوز کئے ہاتھ باندھے مودب آنداز میں کھڑے تھے۔۔ "مقدس بیٹا، آؤ، یہاں بیٹھو!" گرینڈ پا ابتسام عبداللہ نے خوش دلی سے مسکراتے ہوئے کہا۔ آنکھوں میں شفیق سا تاثر تھا، اور ان کے لہجے میں اپنائیت تھی،جو مقدس کو تھوڑی ہمت دے گئی۔ وہ دھیرے سے مسکراتے ہوئے آگے بڑھی اور اپنی کرسی سنبھالی۔ "مقدس بچے ، امید ہے کہ آپ اسے اپنا ہی گھر سمجھیں گی!اور تکلف سے پرہیز کریں گی۔"وہ ان سب کی محبتوں کی شکر گزار تھی۔۔جنھونے نہ تو اسے جھڑکا تھا۔۔نہ ہی کسی قسم کی بے حسی دکھائی تھی۔ ہمارے گھر میں سب مل کر کھانے کو بہت انجوائے کرتے ہیں، بچے آپ بھی ریلیکس ہو کر کھاؤ!" یہ عثمان صاحب تھے ۔ مقدس نے نظریں جھکا کر سر ہلایا، مگر اب وہ ذرا تذبذب کا شکار ہوتی مختلف ڈشز کو دیکھ رہی تھی۔ جہاں لائن سے ڈھیروں کھانوں کا انبار چنا ہوا تھا۔۔ شاہی کوفتے بھی اپنی مہک سے اشتہا بڑھا رہے تھے، جنہیں زعفرانی سالن میں ڈبو کر پیش کیا گیا تھا۔
