Do Pal Ko Thera Ishq Ka Karwan E Book Special Novel — Episode no 3
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 22/04/2026
88 Views
Episode no 3
دو پل کو ٹھہرا عشق کا کارواں ازقلم ہما قریشی 3 قسط نمبر ’’تو پھر نوکری کرنے کا جنون اتر گیا یا ابھی بھی جوش میں ہو۔‘‘انہونے آئی برو اٹھائے۔ ’’میں اپنے فیصلوں پر قائم رہتی ہوں۔۔‘‘انہونے نگاہیں گھمائیں۔ ’’ٹھیک ہے بی بی مر ضی ہے تمہاری۔۔۔‘‘وہ سر جھٹک گئی۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’پھپھو مجھے جاب مل گئی ہے۔۔۔‘‘وہ خوشی خوشی گھر میں داخل ہوئی تھی۔۔ جبھی اُنھونے اُسے دیکھ منہ بنایا تھا۔۔ ’سیلری کتنی ہے۔‘‘انھیں بس ایک ہی چیز سے غرض تھا،اسکا چہرہ پل میں بجھ گیا تھا۔۔ ’’پینتیس ہزار!‘‘اُس نےجلے دل سے بتایا تھا۔۔ ’’بس اتنی سی؟اور کس آفس میں ہے؟‘‘انہونے خشمگیں نگاہوں سے گھورا۔۔ ’’’ایک ویزہ اایجنسی ہے۔۔۔بیسک سیلری ہے، کمیشن الگ سے ہے،کل ملا کر پچاس تو آرام سے بن جائے گی۔۔‘‘اس نے مزید آگاہی دی تو اس بار انکے چہرے کے تاثرات مین ذرا تبدیلی آئی۔۔ ’’’تو جوائیننگ کب سے دینی ہے؟‘‘اب وہ پرجوش لہجے میں پوچھ رہی تھیں۔ ’’’ا گلے ماہ کی پہلی سے۔۔‘‘وہ سر ہلاگئیں۔ ’’’چلو مبارک ہو تمہیں،اب ایک کام کرو ذرا،کچن میں جاؤ اور دُپہر کے کھانے کی تیاری کرو۔۔‘‘ مقدس کا دل کیا،کچھ کر ڈالے، کل رات ٹھیک سے نیند نہ لینے کی وجہ سے اسکا سر پہلے ہی درد کر رہا تھا،جسم بری طرح سے دکھ رہا تھا،سونے پر سہاگا کہ انکی یہ منطق۔۔۔ ’’اچھا!جاتی ہوں۔۔‘‘وہ زرا سستانے کو صوفے پر بیٹھ گئی تھی۔۔ ’’’بی بی بیٹھنے کا وقت نہیں ہے۔ بہت کام پڑا ہے کچن میں،اور ہاں ایک بات اور،صبح ذرا جلدی اٹھنا،اورہاں آفس جانے سے پہلے سب کا ناشتہ بنانا تمہاری زمہ داری ہے،دپہر کا کھانا تو پھر میں جیسے تیسے بنا ہی لونگی،رات کے کھانے کی زمہ داری تمہاری ہی ہے۔۔‘‘مقدس نے تلخی سے مسکراتے سر جھٹکا۔۔ ’’’میں ذرا یہ بیگ کمرے میں رکھ دوں۔۔۔‘‘وہ سر جھٹکتی کمر ے کی جانب چل دی ،جبکہ وہ بھی آرام سے بیٹھتی،اب مقدس کی ماں کے نمبر پر کال رہی تھیں۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ "دیکھو بھئی !میں مزید اس لڑکی کی زمہ داری نہیں اٹھاسکتی ۔ابھی پتہ نہیں کہاں جاب کے لئے آپلائی کر کہ آگئی ہے ۔"وہ ذرا غصّے سے بولیں ۔ "تو اس کو اپنے گھر لے جاؤ ۔ویسے بھی تمھيں تو ہمارا احسن مند ہونا چاہئے کہ ہم نے ساری زندگی تمھاری اس بیٹی کو پال پوس دیا۔"