Do Pal Ko Thera Ishq Ka Karwan E Book Special Novel — Episode no 3
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 22/04/2026
88 Views
Episode no 3
عمر کو دیکھ بولا۔۔ ’’حارث!کیسا ہے یار!‘‘وہ گرم جوشی سے ملا تھا۔۔ ’’کیا ہورہا ہے؟‘‘مقدس کو اب وہاں کھڑا ہونا مناسب نہیں لگا تھا،اور مقابل شخص کی شکل دیکھ تو اسے اور طیش سا آیا تھا۔۔ ’’کچھ نہیں،یہ میری امپلائی ہیں،میں نے آفر کی کہ گھر چھوڑ دیتا ہوں مگر خیر۔۔۔‘‘ حارث نے کندھے اچکائے۔مقدس نے دور سے آتی بس کو دیکھ تیزی سے قدم اُٹھانے چاہے تھے۔۔ ’’مقدس گاڑی میں جاکر بیٹھو۔۔۔‘‘حارث نے ذرا حیرانی سے دیکھا۔۔ میں خود چلی جاؤنگی،میری بس آگئی ہے۔۔‘‘اس نے سنا انسا کرنا چاہا۔۔ ’’مقدس سنا نہیں تم نے؟؟؟میں نے کہا گاڑی میں جاکر بیٹھو۔۔‘‘مقدس کو چار و نچار قدم روکنے پڑے تھے،کیونکہ حارث کے سامنے وہ کوئی سین نہیں کرئیٹ کرنا چاہتی تھی۔۔ ’’تو جانتا ہیں انہیں؟‘‘ وہ حیران ہوا۔۔ ’’ہاں ! میری اسٹیپ مام کی بیٹی ہے۔۔۔‘‘ وہ لاپرواہ لہجے میں بولا تو حارث اوہ کرتا رہ گیا۔۔۔ ’’’چل ٹھیک ہے پھر ملاقات ہوتی ہے،میں ذرا اسے گھر چھوڑ دوں۔۔‘‘حارث ہاتھ ملاتا ڈرائیونگ سیٹ پر جا بیٹھا تھا،جبکہ عمر بھی اپنی گاڑی میں جا بیٹھا تھا،وہ ہنوز منہ پھیرے بیٹھی تھی۔۔۔ ’’کیسی ہو؟‘‘وہ گاڑی اسٹارٹ کرتا سوالیہ لہجے میں بولا۔۔ ’’ٹھیک۔۔۔‘‘وہ ہنوز باہر دیکھ رہی تھی۔۔ ’’تم تو ایسے رُخ موڑ کر بیٹھ گئی ہو جیسے مجھ سے پردہ ہو۔۔‘‘حارث نے اسکا برتاؤ دیکھ ذرا چڑ کر کہا تھا۔ وہ خاموش رہی۔۔ ’’خیر مام کہہ رہی تھیں انہونے تمہارے لئے کوئی رشتہ دیکھا ہے،تم منع کیوں کر رہی ہو،اور یہ معمولی سی جاب؟‘‘ اس بار وہ ذرا ناراض ہوا تھا۔۔ ’’میں آپ کو جواب دینے کی پابند نہیں۔۔‘‘ وہ تڑخ کر بولی تھی۔۔ ’’کم آن مقدس ! یار مجھے نہیں ہے تم میں کوئی دلچسپی تو اب کیا کروں۔‘‘وہ اسکے غصےٰ کی وجہ اچھے سے جانتا تھا۔۔ ’’آگر دلچسپی نہیں تھی تو اپنی ماں کو میرا رشتہ ڈالنے سے پہلے سمجھانا چاہئے تھا،آپ کو میری بے عزتی کرنے کا کوئی حق نہیں تھا۔۔‘‘ اس کی جانب رخ پھیرتی وہ سختی سے بولی ۔۔ ’’آئی ایم رئیلی سوری!میں نے ممی کو کہا تھا وہ، جس لڑکی کے ساتھ چاہیں میری شادی کرادیں ،اب مجھے تھوڑی پتہ تھا مام اپنی ہی بیٹی کو اپنی بہو بنانے کا سوچے بیٹھی ہیں،اور سچ کہوں تو میں نے تمہیں ہمیشہ بہن کی نظر سے دیکھا ہے یار! مام بھی نا بس۔۔۔‘‘وہ خود بھی یہ بات کرتا ہوا زچ ہوا تھا۔۔ جو بھی تھا مگر پھپھو کے گھر آکر میری بے عزتی کرنا یہ کوئی اچھا کارنامہ نہیں تھا۔۔‘‘ ’’یار اس وقت میں غصےٰ میں تھا،ممی کے مطابق میں تم سے شادی کرلوں اور بلا بلا۔۔۔جبکہ میں نے انہیں بارہا کہا ہے کہ تم میں اور وانیہ میں ،میں نے کبھی فرق نہیں کیا۔۔‘‘ وہ سچے دل سے بول رہا تھا۔۔ ’’اوہ پلیز! بار بار بہن بول کر رشتوں کی تزلیل نہ کریں۔آپ کی اماں کچھ سوچتی ہیں،آپ کے ابا کا کوئی اور ہی دماغ ہے اور اب آپ کی تو باتیں ہی واللہ!‘‘و ہ استہزائیہ مسکرایا۔۔ دیکھو تمہاری مام اور وانیہ کی مام ایک ہی ہیں تو یار تم میری بہن ہی ہوئی نا،اب مما الٹا سیدھا سوچتی ہیں تو میں کیا کروں۔۔‘‘اس نے صفائی دی۔۔۔ ’’میں آپ کی بہن نہیں ہوں تو پلیز!‘‘اس نے ایک بار پھر باز رکھنا چاہا۔۔۔ ’’کیا پلیز!‘‘اس نے گھورا۔۔۔ ’’میں اپنے ماں ،باپ کی اکلوتی اولاد ہوں۔۔‘‘وہ جتاتے لہجے میں بولی۔۔ ’’اوکے اوکے! اب تم یہ بتاؤ کہ شادی سے انکار کیوں کیا؟جس رشتے کی مام بات کر رہی تھیں۔وہ بہت اچھا لڑکا ہے۔‘‘ وہ مدعے پر آیا۔۔ کیونکہ مجھے یہ فضول قسم کا رشتہ کسی کے ساتھ جوڑنا ہی نہیں ہے۔مجھے فرق نہیں پڑتا کون اچھا ہے اور کون بُرا۔۔‘‘وہ تلخ ہورہی تھی۔۔۔ ’’مقدس یار کیا ہوگیا ہے، زندگی کے تلخ تجربات کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ ہم اس چیز سے ہی بد ظن ہوجائیں،تمہارے پیرنٹس کی کیمسٹری نہیں ملی تو یہ انکا َلک تھا۔۔۔ مگر تمہاری مام اور ڈیڈ اب الگ الگ پارٹنرز کے ساتھ ایک آئیڈیل لائف تو گزار رہے ہیں نا،تو تم یہ پوزیٹو سائن کیوں نہیں دیکھتیں۔۔۔‘‘وہ سمجھا رہا تھا۔۔۔ ’’’اور ان کی کیمسٹری نہ ملنے کی بدولت ،میرے جیسا فضول وجود اس دنیا میں آگیا جو کسی کام کا ہی نہیں ہے۔۔‘‘ وہ تلخٰ لہجے میں بولتی ازیت سے مسکرائی تھی۔۔ ’’’یار تم اتنا نیگویٹو کیوں سوچتی ہو۔۔۔‘‘ وہ سمجھانے والے لہجے میں بولا۔۔۔ ’خیر گاڑی تھوڑ ا تیز چلائیں !‘‘ حارث نے ایک نظر دیکھ کر راؤنڈ اباؤٹ سے گاڑی کو ٹرن کیا تھا۔۔ ’’ویسے یہ اس نمونے کی ویزہ اجنسی میں کیوں چلی گئیں تم۔۔کسی بینک وغیرہ میں جاب اپلائی کرو۔۔‘‘وہ مشورہ دے رہا تھا،کیونکہ اسے سیلز کا ڈیپارٹمنٹ کچھ خاص پسند نہیں تھا۔۔۔ ’’اپلائی کر رکھا ہے،جب جاب ملے گی تو کرلونگی۔۔‘‘ وہ سر ہلا گیا۔۔ ’’یہ سر عمر آپ کے دوست ہیں؟‘‘اب وہ ذرا حیرانی سے پوچھ رہی تھی۔۔ ہاں!کیوں کیا ہوا؟‘‘ بڑے ہی کوئی عجیب ہیں،آج میرا جاب کا فرسٹ ڈے ہے میرے پیچھے پڑ گئے،میں ڈراپ کر دیتا ہوں۔۔۔‘‘وہ ذر ا آواز بھاری کر کہ نقل اتار رہی تھی تو وہ قہقہہ لگا گیا۔۔ ’’اب وہ تمہیں کوئی بچاری سی لڑکی سمجھ رہا ہوگا،آگر اسے تمہارا بیک گراؤنڈ پتہ چلے تو آنکھیں باہر آجائیں گی،آدھی تو ویسے ہی آگئی تھیں۔۔۔‘‘وہ مسکراہٹ ضبط کر رہا تھا۔۔ ’’اوہ پلیز!مجھے دوسروں کے پیسوں پر حق جتانے کا کوئی شوق نہیں ہے۔۔‘‘وہ ناگواری سے بولتی اسے باز رکھ گئی۔۔ ’اوکے ! چلو تمہارا گھر آگیا،ویسے میرا آفس اسی روٹ پر ہے،آفس سے نکلتے وقت مجھے کال کردیا کرو،میں تمہیں بھی پک اپ کرلیا کرونگا۔۔‘‘ وہ آفر کر رہا تھا۔۔ تھینک یو سو مچ! تاکہ آپ کی والدہ ماجدہ پھر کچھ الٹا سیدھا سوچ کر بیٹھ جائیں۔۔‘‘ شرم کرو تھوڑی،مجھ سے زیادہ وہ تمہاری ماں ہیں یار!‘‘اس نے شرم دلانی چاہی تھی۔۔ مسز مراد کا مجھ سے کوئی رشتہ نہیں ہے،تو پلیز بار بار ایک ہی بات مت کیا کریں۔۔‘‘وہ درشت لہجے میں بولتی دھاڑ سے گاڑی کا دروازہ بند کرتی گھر میں داخل ہوئی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آج کی شام خود میں بے حد جازبیت لے کر نمودار ہوئی تھی۔عبداللہ ہاؤس میں اس وقت محفل لگی ہوئی تھی،عبداللہ صاحب کےچھوٹے بھائی اپنے بچوں اور پوتی پوتوں سمیت آج سالوں بعد عبداللہ ہاؤس آئے تھے،وہ سالوں پہلے پاکستان سے باہر شفٹ ہوگئے تھے۔ ابتسام بھائی!آج اپنے بچوں کو یوں خوش باش دیکھ کر دل سے خوشی ہورہی ہے سچ میں!‘‘ابدال عبداللہ نے سب بچوں کو ہنسی مذاق میں مشغول دیکھ خوش دلی سے کہا۔۔ ’’ہاں !واقعی،اب زندگی کا کوئی پتہ نہیں رہا،بس یہی چاہتا ہوں کہ اپنے بچوں کی خوشیاں دیکھ لوں۔میرم اور زاران تو ساتھ بہت خوش ہیں۔بس عیسیٰ بھی اپنی زندگی کا کوئی فیصلہ لے لے تو مجھے سکون آجائے گا۔‘‘وہ سنجیدگی سے گویا ہوئے تھے۔۔ ’’واقعی آپ سہی کہہ رہے ہیں کہ اب زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں رہا،ماضی میں کی گئی غلطیوں کو سدھار لینا چاہئے۔‘‘وہ ایک ٹرانس میں بولے تھے۔ابتسام صاحب نے ذرا چونک کر انکی جانب دیکھا تھا۔ ’’پتہ بھی ہے کیا کہ رہے ہو؟‘‘اُنھونے چونک کر دیکھا تھا۔ ’’’جی بھائی صاحب!بہت اچھے سے جانتا ہوں۔‘‘وہ بوجھل دل سے بولے تھے۔ اپنے دل پر سے بوجھ ہٹانا چاہتا ہوں،اپنے گناہوں کی معافی مانگنا چاہتا ہوں۔۔اب آپ زاران کو ہی دیکھ لیں۔۔‘‘ابتسام صاحب خاموشی سے لب بھینچ گئے تھے۔ ’’سوچ لو!کیونکہ تمھارا کوئی بھی قدم،تمھارے خاندان کے شیرازے کو بکھر کر رکھ دئے گا۔‘‘وہ آئندہ وقت سے آگاہ کر رہے تھے۔ ’’آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں بھائی صاحب!مگر کبھی
