Do Pal Ko Thera Ishq Ka Karwan E Book Special Novel — Episode no 19
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 08/05/2026
25 Views
Episode no 19
ود ہنی اینڈ نٹس ،ہوم میڈ پین کیکس ود ہنی ۔۔‘‘وہ مسکراہٹ دبا کر مزے سے بولی تھی۔۔ ’’لڑکی کیوں میری ڈائیٹ خراب کرانا چاہتی ہو۔‘‘ وہ ہولے سے مسکرایا تھا۔ ’’یہ سب ہیلدی آئٹمز ہیں،شکر کرو انڈا پراٹھا نہیں بنایا ہے۔‘‘ عیسیٰ نے ذرا ہلکا سا گھورا تو وہ دونوں ہی مسکرا دئیے تھے۔۔۔جبکہ اب عیسیٰ کی مسلسل نگاہیں خود پر مرکوز دیکھ ،وہ ذرا جذبذ ہوئی تھی۔ ’’اب مجھے دیکھنا بند کردو۔۔میں نے کام کرنا ہے۔۔‘‘اسکی آنکھوں پر ہاتھ رکھتی مقدس ہولے سے مسکرائی تھی۔۔ ’’میں بس دیکھ رہا ہوں، تم اپنا کام کرتی رہو۔۔‘‘مقدس نے سر جھٹکا تھا۔۔۔ ’’بھئی تم جیسی نظروں سے دیکھ رہے ہو۔۔اس چکر میں میرا ہاتھ جل جائے گا۔۔۔‘‘ اس بار مقدس نے اس کے چہرے پر دونوں ہاتھ رکھے تھے،جبکہ وہ قہقہہ لگا کر اس کے وہی ہاتھ تھام کر گھما کر اپنے حصار میں لے چکا تھا۔۔وہ اسکی حرکت پر بری طرح سے سٹپٹائی تھی۔ ’’عیسیٰ تم تو اچھے خاصے چھچھورے انسان ہو۔۔کیا گھر والوں کے جانے کا انتظار کر رہے تھے۔‘‘اس کے کان کے قریب لب لاکر وہ معنی خیزی سے بولا تو مقدس نے اسے گھور کر دیکھا تھا۔۔جبکہ وہ اسکا حصار توڑتی اب وہیں کاؤنٹر پر اسکا اور اپنا ناشتہ رکھ رہی تھئ۔۔جبکہ وہ سر جھٹک کر مسکرا دیا تھا۔۔ ’’تم جانتی ہو کہ میں شادی کیوں نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔‘‘وہ یکدم سنجیدہ ہوا تھا،مقدس کے ہاتھوں کی حرکت تھم گئی تھی۔ ’’ہمارے درمیان طے ہوا تھا کہ ہم دنوں ایک دوسرے کے ماضی کو ڈسکس نہیں کریں گے۔‘‘ مقدس نے جتایا۔ ’’میرم اور میرا رشتہ گرینڈ پا نے طے کیا تھا۔۔ہم کزنس تھے،مگر میرم زاران کو پسند کرتی تھی،اور سب کی مخالفت اور احماقانہ رویہ کے تحت وہ زاران کو پیاری ہوگئی۔اس کے بعد مجھے زرتاج مل گئی۔۔میری اور زرتاج کی ملاقات لندن میں ایک رسٹورنٹ میں ہوئی تھی۔۔۔ہم دونوں ہی کی وائبز مل گئی تھیں۔مجھے لگا کہ زندگی گزارنے کے لئے زرتاج جیسی زندگی سے بھرپور لڑکی ایک بہترین انتخاب ہوگا، ہم پاکستان آگئے۔ہمارے پیرنٹس اس شادی کے لئے راضی تھے۔سوشل میڈیا پر میری اور زرتاج کی منگنی کی پکچرز بالکل اسی طرح وائرل ہوئیں تھیں،جس طرح ہماری شادی کی پکچرز ہوئی تھیں۔ چھے ماہ میں ہمارئ شادی ہونی تھی۔لائف اچھی جا رہی تھی۔سب خوش تھے۔مگر زرتاج نجانے کب اور کیسے بدل گئی،مجھے پتہ ہی نہیں چلا۔۔