Do Pal Ko Thera Ishq Ka Karwan E Book Special Novel — Episode no 3
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 22/04/2026
88 Views
Episode no 3
نہ کبھی تو یہ حقیقت کھلنی ہی تھی نا۔‘‘ابتسام صاحب خاموشی اختیار کر گئے تھے۔وہ جذباتی ہورہے تھے مگر بھول رہے تھے کہ انکا ایک قدم طوفان برپا کر سکتا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مقدس یہ تم کس کے ساتھ گھر واپس آئی ہو؟‘‘وہ جیسے ہی گھر میں داخل ہوئی تھی، نفیسہ بیگم کسی تفتیشی آفسر کی طرح نازل ہوئیں تھیں۔ حارث تھا۔‘‘وہ منہ کر بولی۔ ’’تو اسے وہاں تم نے بلایا تھا؟‘‘‘وہ مشکوک ہوئیں۔ ’’آگر میں کہوں ہاں تو پھر؟‘‘ تلخ مزاجی تو اُسکی ذات کاحصہٰ تھا۔ ’’شادی سے اِنکار کر کہ اَب کونسی۔‘‘وہ اَدھورا چھوڑ گئیں۔ ’’پھپھو پلیز،میں تھکی ہوئی آئی ہوں۔‘‘ وہ چڑ کر بولی تھی۔ ’’اچھا زیادہ تیور نہ دِکھاؤ،کپڑے تبدیل کر کہ ، کچن میں آؤ۔بہت کام پڑا ہے۔‘‘ وہ زچ ہوئی تھی۔۔ ’’آتی ہوں۔‘‘وہ کندھے جھٹکتی اپنے کمرے کی جانب بڑھی تھی۔ایک بار پھر زندگی سے شدید قسم کی نفرت ہوئی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عیسیٰ آج کافی دنوں بعد اپنے پرانے دوست احباب سے مل رہا تھا۔۔جنھونے ماضی کا حوالہ دئے بغیر اسے خوش دلی سے ویلکم کیا تھا۔ ’’یار جتنا یہ بندھ یویس میں فیمس چل رہا تھا،اور جس طرح دھڑا دھڑ اسکے اسٹینڈاپ کمیڈی کے شوز وائرل ہورہے تھے۔مجھے تو لگا تھا اب تک کوئی گوری اس کے پیار میں مرمٹی ہوگی اور اس بار یہ پکا منگل ہوکر آئے گا۔‘‘یہ مارننگ شو ہوسٹ صنم تھی۔ ’’یار صرف مِنگل!مجھے تو لگا تھا اس نے اب تک مجھے تین چار بچوں کا چاچو بنا دیا ہوگا۔۔‘‘آصف کے کہنے پر سب کا قہقہہ بے ساختہ تھا۔ ’’آگر میں کسی گوری سے عشق لڑا لیتا نا تو میرے باپ دادا نے مجھے کھڑے کھڑے گولی سے اڑادینا تھا۔‘‘وہ ذرا منہ بنا کر بولا۔ ’’سب کہنے کی باتیں ہیں بیٹا!جب ہوتا نا تیری گود میں چھوٹا عیسیٰ تو پھر بہو فرنگی ہو یا پاکستانی،وارث میٹر کرتا ہے برادر!‘‘وہ خوش اسلوبی سے گویا ہوتے،مسلسل عیسیٰ کو چھیڑ رہے تھے،جو آج سالوں بعد انکے ساتھ بیٹھا،بہت ہلکا پھلکا محسوس کر رہا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’مے آئی کم ان سر!‘‘وہ عمر کے بلانے پر آفس میں آتی اجازت لے رہی تھی۔۔ ’’یس کم ان!‘‘وہ خوش دلی سے بولا۔۔تو وہ چھوٹے چھوٹے قدم لیتی کمرے میں داخل ہوگئی تھی۔۔ ’’بیٹھیں مس مقدس!‘‘وہ زیادہ ہی مسکرا رہا تھا۔مقدس کرسی کھینچ کر بیٹھ گئی تھی۔۔ ’’تھینک یو۔۔۔سر آپ نے بلا یا مجھے۔۔‘‘ وہ اسے خاموش دیکھ کر پوچھ رہی تھی۔۔ ’’جی!دراصل میں آپ سے پوچھنا چاہ رہا تھا کہ اس جاب سے آپ کو کوئی مسلہ تو نہیں ہے۔آپ یہاں کمفرٹیبل ہیں نا۔۔‘‘مقدس کو ذرا عجیب لگا۔۔ ’’جی سر !کوئی پریشانی نہیں ہے۔۔‘‘وہ نگاہیں اِدھر اُدھر کرتی لاپرواہی سے بات کر رہی تھی۔۔ ’’گڈ!چلیں پھر آپ سیٹ پر جائیں اور اپنا کام کیجئے،اور آگر آپ کو کوئی بھی مسلہ ہو، تو فوری مجھے بتائیے گا۔۔‘‘وہ نگاہیں چلاتی وہاں سے نکل آئی تھی۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مقدس!‘‘ یہ دسمبر کی سرد راتیں تھیں،اب تو کراچی میں بھی سردی بلا کی پڑنے لگی تھی،اسے پیچھلے کئی دنوں سے نزلہ زکام تھا ،جو آرام نہ ملنے کے باعث قابو میں نہیں آرہا تھا،انٹی بائیوٹکس سے بھی کوئی فرق نہیں پڑ رہا تھا۔۔ اسے ڈاکٹر نے چیسٹ انفیکشن بتایا تھا۔وہ ابھی سارے کام نبٹا کر بستر میں گھسی تھی،کہ پھپھو بیگم ایک بار پھر پکارتی ہوئی آگئی تھیں۔۔ جی !‘‘وہ ابھی نیم دراز ہی تھی۔۔ ’’چلو بی بی بس کرو،اور یہ ذرا بستر چھوڑو،تمہارے پھپھا کو بُری طرح سے کھانسی ہورہی ہے،انکے لئے ذرا قہوہ بنا دو، یا ایک کام کرو کچن کی یخنی بھی بنا دو۔ انہونے آج سہی سے رات کا کھانا بھی نہیں کھایا۔۔‘‘ مقدس کو اُن کا سن پر ذرا پریشانی ہوئی۔۔ ’’کیاہوا انکل کو۔۔‘‘وہ اپنی طبیعت نظر آنداز کرتی تیزی سے بستر چھوڑ کر اُٹھ بیٹھی۔۔ ’’کھانسی ہورہی ہے،ذرا جلدی اُٹھو۔۔‘‘وہ جوڑ،جوڑ دکھتے بدن کو نظر آنداز کئے اُٹھ کر تیزی سے کچن کی جانب بَڑھی تھی۔۔ اور قہوہ بنا نے کے ساتھ ساتھ یخنی بھی ساتھ ہی چڑھائی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’پھپھو انکل سو گئے، گرم کپڑے سے سینے کی سکائی کے بعد جاکر اِنکی کھانسی میں ذَرا فرق آیا تھا۔۔ ’’ہاں اَبھی سُوئے ہیں،تم بھی سُو جاؤ جاکر،صبح آفس جانا ہوگا۔۔‘‘ مقدس کو یاد آیا کہ رَات کے تین بج چکے تھے۔۔ ’’جی بس جا رہی ہوں۔آپ انکل کا دھیان رکھیئے گا۔۔‘‘ وہ یاد د ہانی کراتی کمرے سے نکل آئی تھی۔۔ ’’افف! کیا زندگی ہے۔۔‘‘ وہ بستر پر لیٹی تو کمر ایسے محسوس ہو ئی تھی،گویا کوئی تختہ ہو۔۔ مقدس تمھاری زندگی میں سکون نام کی چیز نکل چکی ہے،تو اب تم اسی پر کمپرومائز کرو۔۔‘‘وہ جلے دل سے سوچتی سر جھٹک گئی۔اور سونے کی کوشش کرنے لگی تھی،اب اپنی ہی طبیعت بگڑتی محسوس ہورہئ تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہوا میں ہلکی ہلکی خنکی تھی، سڑک پر چلتی گاڑیوں کی ہیڈلائٹس مدھم روشنی پھیلا رہی تھیں۔ عشاء کی اذان کی صدائیں دور کہیں بلند ہو رہی تھیں، اور شہر کی گہما گہمی اب دھیرے دھیرے کم ہو رہی تھی۔ جاری ہے