وہ نخوت سے بولیں تھیں ۔۔ کیا کہا ؟؟ہم نے احسان نہیں کیا ؟؟"وہ سیخ پا ہوئیں ۔ ’’یہ اچھا ہے بھئی !خیر اس کے باپ کو بولو ورنہ پھر میں خود کی ہاتھ پاؤں چلاؤں۔"وہ بے حسی کی انتہا پر تھیں ۔ ’’چلو پھر ٹھیک ہے ۔۔کیونکہ مجھے تمھاری بیٹی کے تیور کچھ ٹھیک نہیں لگ رہے ہیں۔۔"وہ نا گوار لہجے میں بولتی رابطہ منقطع کرگئی تھیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رات کا حسین منظر آنکھوں کو خیرہ کر رہا تھا۔ ماحول میں ہلکی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی، اور عبدﷲ ہاؤس کا وسیع و عریض لان خوبصورت قمقموں سے روشن تھا۔ گلاب اور موتیے کے پھولوں کی خوشبو فضا میں رچی بسی تھی۔ لان کے وسط میں آرام دہ کرسیاں اور صوفے رکھے گئے تھے، جہاں گھر کے افراد ساتھ بیٹھے گپ شپ میں مصروف تھے۔عیسیٰ کے پاکستان نے کی خبر سن کر وہ دونوں ہی اس سے ملاقات کرنے کی غرض سے عبداللہ ہاوس آگئے تھے۔۔کل ہی ان دونوں کی انگلینڈ کی فلائٹ تھی۔ میرم عثماں صاحب کی اکلوتی بیٹئ تھی،جبکہ زاران ابتسام صاحب کی لاڈلی بیٹی کا اکلوتا بیٹا۔۔۔۔ عیسیٰ، زاران، اور میرَم بھی اب ڈرائنگ روم سے نکل کر یہاں آ بیٹھے تھے۔ سامنے ہی عبدﷲ ہاؤس کے سربراہ، یعنی گرینڈ پا، وقار و تمکنت کا پیکر بنے بیٹھے خوش دکھائی دے رہے تھے۔آج ان کے سب بچے ساتھ بیٹھے تھے۔۔ ’’اب بتاؤ عیسی اصل سکون اپنے گھر میں یا نيو یارک کی ویران گلیوں میں جہاں کوئی اپنا نہیں تھا ، امریکہ سے واپس آ کر کیسا محسوس کر رہے ہو ؟‘‘زاران کے سوال پر وہ ہولے سے مسکرایا تھا۔۔ ’’’برادر!!وہاں کی زندگی بھی عجیب تھی، صبح اٹھو، کام پر جاؤ، شام کو واپس آؤ، اپنا کھانا بناؤ،پھر اگلے دن وہی روٹین! لیکن اپنے گھر اور وطن کی تو بات ہی الگ ہے نا… بس سکون ہی سکون محسوس ہورہا ہے۔"" عائشہ بیگم نے محبت سے مسکرا کر بیٹے کو دیکھا۔ "بس بیٹا، دعا ہے کہ تم ہمیشہ خوش رہو۔" "اور یہ بھی دعا کریں کہ عیسیٰ اب دوبارہ یہاں سے بھاگ کر واپس امریکہ نہ چلا جائے!کیا معلوم اس عرصے میں کوئی لڑکی پٹا لی ہو!"زاران نے ذرا شوخ انداز میں مسکرا کر کہا۔ "سچی بات بتاؤں، میرا دل تو چاہ رہا تھا کہ واپسی کی ٹکٹ بھی جیب میں رکھوں، پھر مجھے پاکستانیوں پر ترس آگیا جو زاران کے فلاپ سونگ سن سن کر بيزار ہوگئے ہیں ۔۔اب مجھ سے مزید انکا دکھ دیکھا نہیں جاتا۔"زاران نے اس کے ڈراموں پر گھورا۔۔ ابتسام صاحب اور سب بڑوں نے ہنستے ہوئے عیسیٰ کو محبت بھری نظروں سے دیکھا،جو یہاں سے جاتے وقت حد سے زیادہ اداس اور زندگی سے بیزار تھا۔۔۔ "’’اللہ پاک میرے بچوں کی مسکراہٹیں قائم رکھے، مگر میرے بچے ایک بات یاد رکھنا۔ جڑیں کبھی نہیں چھوڑنی چاہئیں۔ انسان جہاں بھی چلا جائے، اپنے وطن، اپنے گھر والوں سے جُڑا رہے، یہی اصل خوشی ہے۔" "بالکل دادا جان، اصل خوشی اپنوں میں ہی ہے۔"میرَم نے مسکرا کر انکی بات سے اتفاق کیا تھا۔سب ہی انکی بات سے متفق نظر آرہے تھے ۔۔یہ محفل کافی دیر تک جمی رہی تھی۔۔میرم اور زاران سب سے مل کر وہاں سے نکل آئے تھے۔کیونکہ انھیں کل ہی فلائٹ سے نکلنا تھا ………………………… آج آفس کا پہلا دن تھکا دینے والا تھا،وہ تھکی ہاری سی آفس سے باہر آئی تھی۔ اور اب بس اسٹاپ پر کھڑی بس کا انتظار کر رہی تھی۔۔۔ اسے کھڑے ابھی کچھ ہی دیر گزری تھی،جب گاڑی کا ٹائر چرچراہٹ کی آواز کے ساتھ پاؤں میں رکا تھا۔۔۔وہ اچھل کر دو قدم پیچھے ہوئی۔۔۔ ’’مس مقدس آپ یہاں کیوں کھڑی ہیں۔۔‘‘گاڑی کی شیشے ڈاؤن کرتا وہ سوالیہ لہجے میں گویا ہوا تھا۔۔ ’’سر بس کا انتظار کر رہی تھی۔۔‘‘سر پر دوپٹہ درست کرتی وہ ذرا ہچکچائی۔۔ ’’آئیے میں آپ کو چھوڑ دیتا ہوں۔۔‘‘اس نے آفر کی۔۔ ’’نو تھینکس سر! میں خود چلی جاؤنگی۔۔‘‘آفس کا آج پہلا دن تھا اور مقابل شخص گھر چھوڑنے کی باتیں کر رہا تھا۔۔ ’’مس مقدس آجائیے۔۔‘‘ اس نے ایک بار پھر اسرار کیا۔اس بار وہ خود کار سے نکل کر باہر آتا اس کے مقابل آیا۔۔ ’’سر میں نے آپ سے کہا نا کہ اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے میں خود سے چلی جاؤنگی۔۔‘‘مقدس کا لہجا خود بخود سخت ہوگیا تھا۔۔۔ ’’مس مقدس آپ ضد کیوں کر رہی ہیں۔شام کا وقت ہے یوں اسٹاپ پر آپ کا اکیلے کھڑا ہونا درست نہیں ہے،پلیز میر ے ساتھ گاڑی میں بیٹھیں۔۔‘‘وہ ذرا ناراضی سے بولا،تو مقدس کے ماتھے پر بل نمودار ہوئے۔۔ ’’سر آفس ٹائمنگ ختم ہو چکی ہے،میں مزید آپ کے کسی بھی حکم کی پابند نہیں ہوں،اور مجھے نہیں لگتا کہ میرے یہاں کھڑے ہوکر بس کا انتظار کرنے میں کوئی قباحت ہے،میں گھر سے نکلی ہوں تو اپنی حفاظت بھی خود کر سکتی ہوں تو پلیز!‘‘وہ سخت لہجے میں بولی تھی۔ تو عمر کے ماتھے پر بل نمودار ہوئے تھے۔۔ ’’آپ۔۔۔۔۔‘‘ اس سے قبل کہ وہ مزید کچھ کہتا کہ ایک اور گاڑی ذرا فاصلے سے آکر ٹھہری تھی۔ان دونوں کی توجہ اس جانب چلی گئی تھی۔ ’’عمر !‘‘ مقابل شخص سپاٹ تاثرات لئے کھڑی مقدس کو ایک نظر دیکھ