پہلے پہل تو میں اس کا رویہ نظرآنداز کرتا رہا،مگر اس وقت میری غیرت پر کاری ضرب لگی تھی،جب میں نے اپنی منگیتر کو جس کے ساتھ جلد نکاح ہونے والا تھا۔اپنے ہی ایک قریبی دوست کے ساتھ دیکھا تھا۔۔وہ دونوں اس رات ہوٹل روم میں اکیلے تھے۔مجھے نہیں معلوم کہ ان دونوں کے درمیان کتنی نزدیکیاں تھیں،مگر زرتاج کو وہاں دیکھ میرا خون کھول گیا تھا۔۔ ازمیر کے ساتھ ساتھ میں نے زرتاج کو بھی غصےٰ میں دو تین تھپڑ جڑ دئے تھے۔۔جس کے بعد زرتاج نے تو گویا میرا کئیریر ختم کرنے کی انڈسٹری میں میرا نام خراب کرنے کی قسم کھا لی تھی۔۔اور اس کے بعد میرے خلاف ٹوئٹر پر جو ٹرینڈ چلا،اس نے مجھ پر ڈومسٹک وائلنس کا کیس کیا۔۔مزید جھوٹے الزامات لگائے،اور بس اس رات ہمارا وہ عجیب سا رشتہ ختم ہوگیا۔۔ میرم کے بعد زرتاج کا بھی خود کو یوں ٹھکرائے جانا مجھے اچھا خاصہ ہلا چکا تھا۔۔میری غیرت اس حقیقت کو قبول نہیں کر رپارہی تھی،کہ جس شخص کے پیچھے ایک دنیا دیوانی تھی۔لڑکیاں میری ایک نظر کو ترستی تھیں ،وہیں دو لڑکیاں جنھیں میں نے زندگی میں شامل کرنا چاہا،وہ مجھے ٹھکرا گئیں تھیں۔۔۔زرتاج نے اسی مہینے ازمیر سے بریک اپ کرلیا،وہ واپس لندن چلی گئی اور انڈسٹری میں میرا سروائیو کرنا مشکل ہو گیا تھا۔بس پھر میں بھی دوبارہ واپس امریکا چلا گیا،کیونکہ یہاں پر لوگوں کو فیس کرنے کی ہمت نہیں تھی مجھ میں،اور پھر ر تمھارا میری زندگی میں شامل ہونا،وہی لڑکی میری بیوی بن چکی تھی،جو میرے پیچھے ہوٹل کے کمرے تک میں آگئی تھی۔صرف اس لئے ۔۔۔یہ بات مجھے گوار ہ نہیں ہوئی،مگر میں نے بہت سوچا، پھر مجھے احساس ہوا کہ جس طرح ایک مرد کسی عورت کو پسند کر سکتا،اس کے لئے دل ہی دل میں جذبات رکھ سکتا ہے،بالکل اسی طرح ایک عورت بھی کسی مرد کے لئے دل میں جذبات رکھ سکتی۔۔‘‘مقدس خاموشی سے بے تاثر نگاہوں سے دیکھتی اُسے ہی تک رہی تھی۔ ’’کچھ بولو گی نہیں؟‘‘اس کی خاموش محسوس کر وہ سوالیہ نگاہوں سے دیکھ کر بولا تھا،جس نے کوئی خاص رسپانس نہیں دیا تھا۔۔ ’’آپ جانتے ہیں کہ اس رات میں ،اس ہوٹل میں اپنی مرضی سے ہر گز نہیں آئی تھئ۔۔‘‘عیسیٰ نے اسے خالی خالی نگاہوں سے دیکھا تھا۔۔ ’’آگر کوئی ایسی بات ہے جو تمھارے لئے ازیت کا باعث بنے تو نہ بتاؤ۔۔۔‘‘عیسیٰ نے اسکا ہاتھ تھام کر دبایا تھا۔۔۔ ’’نہیں میں بتانا چاہتی ہوں۔ بھلے آپ ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دیجیے گا۔۔۔‘‘عیسیٰ نےا ہاتھ بڑھا کر اسے سینے سے لگایا تھا۔۔جس نے دھیرے دھیرےسے بولنا شروع کیا تھا۔۔ جاری ہے
